13 اپریل 2012
یومِ وفات فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری
جنگ ستمبر کے پہلے غازی
معرکہ ہلواڑہ کے واحد بچ کر آنے والے ہوا باز
پاکستان کے قابل فخر سپوت
پاکستان کے پہلے فوٹو جرنلسٹ ایف ای چوہدری کے بیٹے فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری ایک ایسے ہی ہوا باز تھے جنہوں نے شجاعت کی ایک مثال قائم کی
فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری 27 اگست 1941 کو ڈلوال تحصیل چوہ سیدن شاہ ضلع چکوال پنجاب میں پیدا ہوئے
12 مارچ 1958 کو پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ 1964 میں ان کی شادی آئرس چوہدری کے ساتھ ہوئی۔ اگلے ہی سال پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔
فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری 1965 کی جنگ میں پاکستان ائیر فورس کےنمبر ۵ سکواڈرن میں تھے۔ آپ نے دشمن پر انتہائی بے جگری سے تابڑ توڑ حملے کیے
06 ستمبر 1965 کی شام کو سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کی قیادت میں ہلواڑہ کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا
06 ستمبر 1965 کو شام کے ملگجی اندھیرے میں تین شاہین دشمن کے ایک اہم مرکز پر حملہ کرنے روانہ ہوئے۔ ان کا لیڈر سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی تھا جو دلیری میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس کے ساتھی فلائیٹ لیفٹیننٹ یونس حسن اور فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری تھے۔ ان تینوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ موت کے منہ میں ہاتھ دینے جا رہے ہیں کہ دشمن نہ صرف تعداد میں کئی گنا زیادہ تھا بلکہ اس کے جہاز اور اسلحہ بھی کہیں زیادہ بہتر تھا۔ بظاہر یہ شاہین اور ممولہ کا مقابلہ تھا تبھی تو دشمن کا خیال تھا کہ یہ سر زمین ان کے چند حملوں کی مار ہے۔ تاہم ہوا باز پرسکون تھے۔ وہ دشمن کے جدید طیاروں سے مرعوب تھے اور نہ ہی اسلحہ کی زیادتی سے فکرمند ، انہیں تو دشمن کو اس کی ناپاک جسارت کا دندان شکن جواب دینا تھا۔ وہ نیچی پرواز کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں جا گھسے تاہم اندھیرے اور بلیک آؤٹ کے باعث انہیں اپنا ہدف نہ ملا۔ انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا مگر ابھی پلٹے ہی تھے کہ ان کے مقابل دشمن کے نصف درجن طیارے آ گئے۔ سیسل چودھری نے اپنے لیڈر کو اطلاع دی کہ لیڈر دشمن ہمیں گھیر رہا ہے۔ سرفراز رفیقی نے کمال سکون سے جواب دیا۔
" فکر نہ کرو، ہم ان سب کو چن چن کر ماریں گے "
ان کی بات نے ان کے ساتھیوں کے حوصلے بلند کر دئیے اور جنگ سے پہلے جو ایک انجانا اعصابی دباؤ تھا وہ جوش و جذبے میں بدل گیا۔ انہوں نے واپسی کا ارادہ ترک کیا اور دشمن سے یہیں دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا کہ مقصد تو دشمن کی قوت کم کرکے اس کو جانی مالی اور بالخصوص نفسیاتی نقصان پہنچانا تھا۔ پاکستانی شاہینوں نے ابھی دو طیارے گرائے تھے کہ دشمن کے مزید آٹھ طیارے اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے آ پہنچے۔ پاکستانیوں کے تین قدیم سیبرز طیاروں کے مقابل دشمن کے درجن سے زائد جدید ترین مِگ تھے۔ چند منٹ بعد آسمان بھی حیرت میں تھا کہ سیبرز نے مِگز کو آگے لگایا ہوا تھا اور تاک تاک کر نشانہ لے رہے تھے کہ پاکستانی دستے کے لیڈر رفیقی کے جہاز کی گنیں جام ہو گئیں۔ اس موقع پر وہ واپس چلا جاتا تو وہ حق بجانب تھا مگر وہ پاکستانی شاہین تھا۔ اپنے ساتھیوں کو مشکل میں چھوڑنا اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ یاد رہے کہ لڑائی میں دوسرے پر حملہ کرنے کی نسبت اپنا دفاع کرنا اور جہاز بچانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ وہ سیسل چودھری کے جہاز کے عقب پرآ گیا تا کہ کوئی اس پر بے خبری میں حملہ نہ کر دے اور انہیں ہدایات دینا شروع کر دیں۔ باقی ساتھیوں نے ایک ایک کر کے جہازوں کو نرغے میں لے کر گرانا شروع کر دیا ۔ اسی لڑائی میں لیڈر پیچھے رہ گیا اور دشمن طیاروں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں ہوا بازوں نے اپنے لیڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو وہ غصے اور انتقام کی آگ میں جلنے لگے۔ انہوں نے پھر دشمن طیاروں کو گھیر گھیر کر گرانا شروع کر دیا۔ نصف درجن سے زیادہ جہازوں کا صفایا کیا۔ اسی دوران دشمن کا ایک بم خواجہ یونس کے طیارے کو لگا اور وہ بھی مادرِ وطن پر نثار ہو کر اپنے لیڈر سے جا ملے
فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری اکیلے ہوئے تو دشمن کو جل دیتے ہوئے واپس آ گئے۔ دشمن سرزمین پاکستانی شہیدوں کے لہو سے سرخ ہوئی
شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں گیا۔ 6 ستمبر 1965 کی شام کا یہ معرکہ فضائی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ جہاں سیبرز نے مِگ جہازوں کو تگنی کا ناچ نچایا اور نصف درجن سے زائد طیارے زمین بوس بھی کیے۔ اس سے پاکستان ائیر فورس کا رعب دشمن پر قائم ہو گیا اور رہی سہی کسر اگلے روز 7 ستمبر 1965 کو چند سیکنڈز میں پانچ طیارے مار کر ایم ایم عالم نے پوری کر دی۔اس کے بعد فضا میں پاکستان کی بالا دستی آخر تک قائم رہی اور پاک فضائیہ نے بری افواج کی بھی بوقت ضرورت مدد کی
اسی طرح 11 ستمبر 1965 کو ونگ کمانڈر انور شمیم (فضائیہ کے سابق سربراہ) کے ہمراہ امرتسر کے ریڈیو اسٹیشن پر کامیاب حملہ کیا
15 ستمبر 1965 کو زمینی راڈار سے نا کافی اطلاع کے باوجود اپنے بیس سے ڈیڑھ سو میل تک دشمن کا تعاقب کیا اور ایک کینبرا طیارہ مار گرایا
جنگ ستمبر میں ہی ایک مرتبہ بھارت کی فضا میں لڑے جانے والے ایک معرکے میں سیسل چوہدری کے جہاز کا ایندھن بہت کم رہ گیا۔ سرگودھا ائیر بیس تک واپسی ناممکن تھی۔ جہاز کو محفوظ علاقے میں لے جا کر اس سے پیرا شوٹ کے ذریعے نکلا جا سکتا تھا مگر ایک ایک جہاز پاکستان کے لئے قیمتی تھا۔ حاضر دماغ سیسل نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ وہ بچے کھچے ایندھن کی مدد سے جہاز کو انتہائی بلندی تک لے گئے اور پھر اسے گلائیڈ کرتے ہوئے سرگودھا اتار دیا۔ اس سے پہلے کسی پاکستانی ہواباز نے جنگی جہاز کو گلائیڈ نہیں کیا تھا
دوران جنگ آپ کی خدمات آپ کی ذمہ داریوں سے بڑھ کر تھیں۔ آپ کی جرأت و شجاعت کی وجہ سے حکومت پاکستان نے آپ کو ستارہ جرأت کے اعزاز سے نوازا
1971 کی جنگ میں سیسل چودھری نے اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ 1971 میں سکواڈرن لیڈر سیسل چودھری جب جنگ کے لئے سرگودھا ائیر بیس کا رخ کر رہے تھے تو ان کی بیوی آئرس نے سیسل سے بہت محتاط رہنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک ان کے گھر میں خدا نے تین ننھی بیٹیوں کا اضافہ کر دیا تھا۔ سیسل نے جواب دیا کہ وہ یہ جنگ صرف اپنی تین بیٹیوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کی ہزاروں بیٹیوں کے لئے لڑیں گے
