پشتونوں کے ساتھ افغانیوں کی دغا بازی اور ظلم کی تاریخ
(قیام پاکستان سے نائن الیون تک)
14۔ تیس ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔
ستمبر سن 47 میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک جانے کے لیے ایک ایسی راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔
قائداعظم محمد علی جناح صاحب نے اس احمقانہ مطالبے کا جواب تک دینا پسند نہ کیا۔
15۔ باچاخانی سرخوں نے پشاور، چارسدہ اور مردان چھوڑ کر بنوں میں لوئے افغانستان یا پشتونستان کے حق میں جرگہ کیوں کیا تھا؟
یہ چالاک سرخوں کا بہت بڑا کھیل تھا۔ وزیرستان کے پشتون ان کے ہمیشہ سے "آزمودہ" رہے ہیں ہمیشہ ان کی پکار پر لبیک کہنے والے۔ انہیں پتہ تھا کہ فقیر ایپی کا مرکز بنوں کے بالکل قریب مغرب میں شمالی وزیرستان ہے۔ فقیر ایپی کے افغانیوں اور ان کے ذریعے روس سے روابط بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہ تھے۔
ایپی فقیر کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ سادہ مزاج شخص تھا اور سیاسی مکاریوں سے بےبہرہ تھا۔ اس کو استعمال کرنا بے حد آسان تھا۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد افغانستان نے ان کے پاس اپنے گماشتے بھیجے اور دوسری طرف بنوں اور چارسدہ سے بھی افغانی سرخپوش ایجنٹ ایک کے بعد ایک ایپی فقیر کے مرکز گورویک پہنچنا شروع ہو گئے. یہ سب ایپی فقیر کو پاکستان کے خلاف بغاؤت پر اکسانے لگے۔ نہ صرف یہ بلکہ اگر فقیر ایپی وزیرستان یا فاٹا کو پاکستان سے کاٹتا ہے تو نئی بننے والی مملکت کی سربراہی کا لالچ بھی۔
بلاآخر ایپی فقیر نے ایک آزاد مملکت بنانے کا اعلان کر دیا۔ ماسکو، دھلی اور کابل نے اس کی خوب تشہیر کی. مارچ 1948 میں فقیر ایپی نے مولانا محمد ظاہر شاہ کی قیادت میں ایک وفد کابل بھیجا۔ وہاں افغانیوں نے اس وفد کی ملاقات بھارتی سفیر سے کرائی۔ جہاں پاکستان کے خلاف لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اس ملاقات نے حکومت پاکستان اور ایپی فقیر کے درمیان ناچاقی اپنے انتہا پر پہنچا دی۔
16۔ کابل کی طرف سے پشتونستان کا نام نہاد سرکاری عملہ گورویک بھیجا گیا. عملے کے تمام ارکان کی تنخواہیں کابل ادا کرتا تھا. پریس لگایا گیا جہاں پراپگینڈے کے لیے مواد چھپتا تھا۔ پاکستان کو غیر اسلامی ریاست قرار دے دیا گیا۔ پریس کے ذریعے پاکستان مخالف اور پشتونستان کے حق میں مسلسل مواد چھپنا شروع ہوگیا۔ اس وقت کی ڈس انفارمیشن وار افغانستان نے وزیرستان کے اندر سے لانچ کی۔ افغانی سرخے فاٹا میں پمفلٹس اور پراپگینڈے پر مبنی خطوط یا پرچیوں کی تقسیم 1949ء سے کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ ایپی فقیر کے لشکر نے چن چن کر پاکستان کے حامی پشتون مشرانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔
افغانستان، انڈیا اور روس کی مکمل پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی باقاعدہ گوریلا جنگ شروع کی۔ اس کے جنگجو گروپ کا نام غالباً "سرشتہ گروپ" تھا۔ اس کی کاروائیاں کوہاٹ تک پھیل گئیں۔
