Monday, April 27, 2020

ستائیس اپریل 1942 یومِ وفات رہنما جدوجہد آزادی عبداللہ ہارون

27 اپریل 1942

آج جدوجہد آزادی کے معروف رہنما اور قائداعظم کے قریبی ساتھی حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون کی برسی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں 2 سے 8 اکتوبر 1938ء کو مسلم لیگ سندھ کے زیر اہتمام کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی۔ اس کانفرنس میں بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق‘ پنجاب کے وزیراعلیٰ سر سکندر حیات‘ آسام کے وزیراعلیٰ مہر سعید اللہ خان، سندھ کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو‘ مولانا شوکت علی‘ راجہ صاحب محمود آباد ، نواب بہادر یار جنگ‘ نواب اسماعیل خان‘ نواب لیاقت علی خان‘ چودھری خلیق الزمان‘ مولانا جمال میاں فرنگی محلی‘ سید سجاد حیدر یلدرم‘ بیگم مولانا محمد علی جوہر‘ غلام بھیک نیرنگ‘ پیر مرید حسین شاہ (ملتان)، نواب احمد یار خان دولتانہ اور لاہور سے ملک برکت علی جیسی اہم شخصیات شریک تھیں۔ اس کانفرنس میں استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین سر عبداللہ ہارون تھے۔ جو قومی جذبہ رکھنے والی کراچی کی اہم شخصیت تھے۔ 1872ء میں کراچی میں پیدا ہونے والے حاجی سر عبداللہ ہارون نے تجارت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نام کمایا۔وہ کراچی میونسلپٹی کے ممبر رہے۔ پھر کانگریس میں بھی کچھ عرصہ گزارا لیکن مسلم لیگ میں آئے تو اسی کے ہو کر رہ گئے ۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے لئے سندھ سے ”الوحید“ نامی اخبار کا اجراء تھا جس نے صوبے بھر کے مسلمانوں کو متحد کیا

1938ء میں علامہ اقبالؒ‘ نواب محمد اسماعیل خان اور سر عبداللہ ہارون مسلمانوں کےلئے الگ ملک بنانے کے لئے دن رات سرگرم تھے تو قائداعظمؒ نے اس حوالے سے ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا کام حاجی عبداللہ ہارون کو سونپا ، ایک برس سے کم عرصے میں انہوں نے یہ رپورٹ تیار کی اور 1939ء کے مدارس میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی۔ جسے اس اجلاس میں منظور بھی کر لیا گیا اور پھر اگلے برس 1940 میں اسے قرارداد لاہور کی صورت میں مسلمانان ہند کی قرار داد بننے کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا۔ سر عبداللہ ہارون نے فلاحی خدمات اور بھرپور سیاسی زندگی گزارتے ہوئے 27 اپریل 1942ء کو وفات پائی۔
انہوں نے رفاہ عامہ کے لیے بھی متعدد کام کیے اور کئی مدرسے، کالج، مساجد اور یتیم خانے بنوائے۔ کراچی میں عبداللہ ہارون کالج اور عبداللہ ہارون روڈ انہی کی یادگار ہے

تین رمضان المبارک یومِ وصال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

3 رمضان المبارک یومِ وصال
سیدہ طیبہ طاہرہ زاہدہ کاملہ اکملہ عابدہ ساجدہ عالمہ خاتون جنّت شہزادی کونین حضرت سیدہ فاطمۃ زھراء سلام اللّه علیہا 💞

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی ؟؟؟

سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللّه علیھا کا جنازہ کس نے پڑھایا تھا ؟؟؟

کنز العمال میں امام جعفر الصادق رضی اللّه عنہ سے روایت ہے جب سیدہ فاطمہ سلام اللّه علیھا کا جنازہ مبارک پڑھانے کے لئے جناب سیدنا علی المرتضی علیہ السلام کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّه عنہ نے فرمایا تو مولا علی علیہ السلام نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو جواب دیا آپ خلیفئہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں آپ سے پیش قدمی نہیں کر سکتا، پس سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے جنازہ پڑھایا💞

کنزالعمال باب فضائل فاطمہ ؓ ٦ / ٣١٨

اس مسئلہ پر بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے انداز فکر کے لحاظ سے روشنی ڈالی ہے اور مختلف آراء اور نظریات سامنے آئے کچھ لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش لغو کی ہے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں ۔اور آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ وہ میرے جنازے میں شریک نہ ہوں ۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رات کو ہی دفن کر دیا تھا اور خلیفۃ المسمین کو اس کی خبر ہی نہ ہونے دی۔ اُس رات سے ان لوگوں نے حضرت علی المرتضٰی اور حضرت ابوبکر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ناراضگی اور اختلاف کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جمہور علماء اہلسنت و جماعت کا موقف ہے اور مستند ترین کتابوں میں یہ موجود ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراء کا جنازہ خلیفہ بلا فصل انبیاء کے بعد سرکار علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی اور روحانی خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے اور اسی پر اکثر امت مسلمہ کا اتفاق ہے

حوالہ نمبر ١۔
عن حماد عن ابراھیم النخعی قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکبر اربعا۔
ترجمہ : حضرت ابرھیم نخعی نے کہا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں
طبقات ابن سعد جلد ثامن صفحہ ١٩ تذکرہ فاطمہ مطبوعہ لیدن (یورپ)

حوالہ نمبر ٢:۔
عن مجاھد عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ وعنہا
ترجمہ : حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ فاطمہ پر ابوبکر الصدیق نے نماز جنازہ پڑھایا
بحوالہ طبقات ابن سعد جلد ٨ صفحہ ١٩تذکر ہ فاطمہ طبع لیدن (یورپ)

حوالہ نمبر ٣ : تیسری روایت امام بہیقی سے اپنی سند کیساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ
حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا(رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ترجمہ : یعنی جب حضرت فاطمہ فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنھما نے انکو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کر دیا
بحوالہ السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد٤ صفحہ ٢٩کتاب الجنائز

حوالہ نمبر ٤ :۔
امام محمدباقر سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے
عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
ترجمہ : امام جعفر صادق امام محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ ؐ فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر نے علی المرتضٰی سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی نے جواب دیا کہ آپ خلیفۃ رسول ہیں آپکی موجودگی میں مَیں آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا
بحوالہ کنزالعمال (خط فی رواۃ مالک)جلد ٦ صفحہ ٣١٨(طبع قدیم)روایت ٥٢٩٩باب فضائل الصحابہ ۔فصل الصدیق مسندات علی )

حوالہ نمبر ٥ :۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے
عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جدہ علی ابن حسین قال ماتت فاطمہ بین المغرب والعشاء فحضرھا ابوبکر و عمر وعثمان والزبیر وعبدالرحمان ابن عوف فلما وضعت لیصلیٰ علیھا قال علی تقدم یا ابابکر قال وانت شاھد یا اباالحسن؟قال نعم !فواللہ لا یصلی علیھا غیرک فصلٰی علیھا ابوبکر(رضوان اللہ علیہم اجمعین)ودفنت لیلا
بحوالہ ریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ مبشرہلمحب الطبری جلد١صفحہ ١٥٦باب وفات فاطمہ
ترجمہ : جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب و عشاء کے درمیان حضرت فاطمۃ الزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابوبکر و عمر و عثمان و زبیر و عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنھم حاضر ہوئے۔ جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائیے
اللہ کی قسم آپکے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نمازجنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں

حوالہ نمبر ٦ :۔
شاہ عبدالعزیز نے تحفہ اثنا عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر ١٤ کے آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہوئے ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے وہ بھی درج ذیل ہے
در فصل الخطاب آوردہ کہ ابوبکر صدیق و عثمان وعبدالرحمانابن عوف وزبیربن عوام وقت نماز عشاء حاضر شدندو رحلت حضرت فاطمہدرمیان مغرب و عشاء شب سہ شنبہ سوم ماہ رمضان ١١ھ؁بعد ازششماہ از واقعہ سرور جہاں بوقوع آمدہبودوستین عمرش بست و ہشت بود وابوبکر بموجب گفتہ علی المرتضٰی پیش امام شدونماز بروئے گزاشتو چہار تکبیر بر آورد
ترجمہ : فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر صدیق و عثمان و عبدالرحمان بن عوف و زبیر بن عوام تمام حضرات عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضورؐ کے چھ ماہ بعد فاطمہ کا انتقال مبارک ہوا اسوقت فاطمہ کی عمر ٢٨ سال تھی علی المرتضٰی کے فرمان کے مطابق ابوبکر الصدیق نماز جنازہ کے لیئے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی
بحوالہ اثنا عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ١٤ صفحہ نمبر ٤٤٥( طبع نول کشور لکھنوئ)

حوالہ نمبر ٧ :۔
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیساتھ ابن عباس سے جنازہ کی روایت کی ہے
عن میمون بن مھران عن ابن عباس النبی اتی بجنازۃ فصلٰی علیھا اربعا وقال کیرت الملائکۃ علیٰ ادم اربع تکبیرات و کبرابوبکر علیٰ فاطمہ اربعا وکبر عمر علیٰ ابی بکر اربعا وکبر صہیب علیٰ عمر اربعا
حضرت ابن عباس ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس مزید فرماتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت فاطمہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیریں کہیں اور عمر نے ابوبکر اور صہیب نے عمر پر چار تکبیریں کہیں تھیں
بحوالہ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر٤ صفحہ ٩٦ تذکرہ میمون بن مھران

حوالہ نمبر ٨ :۔
کتاب بزل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ (عربی) مؤلفہ علامہ مخدوم ہاشم سندھی کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء مترجم (مفتی علیم الدین )کے صفحہ ٦٠٦ پر حضرت فاطمۃ الزھراء کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپکا جنازہ حضرت صدیق اکبر نے پڑھایا
بحوالہ سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر ٦٠٦ کا حاشیہ نمبر ١

حوالہ نمبر ٩ :۔
تاریخ ابن کثیر البدایہ و النھایہ از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیر دمشقی اردو ترجمہ حصہ ششم صفحہ ٤٤٣ پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپکی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق نے پڑھائی
حضرت عباس اور حضرت علی کے متعلق بھی روایات موجود ہیں
بحوالہ تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایہ از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحہ ٤٤٣

حوالہ نمبر ١٠ :۔
مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی( مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین ) کے صفحہ ٥٤٤ پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے
حوالہ مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدث دہلوی جلد دوم صفحہ ٥٤٤ مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور

(نتیجہ)
ان دس کتابوں کی ان روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃ الرسول جانشین سرور عالم ؐ امام المسلمین و المومنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خدا حضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپکو مصلٰی امامت پر کھڑا کیا اور خود انکی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی 💞

چھبیس اپریل 1984 امتناع قادیانیت آرڈیننس

26 اپریل 1984
جب ریاست پاکستان نے ختم نبوت میں نقب لگانے کے تمام چور راستے بند کر دئیے

جنرل ضیاء الحق نے 26 اپریل 1984ء کو ”امتناعِ قادیانیت آرڈیننس“ جاری کر دیا ، جس کے مطابق قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر، قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا، اذان دینا، اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا اور شعائر اسلام استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984 کی وجہ سے مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس

چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہٰذا اب 5 جولائی 1977 کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا

حصہ اول ابتدائیہ

1۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(1) یہ آرڈیننس قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس 1984 کے نام سے موسوم ہو گا

(2) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا

2۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر 45 بابت 1860) کی ترمیم

3۔ ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں نئی دفعات 298۔ب اور 298۔ج کا اضافہ

مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45، 1860ء میں باب 10 میں، دفعہ 298 الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی
298۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

(1) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے

(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے

(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے

(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے

یا

(د) اپنی عبادت گاہ کو "مسجد" کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے

تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا

(2) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا

298۔ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا

4۔ ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء کی دفعہ 99۔الف کی ترمیم

مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء (ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء) میں جس کا حوالہ بعد ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ 99، الف میں، ذیلی دفعہ (1) میں

(الف) الفاظ اور سکتہ "اس طبقہ کے" کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 کی ذیلی دفعہ (1) کی شق ( ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف 298۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف یا دفعہ 298۔ب یا دفعہ 298۔ج شامل کر دئیے جائیں گے

قادیانیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صدر مملکت نے 26 اپریل 1984ء کو امتناعِ قادیانیت آرڈینینس نافذ کیا اورتعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 298۔ بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا قادیانی کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ’’امیر المومنین‘‘ یا ’’صحابہ‘‘ یا اس کی بیوی کو ’’ام المومنین‘‘ یا اس کے خاندان کے افراد کو ’’اہلِ بیت‘‘ کے الفاظ سے پکاریں یا اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہے‘ تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے

 قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے اس آرڈینینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج بھی کر دیا کہ یہ آرڈینینس قرآن و سنت کے منافی ہے

وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی ۔ قادیانیوں کی طرف سے مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کی طرف سے عبدالواجد لاہوری مرزائی پیش ہوئے ۔ 25 جولائی 1984ء سے 12 اگست 1984ء تک اس کی سماعت جاری رہی

29  اکتوبر 1984ء کواس کیس کے  247 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں اس آرڈینینس کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا گیا ۔ اس فیصلہ میں اہل بیت کی اصطلاح مرزا قادیانی کے خاندان والوں کے لئے استعمال کرنے سے متعلق عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ’’ اہل بیت کی اصطلاح بھی جیسا کہ کئی احادیث سے واضح ہوتا ہے حضرت رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے افراد کے لیے مخصوص ہے، ایسے اشخاص جو مسلمان نہیں ہیں یا جو مسلمان نہیں تھے ان کو اس نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزا قادیانی کے افراد یا خاندان کے لیے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہ ﷺ کے افرادِ خاندان متصف تھے وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے‘ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برا منایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن و امان کا مسئلہ خراب ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کر دیا جائے‘‘                 

(فیصلہ وفاقی شرعی عدالت مورخہ 29 اکتوبر 1984ء)  (PLD 1985 FSC 8)

تین رمضان المبارک 11 ہجری یومِ وصال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

03 رمضان المبارک 11 ہجری
یومِ وصال سیدہ فاطمہ بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

اسمِ گرامی : سیدہ فاطمہ
کنیت : ام ابیہا، ام الحسنین، ام الحسن، ام الحسین
القاب : آپ کے مشہور القاب میں زہراء اور سیدۃ نساء العالمین (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار) اور بتول ہیں۔ مشہور کنیت ام الائمہ، ام السبطین اور ام الحسنین ہیں۔ آپ کا مشہور ترین لقب سیدۃ نساء العالمین ایک مشہور حدیث کی وجہ سے پڑا جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو بتایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں عورتوں کی سیدہ ( سردار) ہیں۔ اس کے علاوہ خاتونِ جنت، الطاہرہ، الزکیہ، المرضیہ، السیدہ، سیدۃ نساء اہل الجنۃ، العذراء وغیرہ بھی القاب کے طور پر ملتے ہیں

سلسلہ نسب اسطرح ہے : سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا بنت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)

سیدہ فاطمہ زہراء سیدہ خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں اور رسولِ اکرم ﷺکی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں

سیدہ فاطمہ کی وجہ تسمیہ :
سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالیٰ فطمھا و محبیھا عن النار : ترجمہ یعنی میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کردیا ہے ۔ کنز العمال، ج،12حدیث،34222)

 سیدہ فاطمہ زہراء کی ولادت باسعادت 20 جمادی الثانی 18 برس قبل ہجرت بروز جمعۃ المبارک ہوئی

حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ابتدائی تربیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کی۔ اس کے علاوہ ان کی تربیت میں اولین مسلمان خواتین شامل رہیں۔ بچپن میں ہی ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اسلام کا ابتدائی زمانہ دیکھا اور وہ تمام تنگی برداشت کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتدائی زمانہ میں قریش کے ہاتھوں برداشت کی۔ ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ شریف میں حالتِ سجدہ میں تھے جب ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خبر ملی تو آپ نے آ کر ان کی کمر پانی سے دھوئی حالانکہ آپ اس وقت کم سن تھیں۔ اس وقت آپ روتی تھیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو کہتے جاتے تھے کہ اے جانِ پدر رو نہیں اللہ تیرے باپ کی مدد کرے گا۔

ان کے بچپن ہی میں ہجرتِ مدینہ کا واقعہ ہوا۔ مدینہ پہنچ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ اور ابو رافع کو 500 درھم اور اونٹ دے کر مکہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا چنانچہ وہ کچھ دن بعد مدینہ پہنچ گئیں۔ بعض دیگر روایات کے مطابق انہیں حضرت علی علیہ السلام بعد میں لے کر آئے۔ 2 ہجری تک آپ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی زیرِ تربیت رہیں۔ 2 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمیٰ سے عقد کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان کی تربیت میں دے دیا

حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میرے سپرد کیا گیا۔ میں نے انہیں ادب سکھانا چاہا مگر خدا کی قسم فاطمہ تو مجھ سے زیادہ مؤدب تھیں اور تمام باتیں مجھ سے بہتر جانتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ابھی کم سن تھیں تشریف لائیں۔ بھوک کی شدت سے ان کا رنگ متغیر ہو رہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو کہا کہ بیٹی ادھر آو۔ جب آپ قریب آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے بھوکوں کو سِیر کرنے والے پروردگار، اے پستی کو بلندی عطا کرنے والے مالک، فاطمہ کی بھوک کی شدت کو ختم فرما دے۔ اس دعا کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چہرے کی زردی مبدل بسرخی ہو گئی، چہرے پر خون دوڑنے لگا اور آپ ہشاش بشاش نظر آنے لگیں۔خود حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ اس کے بعد مجھے پھر کبھی بھوک کی شدت نے پریشان نہیں کیا۔

بعض روایات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے علی خدا کا حکم ہے کہ میں فاطمہ کی شادی تم سے کر دوں۔ کیا تمہیں منظور ہے۔ انہوں نے کہا ہاں، چنانچہ شادی ہو گئی۔ یہی روایت صحاح میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے کی ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کردوں۔ بعض روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود خواہش کا اظہار فرمایا تو حضور  نے قبول فرما لیا اور کہا: مرحباً و اھلاً

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی یکم ذی الحجہ 2 ہجری کو ہوئی۔ کچھ اور روایات کے مطابق امام محمد باقر  و امام جعفر صادق  سے مروی ہے کہ نکاح رمضان میں اور رخصتی اسی سال ذی الحجہ میں ہوئی۔ شادی کے اخراجات کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہ 500 درھم میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچ دی اور بعد ازاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہی زرہ تحفۃً انہیں لوٹا دی۔ یہ رقم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دی جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر قرار پایا۔ جبکہ بعض دیگر روایات میں مہر 480 درھم تھا

گھر داری کے لیے رسول اللہ نے حضرت مقداد ابن اسود رضی اللہ عنہا کو رقم دے کر ضروری اشیاء خریدنے کے لیے بھیجا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدد کے لیے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے چیزیں لا کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھیں۔ اس وقت حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں۔ مختلف روایات میں گھر داری کے سامان  کی فہرست میں ایک قمیض، ایک مقنع (یا خمار یعنی سر ڈھانکنے کے لیے کپڑا)، ایک سیاہ کمبل، کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، موٹے ٹاٹ کے دو فرش، چار چھوٹے تکیے، ہاتھ کی چکی، کپڑے دھونے کے لیے تانبے کا ایک برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لیے لکڑی کا ایک برتن (بادیہ)، کھجور کے پتوں کا ایک برتن جس پر مٹی پھیر دیتے ہیں، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچھانے کا ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا شامل تھے۔ یہ مختصر سامان دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر برکت نازل فرما جن کے اچھے سے اچھے برتن مٹی کے ہیں۔ یہ جہیز اسی رقم سے خریدا گیا تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ بیچ کر حاصل کی تھی

نکاح کے کچھ ماہ بعد یکم ذی الحجہ 2 ہجری کو آپ سلام اللہ علیہا کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے جلوس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اشہب نامی ناقہ پر سوار ہوئیں جس کے ساربان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ازواج مطہرات جلوس کے آگے آگے تھیں۔ بنی ھاشم ننگی تلواریں لیے جلوس کے ساتھ تھے۔ مسجد کے اردگرد چکر لگانے کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں اتارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا اس پر دعائیں دم کیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سر بازؤوں اور سینے پر چھڑک کر دعا کی کہ اے اللہ انہیں اور ان کی اولاد کو شیطان الرجیم سے تیری پناہ میں دیتا ہوں

شادی کے بعد آپ کی زندگی طبقہ نسواں کے لیے ایک مثال ہے۔ آپ گھر کا تمام کام خود کرتی تھیں مگر کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں آیا۔ نہ ہی کوئی مددگار یا کنیز کا تقاضہ کیا۔ 7 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کنیز عنایت کی جو حضرت فِضہ رضی اللہ عنہا کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے باریاں مقرر کی تھیں یعنی ایک دن وہ کام کرتی تھیں اور ایک دن حضرت فضہ رضی اللہ عنہا کام کرتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ بچے کو گود میں لیے چکی پیس رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک کام فضہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دو۔ آپ نے جواب دیا کہ بابا جان آج فضہ کی باری کا دن نہیں ہے

آپ کے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مثالی تعلقات تھے۔ کبھی ان سے کسی چیز کا تقاضہ نہیں کیا۔ ایک دفعہ حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا بیمار پڑیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کچھ کھانے کو دل چاہتا ہو تو بتاؤ۔ آپ نے کہا کہ میرے پدر بزرگوار نے تاکید کی ہے کہ میں آپ سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، ممکن ہے کہ آپ اس کو پورا نہ کرسکیں اور آپ کو رنج ہو۔اس لیے میں کچھ نہیں کہتی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب قسم دی تو انار کا ذکر کیا

آپ رضی اللہ عنہا نے کئی جنگیں دیکھیں جن میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمایاں کردار ادا کیا مگر کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہ جنگ میں شریک نہ ہوں اور پیچھے رہیں۔ اس کے علاوہ جنگ احد میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سولہ زخم کھائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا مگر آپ نے کسی خوف و ہراس کا مظاہرہ نہیں کیا اور مرہم پٹی، علاج اور تلواروں کی صفائی کے فرائض سرانجام دئیے

اللہ نے آپ کو دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ دو بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بیٹیاں زینب بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا و ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ ان کے دونوں بیٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا بیٹا کہتے تھے اور بہت پیار کرتے تھے۔ اور فرمایا تھا کہ حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ ان کے نام بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود رکھے تھے

 مباہلہ ایک مشہور واقعہ ہے اور ان چند واقعات میں سے ایک ہے جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنگ کے علاوہ گھر سے نکلنا پڑا۔ نجران کے مسیحی جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے آئے اور بحث کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور کسی طرح نہ مانے تو اللہ نے قرآن میں درج ذیل آیت نازل کی

’’اے پیغمبر! علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے بحث کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں‘‘

(سوره آل عمران آيت: 61)

اس کے بعد مباہلہ کا فیصلہ ہوا کہ عیسائی اپنے برگزیدہ لوگوں کو لائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ آئیں گے اور مباہلہ کریں گے اور اسی طریقہ سے فیصلہ ہوگا۔ اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چادر میں لپیٹے ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لیے ہوئے آئے۔ ان لوگوں کو دیکھتے ہی عیسائی مغلوب ہو گئے اور ان کے سردار نے کہا کہ میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر خدا سے بد دعا کریں تو روئے زمین پر ایک بھی عیسائی سلامت نہ رہے