1971 کی جنگ میں بھارتی حدود میں ایک مشن کے دوران سیسل چودھری کے جہاز میں آگ لگ گئی۔ سیسل چودھری نے پیراشوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا دی اور عین پاک بھارت سرحد پر بارودی سرنگوں کے میدان میں اترے۔ انہیں پاکستانی مورچوں تک پہنچنے کے لئے محض تین سو گز کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ سیسل نے بعد میں اپنے بچوں کو بتایا کہ اس علاقے سے ان کا زندہ نکل آنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پاکستانی فوجیوں نے انہیں فوراً ہسپتال پہنچا دیا کیونکہ ان کی چار پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ ڈاکٹرز نے انہیں مکمل آرام کرنے کا حکم دیا مگر وہ اپنے بھائی کی مدد سے رات کی تاریکی میں ہسپتال سے فرار ہو کر اپنے بیس پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان ٹوٹی ہوئی پسلیوں کا درد سہتے ہوئے سیسل چودھری نے 14 فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔ اس مرتبہ انہیں ستارہ بسالت دیا گیا
جنگ کے بعد 1979 تک سیسل چودھری مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سب سے اعلٰی فضائی بیڑے کی سربراہی بھی کی۔ وہ کومبیٹ کمانڈر سکول کے سربراہ بھی رہے۔ 1978 کے آخر میں سیسل چودھری کو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ملٹری اتاشی بنا کر بھیجا گیا۔ سیسل وہاں پہنچ گئے لیکن ان کے خاندان کے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاک فضائیہ کے سربراہ نے سیسل کو واپس بلا لیا اور انہیں بتایا گیا کہ جنرل ضیاء الحق نے ان کی تعیناتی کو منسوخ کر دیا ہے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ یہ عہدہ بہت ہی حساس ہے اور اسے ایک مسیحی کو سونپ دینا مناسب نہیں ہو گا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بہادری کا کوئی تمغہ نہ پانے والے ضیاء الحق کو اس شخص کی پاکستان سے وفاداری پر شک تھا جو دونوں جنگوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کے لئے لڑا تھا
ستمبر 1979 میں سیسل چودھری ڈیپوٹیشن پر عراق چلے گئے اور عراقی ہوابازوں کو تربیت دینے لگے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو عراق کا سب سے بڑا غیر فوجی اعزاز دیا گیا۔ 1981 میں مدت پوری ہونے پر عراقی صدر صدام حسین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ سیسل چودھری کے قیام میں توسیع کر دی جائے۔ اس طرح 1982 میں وہ واپس آئے۔ انہیں عراقی فضائیہ میں بطور مشیر مستقل ملازمت کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا
عراق سے واپسی پر سیسل چودھری کی اعلٰی عہدے پر ترقی متوقع تھی لیکن سیسل کو احساس ہوا کہ مذہب کو بنیاد بنا کر ان کی ترقی کو روک دیا گیا ہے اور ان سے کم قابلیت رکھنے والوں کو ان سے اوپر ترقی دے دی گئی ہے۔ 1986 میں ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ سیسل چودھری نے پاک فضائیہ سے استعفٰی دے دیا
فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری نے پاک فضائیہ کو خیر باد کہنے کے بعد لاہور میں سینٹ انتھونی سکول قائم کیا اور تدریس سے وابستہ ہو گئے
70 سال کی عمر میں پھیپڑوں کے سرطان کی وجہ سے 13 اپریل 2012 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا
سیسل چودھری کے بیٹے سیسل شین چودھری بتاتے ہیں کہ ان کے بچپن کی کتابوں میں 65 اور 71 کی جنگوں کے دوسرے ہیروز کے ساتھ سیسل چودھری کا نام بھی لیا جاتا تھا۔ ان پر بھی نصابی اسباق موجود تھے۔ مگر رفتہ رفتہ وہ ختم کر دئیے گئے۔ سیسل شین چودھری کہتے ہیں کہ غیر مسلم ہیروز کو بھی مسلم ہیروز کے ساتھ نصاب کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان سے ان کی محبت کسی دوسرے شہری سے کم نہیں ہے اور پاکستانی بچوں کو ان کی پاکستان کے لئے قربانیوں کا علم ہونا چاہیے
یومِ وفات فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری
جنگ ستمبر کے پہلے غازی
معرکہ ہلواڑہ کے واحد بچ کر آنے والے ہوا باز
پاکستان کے قابل فخر سپوت
پاکستان کے پہلے فوٹو جرنلسٹ ایف ای چوہدری کے بیٹے فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری ایک ایسے ہی ہوا باز تھے جنہوں نے شجاعت کی ایک مثال قائم کی
فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری 27 اگست 1941 کو ڈلوال تحصیل چوہ سیدن شاہ ضلع چکوال پنجاب میں پیدا ہوئے
12 مارچ 1958 کو پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ 1964 میں ان کی شادی آئرس چوہدری کے ساتھ ہوئی۔ اگلے ہی سال پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔
فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری 1965 کی جنگ میں پاکستان ائیر فورس کےنمبر ۵ سکواڈرن میں تھے۔ آپ نے دشمن پر انتہائی بے جگری سے تابڑ توڑ حملے کیے
06 ستمبر 1965 کی شام کو سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کی قیادت میں ہلواڑہ کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا
06 ستمبر 1965 کو شام کے ملگجی اندھیرے میں تین شاہین دشمن کے ایک اہم مرکز پر حملہ کرنے روانہ ہوئے۔ ان کا لیڈر سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی تھا جو دلیری میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس کے ساتھی فلائیٹ لیفٹیننٹ یونس حسن اور فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری تھے۔ ان تینوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ موت کے منہ میں ہاتھ دینے جا رہے ہیں کہ دشمن نہ صرف تعداد میں کئی گنا زیادہ تھا بلکہ اس کے جہاز اور اسلحہ بھی کہیں زیادہ بہتر تھا۔ بظاہر یہ شاہین اور ممولہ کا مقابلہ تھا تبھی تو دشمن کا خیال تھا کہ یہ سر زمین ان کے چند حملوں کی مار ہے۔ تاہم ہوا باز پرسکون تھے۔ وہ دشمن کے جدید طیاروں سے مرعوب تھے اور نہ ہی اسلحہ کی زیادتی سے فکرمند ، انہیں تو دشمن کو اس کی ناپاک جسارت کا دندان شکن جواب دینا تھا۔ وہ نیچی پرواز کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں جا گھسے تاہم اندھیرے اور بلیک آؤٹ کے باعث انہیں اپنا ہدف نہ ملا۔ انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا مگر ابھی پلٹے ہی تھے کہ ان کے مقابل دشمن کے نصف درجن طیارے آ گئے۔ سیسل چودھری نے اپنے لیڈر کو اطلاع دی کہ لیڈر دشمن ہمیں گھیر رہا ہے۔ سرفراز رفیقی نے کمال سکون سے جواب دیا۔
" فکر نہ کرو، ہم ان سب کو چن چن کر ماریں گے "