اسلام کے نام پر پاکستان میں یہ افغانی سرخوں کی پہلی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ مہم تھی جس میں ان کی مدد انڈیا اور روس بھی کر رہے تھے۔ وہی سرخے جو بظاہر خود کو عدم تشدد کے علمبردار ظاہر کرتے ہیں۔
17۔ جون 1949 کو ظاہر شاہ نے لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بہت سخت باتیں کیں اور اعلان کیا کہ افغانستان قیام پاکستان سے قبل کے انگریز سے کئے گئے تمام معاہدے، مفاہمتیں اور سمجھوتے منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہے۔
18۔ ۔12 اگست 1949 کو ریڈیو کابل سے اعلان کیا گیا کہ تیراہ باغ میں آفریدی قبائل کا ایک جرگہ منعقد ہوا ہے جس میں پشتونستان نیشنل اسمبلی کا اعلان کر دیا گیا ہے. اس اسمبلی میں پشتونستان کے پرچم کی منظوری دی گئی۔
کچھ عرصہ بعد ریڈیو کابل سے ایک اور اعلان ہوتا ہے کہ آفریدی قبائل کا ایک اور جرگہ رزمک کے مقام پر بھی منعقد ہوا ہے جس میں فقیر ایپی کو جنوبی پشتونستان کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
19۔ افغانستان میں پشتونستان کا پراپیگینڈا زور و شور سے جاری شروع کر دیا گیا۔ اسی دوران بھارت میں پشتونستان کے حوالے سے باقاعدہ تقریبات منعقد کی جانی شروع ہوئیں۔ اخبارات اور رسائل میں اس حوالے سے خصوصی مضامین شائع کئے گئے۔ فقیر ایپی کو جن میں پشونوں کا نجات دہندہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔
پاکستان کے خلاف اور پشتونستان کے حق میں بین الاقوامی سطح پر پراپیگینڈا کرنے کیلئے افغانستان میں ایک سپیشل وزارت قائم کی گئی. جس کا قلمدان وزیر اعظم سردار داؤد خان نے بذات خود سنبھالا۔ اس وزارت کا کام صرف قبائیلی پشتونوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا تھا۔
ان دنوں یوں لگ رہا تھا گویا کم از کم وزیرستان کی حد تک پاکستان سے الگ ایک پشتونستان نامی ریاست بن چکی ہے جس کا کنٹرول افغانستان کے پاس ہے۔
20۔ اسی دوران افغانستان نے پاکستان کی پشتون پٹی پر کئی حملے کیے۔ ان حملوں کو خود پشتونوں نے ناکام بنایا۔ تاہم بہت سے پشتونوں کی جانیں گئیں۔
21۔ فقیر ایپی بلآخر افغانیوں کی دغا بازیوں، مسلسل جھوٹ اور پراپیگینڈے سے تنگ آگیا۔ اس کو احساس ہوا کہ وہ افغانیوں اور بھارتیوں کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوتا رہا اور اس کو ایک لاحاصل کام میں لگایا گیا جس میں اس کے ہاتھوں بےگناہ پشتونوں کا خون بہا۔ فقیر ایپی نے اس کے بعد اپنے مرکز سے پشتونستان کا جھنڈا اتار دیا اور اس تحریک سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس کے بعد فقیر کے جن افغان ساتھیوں نے بارڈر پار سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کیں فقیر نے خود ان کے خلاف کئی کئی مرتبہ لشکر کشی کی اور ان کے گھر اور املاک جلائے۔ یوں سمجھیں کہ دہشت گردوں کے خلاف پہلی " امن کمیٹی" بھی فقیر ایپی نے ہی بنائی۔
فقیر ایپی نے دوسلی کے مقام پر ایک بڑے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
بھائیو!
