Monday, April 20, 2020

پشتونوں کے ساتھ افغانیوں کی دغا بازی

پشتونوں کے ساتھ افغانیوں کی دغا بازی اور ظلم کی تاریخ
(قیام پاکستان سے قبل)

افغانوں نے کس کس طرح پشتونوں کا خون بہایا اور کیسے کیسے پشتونوں کو بار بار دھوکہ دیا حتٰی کہ افغانی ہونا پشتونوں میں دھوکے کا استعارہ بن گیا۔ آئیں آج آپ کو اس کی کچھ جھلکیاں دکھائیں

نوٹ : قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے خلاف افغانستان کی ہر سازش اور کاروائی کو پشتونوں کے خلاف کاروائی لکھا جائیگا۔ کیونکہ پاکستان بھر میں پشتون اچھی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان پر پشتون ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں حکومت کرتے رہے ہیں اور پاکستان دنیا بھر میں پشتونوں کا سب سے بڑا ملک ہے۔
(مضمون کا ابتدائی حصہ ہارون وزیر صاحب کی تحریر سے لیا گیا ہے)

1۔ ہر محب وطن پشتون کو افغانی پہلا طعنہ رنجیت سنگھ کا دیتے ہیں۔ لہٰذا اسی سے آغاز کرتے ہیں۔
پشاور پر رنجیت سنگھ کا باقاعدہ قبضہ افغانوں کے ہی مرہون منت ہے۔

سن 1823ء میں پشاور کے گورنر نے رنجیت سنگھ کو کچھ تحفے بھیجے جس پر اس وقت کا افغان حکمران اعظم خان طیش میں آ گیا۔ اعظم خان کی افغان فورسز نے پشاور کا رخ کیا اور ساتھ ہی اس نے جہاد کے نام پر قبائل سے مدد مانگی۔ جس پر پشاور کے یوسفزئی، خٹک اور دیگر قبائل نے لبیک کہا

ادھر سے سکھ فوج گورنر پشاور کی مدد کو پہنچ گئی۔ نوشہرہ میں پشتونوں اور سکھوں کے لشکر کا آمنا سامنا ہوا اور جن افغانوں کے لیے جنگ لڑی جا رہی تھی وہ میدان جنگ سے تین میل دور کھڑے ہو کر نظارہ کر رہے تھے۔
جنگ ہوئی تو ایک سخت معرکے کے بعد سکھوں کے ہاتھوں پشتونوں کو شکست ہوئی اور جس افغان حکمران اعظم خان کے لیے جنگ لڑی جا رہی تھی وہ وہیں سے بھاگ کر واپس کابل پہنچا۔ لیکن اس شکست کے بعد سکھوں نے براہ راست پشاور پر قبضہ کر لیا

2۔ سن 1935 میں دوبارہ ایک افغان حکمران دوست محمد اپنے لشکر سمیت پشاور پہنچ گیا۔ دوست محمد قرآن پر قسم کھا کر آیا تھا۔ ایک بار پھر پشتونوں سے مدد مانگی گئی اور پھر بہت سے قبائل لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ لڑائی شروع ہوئی اور سکھوں نے افغان فورسز کا گھیراؤ کر لیا تو دوست محمد راتوں رات اپنا لشکر چھوڑ کر واپس کابل فرار ہوگیا

افغان لشکر تتر بتر ہوگیا اور ایک بار پھر مقامی پشتون اور قبائلی پشتون سکھوں کے ہاتھوں قیمہ بنے
یہ دوست محمد نادر خان، طاہر شاہ اور سردار داؤود کا پڑ دادا تھا جن کے "کارنامے" آگے آئینگے

3۔ افغانی ہمیشہ بنوں اور وزیرستان کو اپنا ماتحت علاقہ خیال کرتے تھے۔ رنجیت سنگھ کے خلاف افغانوں کی مدد کے لیے یہاں سے بھی لوگ گئے تھے۔ جس کے جواب میں جب ان پر رنجیت سنگھ نے حملہ کیا تو کسی ایک افغان کی ہمت نہ ہوئی کہ مدد کو آتا

4۔ رنجیت سنگھ لیکن یہاں قبضہ نہ کرسکا۔ تاہم اس وقت کے افغان حکمرانوں کو خیال گزرا کہ رنجیت سنگھ کی ناکامی پر کہیں مقامی وزیرستانی اور بنوں وغیرہ کے پشتون خود کو آزاد نہ سمجھ لیں۔ انہیں اپنا مطیع کرنے کے لیے ان ظالم افغانوں نےان پر دو تین سخت حملے کیے لیکن منہ کی کھائی۔ تاہم سینکڑوں پشتونوں کا خون بہانے میں کامیاب رہے۔