ان کی بات نے ان کے ساتھیوں کے حوصلے بلند کر دئیے اور جنگ سے پہلے جو ایک انجانا اعصابی دباؤ تھا وہ جوش و جذبے میں بدل گیا۔ انہوں نے واپسی کا ارادہ ترک کیا اور دشمن سے یہیں دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا کہ مقصد تو دشمن کی قوت کم کرکے اس کو جانی مالی اور بالخصوص نفسیاتی نقصان پہنچانا تھا۔ پاکستانی شاہینوں نے ابھی دو طیارے گرائے تھے کہ دشمن کے مزید آٹھ طیارے اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے آ پہنچے۔ پاکستانیوں کے تین قدیم سیبرز طیاروں کے مقابل دشمن کے درجن سے زائد جدید ترین مِگ تھے۔ چند منٹ بعد آسمان بھی حیرت میں تھا کہ سیبرز نے مِگز کو آگے لگایا ہوا تھا اور تاک تاک کر نشانہ لے رہے تھے کہ پاکستانی دستے کے لیڈر رفیقی کے جہاز کی گنیں جام ہو گئیں۔ اس موقع پر وہ واپس چلا جاتا تو وہ حق بجانب تھا مگر وہ پاکستانی شاہین تھا۔ اپنے ساتھیوں کو مشکل میں چھوڑنا اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ یاد رہے کہ لڑائی میں دوسرے پر حملہ کرنے کی نسبت اپنا دفاع کرنا اور جہاز بچانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ وہ سیسل چودھری کے جہاز کے عقب پرآ گیا تا کہ کوئی اس پر بے خبری میں حملہ نہ کر دے اور انہیں ہدایات دینا شروع کر دیں۔ باقی ساتھیوں نے ایک ایک کر کے جہازوں کو نرغے میں لے کر گرانا شروع کر دیا ۔ اسی لڑائی میں لیڈر پیچھے رہ گیا اور دشمن طیاروں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں ہوا بازوں نے اپنے لیڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو وہ غصے اور انتقام کی آگ میں جلنے لگے۔ انہوں نے پھر دشمن طیاروں کو گھیر گھیر کر گرانا شروع کر دیا۔ نصف درجن سے زیادہ جہازوں کا صفایا کیا۔ اسی دوران دشمن کا ایک بم خواجہ یونس کے طیارے کو لگا اور وہ بھی مادرِ وطن پر نثار ہو کر اپنے لیڈر سے جا ملے
فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری اکیلے ہوئے تو دشمن کو جل دیتے ہوئے واپس آ گئے۔ دشمن سرزمین پاکستانی شہیدوں کے لہو سے سرخ ہوئی
شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں گیا۔ 6 ستمبر 1965 کی شام کا یہ معرکہ فضائی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ جہاں سیبرز نے مِگ جہازوں کو تگنی کا ناچ نچایا اور نصف درجن سے زائد طیارے زمین بوس بھی کیے۔ اس سے پاکستان ائیر فورس کا رعب دشمن پر قائم ہو گیا اور رہی سہی کسر اگلے روز 7 ستمبر 1965 کو چند سیکنڈز میں پانچ طیارے مار کر ایم ایم عالم نے پوری کر دی۔اس کے بعد فضا میں پاکستان کی بالا دستی آخر تک قائم رہی اور پاک فضائیہ نے بری افواج کی بھی بوقت ضرورت مدد کی
اسی طرح 11 ستمبر 1965 کو ونگ کمانڈر انور شمیم (فضائیہ کے سابق سربراہ) کے ہمراہ امرتسر کے ریڈیو اسٹیشن پر کامیاب حملہ کیا
15 ستمبر 1965 کو زمینی راڈار سے نا کافی اطلاع کے باوجود اپنے بیس سے ڈیڑھ سو میل تک دشمن کا تعاقب کیا اور ایک کینبرا طیارہ مار گرایا
جنگ ستمبر میں ہی ایک مرتبہ بھارت کی فضا میں لڑے جانے والے ایک معرکے میں سیسل چوہدری کے جہاز کا ایندھن بہت کم رہ گیا۔ سرگودھا ائیر بیس تک واپسی ناممکن تھی۔ جہاز کو محفوظ علاقے میں لے جا کر اس سے پیرا شوٹ کے ذریعے نکلا جا سکتا تھا مگر ایک ایک جہاز پاکستان کے لئے قیمتی تھا۔ حاضر دماغ سیسل نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ وہ بچے کھچے ایندھن کی مدد سے جہاز کو انتہائی بلندی تک لے گئے اور پھر اسے گلائیڈ کرتے ہوئے سرگودھا اتار دیا۔ اس سے پہلے کسی پاکستانی ہواباز نے جنگی جہاز کو گلائیڈ نہیں کیا تھا
دوران جنگ آپ کی خدمات آپ کی ذمہ داریوں سے بڑھ کر تھیں۔ آپ کی جرأت و شجاعت کی وجہ سے حکومت پاکستان نے آپ کو ستارہ جرأت کے اعزاز سے نوازا
