Tuesday, April 14, 2020

تیرہ اپریل بیساکھی کا تہوار

13 اپریل
وساکھ کا آغاز
بیساکھی کا تہوار

ویساکھ یا بیساکھ یا ویساکھی  بکرمی کیلنڈر (شمسی) کا پہلا مہینہ جبکہ (قمری) کا دوسرا مہینا ہے۔ پنجابی کیلنڈر (شمسی) کا پہلا مہینا جبکہ (قمری) کا دوسرا مہینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نانک شاہی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے۔
بیساکھ پنجابی تقویم کا بھی پہلا مہینا ہے یہ 13 اپریل کو شروع ہوتا ہے۔

بیساکھی پنجاب کا نئے سال کا تہوار یعنی بہار کا میلہ جو یکم بیساکھ یعنی 13 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اس دن پنجاب اور ہریانہ کے کسان فصل کاٹنے کے بعد نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں

بیساکھی کا دن سکھوں میں مذہبی طور پر بھی نہایت اہمیت کا حامل دن سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اسی دن سکھوں کے "گرو گوبند سنگھ" نے سکھوں کو سردار بنانے کا فیصلہ کیا، انہوں نے اعلان کیا اب "تمام سکھ چڑیا سے عقاب بن جائیں" اور پنجاب پر حکمرانی حاصل کریں

وہ 13 اپریل 1699ء کا دن تھا جب گرو گوبند سنگھ نے سکھ فوج کی بنیاد رکھی اور گرو نانک کے پیروکاروں نے پہلی بار تلوار ہاتھ میں اٹھا کر طاقت کا مظاہرہ کیا۔ سکھ آج بھی بیساکھی کے دن تلواریں ہاتھوں میں اٹھائے اس دن بھنگڑا ڈالتے نظر آئیں گے

کنکاں دی مک گئی راکھی
آئی وساکھی

گندم تقریبا پک چکی ہے اور "وساکھ" کا مہینہ آج سے شروع ہو رہا ہے جس کے ساتھ ہی پنجاب میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہو جاتا ہے _ مختلف دیہات میں میلے لگتے ہیں , کسان کی محنت کے پھل کا وقت ہوتا ہے ، بہت سے کسان بھائی اس فصل کے پکنے کا انتظار کرتے ہیں تا کہ بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر سکیں یا مکان بنا سکیں ، اس سب کے ساتھ ہی سجدہ شکر بجا لاتے ہیں اور پھر سے نئی فصل کی تیاری میں لگ جاتے ہیں

یہ کتنی دلکش بات ہے کہ پنجاب کے جتنے بھی ثقافتى تہوار ہیں، وہ سب کے سب خوشیوں اور شادمانیوں کے رنگوں سے لبریز ہیں، خوبصورت اور زرخیز پنجاب کا یہ حق ہے کہ اس کے "لوہڑی" یا "بسنت" یا پھر "بیساکھی" سب کے سب خوبصورت اور رنگین تہوار ہوں

پنجاب میں جس طرح سے کماد/گنے کی فصل اٹھاتے وقت لوہڑی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اسی طرح پنجاب کی زمینوں میں جب گندم کی فصل پک کر سونا بن جاتی ہے۔ فصل کی پہلی کٹائی شروع ہوتی ہے تو تب جو جشن منایا جاتا ہے اسے "بیساکھی" کہتے ہیں

"بیساکھی" اصل میں  رب کی شکریہ ادائیگی اور بہترین فصل کی صورت میں اس کے احسانات پر جشن کا دن ہے۔ پنجاب میں بسنے والے سب پنجابی کئی صدیوں سے یہ دن یکم بیساکھ یعنی 13 اپریل کو مناتے آئے ہیں۔ یہ دن  رب کے شکرانے اور جشن کا دن ہوتا ہے

مسلمان اس دن  مساجد میں جاکر شکرانے کی نمازیں ادا کرتے، سکھ صبح کو نہروں اور گردواروں کے تالاب میں نہا کر گردواروں میں عبادت کرتے، ہندو مندروں میں سر ٹیکتے اور عیسائی گرجا گھروں میں جا کر عبادت کرتے ہیں۔ پہلے  سب کے سب پنجابی الگ الگ مذہبی رسومات ادا کرتے. مگر بعد میں جشن ساتھ مناتے. بھنگڑا، لڈی، جھومر، موسیقی، رقص سے لے کر مٹھائیاں، کھانا اور بانٹنا ساتھ ساتھ ہوتا رہتا

بھنگڑے کو خاص طور پر "بیساکھی" کا ناچ مانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے پنجاب کا رقص بلکل ایک جیسا ہے

اس وقت بھارتی پنجاب میں بیساکھی کو قومی دن کی حیثیت حاصل ہے اور اس دن عام چھٹی کی جاتی ہے۔ جب کہ پاکستان میں جنرل ضیاء کی ثقافت مخالف پالیسیوں کے وجہ سے پاکستان میں "بیساکھی" منانا تقریباً بند ہی ہوگیا

موسمی تہواروں پر جب مذہبی رنگ اور واقعات کی قدغن لگ جاتی ہے، تب وہ تہوار ثقافتی طور پر کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں

بیساکھی جیسے شاندار تہوار کو بھی پاکستانی پنجاب میں اپاہج کردیا گیا ہے، اب اس اپاہج تہوار کو بھی اک عدد "بیساکھی" کی ضرورت ہے

نوٹ _ وساکھ کے آغاز کے ساتھ ہی پنجاب کے تقریباً ہر قصبے اور گاؤں میں چھوٹے بڑے میلوں کا ایک سیزن سا شروع ہو جاتا تھا، جسے پہلے دہشت گردی کھا گئی ، اور اب جب وہ سب خوشیاں بحال ہو رہی تھیں تو اس بار کرونا کی وجہ سے کسی میلے کی اجازت نہیں دی گئی

اللہ کریم میرے پنجاب اور کسان بھائیوں پر رحم کرے۔ آمین

No comments:

Post a Comment