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وصال سے قبل مرض وصال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نزدیک بلا کر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔اس کے بعد آپ  نے پھر سرگوشی کی تو آپ رضی اللہ عنہا مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا نے اپنی موت کی خبر دی تو میں رونے لگی۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جا مِلوں گی تو میں مسکرانے لگی

ایک اور روایت میں یحیٰ بن جعدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ سال میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین سے قرآن کا دور ہوتا تھا مگر اس دفعہ دو مرتبہ کیا گیا۔ اس سے مجھے بتایا گیا ہے کہ میرا وصال قریب ہے۔ میرے اہل میں سے تم مجھے سب سے پہلے آ کر ملو گی۔ یہ سن کر آپ غمگین ہوئیں تو رسول اللہ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم زنان اہلِ جنت کی سردار ہو ؟ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہا مسکرانے لگیں


ام المؤمنین  سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل و صورت اور بات چیت میں  سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر  کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا (سننِ ابو داؤد)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین

ترجمہ : کیا تم  اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہو (بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا
فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے (بخاری ، 1:532)

حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی : اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق

ترجمہ : قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ بنت محمد ﷺ گذر جائیں چنانچہ سیدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی (المستدرک ، 3:161)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اہلِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اور حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے

حضرت ابو حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں

ایک اور مشہور حدیث (جو حدیث کساء کے نام سے معروف ہے) کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہل بیت تجھ سے رجس کو دور کرے اور ایسے پاک کرے جیسا پاک کرنے کا حق ہے

حضور اکرم ﷺ کے وصال کے 6 ماہ  بعد 3 رمضان المبارک  11 ہجری منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔ نمازِ جنازہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی (کنز العمال۔حدیث،42856)۔(شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج4،ص342)

چھبیس اپریل 1958 یومِ پیدائش فریال تالپور

26 اپریل 1958
یومِ پیدائش فریال تالپور

بے غیرتی جب مسجم صورت اختیار کرے تو حاکم علی زرداری کی اولاد کی شکل اختیار کرتی ہے

فریال تالپور پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی صدر، سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور سندھ اسمبلی کی منتخب رکن ہیں

فریال تالپور 26 اپریل 1958 کو نواب شاہ میں حاکم علی زرداری کے گھر پیدا ہوئیں

فریال تالپور دو مرتبہ یعنی 9 سال تک ضلع نواب شاہ کی ناظمہ رہیں۔ پہلی مرتبہ 2001  اور پھر 2005 میں نواب شاہ کی ناظمہ رہیں

2008 میں لاڑکانہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں جب کہ 2018 میں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئیں۔

 فریال تالپور ٹنڈو اﷲ یار، ضلع حیدرآباد، سانگھڑ میں زرعی زمین، ڈی ایچ اے کراچی میں ایک گھر، گوادر میں پلاٹ، کلفٹن کراچی میں گھر، 22 لاکھ کا کاروبار، 62 لاکھ کی سرمایہ کاری، 3 گاڑیاں، 3 کروڑ 73 لاکھ روپے کا بینک بیلنس رکھتی ہیں

فریال تالپور بے نظیر بھٹو  کے مرنے کے بعد  زرداری کے بچوں کی قانونی نگران ہیں

انیس سو بیس میں القدس کی ایک تصویر

1920 میں القدس کی تصویر، جب ارض مقدس سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ ترک پرچم ہر گلی و کوچے میں لہرائے جاتے تھے پھر ایک " ترک نادان " نے اس پرچم کو لپیٹ لیا اور وہ دن اور آج کا دن، سو سال ہو گئے القدس اسلامی پرچم نہ دیکھ سکا

اسی سال اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا شاید سب سے فصیح و بلیغ شعر کہا

کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف " ینسلون "

سورہ انبیاء کی وہ آیت ترجمے کے ساتھ یہ امت لازمی پڑھ لے جسمیں یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کا ذکر ہے

القدس یاجوج اور ماجوج کے لشکر کے خلاف پھر کسی "عثمانی" کا متلاشی ہے تاکہ یہ گلیاں یہود کے ستارہ داؤدی کی جگہ مسلم امہ کے ہلالی پرچم سے دوبارہ آراستہ ہوں !!!

چھبیس اپریل 2020 وزیرستان دتہ خیل میں پاک فوج کے دو جوان شہید

وزیرستان دتہ خیل کے قریب دہشتگردوں کے ساتھ مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوان لانس نائیک عبدالوحید اور سپاہی سکم داد شہید ہوگئے ہیں اور 5 جوان زخمی ہیں
اللہ تعالٰی شہیدوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

فائرنگ کے تبادلے میں 9 دہشتگرد ہلاک جبکہ ‏ایک دہشت گرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے

چھبیس اپریل 1984 امتناع قادیانیت آرڈیننس

26 اپریل 1984
جب ریاست پاکستان نے ختم نبوت میں نقب لگانے کے تمام چور راستے بند کر دئیے

جنرل ضیاء الحق نے 26 اپریل 1984ء کو ”امتناعِ قادیانیت آرڈیننس“ جاری کر دیا ، جس کے مطابق قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر، قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا، اذان دینا، اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا اور شعائر اسلام استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984 کی وجہ سے مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس

چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہٰذا اب 5 جولائی 1977 کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا

حصہ اول ابتدائیہ

1۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(1) یہ آرڈیننس قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس 1984 کے نام سے موسوم ہو گا

(2) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا

2۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر 45 بابت 1860) کی ترمیم

3۔ ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں نئی دفعات 298۔ب اور 298۔ج کا اضافہ

مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45، 1860ء میں باب 10 میں، دفعہ 298 الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی
298۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

(1) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے

(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے

(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے

(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے

یا

(د) اپنی عبادت گاہ کو "مسجد" کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے

تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا

(2) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا

298۔ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا

4۔ ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء کی دفعہ 99۔الف کی ترمیم

مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء (ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء) میں جس کا حوالہ بعد ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ 99، الف میں، ذیلی دفعہ (1) میں

(الف) الفاظ اور سکتہ "اس طبقہ کے" کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 کی ذیلی دفعہ (1) کی شق ( ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف 298۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف یا دفعہ 298۔ب یا دفعہ 298۔ج شامل کر دئیے جائیں گے

قادیانیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صدر مملکت نے 26 اپریل 1984ء کو امتناعِ قادیانیت آرڈینینس نافذ کیا اورتعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 298۔ بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا قادیانی کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ’’امیر المومنین‘‘ یا ’’صحابہ‘‘ یا اس کی بیوی کو ’’ام المومنین‘‘ یا اس کے خاندان کے افراد کو ’’اہلِ بیت‘‘ کے الفاظ سے پکاریں یا اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہے‘ تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے

 قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے اس آرڈینینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج بھی کر دیا کہ یہ آرڈینینس قرآن و سنت کے منافی ہے

وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی ۔ قادیانیوں کی طرف سے مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کی طرف سے عبدالواجد لاہوری مرزائی پیش ہوئے ۔ 25 جولائی 1984ء سے 12 اگست 1984ء تک اس کی سماعت جاری رہی

29  اکتوبر 1984ء کواس کیس کے  247 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں اس آرڈینینس کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا گیا ۔ اس فیصلہ میں اہل بیت کی اصطلاح مرزا قادیانی کے خاندان والوں کے لئے استعمال کرنے سے متعلق عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ’’ اہل بیت کی اصطلاح بھی جیسا کہ کئی احادیث سے واضح ہوتا ہے حضرت رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے افراد کے لیے مخصوص ہے، ایسے اشخاص جو مسلمان نہیں ہیں یا جو مسلمان نہیں تھے ان کو اس نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزا قادیانی کے افراد یا خاندان کے لیے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہ ﷺ کے افرادِ خاندان متصف تھے وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے‘ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برا منایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن و امان کا مسئلہ خراب ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کر دیا جائے‘‘                 

(فیصلہ وفاقی شرعی عدالت مورخہ 29 اکتوبر 1984ء)  (PLD 1985 FSC 8)

پی ٹی ایم میں شدید ہوتے اختلافات

پی ٹی ایم میں شدید ہوتے اختلافات، گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو

پی ٹی ایم میں پھوٹ تو اُسی دن پڑ چکی تھی جس دن علی وزیر اور محسن داوڑ نے  منظور پشتین کے پی ٹی ایم پہ کنٹرول کو چیلنج کرتے ہوئے کھل کر سامنے آنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد منظور پشتین کا پی ٹی ایم پر ہولڈ صرف پاکستان میں چند حلقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا جبکہ علی وزیر اور محسن داوڑ نے پی ٹی ایم کی جڑوں کو پکڑا اور پی ٹی ایم کو فنڈنگ، میڈیا سپورٹ، افرادی سپورٹ فراہم کرنے والوں کی گود میں جا بیٹھے

افغانستان حکومت ہو، پی پی ہو، امریکہ میں حسین حقانی   یا انڈین لابی ہو، ان سب کو محسن داوڑ نے ہائی جیک کر لیا۔ اس ہائی جیک کرنے کا بڑا نقصان پی ٹی ایم کو یہ ہوا کہ ان کے درمیان دو گروہ بن گئے اور لوگ تقسیم ہوگئے گو کہ یہ بات یہ پبلک میں نہیں مانتے لیکن "اہم ترین" اندرونی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اندر لاوا اُبل رہا ہے جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔ منظور اور اسکے ساتھی پی ٹی ایم کی اہم مشاورتی و معاملاتی کمیٹی سے علیحدہ ہیں۔ ظاہری طور پر پی ٹی ایم کو بچانے کی خاطر ایک دوسرے کو برداشت کر رہے ہیں

ان ذرائع کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے دوران جب محسن داوڑ اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو گھروں سے نکالے اور حکومت پاکستان کے خلاف کرونا وائرس کو پراکسی کے طور پہ استعمال کرے اور اس لاک ڈاؤن کے دوران بھی احتجاجی مظاہرے کرکے لوگوں کو باہر لائیں لیکن اس میں منظور پشتین نے انکی حمایت سے کنارہ کرتے ہوئے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد محسن داوڑ اور منظور پشتین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جسے دبا دیا گیا اور معاملے کو رفع دفع کردیا گیا۔ اس کے بعد پی ٹی ایم کی اب جتنی  میٹنگز ہوتی ہیں ان میں اکثر میں منظور پشتین اور اسکے قریبی لوگ شامل ہی نہیں ہوتے اور یہ میٹنگز اب صرف اسکائپ کی حد تک ہی رہ چکی ہیں ان میں بھی محسن داوڑ گروپ ہی اپنی من مرضی کی پالیسیز بنا رہا ہے

منظور پشتین گروپ اکثر ان میٹنگز میں شامل نہیں ہوتا جبکہ منظور پشتین گروپ برملا کہتا نظر آتا ہے کہ منظور کے بغیر کوئی پالیسی منظور نہیں۔ پی ٹی ایم کو ہائی جیک کیا گیا ہے جس پی ٹی ایم کو منظور نے کھڑا کیا آج اس پی ٹی ایم کی میٹنگز میں منظور پشتین شامل نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اسکی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی جس سے پارٹی میں کسی وقت بھی شدید بغاوت پھوٹ سکتی ہے جو پی ٹی ایم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی اور منظور پشتین یا محسن داوڑ اور علی وزیر ایک دوسرے کا سارا کچرا باہر نکال سکتے ہیں

پی ٹی ایم میں یہ جھگڑے آج سے نہیں ہیں بلکہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پی ٹی ایم پہ کنٹرول، بیرونی طاقتوں سے محسن داوڑ اور علی وزیر کے یارانے، خڑقمر چیک پوسٹ حملے کے بعد منظور کی بیوفائی، کروڑوں روپے کے چندہ خردبُرد، پھر منظور کی گرفتاری کے بعد محسن داوڑ گروپ کا انتہائی سرد رویہ، اشرف غنی کی صدراتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت، جس میں منظور پشتین کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا جس کے بعد اندرونی ذرائع کی خبر تھی کہ اختلافات شدید ہوتے جا رہے ہیں،  لاوا پھٹتا، اس سے پہلے ہی منظور کو افغانستان سے بڑا تحفہ ملا جس میں رقم ، ایک گاڑی اورکچھ دیگر اہم چیزیں شامل تھیں جس کے بعد جا کر منظور نے خاموشی اختیار کرلی

