01 رمضان المبارک 1275 ہجری
04 اپریل 1859
یومِ پیدائش پِیر مہر علی شاہ
کِتھے مہر علی کِتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کِتھ
ے جالڑیاں
حضرت سیدنا پِیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 01 رمضان المبارک 1275 ہجری بمطابق 04 اپریل 1859 بروز پِیر گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی, پاکستان میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد محترم کا نام پیر نذر دین شاہ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب 25 واسطوں سے حضرت سیدنا حضور غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ اکرم اور 32 واسطوں سے سیدنا حضرت امام حسن المجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچتا ہے۔
بچپن میں ہی حضرت پِیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ناظرہ قرآن پاک پڑھنے کے دوران آپ روزانہ کا سبق کسی کے کہے بغیر زبانی یاد کر لیا کرتے ۔ اور بغیر دیکھے ہی سنا دیا کرتے تھے، جب آپ نے ناظرہ مکمل کیا تو اس وقت آپ کو مکمل قرآن پاک حفظ ہو چکا تھا۔
آپ کے والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن پاک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو عربی، فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حضرت مولانا محی الدین ہزاروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سپرد فرمایا۔ ایک روز آپ کے استاد صاحب نے پوچھا کہ بیٹا مطالعہ کر کے آتے ہو کہ نہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اس وقت تک لفظ مطالعہ کا صحیح مطلب بھی معلوم نہ تھا۔ میں سمجھا کہ مطالعہ زبانی یاد کرنے کو کہتے ہیں۔ لہذا اگلے روز میں نے پورا سبق زبانی سنا دیا، جس پر استاد صاحب کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
ایک دن پِیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے استاد صاحب نے دوران سبق کتاب کے ایسے حصے کی عبارت یاد کرکے آنے کی ہدایت کی جو دیمک لگ جانے کی وجہ سے اس قدر مٹ چکی تھی کہ پڑھی نہ جاسکتی تھی ۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے عذر پیش کیا کہ جو عبارت کتاب میں ہی نہیں ہے اسے کیسے یاد کیا جاسکتا ہے تو استاد صاحب نے غالباً آپ کے مادر زاد ولی ہونے کی تصدیق کی غرض سے کہا کہ میں نہیں جانتا ، اگر کل یہ عبارت یاد نہ ہوئی تو سزا ملے گی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں آبادی سے باہر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر مطالعہ وغیرہ کیا کرتا تھا اُس دن بھی کافی دیر تک میں وہیں بیٹھا کتاب کی دیمک زدہ عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا مگر بے سُود - آخر کار سر اٹھا کر بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض کی:
" اے اللہ عزوجل بے شک تُو جانتا ہے کہ یہ عبارت کیا ہے۔ اگر تُو مجھے بتا دے تو میں استاد کی سزا سے بچ جاؤں گا "
یہ کہنا تھا کہ اچانک درخت کے پتوں میں سبزی مائل عبارت نمودار ہوئی جسے میں نے حفظ کر لیا اور اُسی وقت جاکر استاد صاحب کو سُنا دی۔ انہوں نے کچھ شبہ کا اظہار کیا تو میں نے کہا کہ مجھے اس کے صحیح ہونے کا اس قدر یقین ہے کہ اگر اس کتاب کے مصنف بھی قبر سے باہر نکل کر آجائیں اور اسے غلط کہہ دیں تو میں نہ مانوں گا۔ چناچہ استاد صاحب اسی روز راولپنڈی گئے اور ایک مکمل نسخے سے میری سنائی ہوئی عبارت کو مِلاکر دیکھا تو نہایت حیران ہوئے۔
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے گئے تو مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ آپ کے علم و فضل سے بہت متاثر ہوئے۔ حضرت پیر صاحب چاہتے تھے کہ حرمین طیبین میں ہی قیام کِیا جائے مگر حضرت حاجی صاحب نے تاکید کے ساتھ واپس جانے کاحکم دیا اور فرمایا کہ ہندوستان میں عنقریب ایک فِتنہ برپا ہونے والا ہے لہٰذا آپ اپنے ملک ہندوستان واپس چلے جائیں کیونکہ بالفرض آپ ہند میں خاموش ہو کر بیٹھ بھی جائیں گے تو پھر بھی وہ فتنہ ترقی نہ کرسکے گا ۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ پس ہم حاجی صاحب کے اس کشف کو اپنے یقین کی رُو سے مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
