02 اپریل 1978
ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں پاکستان نے ہالینڈ کو شکست دے کر ہاکی کا ورلڈ کپ جیتا تھا، یہ مجموعی طور پر تیسرا ورلڈ کپ تھا جبکہ پاکستان دوسری دفعہ ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوا تھا
مارچ 1978ء میں ہاکی کا چوتھا عالمی کپ ٹورنامنٹ ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت اصلاح الدین نے کی جبکہ نائب کپتان شہناز شیخ اور منیجر عبدالوحید تھے
پاکستان پول بی کے تمام ممالک کو شکست دے کر بآسانی سیمی فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ مغربی جرمنی سے ہوا
سیمی فائنل میچ کا فیصلہ فاضل وقت میں ہوا، جب میچ کے 83 ویں منٹ میں اصلاح الدین نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔
فائنل میں، جو 2 اپریل 1978ء کو کھیلا گیا، پاکستان کے مدمقابل ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ پہلے ہاف کے اختتام تک میچ 1-1 سے برابر تھا۔ دوسرے ہاف میں ہالینڈ ایک اور پاکستان دو گول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں پاکستان نے 7 برس بعد، ہاکی کا عالمی کپ دوسری مرتبہ جیت لیا
پاکستان کی جانب سے اصلاح الدین، اختر رسول اور احسان اللہ نے ایک ایک گول کئے جبکہ ہالینڈ کی طرف سے ٹائیز کروزے اور پال لٹجن گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی بہت شاندار رہی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے 35 گول اسکور کئے تھے جبکہ اس کے خلاف صرف 4 گول اسکور کیے جاسکے تھے
فلائنگ ہارس سمیع اللہ اس ورلڈ کپ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں جب ہم ارجنٹائن پہنچے تو وہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا بلکہ اکثر تماشائیوں کو پاکستان بارے بھی بالکل پتا نہیں تھا لیکن جیسے ہی ہم پہلے میچ میں آئر لینڈ کے خلاف میدان میں اترے تو مقابلہ 9-0 سے جیت لیا اس کے بعد شائقین ہماری طرف متوجہ ہوئے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے ارجنٹائن کو بھی 5-0 سے ہرایا تھا۔ فائنل میں تو صورتحال یہ تھی کہ کراؤڈ پاکستان کی جانبداری کر رہا تھا۔ میچ 2-2 سے برابر تھا جب احسان اللہ نے آخری لمحات میں فیصلہ کن گول کر ڈالا۔ ابھی کچھ ٹائم باقی تھا لیکن کراؤڈ شور مچانے لگ گیا کہ ٹائم پورا ہوچکا ہے۔ اسی سال ارجنٹائن نے فٹبال ورلڈکپ کی بھی میزبانی کی تھی جس کے فائنل میں ارجنٹائن کے بالمقابل ایک بار پھر ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ ٹورنامنٹ ارجنٹائن نے جیت لِیا تھا۔ ارجنٹائن کے کوچ لوئس سیزر مینوٹے نے ٹورنامنٹ کے اختتام پر بیان دیا تھا کہ ہم نے یہ انسپائریشن پاکستان ہاکی ٹیم سے حاصل کی تھی۔ پاکستان کی اس ٹیم کے کپتان اصلاح الدین تھے جبکہ اختر رسول، شہناز شیخ، سمیع اللہ، منور زمان، منظور حسین ( 1982 ورلڈ کپ ہیرو) سلیم شیروانی اور حنیف خان جیسے بڑے نام بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی ٹیم میں اتنے لیجنڈز اکٹھے کھیلیں ( اسے رکی پونٹنگ والی آسٹریلیا ٹیم سمجھ لیں) اس ٹیم نے 1982 کا ورلڈ کپ بھی جیتا تھا اس میں کلیم اللہ اور حسن سردار جیسے ہیرے بھی شامل تھے جبکہ 1984 کا اولمپک گولڈ میڈل بھی اسی ٹیم کے حصے میں آیا تھا
ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں پاکستان نے ہالینڈ کو شکست دے کر ہاکی کا ورلڈ کپ جیتا تھا، یہ مجموعی طور پر تیسرا ورلڈ کپ تھا جبکہ پاکستان دوسری دفعہ ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوا تھا
مارچ 1978ء میں ہاکی کا چوتھا عالمی کپ ٹورنامنٹ ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت اصلاح الدین نے کی جبکہ نائب کپتان شہناز شیخ اور منیجر عبدالوحید تھے
پاکستان پول بی کے تمام ممالک کو شکست دے کر بآسانی سیمی فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ مغربی جرمنی سے ہوا
سیمی فائنل میچ کا فیصلہ فاضل وقت میں ہوا، جب میچ کے 83 ویں منٹ میں اصلاح الدین نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔
فائنل میں، جو 2 اپریل 1978ء کو کھیلا گیا، پاکستان کے مدمقابل ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ پہلے ہاف کے اختتام تک میچ 1-1 سے برابر تھا۔ دوسرے ہاف میں ہالینڈ ایک اور پاکستان دو گول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں پاکستان نے 7 برس بعد، ہاکی کا عالمی کپ دوسری مرتبہ جیت لیا
پاکستان کی جانب سے اصلاح الدین، اختر رسول اور احسان اللہ نے ایک ایک گول کئے جبکہ ہالینڈ کی طرف سے ٹائیز کروزے اور پال لٹجن گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی بہت شاندار رہی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے 35 گول اسکور کئے تھے جبکہ اس کے خلاف صرف 4 گول اسکور کیے جاسکے تھے
فلائنگ ہارس سمیع اللہ اس ورلڈ کپ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں جب ہم ارجنٹائن پہنچے تو وہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا بلکہ اکثر تماشائیوں کو پاکستان بارے بھی بالکل پتا نہیں تھا لیکن جیسے ہی ہم پہلے میچ میں آئر لینڈ کے خلاف میدان میں اترے تو مقابلہ 9-0 سے جیت لیا اس کے بعد شائقین ہماری طرف متوجہ ہوئے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے ارجنٹائن کو بھی 5-0 سے ہرایا تھا۔ فائنل میں تو صورتحال یہ تھی کہ کراؤڈ پاکستان کی جانبداری کر رہا تھا۔ میچ 2-2 سے برابر تھا جب احسان اللہ نے آخری لمحات میں فیصلہ کن گول کر ڈالا۔ ابھی کچھ ٹائم باقی تھا لیکن کراؤڈ شور مچانے لگ گیا کہ ٹائم پورا ہوچکا ہے۔ اسی سال ارجنٹائن نے فٹبال ورلڈکپ کی بھی میزبانی کی تھی جس کے فائنل میں ارجنٹائن کے بالمقابل ایک بار پھر ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ ٹورنامنٹ ارجنٹائن نے جیت لِیا تھا۔ ارجنٹائن کے کوچ لوئس سیزر مینوٹے نے ٹورنامنٹ کے اختتام پر بیان دیا تھا کہ ہم نے یہ انسپائریشن پاکستان ہاکی ٹیم سے حاصل کی تھی۔ پاکستان کی اس ٹیم کے کپتان اصلاح الدین تھے جبکہ اختر رسول، شہناز شیخ، سمیع اللہ، منور زمان، منظور حسین ( 1982 ورلڈ کپ ہیرو) سلیم شیروانی اور حنیف خان جیسے بڑے نام بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی ٹیم میں اتنے لیجنڈز اکٹھے کھیلیں ( اسے رکی پونٹنگ والی آسٹریلیا ٹیم سمجھ لیں) اس ٹیم نے 1982 کا ورلڈ کپ بھی جیتا تھا اس میں کلیم اللہ اور حسن سردار جیسے ہیرے بھی شامل تھے جبکہ 1984 کا اولمپک گولڈ میڈل بھی اسی ٹیم کے حصے میں آیا تھا

No comments:
Post a Comment