کرونا وائرس کے بعد پی ٹی ایم میں شدید بے چینی ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد پی ٹی ایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے۔ اللہ ہی جانے لیکن جو پی ٹی ایم کے حالات اور اندرونی خبریں ہیں، ہر دو چار روز بعد قیادت میں چپقلش کی خبریں ہیں اس سے واضح ہو رہا ہے کہ پی ٹی ایم کا شیرازہ جلد ہی بکھر جائے گا۔ یا پھر منظور پشتین اور محسن داوڑ گروپ کھل کر ایک دوسرے کی مخالفت میں آجائیں گے

ایک ماہ کے روزوں اور قیام اللیل سے بہتر کیا ؟؟؟

دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام اللیل سے بہتر ہے

صحیح مسلم

پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا مظاہرہ

پاک بحریہ کا شمالی بحیرہ عرب میں اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ۔ ترجمان پاک بحریہ

پاک بحریہ کے جنگی بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں نے سطح سمندر پر مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلز فائر کئے۔ ترجمان پاک بحریہ                                                                                                                                                           

یہ تجربات پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں اور حربی تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ ترجمان پاک بحریہ

نیول چیف ظفر محمود عباسی نے پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا

پاک بحریہ دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ سربراہ پاک بحریہ

Saturday, April 25, 2020

یکم رمضان المبارک 1275 ہجری یومِ پیدائش پِیر مہر علی شاہ

01 رمضان المبارک 1275 ہجری
04 اپریل 1859
یومِ پیدائش پِیر مہر علی شاہ

کِتھے مہر علی کِتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کِتھ
ے جالڑیاں

حضرت سیدنا پِیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 01 رمضان المبارک 1275 ہجری بمطابق  04 اپریل 1859  بروز پِیر گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی, پاکستان میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد محترم کا نام پیر نذر دین شاہ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب 25 واسطوں سے حضرت سیدنا حضور غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ اکرم اور 32 واسطوں سے سیدنا حضرت امام حسن المجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچتا ہے۔

بچپن میں ہی حضرت پِیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ناظرہ قرآن پاک پڑھنے کے دوران آپ روزانہ کا سبق کسی کے کہے بغیر زبانی یاد کر لیا کرتے ۔ اور بغیر دیکھے ہی سنا دیا کرتے تھے، جب آپ نے ناظرہ مکمل کیا تو اس وقت آپ کو مکمل قرآن پاک حفظ ہو چکا تھا۔

آپ کے والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ  نے قرآن پاک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو عربی، فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حضرت مولانا محی الدین ہزاروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سپرد فرمایا۔ ایک روز آپ کے استاد صاحب نے پوچھا کہ بیٹا مطالعہ کر کے آتے ہو کہ نہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اس وقت تک  لفظ مطالعہ کا صحیح مطلب بھی معلوم نہ تھا۔ میں سمجھا کہ مطالعہ زبانی یاد کرنے کو کہتے ہیں۔ لہذا اگلے روز میں نے پورا سبق زبانی سنا دیا، جس پر استاد صاحب کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

ایک دن پِیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے استاد صاحب نے دوران سبق کتاب کے ایسے حصے کی عبارت یاد کرکے آنے کی ہدایت کی جو دیمک لگ جانے کی وجہ سے اس قدر مٹ چکی تھی کہ پڑھی نہ جاسکتی تھی ۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے عذر پیش کیا کہ جو عبارت کتاب میں ہی نہیں ہے اسے کیسے یاد کیا جاسکتا ہے تو استاد صاحب نے غالباً آپ کے مادر زاد ولی ہونے کی تصدیق کی غرض سے کہا کہ میں نہیں جانتا ، اگر کل یہ عبارت یاد نہ ہوئی تو سزا ملے گی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں آبادی سے باہر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر مطالعہ وغیرہ کیا کرتا تھا اُس دن بھی کافی دیر تک میں وہیں بیٹھا کتاب کی دیمک زدہ عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا مگر بے سُود - آخر کار  سر اٹھا کر بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض کی:

" اے اللہ عزوجل بے شک تُو جانتا ہے کہ یہ عبارت کیا ہے۔ اگر تُو مجھے بتا دے تو میں استاد کی سزا سے بچ جاؤں گا "

یہ کہنا تھا کہ اچانک درخت کے پتوں میں سبزی مائل عبارت نمودار ہوئی جسے میں نے حفظ کر لیا اور اُسی وقت جاکر استاد صاحب کو سُنا دی۔ انہوں نے کچھ شبہ کا اظہار کیا تو میں نے کہا کہ مجھے اس کے صحیح ہونے کا اس قدر یقین ہے کہ اگر اس کتاب کے مصنف بھی قبر سے باہر نکل کر آجائیں اور اسے غلط کہہ دیں تو میں نہ مانوں گا۔ چناچہ استاد صاحب اسی روز راولپنڈی گئے اور ایک مکمل نسخے سے میری سنائی ہوئی عبارت کو مِلاکر دیکھا تو نہایت حیران ہوئے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے گئے تو مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ آپ کے علم و فضل سے بہت متاثر ہوئے۔ حضرت پیر صاحب چاہتے تھے کہ حرمین طیبین میں ہی قیام کِیا جائے مگر حضرت حاجی صاحب نے تاکید کے ساتھ واپس جانے کاحکم دیا اور فرمایا کہ ہندوستان میں عنقریب ایک فِتنہ برپا ہونے والا ہے لہٰذا آپ اپنے ملک ہندوستان واپس چلے جائیں کیونکہ بالفرض آپ ہند میں خاموش ہو کر بیٹھ بھی جائیں گے تو پھر بھی وہ فتنہ ترقی نہ کرسکے گا ۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ پس ہم حاجی صاحب کے اس کشف کو اپنے یقین کی رُو سے مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں۔

حضرت حاجی امداد اللہ کی پیشنگوائی کے مطابق آپ نے فتنہ قادیانیت کی سازشوں پر پانی پھیر دیا ۔ آپ نے 1899 میں شمس الہدایہ نامی کتاب لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبردست دلائل قائم کئے۔ مرزا قادیانی ان دلائل کا جواب تو نہ دے سکا البتہ مناظرے کا چیلنج کر دیا

25 جولائی 1900 کی تاریخ مُناظرہ کے لیے طے پائی ، چنانچہ مقررہ تاریخ کو حضرت پِیر مہر علی شاہ صاحب اور علمائے کرام کی بہت بڑی جماعت بادشاہی مسجد لاہور پہنچ گئی لیکن مرزا قادیانی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی۔

پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی چند مشہور تصانیف مندرجہ ذیل ہیں
سیف چشتیائی
شمس الہدایۃ
تحقیقُ الحق
الفتوحاتُ الصمدیۃ
فتاویٰ مہریہ

آپ کا وصال شریف 29 صفر المظفر 1356 ہجری بمطابق 11 مئی 1937 صبح کے وقت ذکر اللہ کرتے ہوئے ہوا

آپ کا مزار پرانوار گولڑہ شریف میں موجود ہے، جہاں بہت سے عقیدت مند روزانہ حاضر ہوتے ہیں اور فیض باطنی سے مستفید ہوتے ہیں۔

آپ کا عرس مبارک 29 صفر المظفر کو ہوتا ہے -

آپ کی مشہور  زمانہ نعت کِتھے مہر علیؔ کِتھے تیری ثناء  ترجمہ کے ساتھ۔

اَج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں

اَلْطَّیْفُ سَریٰ مِنْ طَلْعَتِہٖ
والشَّذُو بَدیٰ مِنْ وَفْرَتَہٖ
فَسَکَرْتُ ھُنَا مِنْ نَظْرَتِہٖ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں

مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکے لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں

دو ابرو قوس مثال دسن
جیں توں نوک مژہ دے تیر چھٹن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں

اس صورت نوں میں جان آکھاں
جانان کہ جانِ جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تو شاناں سب بنیاں

ایہہ صورت ہے بے صورت تھیں
بے صورت ظاہر صورت تھیں
بے رنگ دسے اس مورت تھیں
وچ وحدت پھٹیاں جد گھڑیاں

دسے صورت راہ بے صورت دا
توبہ راہ کی عین حقیقت دا
پر کم نہیں بے سوجھت دا
کوئی ورلیاں موتی لے تریاں

ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روزِ حشر
وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں

یُعْطِیُکَ رَبُّکَ داس تساں
فَتَرْضیٰتھیں پوری آس اساں
لج پال کریسی پاس اساں
والشْفَعْ تُشَفَّعْ صحیح پڑھیاں

لاہو مکھ تو  بردِ یمن
من بھانوری جھلک دکھلاؤ سجن
اوہا مٹھیاں گالیں الاؤ مٹھن
جو حمرا وادی سن کریاں

حجرے توں مسجد آؤ ڈھولن
نوری جھات دے کارن سارے سکن
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
سب انس و ملک حوراں پریاں

انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے
لکھ واری صدقے جاندیاں تے
انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے
شالا آون وت بھی اوہ گھڑیاں

سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں

(پیر مہر علی شاہ گولڑوی شریف)

ترجمہ

ہے آج سجن کی پیاس بہت
کیوں دل مسکیں ہے اداس بہت ؟
نس نس میں ہے شوق کی باس بہت
آنکھوں سے لگی ہیں کیوں جھڑیاں ؟

مکھڑا اِک بدر ہے شعشانی
ماتھے پہ ہیں لاٹیں نورانی
زلفیں کالی، اور مستانی
آنکھیں ہیں نشیلی مَدھ بھریاں

دو ابرو مثالِ قوس لگیں
جن سے مژگاں کے تیر چلیں
لب لعلِ یمن کی سرخی دیں
اور دانت ہیں موتیوں کی لڑیاں

اس صورت کو میں جان کہوں
جانان کہ جانِ جہان کہوں
سچ کہوں تو رب کی شان کہوں
جس شان سے ہے ہر شان عیاں

یارب! ہو یہ صورت پیشِ نظر
جب نزع لگے، جب ہو محشر
جب قبر میں ہو اور پُل پہ گزر
سب کھوٹے بھی ہوں گے کھرے جہاں

آؤ حجرے سے مسجد پیارے
انک نوری جھلک مانگیں سارے
ہیں آنکھیں بچھائے متوارے
سب اِنس و ملک حوریں پریاں

ان روتے ہوئے دیوانوں پر
ان صدقے اترتی جانوں پر
بے دام غلام انسانوں پر
پھر آئیں خدایا! وہ گھڑیاں

سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کہاں مہرؔ علی، کہاں تیری ثنا
گستاخ نظر جا ٹھہری کہاں

سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
سبحان اللہ! آپ ﷺ کتنے جمیل ہیں
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
آپ ﷺ کتنے حسین ہیں، آپ ﷺ کتنے کامل ہیں

(پروفیسر کرم حیدری، کرم داد خان)

یکم رمضان المبارک 470 ہجری یومِ پیدائش سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی

01 رمضان المبارک 470 ہجری
17 مارچ 1078
یومِ پیدائش سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی

شیخ  عبدالقادر جیلانی سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں

نام : عبدالقادر
 کنیت : ابو محمد
لقب : محی الدین، پیرانِ پیر دستگیر، شیخ الشیوخ

شیخ عبدالقادر جیلانی یکم رمضان المبارک 470 ہجری  بمطابق 17 مارچ 1078 کو ایران کے صوبہ کرمان شاہ کے شہر مغربی گیلان میں پیدا ہوئے، جس کو کیلان بھی کہا جاتا ہے اور اسی لیے آپ کا ایک اور نام شیخ عبد القادر گیلانی بھی ماخوذ ہے

