22 اپریل 2016
آج سے 4 سال قبل سردار سورن سنگھ کو بونیر کے علاقے پیر بابا میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا
ڈاکٹر سردار سورن سنگھ ایک پاکستانی سکھ ڈاکٹر، ٹی وی میزبان، سیاست دان تھے۔ سورن سنگھ پرویز خٹک انتظامیہ میں بطور پختونخوا صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خدمات سر انجام دیتے رہے تھے۔ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی کے 9 سال تک رکن رہے اس کے بعد 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور کئی مرتبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ سردار سورن سنگھ نے 3 سال تک خیبر نیوز پر پروگرام "زہ ہم پاکستان یم" کی میزبانی کی۔
2013 کے عام انتخابات میں وہ اقلیتوں کے لیے مختص نشست پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جس کے بعد انہیں اقلیتی امور کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا تھا
حکام کے مطابق سردار سورن سنگھ کو اس علاقے کے مقامی اقلیتی سیاستدان بلدیو کمار کی ایماء پر ہلاک کیا گیا کیونکہ بلدیو کمار خود الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے پر ان کا سورن سنگھ سے تنازع تھا
ان کے قتل پر عمران خان نے کہا تھا کہ سردار سورن سنگھ تحریک انصاف کا جنونی کارکن تھا ، اسکے بیوی بچے انڈیا جانا چاہتے تھے لیکن سردار سورن نے پاکستان رہنے کو ترجیح دی
اپنی مٹی سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ سردار جی لوگ پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ بیرون ملک سیاسی پناہ بھی آسانی سے مل جاتی ہے آپ نے کینیڈا یا یورپ جانا کیوں پسند نہ کیا۔ کچھ پیشمان سے ہوئے اور پھر کہنے لگے۔ کئی بار دوستوں نے مشورہ دیا کہ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہوجاؤ کہ وہاں اپنی سکھ برداری بھی بہت ہے لیکن دل نہیں مانتا۔ اس دھرتی کو ہمارے پرکھوں نے اپنا خون پسینہ دے کر سینچا ہے۔ اس مٹی سے ہماری اب ارتھی ہی اٹھے گی۔ سیانے کہتے ہیں کہ بعض اوقات اچانک زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ہو جاتے ہیں۔ واقعی سردار جی کی ارتھی ہی اس ملک سے اٹھی
سورن سنگھ ایک پاکستانی تھا اور ہم سب کو پاکستان کے لئے اس کی خدمات پہ فخر ہے !!!
آج سے 4 سال قبل سردار سورن سنگھ کو بونیر کے علاقے پیر بابا میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا
ڈاکٹر سردار سورن سنگھ ایک پاکستانی سکھ ڈاکٹر، ٹی وی میزبان، سیاست دان تھے۔ سورن سنگھ پرویز خٹک انتظامیہ میں بطور پختونخوا صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خدمات سر انجام دیتے رہے تھے۔ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی کے 9 سال تک رکن رہے اس کے بعد 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور کئی مرتبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ سردار سورن سنگھ نے 3 سال تک خیبر نیوز پر پروگرام "زہ ہم پاکستان یم" کی میزبانی کی۔
2013 کے عام انتخابات میں وہ اقلیتوں کے لیے مختص نشست پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جس کے بعد انہیں اقلیتی امور کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا تھا
حکام کے مطابق سردار سورن سنگھ کو اس علاقے کے مقامی اقلیتی سیاستدان بلدیو کمار کی ایماء پر ہلاک کیا گیا کیونکہ بلدیو کمار خود الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے پر ان کا سورن سنگھ سے تنازع تھا
ان کے قتل پر عمران خان نے کہا تھا کہ سردار سورن سنگھ تحریک انصاف کا جنونی کارکن تھا ، اسکے بیوی بچے انڈیا جانا چاہتے تھے لیکن سردار سورن نے پاکستان رہنے کو ترجیح دی
اپنی مٹی سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ سردار جی لوگ پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ بیرون ملک سیاسی پناہ بھی آسانی سے مل جاتی ہے آپ نے کینیڈا یا یورپ جانا کیوں پسند نہ کیا۔ کچھ پیشمان سے ہوئے اور پھر کہنے لگے۔ کئی بار دوستوں نے مشورہ دیا کہ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہوجاؤ کہ وہاں اپنی سکھ برداری بھی بہت ہے لیکن دل نہیں مانتا۔ اس دھرتی کو ہمارے پرکھوں نے اپنا خون پسینہ دے کر سینچا ہے۔ اس مٹی سے ہماری اب ارتھی ہی اٹھے گی۔ سیانے کہتے ہیں کہ بعض اوقات اچانک زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ہو جاتے ہیں۔ واقعی سردار جی کی ارتھی ہی اس ملک سے اٹھی
سورن سنگھ ایک پاکستانی تھا اور ہم سب کو پاکستان کے لئے اس کی خدمات پہ فخر ہے !!!

No comments:
Post a Comment