علامہ اقبال کا عشق رسالت مآب اور امت کے لئے غم خواری
اقبالؒ کا حضورؐ کے ساتھ خود بڑا گہرا تعلق تھا۔ وہ اس حوالے سے بھی جذبہ بیدار کرتے تھے۔ جنگ طرابلس پر نظم میں اس کا ذکر آیا ہے۔ عالمِ خیال میں وہ حضورؐ کی بارگاہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں حضورؐ ان سے پوچھتے ہیں کہ اُمت کا حال کیا تھا ؟ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو ؟ تو وہ اُمت کا حال بتاتے ہیں
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو
حضورِ آیۂ رحمت میں لے گئے مجھ کو
کہا حضوؐر نے اے عندلیبِ باغِ حجاز
کلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گداز
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا ؟
تو اقبال کہتے ہیں کہ
حضوؐر دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے، وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی
لیکن بعد میں اُمید اور روشنی کی جھلک دکھاتے ہوئے ایک تحفہ پیش کرتے ہیں
مگر میں نذر کو اِک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری اُمت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
اقبال ؒ کو شہداء کے خون میں ایک اُمید نظر آتی ہے۔ یہ ایسی قیمتی چیز ہے جس سے پھر ایک نئی صبح کے بیدار ہونے کا امکان ہے ۔طرابلس کی جنگ ہی میں’’فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ ایک عرب لڑکی پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تھی۔ اس میں انہیں اُمید کی کرن نظر آئی تو اسے عام کرنے کی کوشش کی۔ وہ فاطمہ بنت عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
یہ سعادت حورِ صحرائی تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
اس کی تعریف کرنے کے بعد اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
فاطمہ گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے
اگرچہ تیری شہادت کی وجہ سے ہم بہت غمگین ہیں لیکن اس غم میں خوشی کا ایک پہلو بھی چھپا ہوا ہے، اور خوشی کا پہلو یہ ہے کہ
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
یہ چنگاری اقبالؒ کو نظر آتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی خوشبو سارے عالم میں پھیل جائے گی اور ایک نئی صبح نمودار ہوگی۔ ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا، بیداری پیدا ہوگی اور قافلہ پھر سے اپنے سفر پر گامزن ہوجائے گا
اِن شاء اللہ عزوجل
اقبالؒ کا حضورؐ کے ساتھ خود بڑا گہرا تعلق تھا۔ وہ اس حوالے سے بھی جذبہ بیدار کرتے تھے۔ جنگ طرابلس پر نظم میں اس کا ذکر آیا ہے۔ عالمِ خیال میں وہ حضورؐ کی بارگاہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں حضورؐ ان سے پوچھتے ہیں کہ اُمت کا حال کیا تھا ؟ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو ؟ تو وہ اُمت کا حال بتاتے ہیں
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو
حضورِ آیۂ رحمت میں لے گئے مجھ کو
کہا حضوؐر نے اے عندلیبِ باغِ حجاز
کلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گداز
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا ؟
تو اقبال کہتے ہیں کہ
حضوؐر دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے، وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی
لیکن بعد میں اُمید اور روشنی کی جھلک دکھاتے ہوئے ایک تحفہ پیش کرتے ہیں
مگر میں نذر کو اِک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری اُمت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
اقبال ؒ کو شہداء کے خون میں ایک اُمید نظر آتی ہے۔ یہ ایسی قیمتی چیز ہے جس سے پھر ایک نئی صبح کے بیدار ہونے کا امکان ہے ۔طرابلس کی جنگ ہی میں’’فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ ایک عرب لڑکی پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تھی۔ اس میں انہیں اُمید کی کرن نظر آئی تو اسے عام کرنے کی کوشش کی۔ وہ فاطمہ بنت عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
یہ سعادت حورِ صحرائی تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
اس کی تعریف کرنے کے بعد اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
فاطمہ گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے
اگرچہ تیری شہادت کی وجہ سے ہم بہت غمگین ہیں لیکن اس غم میں خوشی کا ایک پہلو بھی چھپا ہوا ہے، اور خوشی کا پہلو یہ ہے کہ
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
یہ چنگاری اقبالؒ کو نظر آتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی خوشبو سارے عالم میں پھیل جائے گی اور ایک نئی صبح نمودار ہوگی۔ ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا، بیداری پیدا ہوگی اور قافلہ پھر سے اپنے سفر پر گامزن ہوجائے گا
اِن شاء اللہ عزوجل

No comments:
Post a Comment