والد ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ، والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ "نجیب الطرفین" سیّد ہیں۔ والد ماجد کی طرف سے سلسلۂ نسب سیدنا امام حسن بن علی المرتضیٰ سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملتا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہ  نسب کچھ یوں ہے۔
سید ابو صالح موسٰی جنگی دوست بن عبد اللہ الجیلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد مورث بن سید داؤد بن سید موسٰی ثانی بن سید موسٰی الجون بن سید عبد اللہ ثانی بن سید عبداللہ المحض بن سید حسن المثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی المرتضٰ کرم اللہ وجہہ الکریم

18  سال کی عمر میں (1095) شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیلِ علم کے لئے بغداد تشریف لے گئے۔  آپ کو فقہ کے علم میں ابو سید علی مخرمی، علِم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لئے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے

شیخ عبدالقادر جیلانی  نے سیدنا ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی
آپ کا شجرہ طریقت کچھ اس طرح ہے

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ
حضرت شیخ قاضی ابو سعید محمد مبارک مخزومیؒ
حضرت شیخ ابو الحسن علی هنکاریؒ
حضرت شیخ محمد ابو الفرح طرطوسیؒ
حضرت شیخ ابو الفضل عبدالواحد تمیمی
حضرت شیخ ابوبکر شبلیؒ
سید الطائفه حضرت شیخ جنید بغدادیؒ
حضرت شیخ سری سقطی
حضرت شیخ اسد الدین معروف کرخی
حضرت شیخ ابوسلیمان داؤد طائی
حضرت خواجہ ابو نصر حبیب عجمی
حضرت خواجہ حسن بصری
حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی الله عنه
خاتم النبین حضرت محمد مصطفٰی صلی الله علیه وسلم

1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف و توصیف میں سیرت نگاروں کے تذکرے بھرے پڑے ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق و محامد سے متصف فرمایا تھا کہ آپ کے معاصرین  آپ کی تحسین کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی آپ کے حسنِ سلوک کے گرویدہ تھے۔ آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں : "میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا"

آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے، لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ  ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کئے۔ مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مروت سے پیش آتے۔ سچائی اور حق گوئی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔  حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ آپ معروف کا حکم دیتے اور منکرات سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ ڈال دیا تھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی  رحمۃ اللہ علیہ مجسمہ ایثار و سخاوت تھے۔ دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جو کچھ پاس ہوتا سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے۔عفو و کرم کے پیکر جمیل تھے۔ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصہ نہیں کیا۔ لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ نہایت رقیق القلب تھے

شیخ عبد القادر جیلانی نے طالبینِ حق کے لیے گراں قدر کتابیں تحریر کیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں
(بعض کتابوں کی شیخ کی طرف نسبت اختلافی ہے)

غنیۃ الطالبین
الفتح الربانی والفیض الرحمانی
ملفوظات
فتوح الغیب
جلاء الخاطر
 ورد الشیخ عبد القادر الجیلانی
الحدیقۃ المصطفویہ
الرسالۃ الغوثیہ
آدابِ سلوک و التوصل الی منازلِ سلوک
جغرافیۃ الباز الاشہب

1۔ فتوح الغیب
فتوح الغیب شیخ عبد القادر جیلانی کی تصنیف ہے۔ یہ علم تصوف و معرفت پر معرکۃ الآراء کتاب ہے اس کے مضامین، مضامین قرآنی اور اسرار طریقت سے معمور ہیں، یہ کتاب کئی مقالات پر مشتمل ہے، ہر مقالہ معرفت و حقیقت کا آئینہ دار ہے، اس کتاب میں غوث اعظم کے اٹھہتر 78 وعظ ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے۔ ان مقالات کا مطالعہ ایمان میں حرارت پیدا کرتا ہے اور صحیح اعمال و عقائد کی عکاسی کرتا ہے یہ کتاب اصل میں انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد عیسیٰ کی تعلیم کے لیے تصنیف فرمائی اس کتاب میں فنا و بقاء اور نفس و دل کے امراض اور ان کا علاج تجویز کیا گیا ہے
اس کتاب کے کئی ترجمے ہوئے، شاہ عبد الحق قادری محدث دہلوی نے ترجمہ کیا جو بہت شہرت رکھتا ہے ابو الحسن سیالکوٹی، نواب صدیق حسن بھوپالی اور محمد عالم کاکوروی نے بھی تراجم کیے ہیں

2۔ غنیتہ الطالبین
غنیۃ الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی تصنیف کردہ ایک مشہور کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے متعدد فقہی مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک مخصوص انداز میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اذکار و ادعیہ اور فضائل اعمال وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

شیخ عبد القادر نے مختلف اوقات مین چار شادیاں کیں جبکہ ازداوجی زندگی کا آغاز 50 برس کی عمر سے کیا۔ ان کے نام یہ ہیں
سیدہ بی بی مدینہ بنت سید میر محمد
سیدہ بی بی صادقہ بنت سید محمد شفیع
سیدہ بی بی مومنہ
 سیدہ بی بی صادقہ

شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کی چار ازواج سے انچاس بچے پیدا ہوئے۔ بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔ جن بیٹوں کے نام ملے وہ یہ ہیں

شیخ سیف الدین عبد الوہاب
شیخ تاج الدین عبد الرزاق
شیخ شرف الدین عیسیٰ
شیخ ابو اسحاق ابراہیم
شیخ ابو بکر عبد العزیز
شیخ ابو زکریا یحیٰ
شیخ عبد الجبار
شیخ ابو نصر موسیٰ
شیخ ابو الفضل محمد
شیخ عبد اللہ

آپ کے چند فرموداتِ

اے انسان، اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اُس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت و صحبت میسر نہ آجائے

اہلِ دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبِ دل ہو جائے

میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اُس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے

شیخ عبد القادر جیلانی کا انتقال 11 ربیع الثانی 561 ہجری بمطابق 12 فروری  1166 کو ہفتہ کی شب  کو بغداد میں  ہوا اور آپ کی تدفین آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی

یکم رمضان المبارک 14 ہجری یومِ پیدائش سیدنا ہلال بن مولائے کائنات

یکم رمضان المبارک 14 ہجری
یومِ پیدائش سیدنا ہلال بن مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ

السلام اے کریم ابن کریم
السلام اے سخی ابن سخی

سیدنا ہلال یا محمد الاوسط بن علی مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب اور
 امامہ بنت ابی العاص کے فرزند ہیں

آپ کی والدہ امامہ بنت ابی العاص یا امامہ بنت زینب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی زینب ابو العاص بن ربیع کی صاحبزادی اور رسول اللہ ﷺ کی نواسی تھیں

سیدہ فاطمۃ الزہراء کی وفات کے بعد حضرت علی نے سیدہ امامہ بنت ابی العاص سے شادی کر لی تھی۔ فاطمۃ زہراء رضی اللہ عنھا نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد میری بھانجی سے نکاح کرنا، یہ نکاح زبیر ابن عوام کے اہتمام سے ہوا

سیدنا ہلال بن مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب کا انتقال 19 مئی 684 کو ہوا
آپ کا مزار اصفحان ایران میں ہے

Thursday, April 23, 2020

تئیس اپریل 2017 یونس خان کے ٹیصٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل

23 اپریل 2017
یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا۔ وہ یہ کارنامہ سر انجام دینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے


محمد یونس خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے بازوں میں سے ایک تھے۔ سر جھکا کر فقط اپنی کارکردگی سے ہر ایک کا منہ بند کر دینے والا کھلاڑی

یونس خان 29 نومبر، 1977ء کو خیبر پختون خواہ کے شہر مردان میں پیدا ہو‎ئے۔ وہ پاکستان کی 2009ء کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان بھی تھے۔ یونس خان حنیف محمد اورانضمام الحق کے بعد پاکستان کے تیسرے کھلاڑی تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری اسکور کی۔ ان کا سب زیادہ اسکور 313 رنز ہے

وہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔ انہوں نے 26 فروری 2000 سے لے کر 14 مئی 2017 تک 118 ٹیسٹ میچز میں 10099 رنز بنائے جن میں 34 سنچریاں اور 33 ففٹیز شامل ہیں ۔

انہوں نے 23 اپریل 2017 کو 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا ۔وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے 13 ویں اور پاکستان کے پہلے بلے باز تھے

وہ دنیا کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے دنیا کے ہر اس ملک (11 ممالک) میں سنچری بنائی ہے جو ٹیسٹ کرکٹ میچ منعقد کرواتا ہے

Wednesday, April 22, 2020

پشتونوں کے ساتھ افغانیوں کی دغا بازی (حصہ دوم)

پشتونوں کے ساتھ افغانیوں کی دغا بازی اور ظلم کی تاریخ
(قیام پاکستان سے نائن الیون تک)

14۔ تیس ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔
ستمبر سن 47 میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک جانے کے لیے ایک ایسی راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔
قائداعظم محمد علی جناح صاحب نے اس احمقانہ مطالبے کا جواب تک دینا پسند نہ کیا۔

15۔ باچاخانی سرخوں نے پشاور، چارسدہ اور مردان چھوڑ کر بنوں میں لوئے افغانستان یا پشتونستان کے حق میں جرگہ کیوں کیا تھا؟
یہ چالاک سرخوں کا بہت بڑا کھیل تھا۔ وزیرستان کے پشتون ان کے ہمیشہ سے "آزمودہ" رہے ہیں  ہمیشہ ان کی پکار پر لبیک کہنے والے۔ انہیں پتہ تھا کہ فقیر ایپی کا مرکز بنوں کے بالکل قریب مغرب میں شمالی وزیرستان ہے۔ فقیر ایپی کے افغانیوں اور ان کے ذریعے روس سے روابط بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہ تھے۔
ایپی فقیر کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ سادہ مزاج شخص تھا اور سیاسی مکاریوں سے بےبہرہ تھا۔ اس کو استعمال کرنا بے حد آسان تھا۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد افغانستان نے ان کے پاس اپنے گماشتے بھیجے اور دوسری طرف بنوں اور چارسدہ سے بھی افغانی سرخپوش ایجنٹ ایک کے بعد ایک ایپی فقیر کے مرکز گورویک پہنچنا شروع ہو گئے. یہ سب ایپی فقیر کو پاکستان کے خلاف بغاؤت پر اکسانے لگے۔ نہ صرف یہ بلکہ اگر فقیر ایپی وزیرستان یا فاٹا کو پاکستان سے کاٹتا ہے تو نئی بننے والی مملکت کی سربراہی کا لالچ بھی۔
بلاآخر ایپی فقیر نے ایک آزاد مملکت بنانے کا اعلان کر دیا۔ ماسکو، دھلی اور کابل نے اس کی خوب تشہیر کی. مارچ 1948 میں فقیر ایپی نے مولانا محمد ظاہر شاہ کی قیادت میں ایک وفد کابل بھیجا۔ وہاں افغانیوں نے اس وفد کی ملاقات بھارتی سفیر سے کرائی۔ جہاں پاکستان کے خلاف لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اس ملاقات نے حکومت پاکستان اور ایپی فقیر کے درمیان ناچاقی اپنے انتہا پر پہنچا دی۔

16۔ کابل کی طرف سے پشتونستان کا نام نہاد سرکاری عملہ گورویک بھیجا گیا. عملے کے تمام ارکان کی تنخواہیں کابل ادا کرتا تھا. پریس لگایا گیا جہاں پراپگینڈے کے لیے مواد چھپتا تھا۔ پاکستان کو غیر اسلامی ریاست قرار دے دیا گیا۔ پریس کے ذریعے پاکستان مخالف اور پشتونستان کے حق میں مسلسل مواد چھپنا شروع ہوگیا۔ اس وقت کی ڈس انفارمیشن وار افغانستان نے وزیرستان کے اندر سے لانچ کی۔ افغانی سرخے فاٹا میں پمفلٹس اور پراپگینڈے پر مبنی خطوط یا پرچیوں کی تقسیم 1949ء سے کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ ایپی فقیر کے لشکر نے چن چن کر پاکستان کے حامی پشتون مشرانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔
افغانستان، انڈیا اور روس کی مکمل پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی باقاعدہ گوریلا جنگ شروع کی۔ اس کے جنگجو گروپ کا نام غالباً "سرشتہ گروپ" تھا۔ اس کی کاروائیاں کوہاٹ تک پھیل گئیں۔
اسلام کے نام پر پاکستان میں یہ افغانی سرخوں کی پہلی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ مہم تھی جس میں ان کی مدد انڈیا اور روس بھی کر رہے تھے۔ وہی سرخے جو بظاہر خود کو عدم تشدد کے علمبردار ظاہر کرتے ہیں۔