افغان حکومت نے اب تک مجھے سخت دھوکے میں ڈالے رکھا. اسلام کے نام پر مجھے بڑا فریب دیا. آئندہ اگر افغانستان میرے نام پر کسی قسم کا منصوبہ بنائے تو آپ نے ہرگز اس کا ساتھ نہیں دینا۔
اس کے بعد مرتے دم تک ایپی فقیر نے افغان حکومت کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کئے۔
پاکستان نے فقیر ایپی کو عزت دی۔ اس کو اپنی تاریخ میں ہیرو جنگ آزادی کا ہیرو لکھا۔ کئی سڑکیں اس کے نام سے منسوب کیں۔ پی ٹی ایم اگر سرنڈر کرنے والوں کو تضحیک سے سلانڈرا کہتی ہے تو یاد رکھیں فقیر ایپی اولین سرنڈر کرنے والا شخص تھا جس نے پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ لڑی اور پھر توبہ کر لی۔
ساٹھ کی دہائی میں فقیر ایپی کے بیٹے کو بھی افغانستان نے لانچ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کو کوئی خاص کامیابی نہ ملی۔ اس وقت کے امریکی سفیر برائے افغانستان کے ایک ڈی کلاسیفائیڈ خط کے مطابق اس کو بھی انڈینز اور افغانی سپورٹ کر رہے تھے۔
22۔ سن 48 میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدلکریم بلوچ کے دہشت گردی کے ٹریننگ کمیپ بنے جنہوں نے بلوچستان میں افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیاں کیں بشمول پشتون علاقوں کے۔
23۔ سن 1949 میں روس کی بنائی ہوئی افغان فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت کرنے پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
24۔ ۔ سن 50 میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔
25۔ افغانیوں کو ہمیشہ یہ خوش فہمی رہی ہے کہ پشتون ان سے ملنے یا افغانستان سے الحاق کے لیے بےتاب ہیں۔
اسی خوش فہمی میں انہوں نے ستمبر 1950ء میں اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حملہ کردیا۔ جس کا مقصد چمن تا تاکوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا اور اس علاقے پر قبضہ کرنا تھا۔ لیکن وہاں پشتونوں نے مزاحمت کر لی جس پر بہت سے مقامی پشتونوں کو قتل کر دیا گیا۔
جس کے بعد افغان فورسز کو روکنے پاک فوج پہنچی۔ ایک ہفتہ جنگ جاری رہی۔ روس کے فراہم کردہ اس وقت کے جدید ہتھیاروں سے لیس افغان آرمی کے اس بھرپورحملے کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے۔ جو بعد افغان حکومت کی منتوں ترلوں پر اس کو واپس کر دئیے گئے۔
اس واقعہ پر وزیراعظم لیاقت علی خان نے افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا اور وارننگ دی کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ یہی لیاقت علی خان وزیرستان بھی گیا تھا جہاں اس وقت فقیر ایپی کی بغاؤت جاری تھی اور پاکستان کے خلاف جہاد کو فرض قرار دیا جارہا تھا۔ لیاقت علی خان نے مقامی آبادی کو قائل کیا کہ پاکستان اسلامی ملک ہے جہاں پشتون خوشحال زندگی گزاریں گے۔
26۔ اس کے جواب میں 16 اکتوبر 1951 کو ایک افغان قوم پرست (سرخے) دہشتگرد "سعد اکبر ببرج" مردود نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں گولی مار کرشہید کردیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایماء پر ہوا تاہم عالمی دباو سے بچنے کے لیے افغانستان نے کسی بھی انوالومنٹ سے انکار کردیا۔
لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا پہلا بڑا واقعہ تھا۔ جس کا اغاز افغانستان نے کیا اور جس میں ایک افغانی ملوث تھا۔
27۔ 6 جنوری 1952 کو برطانیہ کے لیے افغانستان کے ایمبیسڈر "شاہ ولی خان" نے بھارت کے اخبار "دی ہندو" کو انٹرویو دیتے ہوۓ یہ ہرزہ سرائی کی کہ "پشتونستان میں ہم چترال، دیر، سوات، باجوڑ، تیراہ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کرینگے۔ یہ لوگ ہمارے ساتھ (افغانستان میں) شامل ہونے کے لیے ہردم تیار ہیں۔"
