Sunday, April 5, 2020

پانچ اپریل 1994 یومِ وفات غلام فرید صابری قوال

5 اپریل 1994
یومِ وفات غلام فرید صابری قوال

تاجدارِ حرم جیسی متعدد معروف قوالیوں سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دینے والے معروف قوال غلام فرید صابری کو دنیا سے گزرے آج 26 برس بیت گئے ہیں۔
کیسے کیسے لوگ تھے جو ہم نے کھو دئیے ہیں

غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔

غلام فرید صابری کی پیدائش کلیانہ، روہتک ضلع، پنجاب، برطانوی ہند میں 1930ء میں ہوئی۔ ان کے خاندان میں موسیقی کی روایت مغل شہنشاہوں کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ ان کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ وہ تان سین کی نسل سے ہیں، جو مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور کا عظیم موسیقار تھا۔ محبوب بخش رانجی علی رنگ، ان کے دادا، اپنے وقت کے ایک ماہر استاد موسیقار تھے۔ باقر حسین خان، آپ کے نانا ایک منفرد مقام کے صاحب فن تھے۔آپ کا خاندان صابریہ سلسلۂ تصوف سے نسبت رکھتا ہے، لہذا صابری کو نام میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔

انہیں بچپن سے ہی قوالیوں کا شوق تھا اور 1946 میں غلام فرید صابری نے پہلی مرتبہ مبارک شاہ کے عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی گائی اور ان کے انداز قوالی کو بہت پسند کیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مسلمانوں کی طرح غلام فرید صابری کا خاندان بھی ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوگیا۔

1956 میں انہوں نے اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر صابری برادران قوال ایک نیا گروپ تشکیل دیا ۔ ان کی پہلی ریکارڈنگ 1958 میں EMI ( pakistan labels ) نے ریلیز کی ۔ یہ ان کا پہلا البم تھا   جس کی قوالی " میرا کوئی نہیں تیرے سوا " نے مقبولیت کی تمام حدیں توڑ دیں۔

غلام فرید صابری اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر قوالی گایا کرتے تھے۔

ستر اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا، اسی زمانے میں انہوں نے 'بھر دو جھولی میری یا محمد' جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوا لیا۔

اس کے علاوہ معروف نعت بلغ العلی بکمالہ بھی صابری برادران نے ہی سب سے پہلی تخلیق کی تھی۔

اردو کے علاوہ پنجابی، سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی انہوں نے قوالیاں گائیں۔

ان کی متعدد قوالیوں کو فلموں میں بھی استعمال کیا گیا، جن میں سے چند درج ذیل ہیں ۔

میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا ( فلم عشق حبیب ، 1965)

محبت کرنے والو ( فلم چاند سورج ، 1970)

آئے ہیں تیرے در پہ ( فلم الزام ، 1972)

بھر دو جھولی میری یا محمد ( فلم بن بادل برسات ، 1975)

تیری نظر کرم ( فلم سچائی ، 1976)

تاجدار حرم ہو نگاہ کرم (فلم سہارے، 1982)

آفتاب رسالت ( انڈین فلم ، سلطان ہند ، 1977)

انہوں نے فارسی میں بھی قوالیاں پیش کیں جن میں چند قابل ذکر یہ ہیں

نہ می دانم چی منزل بود
چشم مست عجب

امیر خسرو کے کلام کو غلام فرید صابری نے ایک نئی زندگی بخش دی ۔

من کنت مولا فھذا علی مولا بھی ان کی ایک مشہور قوالی ہے ۔جبکہ امام احمد رضا خان کا کلام انہوں نے چار زبانوں عربی ، فارسی ، اردو اور ہندی میں پیش کیا ۔ غلام فرید صابری بین الاقوامی شہرت یافتہ قوال تھے ۔ 1975 میں یورپ میں ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا جب انہوں نے نیویارک کے کارنیگی ہال میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا

1970 میں حکومت پاکستان نے صابری برادران کو نیپال کی شاہی شادی میں پرفارم کرنے کے لئے روانہ کیا جو بذات خود ایک اعزاز ہے