حضرت حاجی امداد اللہ کی پیشنگوائی کے مطابق آپ نے فتنہ قادیانیت کی سازشوں پر پانی پھیر دیا ۔ آپ نے 1899 میں شمس الہدایہ نامی کتاب لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبردست دلائل قائم کئے۔ مرزا قادیانی ان دلائل کا جواب تو نہ دے سکا البتہ مناظرے کا چیلنج کر دیا
25 جولائی 1900 کی تاریخ مُناظرہ کے لیے طے پائی ، چنانچہ مقررہ تاریخ کو حضرت پِیر مہر علی شاہ صاحب اور علمائے کرام کی بہت بڑی جماعت بادشاہی مسجد لاہور پہنچ گئی لیکن مرزا قادیانی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی۔
پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی چند مشہور تصانیف مندرجہ ذیل ہیں
سیف چشتیائی
شمس الہدایۃ
تحقیقُ الحق
الفتوحاتُ الصمدیۃ
فتاویٰ مہریہ
آپ کا وصال شریف 29 صفر المظفر 1356 ہجری بمطابق 11 مئی 1937 صبح کے وقت ذکر اللہ کرتے ہوئے ہوا
آپ کا مزار پرانوار گولڑہ شریف میں موجود ہے، جہاں بہت سے عقیدت مند روزانہ حاضر ہوتے ہیں اور فیض باطنی سے مستفید ہوتے ہیں۔
آپ کا عرس مبارک 29 صفر المظفر کو ہوتا ہے -
آپ کی مشہور زمانہ نعت کِتھے مہر علیؔ کِتھے تیری ثناء ترجمہ کے ساتھ۔
اَج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
اَلْطَّیْفُ سَریٰ مِنْ طَلْعَتِہٖ
والشَّذُو بَدیٰ مِنْ وَفْرَتَہٖ
فَسَکَرْتُ ھُنَا مِنْ نَظْرَتِہٖ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں
مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکے لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں
دو ابرو قوس مثال دسن
جیں توں نوک مژہ دے تیر چھٹن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جانان کہ جانِ جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تو شاناں سب بنیاں
ایہہ صورت ہے بے صورت تھیں
بے صورت ظاہر صورت تھیں
بے رنگ دسے اس مورت تھیں
وچ وحدت پھٹیاں جد گھڑیاں
دسے صورت راہ بے صورت دا
توبہ راہ کی عین حقیقت دا
پر کم نہیں بے سوجھت دا
کوئی ورلیاں موتی لے تریاں
ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روزِ حشر
وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں
یُعْطِیُکَ رَبُّکَ داس تساں
فَتَرْضیٰتھیں پوری آس اساں
لج پال کریسی پاس اساں
والشْفَعْ تُشَفَّعْ صحیح پڑھیاں
لاہو مکھ تو بردِ یمن
من بھانوری جھلک دکھلاؤ سجن
اوہا مٹھیاں گالیں الاؤ مٹھن
جو حمرا وادی سن کریاں
حجرے توں مسجد آؤ ڈھولن
نوری جھات دے کارن سارے سکن
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
سب انس و ملک حوراں پریاں
انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے
لکھ واری صدقے جاندیاں تے
انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے
شالا آون وت بھی اوہ گھڑیاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں
(پیر مہر علی شاہ گولڑوی شریف)
ترجمہ
ہے آج سجن کی پیاس بہت
کیوں دل مسکیں ہے اداس بہت ؟
نس نس میں ہے شوق کی باس بہت
آنکھوں سے لگی ہیں کیوں جھڑیاں ؟
مکھڑا اِک بدر ہے شعشانی
ماتھے پہ ہیں لاٹیں نورانی
زلفیں کالی، اور مستانی
آنکھیں ہیں نشیلی مَدھ بھریاں
دو ابرو مثالِ قوس لگیں
جن سے مژگاں کے تیر چلیں
لب لعلِ یمن کی سرخی دیں
اور دانت ہیں موتیوں کی لڑیاں
اس صورت کو میں جان کہوں
جانان کہ جانِ جہان کہوں
سچ کہوں تو رب کی شان کہوں
جس شان سے ہے ہر شان عیاں
یارب! ہو یہ صورت پیشِ نظر
جب نزع لگے، جب ہو محشر
جب قبر میں ہو اور پُل پہ گزر
سب کھوٹے بھی ہوں گے کھرے جہاں
آؤ حجرے سے مسجد پیارے
انک نوری جھلک مانگیں سارے
ہیں آنکھیں بچھائے متوارے
سب اِنس و ملک حوریں پریاں
ان روتے ہوئے دیوانوں پر
ان صدقے اترتی جانوں پر
بے دام غلام انسانوں پر
پھر آئیں خدایا! وہ گھڑیاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کہاں مہرؔ علی، کہاں تیری ثنا
گستاخ نظر جا ٹھہری کہاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
سبحان اللہ! آپ ﷺ کتنے جمیل ہیں
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
آپ ﷺ کتنے حسین ہیں، آپ ﷺ کتنے کامل ہیں
(پروفیسر کرم حیدری، کرم داد خان)