28۔ 26 نومبر 1953 کو افغانستان کے کےنئے سفیر "غلام یحیی خان طرزی" نے ماسکو روس کا دورہ کیا جس میں روس (سوویت اتحاد) سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔ جواباً انہوں نے افغانستان کو مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی۔
29۔ سن 1954 میں ایپی فقیر کے گروپ کمانڈر " مہر علی " نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا۔ اسی مہر علی نے ریڈیو پاکستان پر پاکستان اور پشتونوں کے خلاف افغانی سرخوں کی سازشوں کی پوری تفصیل بھی بیان کی۔
30۔ 28 مارچ 1955, میں افغانستان کے صدر "داؤد خان" نے روس کی شہ پا کر پاکستان کے خلاف انتہائی زہر آمیز تقریر کی جس کے بعد 29 مارچ کو کابل، جلال آباد اور کندھار میں افغان شہریوں نے پاکستان کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا آغاز کردیا جس میں چن چن کر افغانستان میں موجود پشتونوں کو قتل کیا گیا۔ پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور پاکستانی پرچم کو اتار کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔ جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔
31۔ سن 55 میں افغانیوں نے پاکستان کے بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر اسپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پشتونوں میں پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا اور پشتونوں کو پاکستان سے الگ ہونے اور افغانستان سے ملنے کی تلقین کی جاتی تھی۔
یہ غالباً افغانستان کی پاکستان کے خلاف پشتونوں کو بھڑکانے کے لیے ایسی ڈس انفارمیشن وار تھی جس میں پہلی بار "نئی ٹیکنالوجی" استعمال کی گئی۔ اس کی جدید ترین شکل اس وقت ڈیوہ اور مشال ریڈیو ہیں جنہوں نے پی ٹی ایم کو جنم دیا اور اب سوشل میڈیا ہے جس میں پاکستان میں پناہ گزین ایک ایک افغانی پاکستان کے خلاف پراپگینڈا ثواب سمجھ کر کرتا ہے۔
32۔ مئی 1955ء میں افغان حکومت نے دوبارہ افغان فوج کو متحرک ہونے کا حکم دے دیا۔ جس پر پشتون جنرل ایوب خان نے بیان جاری کیا کہ " اگرافغانستان نے کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے وہ سبق سکھایا جائے گا جو وہ کبھی نہ بھول سکے گا"۔ ایوب خان کی دھمکی کے بعد وہ رک گئے۔
انہی دنوں افغانستان کے لیے روس کے سفیر "میخائل وی۔ ڈگٹائر" نے جنگ کی صورت میں افغانستان کو مکمل عسکری امداد کی یقین دہانی کرائی اور افغانیوں کو پشتون علاقوں پر چڑھائی کے لیے اکسایا۔
33۔ نومبر 1955ء میں چند ہزار افغان مسلح قبائلی جنگجووں نے گروپس کی صورت میں بلوچستان کی 160 کلومیٹر کی سرحدی پٹی پردوبارہ حملہ کر دیا۔ پاک فوج سے ان مسلح افغانوں کی چھڑپیں کئی دن تک جاری رہیں اور آخر کار وہ بھاگ گئے۔ تاہم اس بار بھی افغانیوں کی فائرنگ اور گولہ باری میں بہت سے پشتون نشانہ شہید ہوگئے۔
34۔ مارچ 1960ء میں افغان فوج نے اپنی سرحدی پوزیشنز سے باجوڑ ایجنسی پر مشین گنوں اور مارٹرز سے گولی باری شروع کر دی۔ بہت سے پشتونوں کی جانیں گئیں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ جواباً پاکستانی ائیر فورس کے 26 طیاروں نے افغان فوج کی پوزیشنز پر بمباری کی جس پر وہ گنیں اور مورچے چھوڑ کا بھاگ گئے۔
35۔ 28 ستمبر 1960 کو افغان فوج نے چند ٹینکوں اور انفینٹری کی مدد سے پھر باجوڑ ایجنسی پر حملہ کیا اور مقامی پشتونوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا۔ پاکستان آرمی نے ایک مرتبہ پھر افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوۓ واپس افغانستان میں دھکیل دیا۔ پاکستانی فضائیہ کی افغان فوج پر بمباری وقفے وقفے سے جاری رہی جو مسلسل پشتون علاقوں میں دراندازی کی کوشش کر رہی تھی۔