پرفارمنگ آرٹس پروگرام آف دی ایشیاء سوسائٹی کے زیر اہتمام انہوں نے امریکا اور کینیڈا میں بھی مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور 1978 میں ان کی قوالیوں کا ایک البم امریکا سے بھی ریلیز ہوا

5 اپریل 1994 کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ انتقال کر گئے۔

قسمت میں مری چین سے جینا لکھ دے

ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے

جنت بھی گوارا ہے مگر میرے لئے

اے کاتبِ تقدیر مدینہ لکھ دے

تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
 ہو نگاہِ کرم

تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے

تاجدارِ حرم

تاجدارِ حرم

کوئی اپنا نہیں، غم کے مارے ہیں ہم

آپ کے در پہ فریاد لائے ہیں ہم

ہو نگاہِ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم

آپ کا نام لے لے کے مر جائیں گے

تاجدارِ حرم

تاجدارِ حرم

کیا تم سے کہوں اے عرب کے کنور

تم جانتے ہو من کی بتیاں

در فرقتِ تو اے امّی لقب

کاٹے نہ کٹے ہیں اب رتیاں

توری پریت میں سدھ بدھ سب بسری

کب تک یہ رہیگی بے خبری

گاہے بفگن دزدیدہ نظر
(کبھی ہمیں دزدیدہ نظر سے دیکھو)

کبھی سن بھی تو لو ہمری بتیاں

آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا

ہو حبیبِ حزیں...

ہو حبیبِ حزیں پر بھی آقا نظر ورنہ اوراقِ ہستی بکھر جائیں گے
ہو حبیبِ حزیں پر بھی آقا نظر ورنہ اوراقِ ہستی بکھر جائیں گے

تاجدارِ حرم

تاجدارِ حرم

مے کشو آؤ آؤ مدینے چلیں
مدینے چلیں

مے کشو آؤ آؤ مدینے چلیں

مدینے چلیں
مدینے چلیں
مدینے چلیں!
آؤ مدینے چلیں
آؤ مدینے چلیں
اسی مہینے چلیں
آؤ مدینے چلیں
آؤ مدینے چلیں
آؤ مدینے چلیں

تجلّیوں کی عجب ہے فضا مدینے میں
نگاہِ شوق کی ہے انتہا مدینے میں
غمِ حیات نہ خوفِ قضا مدینے میں
نمازِ عشق کریں گے ادا مدینے میں
براہِ راست ہے راہِ خدا مدینے میں

آؤ مدینے چلیں

اسی مہینے چلیں

آؤ مدینے چلیں

مے کشو آؤ آؤ مدینے چلیں

دستِ ثاقیِ کوثر سے پینے چلیں

یاد رکھو اگر

یاد رکھو اگر اٹھ گئی اک نظر  جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے

تاجدارِ حرم

تاجدارِ حرم

خوفِ طوفان ہے بجلیوں کا ہے ڈر سخت مشکل ہے آقا کدھر جائیں ہم
آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے

تاجدارِ حرم

یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ، اِرحم لنا اِرحم لنا
(یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ، ہم پر رحم کر، ہم پر رحم کر)

دستِ ہمہ بیچارہ را داماں توئی داماں توئی
(جس کو تمام بے چارہ اور بے سہارا لوگ تھامتے ہیں، تُو وہ دامن ہے)

من عاصیم من عاجزم من بے کسم، حالِ مرا
(میں عاصی ہوں، میں عاجز ہوں، میں بے کس ہوں، میرے حال کا)

پرساں توئی پرساں توئی
(تو ہی پرساں ہے)

اے مشک بید عنبر فشاں

پیکِ نسیمِ صبح دم

اے چارہ گر عیسیٰ نفس

اے مونسِ بیمارِ غم

اے قاصدِ فرخندہ پہ

تجھ کو اُسی گل کی قسم

إِن نلت يا ريح الصّبا
(اے بادِ صبا، اگر تیرا گزر)

يوماً إِلٰى أَرض الحرم
(کسی روز اس مقدس سرزمین سے ہو)

بلّغ سلامي روضةً
( تو پہنچانا میرا سلام اس روضے پر)

فيها النّبي المحترم
(جس میں ہیں نبیِ محترم)

تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے

تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم

No comments:

Post a Comment