5۔ افغانوں کو جب بھی انگریزوں سے خطرہ محسوس ہوا انہوں نے فوراً ڈیورنڈ لائن کے اس طرف کے پشتونوں کو انگریزوں کے خلاف بھڑکایا، لڑوایا اور مروایا۔ خاص طور پر وزیرستان کے پشتونوں کو

لیکن خود ہمیشہ انگریزوں سے دوستی کا دم بھرا۔ ان سے وظیفے لیتے رہے اور جب سر ماٹیمر ڈیورنڈ پشتونوں کے سودے کے لیے افغانستان پہنچا تو افغانیوں نے اس کو اکیس توپوں کی سلامی دی۔ گویا شادی کی بارات میں آیا ہو

6۔ سن 1919 میں افغان حکمران امان اللہ نے روس کی ایماء پر انگریزوں سے مکمل خود مختاری کے لیے جنگ چھیڑ دی۔ عین اس وقت جب انگریز فوجیں افغانوں سے لڑ رہی تھیں افغانوں نے ڈیورنڈ لائن کے اس پار پشتونوں کو اشارہ کیا۔ بہت سے قبائلیوں نے افغانوں کی مدد کے لیے انگریزوں کے خلاف بغاوت کر لی اور یہاں پر انگریز فوج کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اس بغاوت سے گھبرا کر انگریزوں نے افغانیوں کو صلح کی دعوت دے دی

افغانوں نے فوراً صلح کر لی اور نیتجے میں افغانستان بڑی حد تک انگریز سے آزاد ہوگیا۔ یعنی افغانستان کی آزادی یہاں کے پشتونوں کی مرہوں منت تھی۔ اس کے لیے امان اللہ نے مقامی قبائلیوں کا شکریہ ادا کیا بلکہ کچھ کو تمغے بھی دئیے

لیکن انگریز نے افغانستان سے فارغ ہونے کے بعد مقامی قبائلیوں کو اس بغاوت کا خوب مزہ چھکایا۔ گاؤں کے گاؤں بمباری میں ملیامیٹ کر دئیے اور اس وحشیانہ کاروائی پر افغان حکومت جن کے لیے یہ بغاوت کی گئی تھی بلکل چپ رہی بلکہ ایک احتجاج تک نہ کیا

7۔ اس کے بعد کمیونسٹ (سرخہ) امان اللہ نے افغانستان میں زبردستی سیکولرازم کے نفاذ کی کوشش کی جس کے نتیجے میں بغاوت ہوگئی اور بچہ سقہ کابل پر قابض ہوگیا۔ امان اللہ بھاگ گیا تو نادر خان نے افغانستان کا تخت حاصل کرنے کے لیے پھر مقامی قبائل اور پشتونوں سے مدد مانگی۔ وزیر، محسود، بیٹنی، بنوچی غرض بہت سے قبائلی حسب معمول مدد کو پہنچ گئے اور نادر خان سے فرمائش کی کہ فتح کی صورت میں آپ امان اللہ کو حکومت دینگے اور ہمیں کچھ زمینیں اور بندوقیں وغیرہ دینگے

اس نے فوراً وعدہ کر لیا بلکہ قرآن پاک پر قسم بھی کھائی۔
ایک بار پھر کابل قبائلی پشتونوں کے خون سے رنگین ہوگیا۔ لیکن بہرحال فتح حاصل ہوگئی

جس کے بعد نادر خان نامی افغان حکمران اپنے تمام وعدوں سے پھر گیا اور قبائلی پشتونوں کو خالی ہاتھ اور نامراد واپس آنا پڑا

یہ نادر خان دوست محمد کا پوتا ہے جس کا شروع میں تذکرہ آیا تھا اور جس کی رنجیت سنگھ کے خلاف قسم کھانے کا حال آپ پہلے پڑھ چکے ہیں

8۔ سن 1941 میں جب داوڑ قوم کا ایک قبیلہ انگریزوں کی بمباریوں اور حملوں سے ناک تک آ گیا تو اس قبیلے کے کچھ لوگوں نے افغانستان ہجرت کی۔ لیکن انہیں اس احسان فراموش افغان حکومت نے زبردستی بے یار و مددگار واپس بھیج دیا۔ اسی حکومت نے جس کے لیے وہ کابل میں لڑے تھے اور اپنی جانیں دی تھیں۔