04 اپریل 1859
یومِ پیدائش پِیر مہر علی شاہ
کِتھے مہر علی کِتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کِتھ
ے جالڑیاں
حضرت سیدنا پِیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 01 رمضان المبارک 1275 ہجری بمطابق 04 اپریل 1859 بروز پِیر گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی, پاکستان میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد محترم کا نام پیر نذر دین شاہ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب 25 واسطوں سے حضرت سیدنا حضور غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ اکرم اور 32 واسطوں سے سیدنا حضرت امام حسن المجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچتا ہے۔
بچپن میں ہی حضرت پِیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ناظرہ قرآن پاک پڑھنے کے دوران آپ روزانہ کا سبق کسی کے کہے بغیر زبانی یاد کر لیا کرتے ۔ اور بغیر دیکھے ہی سنا دیا کرتے تھے، جب آپ نے ناظرہ مکمل کیا تو اس وقت آپ کو مکمل قرآن پاک حفظ ہو چکا تھا۔
آپ کے والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن پاک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو عربی، فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حضرت مولانا محی الدین ہزاروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سپرد فرمایا۔ ایک روز آپ کے استاد صاحب نے پوچھا کہ بیٹا مطالعہ کر کے آتے ہو کہ نہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اس وقت تک لفظ مطالعہ کا صحیح مطلب بھی معلوم نہ تھا۔ میں سمجھا کہ مطالعہ زبانی یاد کرنے کو کہتے ہیں۔ لہذا اگلے روز میں نے پورا سبق زبانی سنا دیا، جس پر استاد صاحب کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
ایک دن پِیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے استاد صاحب نے دوران سبق کتاب کے ایسے حصے کی عبارت یاد کرکے آنے کی ہدایت کی جو دیمک لگ جانے کی وجہ سے اس قدر مٹ چکی تھی کہ پڑھی نہ جاسکتی تھی ۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے عذر پیش کیا کہ جو عبارت کتاب میں ہی نہیں ہے اسے کیسے یاد کیا جاسکتا ہے تو استاد صاحب نے غالباً آپ کے مادر زاد ولی ہونے کی تصدیق کی غرض سے کہا کہ میں نہیں جانتا ، اگر کل یہ عبارت یاد نہ ہوئی تو سزا ملے گی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں آبادی سے باہر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر مطالعہ وغیرہ کیا کرتا تھا اُس دن بھی کافی دیر تک میں وہیں بیٹھا کتاب کی دیمک زدہ عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا مگر بے سُود - آخر کار سر اٹھا کر بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض کی:
" اے اللہ عزوجل بے شک تُو جانتا ہے کہ یہ عبارت کیا ہے۔ اگر تُو مجھے بتا دے تو میں استاد کی سزا سے بچ جاؤں گا "
یہ کہنا تھا کہ اچانک درخت کے پتوں میں سبزی مائل عبارت نمودار ہوئی جسے میں نے حفظ کر لیا اور اُسی وقت جاکر استاد صاحب کو سُنا دی۔ انہوں نے کچھ شبہ کا اظہار کیا تو میں نے کہا کہ مجھے اس کے صحیح ہونے کا اس قدر یقین ہے کہ اگر اس کتاب کے مصنف بھی قبر سے باہر نکل کر آجائیں اور اسے غلط کہہ دیں تو میں نہ مانوں گا۔ چناچہ استاد صاحب اسی روز راولپنڈی گئے اور ایک مکمل نسخے سے میری سنائی ہوئی عبارت کو مِلاکر دیکھا تو نہایت حیران ہوئے۔
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے گئے تو مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ آپ کے علم و فضل سے بہت متاثر ہوئے۔ حضرت پیر صاحب چاہتے تھے کہ حرمین طیبین میں ہی قیام کِیا جائے مگر حضرت حاجی صاحب نے تاکید کے ساتھ واپس جانے کاحکم دیا اور فرمایا کہ ہندوستان میں عنقریب ایک فِتنہ برپا ہونے والا ہے لہٰذا آپ اپنے ملک ہندوستان واپس چلے جائیں کیونکہ بالفرض آپ ہند میں خاموش ہو کر بیٹھ بھی جائیں گے تو پھر بھی وہ فتنہ ترقی نہ کرسکے گا ۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ پس ہم حاجی صاحب کے اس کشف کو اپنے یقین کی رُو سے مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