36۔ سن 1960 میں ہی افغانستان میں پاکستان کے خلاف شیر محمد مری کے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ اس کی دہشتگردانہ کاروائیوں کا نشانہ پشتون اور بلوچ دونوں بنے۔
37۔ مئی 1961ء میں افغانستان نے باجوڑ، جندول اور خیبر پر ایک اور محدود پیمانے کا حملہ کیا۔
اس مرتبہ اس حملے کا مقابلہ فرنٹیر کور کے پشتونوں نے کیا اور اس دفعہ بھی پاکستانی فضائیہ کی بمباری نے حملے کا منہ موڑ دیا۔ اس بار بھی افغانی کچھ پشتونوں کا خون پینے میں کامیاب رہے۔
38۔ سن 1965 میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو افغانستان نے موقع غنیمت جان کر مہند ایجنسی پر حملہ کر دیا۔
لوگ حیران رہ گئے کہ انڈیا نے افغانستان کی طرف سے کیسے حملہ کر دیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ افغانیوں نے کیا تھا۔ اس حملے کو مقامی پشتونوں نے پسپا کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈیو کابل پر افغانی حملے کے ساتھ ساتھ پشتونوں سے پاکستان کے خلاف افغانستان کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کر رہے تھے کہ یہی موقع ہے پاکستان سے کٹ کر افغانستان میں شامل ہونے کا۔
39۔ سن 1970 میں افغانستان نے اے این پی والوں کے " ناراض" پشتونوں اور بلوچوں کے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ عدم تشدد کے نام نہاد علمبردار اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک وغیرہ انہی کیمپس کا حصہ تھے۔ جن کو بعد میں سرنڈر کرنے یا پی ٹی ایم کی زبان میں "سلانڈرا" بننے پر معافی دے کر واپس آنے کی اجازت ملی۔
40۔ یہاں آپ کو ایک اور دلچسپ بات بتائیں کہ 70ء میں بنگلہ دیش کا مسئلہ عروج پر تھا اور اس وقت جنرل یحیی خان کو مدہوش رکھنے والی مشہور طوائف اقلیم اختر عرف جنرل رانی بھی افغانی تھی۔ جس کے نواسے کا نام عدنان سمیع خان ہے جس نے بھارتی شہریت کے لیے پاکستانی شہریت ترک کی تھی۔
میجر عدنان سمی خان اصلاً افغانی ہے۔
41۔ 1971 میں جب کے جی بی انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کو دولخت کر رہی تھی تو اس کے ایجنٹ افغانستان میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت افغانی اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ دو ٹکڑے ہونے کے بعد اب پاکستان کے چار ٹکڑے ہونگے اور صوبہ سرحد اور بلوچستان ہمارے ہونگے۔
42۔ 1972 میں اے این پی کے سرخوں خاص طور پر اجمل خٹک نے افغانستان کی ایماء پر دوبارہ پشتونستان تحریک کو منظم کرنے پر کام شروع کر دیا۔ تاہم اس وقت تک افغانستان کو اندازہ ہوچکا تھا کہ پشتونستان تحریک بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے اس لیے اس نے اب بھارت کے ساتھ مل کر "آزاد بلوچستان" تحریک کو بھڑکانا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی عسکری تربیت شروع کردی۔ تاہم پشتونستان کے نام پر بھی افغانستان کی دہشت گردیاں جاری رہیں۔
43۔ سن 1973 میں پشاور میں افغان نواز عناصر نے پشتونستان تحریک کے لیے "پشتون زلمی" کے نام سے نئی تنظیم سازی کی اور دوبارہ پشتونوں کو اس میں شامل ہونے کی پیش کش کی گئی۔
44۔ سن 1974 میں افغانستان نے " لوئے پشتونستان" (درحقیقت لوئے افغاستان) کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
45۔ فروری 1975ء میں افغان نواز تنظیم "پشتون زلمی" نے خیبرپختونخواہ کے گورنر حیات خان شیرپاو کو بم دھماکے میں شہید کردیا۔ (بحوالہ کتاب "فریب ناتمام" از جمعہ خان صوفی)
46۔ 28 اپریل 1978ء میں روسی پروردہ کمیونسٹ جماعت "پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان" نے روسی اسلحے اور چند روسی طیاروں کی مدد سے کابل میں فوجی بغاوت برپا کردی جسے "انقلاب ثور" کا نام دیا گیا۔