9۔ حکومت افغانستان نے قیام پاکستان سے ایک سال پہلے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ اب جبکہ انگریز جا رہا ہے تو صوبہ سرحد کو افغانستان سے ملاپ کی اجازت دی جائے (یاد رہے یہ پختونستان کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ افغانستان میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کی شمولیت کا مطالبہ تھا جو آجکل سرخے کر رہے ہیں)

10۔ جب قیام پاکستان کے وقت سرحد کے مسلمانوں اور قبائیلیوں کو انگریزوں نے انڈیا یا پاکستان میں رہنے کے آپشنز دئیے اور ریفرنڈم کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت یہاں پر باچا خانیوں کی حکومت تھی۔ انہوں نے پشتونوں کو حق خود ارادیت دینے کی پزور مخالفت کی

جب اس پر بات نہ بنی تو افغانستان سے ہدایات لینے والے ان باچا خانیوں نے "لر و بر" کا نعرہ لگا دیا۔ انہوں نے بنوں میں ایک جرگہ کیا جس میں مطالبہ کیا کہ ریفرنڈم میں " افغانستان " کے ساتھ شامل ہونے کا آپشن بھی ہونا چاہئے۔
باچاخانی سرخوں نے کوشش کی کہ یا پشتونوں کو افغانستان میں شامل کر دیا جائے یا پشتون ہندوستان کی غلامی قبول کر لیں۔ جس پر مسلم لیگ کچھ پشتونوں کا وفد لے کر وہاں گئی جہاں ہندو مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہے تھے جس کے بعد پشتونوں نے باچا خان اور ڈاکٹر خان کی یہ فرمائشیں یکسر مسترد کر دیں

11۔ یہ بات بھی نہ بنی تو باچا خانیوں نے اس ریفرنڈم میں ایک تیسرا آپشن ایڈ کرنے کا مطالبہ کیا چلیں پھر ہمیں " آزاد پشتونشتان" دیا جائے۔ تاہم اس وقت یہ آپشن رد کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریفرندم سے چند ماہ قبل جب انگریز نے خود ڈاکٹر خان کو یہ مشورہ دیا کہ آپ پشتون نیشنلزم کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں تو ڈاکٹر خان نے اولف کیرو کی اس تجویز کو انڈین نیشنلزم کے نام پر رد کر دیا تھا۔ یعنی کہ ہندوستانیت پشتونیت سے بڑھ کر ہے۔ لیکن بعد میں جب ان سرخپوشوں کو یقین ہو گیا کہ ہندوستان کے ساتھ کسی بھی طور الحاق ممکن نہیں اور نہ ہی پشتون افغانیوں کے زیر سایہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے یکا یک پختون نیشنلزم کا نعرہ لگا دیا

12۔ افغانیوں اور باچا خانیوں نے دعوٰی کیا کہ اگر پاکستان کے حق میں تیس فیصد ووٹ بھی پڑ گئے تو ڈاکٹر خان وزارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔ 17 جولائی کو جب ریفرنڈم کا نتیجہ آیا تو اس کے مطابق پاکستان کے حق میں پشتونوں کے 292،118 جبکہ ہندوستان کے حق میں صرف 2874 ووٹ پڑے۔ ریفرنڈم کے نتائج کو مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے تسلیم کیا۔ لیکن افغانیوں نے ان نتائج کو رد کر دیا۔ ساتھ ہی باچا خان اور اس کا بھائی ڈاکٹر خان اپنے استعفٰی دینے کے وعدے سے بھی مکر گئے۔

13۔ اسی عرصے میں غنی خان نے افغانستان کے اہم دورے کیے اور پاکستان بننے سے قبل ہی پاکستان کے خلاف " پشتون زلمی " کے نام سے تحریک منظم کرنے کا فیصلہ ہوا اور حسب معمول تحریک کے لیے افغانیوں نے دوبارہ وزیرستان کے لوگوں سے مدد اور افرادی قوت مانگی

جاری ہے !!!

نوٹ ۔۔۔ اس تحریر کے تین حصے اور ہیں۔ دوسرا حصہ قیام پاکستان سے لے کر نائن الیون تک اور آخری دو حصے ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا احاطہ کرینگے

No comments:

Post a Comment