حضرت حاجی امداد اللہ کی پیشنگوائی کے مطابق آپ نے فتنہ قادیانیت کی سازشوں پر پانی پھیر دیا ۔ آپ نے 1899 میں شمس الہدایہ نامی کتاب لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبردست دلائل قائم کئے۔ مرزا قادیانی ان دلائل کا جواب تو نہ دے سکا البتہ مناظرے کا چیلنج کر دیا
25 جولائی 1900 کی تاریخ مُناظرہ کے لیے طے پائی ، چنانچہ مقررہ تاریخ کو حضرت پِیر مہر علی شاہ صاحب اور علمائے کرام کی بہت بڑی جماعت بادشاہی مسجد لاہور پہنچ گئی لیکن مرزا قادیانی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی۔
پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی چند مشہور تصانیف مندرجہ ذیل ہیں
سیف چشتیائی
شمس الہدایۃ
تحقیقُ الحق
الفتوحاتُ الصمدیۃ
فتاویٰ مہریہ
آپ کا وصال شریف 29 صفر المظفر 1356 ہجری بمطابق 11 مئی 1937 صبح کے وقت ذکر اللہ کرتے ہوئے ہوا
آپ کا مزار پرانوار گولڑہ شریف میں موجود ہے، جہاں بہت سے عقیدت مند روزانہ حاضر ہوتے ہیں اور فیض باطنی سے مستفید ہوتے ہیں۔
آپ کا عرس مبارک 29 صفر المظفر کو ہوتا ہے -
آپ کی مشہور زمانہ نعت کِتھے مہر علیؔ کِتھے تیری ثناء ترجمہ کے ساتھ۔
اَج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
اَلْطَّیْفُ سَریٰ مِنْ طَلْعَتِہٖ
والشَّذُو بَدیٰ مِنْ وَفْرَتَہٖ
فَسَکَرْتُ ھُنَا مِنْ نَظْرَتِہٖ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں
مکھ چند بدر شعشانی اے
متھے چمکے لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں
دو ابرو قوس مثال دسن
جیں توں نوک مژہ دے تیر چھٹن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جانان کہ جانِ جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تو شاناں سب بنیاں
ایہہ صورت ہے بے صورت تھیں
بے صورت ظاہر صورت تھیں
بے رنگ دسے اس مورت تھیں
وچ وحدت پھٹیاں جد گھڑیاں
دسے صورت راہ بے صورت دا
توبہ راہ کی عین حقیقت دا
پر کم نہیں بے سوجھت دا
کوئی ورلیاں موتی لے تریاں
ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روزِ حشر
وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں
یُعْطِیُکَ رَبُّکَ داس تساں
فَتَرْضیٰتھیں پوری آس اساں
لج پال کریسی پاس اساں
والشْفَعْ تُشَفَّعْ صحیح پڑھیاں
لاہو مکھ تو بردِ یمن
من بھانوری جھلک دکھلاؤ سجن
اوہا مٹھیاں گالیں الاؤ مٹھن
جو حمرا وادی سن کریاں
حجرے توں مسجد آؤ ڈھولن
نوری جھات دے کارن سارے سکن
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
سب انس و ملک حوراں پریاں
انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے
لکھ واری صدقے جاندیاں تے
انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے
شالا آون وت بھی اوہ گھڑیاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں
(پیر مہر علی شاہ گولڑوی شریف)
ترجمہ
ہے آج سجن کی پیاس بہت
کیوں دل مسکیں ہے اداس بہت ؟
نس نس میں ہے شوق کی باس بہت
آنکھوں سے لگی ہیں کیوں جھڑیاں ؟
مکھڑا اِک بدر ہے شعشانی
ماتھے پہ ہیں لاٹیں نورانی
زلفیں کالی، اور مستانی
آنکھیں ہیں نشیلی مَدھ بھریاں
دو ابرو مثالِ قوس لگیں
جن سے مژگاں کے تیر چلیں
لب لعلِ یمن کی سرخی دیں
اور دانت ہیں موتیوں کی لڑیاں
اس صورت کو میں جان کہوں
جانان کہ جانِ جہان کہوں
سچ کہوں تو رب کی شان کہوں
جس شان سے ہے ہر شان عیاں
یارب! ہو یہ صورت پیشِ نظر
جب نزع لگے، جب ہو محشر
جب قبر میں ہو اور پُل پہ گزر
سب کھوٹے بھی ہوں گے کھرے جہاں
آؤ حجرے سے مسجد پیارے
انک نوری جھلک مانگیں سارے
ہیں آنکھیں بچھائے متوارے
سب اِنس و ملک حوریں پریاں
ان روتے ہوئے دیوانوں پر
ان صدقے اترتی جانوں پر
بے دام غلام انسانوں پر
پھر آئیں خدایا! وہ گھڑیاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کہاں مہرؔ علی، کہاں تیری ثنا
گستاخ نظر جا ٹھہری کہاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
سبحان اللہ! آپ ﷺ کتنے جمیل ہیں
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
آپ ﷺ کتنے حسین ہیں، آپ ﷺ کتنے کامل ہیں
(پروفیسر کرم حیدری، کرم داد خان)

No comments:
Post a Comment