اس کے نتیجے میں صدر داؤد سمیت ہزاروں افغانوں کو بیدردی سے ہلاک کردیا گیا اور افغانستان پر سرخوں کی کمیونسٹ حکومت قائم کردی گئی۔ انقلاب کے ان لیڈروں میں صدر نجیب سب سے خون آشام ثابت ہوا جس نے اقتدار سنبھالتے ہی " لوئے پشتونستان" کی عام حمایت کا اعلان کردیا۔
اس انقلاب نے پشتون علاقوں میں دہشت گردی کا نیا خونی کھیل شروع کیا۔
47۔ 1979 میں خود افغانوں میں سے بہت سارے لوگ ان سرخوں کے خلاف پوری طاقت سے کھڑے ہوگئے۔ جب یہ سرخے ہزاروں افغانیوں کو قتل کرنے کے باؤجود عوامی انقلاب نہ روک سکے تو ان افغان سرخوں نے روس کو خود اپنے ہی ملک پر حملہ کرنے کی دعوت دے دی۔
لالچ یہ بھی دیا کہ آپ یہاں نہ رکنا۔ بلکہ پاکستان میں پشتون علاقوں کو روند دینا تو آگے گوادر کا گرم سمندر آپ کا متنظر ہے۔
48۔ 24 دسمبر 1979ء کو روس نے افغانی سرخوں کی دعوت پر افغانستان پر حملہ کردیا۔ روسی پورے افغانستان کو روندتے ہوئے تورخم بارڈر تک پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ وہ دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائیں گے۔ یعنی بلوچستان اور کے پی کے کو لے لینگے۔ افغانی سرخے ان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔
49۔ روسی و افغان کمیونسٹ افواج نے افغانستان میں قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ بہت سے افغانیوں نے بھاگ کر پاکستان میں پناہ لی۔ جو رفتہ رفتہ پورے پاکستان میں پھیل گئے۔ پاکستان میں پناہ لینے والے افغانیوں نے کچھ ہی عرصہ بعد بجائے شکر گزار ہونے کے حسب معمول پشتون علاقوں پر اپنا حق جتانا شروع کر دیا۔ پشاور اور کوئٹہ میں تقریباً سارا کاروبار یہ مقامی پشتونوں سے چھین چکے ہیں۔ اس وقت یہ سارے "پناہ گزین" افغانی پاکستان کے اندر پاکستان مخالف تحریکیں چلوا رہے ہیں۔
50۔ 1980 میں افغانستان میں پیپلز پارٹی کی الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ اسی تنظیم نے مبنیہ طور پر پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کو پاک فوج کے سترہ جرنیلوں سمیت شہید کیا اور پاکستان میں کئی دہشتگردانہ کاروائیاں کیں۔
لیاقت علی خان کے بعد یہ پاکستان کا دوسرا سربراہ مملکت تھا جس کو افغانی سرخوں نے نشانہ بنایا۔
یہی الذولفقار پاکستان کا ایک مسافر بردار طیارہ ھائی جیک کرکے کے افغانستان لے گئی تھی۔
51۔ افغانستان کے ساتھ ملکر روس نے کئی مرتبہ پاکستان کے پشتون علاقوں پر بمباریاں کیں۔ جب کہ کےجی بی اور خاد نے اے این پی اور الذولفقار کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی خاص طور پر پشتون شہید ہوئے۔
52۔ فروری 1994 میں چند افغان دہشت گردوں نے پشتون بچوں کی سکول بس کو یرغمال بنا لیا جس میں 60 بچے اور 6 خواتین ٹیچرز تھیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے کروڑوں روپے تاوان طلب کیا۔ پاک فوج کی ایس ایس جی کمانڈوز نے کامیاب اور تیز رفتار آپریشن کی مدد سے ان دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور کسی بچے کو گزند نہیں پہنچنے دی۔
یہ سکول بچوں کے خلاف افغانیوں کی پہلی کاروائی تھی۔ دوسری ہم نے اے پی ایس کی شکل میں دیکھی۔
53۔ 2000 میں کوئٹہ میں حملہ ہوا جس میں 6 لوگ شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ تحقیقات پر معلوم ہوا کہ حملہ آور افغانی تھے۔
جاری ہے
نوٹ ۔۔۔ اگلا حصہ نائن الیون سے لے کر فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف آخری بڑے آپریشن تک ہوگا۔ ان شاء اللہ اور آخری حصہ ٹی ٹی پی کی ناکامی کے بعد پی ٹی ایم کی لانچنگ سے حال تک