17۔ جون 1949 کو ظاہر شاہ نے لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بہت سخت باتیں کیں اور اعلان کیا کہ افغانستان قیام پاکستان سے قبل کے انگریز سے کئے گئے تمام معاہدے، مفاہمتیں اور سمجھوتے منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہے۔

18۔ ۔12 اگست 1949 کو ریڈیو کابل سے اعلان کیا گیا کہ تیراہ باغ میں آفریدی قبائل کا ایک جرگہ منعقد ہوا ہے جس میں پشتونستان نیشنل اسمبلی کا اعلان کر دیا گیا ہے. اس اسمبلی میں پشتونستان کے پرچم کی منظوری دی گئی۔
کچھ عرصہ بعد ریڈیو کابل سے ایک اور اعلان ہوتا ہے کہ آفریدی قبائل کا ایک اور جرگہ رزمک کے مقام پر بھی منعقد ہوا ہے جس میں فقیر ایپی کو جنوبی پشتونستان کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔

19۔ افغانستان میں پشتونستان کا پراپیگینڈا زور و شور سے جاری شروع کر دیا گیا۔ اسی دوران بھارت میں پشتونستان کے حوالے سے باقاعدہ تقریبات منعقد کی جانی شروع ہوئیں۔ اخبارات اور رسائل میں اس حوالے سے خصوصی مضامین شائع کئے گئے۔ فقیر ایپی کو جن میں پشونوں کا نجات دہندہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔
 پاکستان کے خلاف اور پشتونستان کے حق میں بین الاقوامی سطح پر پراپیگینڈا کرنے کیلئے افغانستان میں ایک سپیشل وزارت قائم کی گئی. جس کا قلمدان وزیر اعظم سردار داؤد خان نے بذات خود سنبھالا۔ اس وزارت کا کام صرف قبائیلی پشتونوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا تھا۔
ان دنوں یوں لگ رہا تھا گویا کم از کم وزیرستان کی حد تک پاکستان سے الگ ایک پشتونستان نامی ریاست بن چکی ہے جس کا کنٹرول افغانستان کے پاس ہے۔

20۔ اسی دوران افغانستان نے پاکستان کی پشتون پٹی پر کئی حملے کیے۔ ان حملوں کو خود پشتونوں نے ناکام بنایا۔ تاہم بہت سے پشتونوں کی جانیں گئیں۔

21۔ فقیر ایپی بلآخر افغانیوں کی دغا بازیوں، مسلسل جھوٹ اور پراپیگینڈے سے تنگ آگیا۔ اس کو احساس ہوا کہ وہ افغانیوں اور بھارتیوں کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوتا رہا اور اس کو ایک لاحاصل کام میں لگایا گیا جس میں اس کے ہاتھوں بےگناہ پشتونوں کا خون بہا۔ فقیر ایپی نے اس کے بعد اپنے مرکز سے پشتونستان کا جھنڈا اتار دیا اور اس تحریک سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس کے بعد  فقیر کے جن  افغان ساتھیوں نے بارڈر پار سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کیں فقیر نے خود ان کے خلاف کئی کئی مرتبہ لشکر کشی کی اور ان کے گھر اور املاک جلائے۔ یوں سمجھیں کہ دہشت گردوں کے خلاف پہلی " امن کمیٹی" بھی فقیر ایپی نے ہی بنائی۔
فقیر ایپی نے دوسلی کے مقام پر ایک بڑے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
بھائیو!
افغان حکومت نے اب تک مجھے سخت دھوکے میں ڈالے رکھا. اسلام کے نام پر مجھے بڑا فریب دیا. آئندہ اگر افغانستان میرے نام پر کسی قسم کا منصوبہ بنائے تو آپ نے ہرگز اس کا ساتھ نہیں دینا۔
اس کے بعد مرتے دم تک ایپی فقیر نے افغان حکومت کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کئے۔
پاکستان نے فقیر ایپی کو عزت دی۔ اس کو اپنی تاریخ میں ہیرو جنگ آزادی کا ہیرو لکھا۔ کئی سڑکیں اس کے نام سے منسوب کیں۔ پی ٹی ایم اگر سرنڈر کرنے والوں کو تضحیک سے سلانڈرا کہتی ہے تو یاد رکھیں فقیر ایپی اولین سرنڈر کرنے والا شخص تھا جس نے پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ لڑی اور پھر توبہ کر لی۔
ساٹھ کی دہائی میں فقیر ایپی کے بیٹے کو بھی افغانستان نے لانچ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کو کوئی خاص کامیابی نہ ملی۔ اس وقت کے امریکی سفیر برائے افغانستان کے ایک ڈی کلاسیفائیڈ خط کے مطابق اس کو بھی انڈینز اور افغانی سپورٹ کر رہے تھے۔

22۔ سن 48 میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدلکریم بلوچ کے دہشت گردی کے ٹریننگ کمیپ بنے جنہوں نے بلوچستان میں افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیاں کیں بشمول پشتون علاقوں کے۔

23۔ سن 1949 میں روس کی بنائی ہوئی افغان فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت کرنے پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔

24۔ ۔ سن 50 میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔

25۔ افغانیوں کو ہمیشہ یہ خوش فہمی رہی ہے کہ پشتون ان سے ملنے یا افغانستان سے الحاق کے لیے بےتاب ہیں۔
اسی خوش فہمی میں انہوں نے ستمبر 1950ء میں اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حملہ کردیا۔ جس کا مقصد چمن تا تاکوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا اور اس علاقے پر قبضہ کرنا تھا۔ لیکن وہاں پشتونوں نے مزاحمت کر لی جس پر بہت سے مقامی پشتونوں کو قتل کر دیا گیا۔
جس کے بعد افغان فورسز کو روکنے پاک فوج پہنچی۔ ایک ہفتہ جنگ جاری رہی۔ روس کے فراہم کردہ اس وقت کے جدید ہتھیاروں سے لیس افغان آرمی کے اس بھرپورحملے کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے۔ جو بعد افغان حکومت کی منتوں ترلوں پر اس کو واپس کر دئیے گئے۔
اس واقعہ پر وزیراعظم لیاقت علی خان نے افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا اور وارننگ دی کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ یہی لیاقت علی خان وزیرستان بھی گیا تھا جہاں اس وقت فقیر ایپی کی بغاؤت جاری تھی اور پاکستان کے خلاف جہاد کو فرض قرار دیا جارہا تھا۔ لیاقت علی خان نے مقامی آبادی کو قائل کیا کہ پاکستان اسلامی ملک ہے جہاں پشتون خوشحال زندگی گزاریں گے۔

26۔ اس کے جواب میں 16 اکتوبر 1951 کو ایک افغان قوم پرست (سرخے) دہشتگرد "سعد اکبر ببرج" مردود نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں گولی مار کرشہید کردیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایماء پر ہوا تاہم عالمی دباو سے بچنے کے لیے افغانستان نے کسی بھی انوالومنٹ سے انکار کردیا۔
لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا پہلا بڑا واقعہ تھا۔ جس کا اغاز افغانستان نے کیا اور جس میں ایک افغانی ملوث تھا۔

27۔ 6 جنوری 1952 کو برطانیہ کے لیے افغانستان کے ایمبیسڈر "شاہ ولی خان" نے بھارت کے اخبار "دی ہندو" کو انٹرویو دیتے ہوۓ یہ ہرزہ سرائی کی کہ "پشتونستان میں ہم چترال، دیر، سوات، باجوڑ، تیراہ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کرینگے۔ یہ لوگ ہمارے ساتھ (افغانستان میں) شامل ہونے کے لیے ہردم تیار ہیں۔"

28۔ 26 نومبر 1953 کو افغانستان کے کےنئے سفیر "غلام یحیی خان طرزی" نے ماسکو روس کا دورہ کیا جس میں روس (سوویت اتحاد) سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔ جواباً انہوں نے افغانستان کو مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی۔

29۔ سن 1954 میں ایپی فقیر کے گروپ کمانڈر " مہر علی " نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا۔ اسی مہر علی نے ریڈیو پاکستان پر پاکستان اور پشتونوں کے خلاف افغانی سرخوں کی سازشوں کی پوری تفصیل بھی بیان کی۔

30۔ 28 مارچ 1955, میں افغانستان کے صدر "داؤد خان" نے روس کی شہ پا کر پاکستان کے خلاف انتہائی زہر آمیز تقریر کی جس کے بعد 29 مارچ کو کابل، جلال آباد اور کندھار میں افغان شہریوں نے پاکستان کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا آغاز کردیا جس میں چن چن کر افغانستان میں موجود پشتونوں کو قتل کیا گیا۔ پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور پاکستانی پرچم کو اتار کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔ جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔

31۔ سن 55 میں افغانیوں نے پاکستان کے بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر اسپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پشتونوں میں پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا اور پشتونوں کو پاکستان سے الگ ہونے اور افغانستان سے ملنے کی تلقین کی جاتی تھی۔
یہ غالباً افغانستان کی پاکستان کے خلاف پشتونوں کو بھڑکانے کے لیے ایسی ڈس انفارمیشن وار تھی جس میں پہلی بار "نئی ٹیکنالوجی" استعمال کی گئی۔ اس کی جدید ترین شکل اس وقت ڈیوہ اور مشال ریڈیو ہیں جنہوں نے پی ٹی ایم کو جنم دیا اور اب سوشل میڈیا ہے جس میں پاکستان میں پناہ گزین ایک ایک افغانی پاکستان کے خلاف پراپگینڈا ثواب سمجھ کر کرتا ہے۔

32۔ مئی 1955ء میں افغان حکومت نے دوبارہ افغان فوج کو متحرک ہونے کا حکم دے دیا۔ جس پر پشتون جنرل ایوب خان نے بیان جاری کیا کہ " اگرافغانستان نے کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے وہ سبق سکھایا جائے گا جو وہ کبھی نہ بھول سکے گا"۔ ایوب خان کی دھمکی کے بعد وہ رک گئے۔
انہی دنوں افغانستان کے لیے روس کے سفیر "میخائل وی۔ ڈگٹائر" نے جنگ کی صورت میں افغانستان کو مکمل عسکری امداد کی یقین دہانی کرائی اور افغانیوں کو پشتون علاقوں پر چڑھائی کے لیے اکسایا۔

33۔ نومبر 1955ء میں چند ہزار افغان مسلح قبائلی جنگجووں نے گروپس کی صورت میں بلوچستان کی 160 کلومیٹر کی سرحدی پٹی پردوبارہ حملہ کر دیا۔ پاک فوج سے ان مسلح افغانوں کی چھڑپیں کئی دن تک جاری رہیں اور آخر کار وہ بھاگ گئے۔ تاہم اس بار بھی افغانیوں کی فائرنگ اور گولہ باری میں بہت سے پشتون نشانہ شہید ہوگئے۔

34۔ مارچ 1960ء میں افغان فوج نے اپنی سرحدی پوزیشنز سے باجوڑ ایجنسی پر مشین گنوں اور مارٹرز سے گولی باری شروع کر دی۔ بہت سے پشتونوں کی جانیں گئیں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ جواباً پاکستانی ائیر فورس کے 26 طیاروں نے افغان فوج کی پوزیشنز پر بمباری کی جس پر وہ گنیں اور مورچے چھوڑ کا بھاگ گئے۔

35۔ 28 ستمبر 1960 کو افغان فوج نے چند ٹینکوں اور انفینٹری کی مدد سے پھر باجوڑ ایجنسی پر حملہ کیا اور مقامی پشتونوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا۔ پاکستان آرمی نے ایک مرتبہ پھر افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوۓ واپس افغانستان میں دھکیل دیا۔ پاکستانی فضائیہ کی افغان فوج پر بمباری وقفے وقفے سے جاری رہی جو مسلسل پشتون علاقوں میں دراندازی کی کوشش کر رہی تھی۔

36۔ سن 1960 میں ہی افغانستان میں پاکستان کے خلاف شیر محمد مری کے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ اس کی دہشتگردانہ کاروائیوں کا نشانہ پشتون اور بلوچ دونوں بنے۔

37۔ مئی 1961ء میں افغانستان نے باجوڑ، جندول اور خیبر پر ایک اور محدود پیمانے کا حملہ کیا۔
اس مرتبہ اس حملے کا مقابلہ فرنٹیر کور کے پشتونوں نے کیا اور اس دفعہ بھی پاکستانی فضائیہ کی بمباری نے حملے کا منہ موڑ دیا۔ اس بار بھی افغانی کچھ پشتونوں کا خون پینے میں کامیاب رہے۔

38۔ سن 1965 میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو افغانستان نے موقع غنیمت جان کر مہند ایجنسی پر حملہ کر دیا۔
لوگ حیران رہ گئے کہ انڈیا نے افغانستان کی طرف سے کیسے حملہ کر دیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ افغانیوں نے کیا تھا۔ اس حملے کو مقامی پشتونوں نے پسپا کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈیو کابل پر افغانی حملے کے ساتھ ساتھ پشتونوں سے پاکستان کے خلاف افغانستان کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کر رہے تھے کہ یہی موقع ہے پاکستان سے کٹ کر افغانستان میں شامل ہونے کا۔

39۔ سن 1970 میں افغانستان نے اے این پی والوں کے " ناراض" پشتونوں اور بلوچوں کے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ عدم تشدد کے نام نہاد علمبردار اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک وغیرہ انہی کیمپس کا حصہ تھے۔ جن کو بعد میں سرنڈر کرنے یا پی ٹی ایم کی زبان میں "سلانڈرا" بننے پر معافی دے کر واپس آنے کی اجازت ملی۔

40۔ یہاں آپ کو ایک اور دلچسپ بات بتائیں کہ 70ء میں بنگلہ دیش کا مسئلہ عروج پر تھا اور اس وقت جنرل یحیی خان کو مدہوش رکھنے والی مشہور طوائف اقلیم اختر عرف جنرل رانی بھی افغانی تھی۔ جس کے نواسے کا نام عدنان سمیع خان ہے جس نے بھارتی شہریت کے لیے پاکستانی شہریت ترک کی تھی۔
میجر عدنان سمی خان اصلاً افغانی ہے۔

41۔ 1971 میں جب کے جی بی انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کو دولخت کر رہی تھی تو اس کے ایجنٹ افغانستان میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت افغانی اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ دو ٹکڑے ہونے کے بعد اب پاکستان کے چار ٹکڑے ہونگے اور صوبہ سرحد اور بلوچستان ہمارے ہونگے۔

42۔ 1972 میں اے این پی کے سرخوں خاص طور پر اجمل خٹک نے افغانستان کی ایماء پر دوبارہ پشتونستان تحریک کو منظم کرنے پر کام شروع کر دیا۔ تاہم اس وقت تک افغانستان کو اندازہ ہوچکا تھا کہ پشتونستان تحریک بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے اس لیے اس نے اب بھارت کے ساتھ مل کر "آزاد بلوچستان" تحریک کو بھڑکانا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی عسکری تربیت شروع کردی۔ تاہم پشتونستان کے نام پر بھی افغانستان کی دہشت گردیاں جاری رہیں۔

43۔ سن 1973 میں پشاور میں افغان نواز عناصر نے پشتونستان تحریک کے لیے "پشتون زلمی" کے نام سے نئی تنظیم سازی کی اور دوبارہ پشتونوں کو اس میں شامل ہونے کی پیش کش کی گئی۔

44۔ سن 1974 میں افغانستان نے " لوئے پشتونستان" (درحقیقت لوئے افغاستان) کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

45۔ فروری 1975ء میں افغان نواز تنظیم "پشتون زلمی" نے خیبرپختونخواہ کے گورنر حیات خان شیرپاو کو بم دھماکے میں شہید کردیا۔ (بحوالہ کتاب "فریب ناتمام" از جمعہ خان صوفی)

46۔ 28 اپریل 1978ء میں روسی پروردہ کمیونسٹ جماعت "پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان" نے روسی اسلحے اور چند روسی طیاروں کی مدد سے کابل میں فوجی بغاوت برپا کردی جسے "انقلاب ثور" کا نام دیا گیا۔
اس کے نتیجے میں صدر داؤد سمیت ہزاروں افغانوں کو بیدردی سے ہلاک کردیا گیا اور افغانستان پر سرخوں کی کمیونسٹ حکومت قائم کردی گئی۔ انقلاب کے ان لیڈروں میں صدر نجیب سب سے خون آشام ثابت ہوا جس نے اقتدار سنبھالتے ہی " لوئے پشتونستان" کی عام حمایت کا اعلان کردیا۔
اس انقلاب نے پشتون علاقوں میں دہشت گردی کا نیا خونی کھیل شروع کیا۔

47۔ 1979 میں خود افغانوں میں سے بہت سارے لوگ ان سرخوں کے خلاف پوری طاقت سے کھڑے ہوگئے۔ جب یہ سرخے ہزاروں افغانیوں کو قتل کرنے کے باؤجود عوامی انقلاب نہ روک سکے تو ان افغان سرخوں نے روس کو خود اپنے ہی ملک پر حملہ کرنے کی دعوت دے دی۔
لالچ یہ بھی دیا کہ آپ یہاں نہ رکنا۔ بلکہ پاکستان میں پشتون علاقوں کو روند دینا تو آگے گوادر کا گرم سمندر آپ کا متنظر ہے۔

48۔ 24 دسمبر 1979ء کو روس نے افغانی سرخوں کی دعوت پر افغانستان پر حملہ کردیا۔ روسی پورے افغانستان کو روندتے ہوئے تورخم بارڈر تک پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ وہ دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائیں گے۔ یعنی بلوچستان اور کے پی کے کو لے لینگے۔ افغانی سرخے ان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔

49۔ روسی و افغان کمیونسٹ افواج نے افغانستان میں قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ بہت سے افغانیوں نے بھاگ کر پاکستان میں پناہ لی۔ جو رفتہ رفتہ پورے پاکستان میں پھیل گئے۔ پاکستان میں پناہ لینے والے افغانیوں نے کچھ ہی عرصہ بعد بجائے شکر گزار ہونے کے حسب معمول پشتون علاقوں پر اپنا حق جتانا شروع کر دیا۔ پشاور اور کوئٹہ میں تقریباً سارا کاروبار یہ مقامی پشتونوں سے چھین چکے ہیں۔ اس وقت یہ سارے "پناہ گزین" افغانی پاکستان کے اندر پاکستان مخالف تحریکیں چلوا رہے ہیں۔

50۔ 1980 میں افغانستان میں پیپلز پارٹی کی الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ اسی تنظیم نے مبنیہ طور پر پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کو پاک فوج کے سترہ جرنیلوں سمیت شہید کیا اور پاکستان میں کئی دہشتگردانہ کاروائیاں کیں۔
لیاقت علی خان کے بعد یہ پاکستان کا دوسرا سربراہ مملکت تھا جس کو افغانی سرخوں نے نشانہ بنایا۔
یہی الذولفقار پاکستان کا ایک مسافر بردار طیارہ ھائی جیک کرکے کے افغانستان لے گئی تھی۔

51۔ افغانستان کے ساتھ ملکر روس نے کئی مرتبہ پاکستان کے پشتون علاقوں پر بمباریاں کیں۔ جب کہ کےجی بی اور خاد نے اے این پی اور الذولفقار کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی خاص طور پر پشتون شہید ہوئے۔

52۔ فروری 1994 میں چند افغان دہشت گردوں نے پشتون بچوں کی سکول بس کو یرغمال بنا لیا جس میں 60 بچے اور 6 خواتین ٹیچرز تھیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے کروڑوں روپے تاوان طلب کیا۔ پاک فوج کی ایس ایس جی کمانڈوز نے کامیاب اور تیز رفتار آپریشن کی مدد سے ان دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور کسی بچے کو گزند نہیں پہنچنے دی۔
یہ سکول بچوں کے خلاف افغانیوں کی پہلی کاروائی تھی۔ دوسری ہم نے اے پی ایس کی شکل میں دیکھی۔

53۔ 2000 میں کوئٹہ میں حملہ ہوا جس میں 6 لوگ شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ تحقیقات پر معلوم ہوا کہ حملہ آور افغانی تھے۔

جاری ہے

نوٹ ۔۔۔  اگلا حصہ نائن الیون سے لے کر فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف آخری بڑے آپریشن تک ہوگا۔ ان شاء اللہ اور آخری حصہ ٹی ٹی پی کی ناکامی کے بعد پی ٹی ایم کی لانچنگ سے حال تک

بائیس اپریل 2016 یومِ وفات سردار سورن سنگھ

22 اپریل 2016
آج سے 4 سال قبل سردار سورن سنگھ کو بونیر کے علاقے پیر بابا میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا

ڈاکٹر سردار سورن سنگھ ایک پاکستانی سکھ ڈاکٹر، ٹی وی میزبان، سیاست دان تھے۔ سورن سنگھ پرویز خٹک انتظامیہ میں بطور پختونخوا صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خدمات سر انجام دیتے رہے تھے۔ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی کے 9 سال تک رکن رہے اس کے بعد 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور کئی مرتبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ سردار سورن سنگھ نے 3 سال تک خیبر نیوز پر پروگرام "زہ ہم پاکستان یم" کی میزبانی کی۔

2013 کے عام انتخابات میں وہ اقلیتوں کے لیے مختص نشست پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جس کے بعد انہیں اقلیتی امور کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا تھا

حکام کے مطابق سردار سورن سنگھ کو اس علاقے کے مقامی اقلیتی سیاستدان بلدیو کمار کی ایماء پر ہلاک کیا گیا کیونکہ بلدیو کمار خود الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے پر ان کا سورن سنگھ سے تنازع تھا

ان کے قتل پر عمران خان نے کہا تھا کہ سردار سورن سنگھ تحریک انصاف کا جنونی کارکن تھا ، اسکے بیوی بچے انڈیا جانا چاہتے تھے لیکن سردار سورن نے پاکستان رہنے کو ترجیح دی

اپنی مٹی سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ سردار جی لوگ پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ بیرون ملک سیاسی پناہ بھی آسانی سے مل جاتی ہے آپ نے کینیڈا یا یورپ جانا کیوں پسند نہ کیا۔ کچھ پیشمان سے ہوئے اور پھر کہنے لگے۔ کئی بار دوستوں نے مشورہ دیا کہ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہوجاؤ کہ وہاں اپنی سکھ برداری بھی بہت ہے لیکن دل نہیں مانتا۔ اس دھرتی کو ہمارے پرکھوں نے اپنا خون پسینہ دے کر سینچا ہے۔ اس مٹی سے ہماری اب ارتھی ہی اٹھے گی۔ سیانے کہتے ہیں کہ بعض اوقات اچانک زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ہو جاتے ہیں۔ واقعی سردار جی کی ارتھی ہی اس ملک سے اٹھی

سورن سنگھ ایک پاکستانی تھا اور ہم سب کو پاکستان کے لئے اس کی خدمات پہ فخر ہے !!!

بائیس اپریل 2011 یومِ وفات معین اختر

22 اپریل 2011
یومِ وفات معین اختر

" میں نوجوان تھا، ادھر ادھر بھٹک رہا تھا، اور مکینک کی اپنی نوکری چھوڑ دی تھی۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، لیکن میرے اندر ایک آواز مجھ سے کہہ رہی تھی، 'دیکھو، جو بھی کرنا، زبردست طریقے سے کرنا " — معین اختر

معین اختر پاکستان ٹیلیوژن، اسٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار اور میزبان تھے۔ اسکے علاوہ وہ بطور فلم ہدایت کار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف بھی کام کر چکے تھے

معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور دل کے دورے کے سبب 22 اپریل 2011 کو ہمیشہ کے لئے ہمارے دلوں میں امر ہوگئے ۔1966 سے 2011 تک کا سفر کیسا تھا اس پہ میں کیا لکھوں۔ آئیے معین اختر کے بیٹے شرجیل اختر سے جانتے ہیں ۔ ایک بیٹا اپنے باپ کو کیسا محسوس کرتا تھا

6 ستمبر 1966 : ایک دبلا پتلا نوجوان لڑکا پہلی بار ایک ورائٹی شو میں حصہ لینے کے لیے اسٹیج پر چڑھا۔ چاروں طرف سے طلباء اس پر آوازیں کس رہے تھے، لیکن اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات دور دور تک نہیں تھے۔ وہ دھیمے انداز میں مائیک کی جانب بڑھا، اور حاضرین سے درخواست کی کہ اسے اس کا ٹیلنٹ دکھانے کے لیے صرف 10 منٹ دئیے جائیں، اور اگر اس دوران کسی کو پسند نہیں آیا، تو وہ خود اسٹیج سے اتر جائے گا۔ اس نے انتہائی پراعتماد پرفارمنس دی، اور لوگوں نے پلکیں جھپکائے بغیر دیکھا۔ حاضرین میں ساٹھ سالہ شخص بھی ویسے ہی ہنس رہا تھا جیسے کہ کوئی آٹھ سال کا بچہ۔ اور جب 10 منٹ کا مانگا گیا وقت 45 منٹ بعد ختم ہوا، تو ہال تالیوں سے گونج رہا تھا

11 مارچ 2011 : وہی لڑکا اب ادھیڑ عمر میں ایک بار پھر اسٹیج پر چڑھا، اور حاضرین سے ویسی ہی پرجوش داد وصول کی۔ لیکن یہ اس کی آخری پرفارمنس تھی۔ 'لیجنڈ کے ساتھ ایک شام' نامی اس پروگرام کے آغاز سے پہلے اس نے حاضرین سے کہا تھا کہ وہ صرف 10 منٹ ہی پرفارم کر پائے گا، لیکن ایک بار پھر یہ 10 منٹ 45 منٹ میں ختم ہوئے، کیونکہ اس کے چاہنے والے اس کے الفاظ کے سحر میں جکڑے ہوئے تھے۔

ہر کچھ عرصے بعد اس دنیا میں ایک شخص ایسا آتا ہے، جو اپنے آس پاس موجود ہر چیز کو تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دیکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ ایسے شخص کی موجودگی میں انہیں ضرور کچھ زبردست دیکھنے کو ملے گا۔

اور میرے والد معین اختر کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔

معین اختر کے لفظی معنیٰ 'مددگار ستارہ' کے ہیں۔ اور ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے نام کی لاج رکھی۔ دنیا میرے والد کو ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے جانتی ہے، جبکہ میں انہیں ایک سخی شخص کے طور پر جانتا ہوں۔

یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں انہیں اپنے گھر اور انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے دیکھتا ہوا بڑھا۔ ہر ضرورت مند شخص کے لیے وہ ایک گمنام مددگار تھے۔ ان کی کئی سخاوتیں ایسی ہیں، جن پر میں پردہ پڑا رہنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہی ان کی خواہش تھی۔

لیکن میں ایک بات ضرور کہوں گا، کہ ان میں دوسروں کی مشکلات اور مسائل سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت تھی۔ وہ لوگوں کی دلجوئی کرتے، ان کے غموں کو اپنا غم سمجھتے، اور ان کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے۔

ان کی کرشماتی اور زندگی سے بھرپور شخصیت کا الفاظ میں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ کھل کر مزاح کرنے والے معین اختر پرجوش، خوش مزاج، میل جول رکھنے والے، اور زندگی کی نفیس چیزوں کا مزہ لینے والے شخص تھے۔ جبکہ اپنے آپ میں خوش رہنے والے معین اختر منکسر، خاموش، تنہائی پسند، اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش رہنے والے شخص تھے۔

مجھے یاد ہے کہ جب بھی وہ گھر پر نہیں ہوتے تھے تو گھر میں کیسی بے ترتیبی ہوا کرتی تھی۔ یہ بے ترتیبی شاید وہ تھی، جو ایک سادہ مزاج معین اختر سے اسٹار معین اختر تک کے سفر میں کہیں رہ گئی تھی۔

اور بار بار ان کا یہ سفر دیکھنا ایک متاثر کن تجربہ تھا۔ گھر میں وہ ایک خاموش اور سنجیدہ شخص تھے، جو بغیر استری کے کپڑوں میں ملبوس، دال چاول کھا رہے ہوتے۔ اورگھر سے باہر نکلتے ہی ان کی چال، اور ان کے بات چیت کا انداز بدل جاتا تھا۔ اگر میچنگ کی جرابیں نہ ہوتیں، تو سوٹ نہیں پہنا جاتا تھا۔ جب بھی وہ گھر سے باہر نکلتے، تو وہ ابو نہیں رہتے، بلکہ مشہور آرٹسٹ معین اختر بن جاتے تھے۔

میرا کمرہ ان کے ساتھ والا ہی تھا، اور میں انہیں روزانہ ہی دیکھا کرتا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت ایک میں ایک خوشگوار سی پراسراریت تھی۔ اسٹیج کی طرح گھر میں بھی وہ سب کی توجہ کا مرکز بنے رہتے تھے۔

جب بھی کوئی اجنبی شخص دنیا کے کسی دوسرے کونے سے ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کس طرح میرے والد نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دی، تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میں نے ان کی اچھائیاں خود اپنے سامنے دیکھی ہیں۔

بھلے ہی وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کی مسحور کن خوشبو اب بھی ہمارے گھر میں باقی ہے۔ ان کی ہنسی اب بھی ہمارے گھر میں گونجتی ہے، اور ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ نبھاتی ہے۔

شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے بہت ہمت، محنت، اور کئی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ میرے والد کے لیے بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں تھا۔
میرے دادا محمد ابراہیم کو جب معلوم ہوا تھا کہ میرے والد ایکٹنگ میں کریئر بنانا چاہ رہے ہیں، تو انہوں نے انہیں بیلٹ سے پیٹا تھا۔ اس زمانے میں اس کام کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، اور اس طرح کی مار پیٹ عام تھی۔

35 سال بعد جب میرے والد ایک ایسے شو میں پرفارم کرنے جا رہے تھے جہاں پر ملک کے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی ہونا تھا، تو میرے دادا نے ان سے کہا کہ وہ بھی ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔

میرے والد نے کہا "بابا، وہاں سکیورٹی پروٹوکول ہے۔ صدر کی سکیورٹی کو ہفتوں پہلے بتانا پڑتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ممکن ہو پائے گا یا نہیں۔"

دادا نے کہا، "تمہیں کون روکے گا؟"

پھر میرے دادا میرے والد کے ساتھ شو دیکھنے گئے۔ میں اس لمحے وہاں پر نہیں تھا، لیکن میں تصور کر سکتا ہوں کہ میرے دادا کو کیا محسوس ہوا ہوگا جب صدرِ پاکستان اپنی سیٹ سے کھڑے ہو کر میرے دادا سے ملے، اور انہیں کہا کہ "آپ کا بیٹا اس قوم کا اثاثہ ہے۔"

اپنی ہارٹ سرجری کے صرف 20 دن بعد کینسر کے شکار بچوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے شو کرنا ہو، یا ساتھیوں کے واجبات وقت پر ادا کرنے کے لیے اپنی گاڑی بیچنا ہو۔ اجنبیوں کی مدد کرنے کے لیے دوسروں سے پیسے ادھار لینے ہوں، یا چھت پر ستاروں سے باتیں کرتے ہوئے راتیں گزار دینی ہوں۔ نئے آنے والوں کو موقع دینے کے لیے خود کو پیچھے کرنا ہو، یا گرم گرم آنسوؤں کو بھرپور ہنسی سے تبدیل کر دینا ہو، معین اختر کی کہانی ایک عظیم کہانی ہے۔

وہ شخص جو ایک فنکار ہی نہیں تھا  بلکہ دراصل وہ ایک بہت زیادہ اچھا انسان تھا۔وہ زمانہ کے ساتھ چلنے والا نہیں بلکہ خود ایک زمانہ تھا ۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے معین اختر نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے کام کا آغاز 6 ستمبر، 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا۔ جس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں، اسٹیج شوز میں کام کرنے کے بعد انور مقصود اور بشرہ انصاری کے ساتھ ٹیم بنا کر کئی معیاری پروگرام پیش کیے۔

نقالی کی صلاحیت کو اداکاری کا سب سے پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اداکاری کی معراج نہیں ہے۔ یہ سبق معین اختر نے اپنے کیرئر کی ابتداء ہی میں سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ نقالی کے فن میں ید طولٰی حاصل کرنے کے باوجود اس نے خود کو اس مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر اداکاری کے تخلیقی جوہر تک رسائی حاصل کی۔

معین اختر مورخہ 22 اپریل 2011ء کو دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کرگئے ۔

انہوں نے کئی زبانوں میں مزاحیہ اداکاری کی ہے جن میں انگریزی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور بنگالی کے علاوہ کئی دیگر زبانیں شامل ہیں اور اردو میں انکا کام انکو بچے بڑے، ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول بناتا ہے۔ وہ اداکار لہری سے متاثر تھے ۔

ٹیلی وژن ڈرامے
روزی
مرزا اور حمیدہ
آخری گھنٹی
ہیلو ہیلو
انتظار فرمائیے
مکان نمبر 47
ہاف پلیٹ
فیملی 93
عید ٹرین
بندر روڈ سے کیماڑی
سچ مچ
آنگن ٹیڑھا
بے بی
رفتہ رفتہ
گم
ڈالر مین
لاؤ تو میرا اعمال نامہ
ہریالے بنے
سچ مچ پارٹ2
سچ مچ کا الیکشن
کچھ کچھ سچ مچ
رانگ نمبر
سچ مچ کی عید
چار سو بیس
نوکر کے آگے چاکر

اسٹیج ڈرامے
بڈھا گھر پہ ہے
یس سر نو سر

میزبانی
درج ذیل تقاریب میں معین اختر نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے :
Silver Jubilee in 1983
پی ٹی وی ایوارڈ شو
اعزازی استقبالیہ برائے شاہ حسین(اردن)
اعزازی استقبالیہ برائے وزیر اعظم گیمبیا دواؤد ال جوزی
دعوت تقریب برائے صدر ضیاء الحق
دعوت تقریب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
دعوت تقریب صدر جنرل یحیٰ خان
دعوت تقریب صدر غلام اسحاق خان
اعزازی استقبالیہ برائے مشہور اداکار دلیپ کمار
صدر جنرل پرویز مشرف کے روبرو میزبانی کی اور ساتھ ہی ان کی بہترین نقالی بھی کی ۔

ٹی وی شو
ففٹی ففٹی PTV
1970 الیکشن پروگرام
شو شا PTV
شو ٹائم PTV
سٹوڈیو ڈھائی PTV
اسٹوڈیو پونے تین PTV
یس سر نو سر PTV
معین اختر شو PTV
چار بیس NTM
لوز ٹاک ARY
ایکسیوز می

فلم
تم سا نہيں دیکھا (1974)
مسٹر کے ٹو
مسٹر تابعدار

گانے
البم تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے

چھوڑ کر جانے والے
چوٹ جگر پہ کھائی ہے
رو رو کے دے رہا ہے
تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے
درد ہی صرف دل کو ملا ہے
دل رو رہا ہے
ہوتے ہيں بے وفا

انہیں ان کے کام کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازہ گیا