1971 کی جنگ میں سیسل چودھری نے اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ 1971 میں سکواڈرن لیڈر سیسل چودھری جب جنگ کے لئے سرگودھا ائیر بیس کا رخ کر رہے تھے تو ان کی بیوی آئرس نے سیسل سے بہت محتاط رہنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک ان کے گھر میں خدا نے تین ننھی بیٹیوں کا اضافہ کر دیا تھا۔ سیسل نے جواب دیا کہ وہ یہ جنگ صرف اپنی تین بیٹیوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کی ہزاروں بیٹیوں کے لئے لڑیں گے
1971 کی جنگ میں بھارتی حدود میں ایک مشن کے دوران سیسل چودھری کے جہاز میں آگ لگ گئی۔ سیسل چودھری نے پیراشوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا دی اور عین پاک بھارت سرحد پر بارودی سرنگوں کے میدان میں اترے۔ انہیں پاکستانی مورچوں تک پہنچنے کے لئے محض تین سو گز کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ سیسل نے بعد میں اپنے بچوں کو بتایا کہ اس علاقے سے ان کا زندہ نکل آنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پاکستانی فوجیوں نے انہیں فوراً ہسپتال پہنچا دیا کیونکہ ان کی چار پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ ڈاکٹرز نے انہیں مکمل آرام کرنے کا حکم دیا مگر وہ اپنے بھائی کی مدد سے رات کی تاریکی میں ہسپتال سے فرار ہو کر اپنے بیس پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان ٹوٹی ہوئی پسلیوں کا درد سہتے ہوئے سیسل چودھری نے 14 فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔ اس مرتبہ انہیں ستارہ بسالت دیا گیا
جنگ کے بعد 1979 تک سیسل چودھری مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سب سے اعلٰی فضائی بیڑے کی سربراہی بھی کی۔ وہ کومبیٹ کمانڈر سکول کے سربراہ بھی رہے۔ 1978 کے آخر میں سیسل چودھری کو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ملٹری اتاشی بنا کر بھیجا گیا۔ سیسل وہاں پہنچ گئے لیکن ان کے خاندان کے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاک فضائیہ کے سربراہ نے سیسل کو واپس بلا لیا اور انہیں بتایا گیا کہ جنرل ضیاء الحق نے ان کی تعیناتی کو منسوخ کر دیا ہے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ یہ عہدہ بہت ہی حساس ہے اور اسے ایک مسیحی کو سونپ دینا مناسب نہیں ہو گا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بہادری کا کوئی تمغہ نہ پانے والے ضیاء الحق کو اس شخص کی پاکستان سے وفاداری پر شک تھا جو دونوں جنگوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کے لئے لڑا تھا
ستمبر 1979 میں سیسل چودھری ڈیپوٹیشن پر عراق چلے گئے اور عراقی ہوابازوں کو تربیت دینے لگے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو عراق کا سب سے بڑا غیر فوجی اعزاز دیا گیا۔ 1981 میں مدت پوری ہونے پر عراقی صدر صدام حسین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ سیسل چودھری کے قیام میں توسیع کر دی جائے۔ اس طرح 1982 میں وہ واپس آئے۔ انہیں عراقی فضائیہ میں بطور مشیر مستقل ملازمت کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا
عراق سے واپسی پر سیسل چودھری کی اعلٰی عہدے پر ترقی متوقع تھی لیکن سیسل کو احساس ہوا کہ مذہب کو بنیاد بنا کر ان کی ترقی کو روک دیا گیا ہے اور ان سے کم قابلیت رکھنے والوں کو ان سے اوپر ترقی دے دی گئی ہے۔ 1986 میں ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ سیسل چودھری نے پاک فضائیہ سے استعفٰی دے دیا
فلائیٹ لیفٹننٹ سیسل چودھری نے پاک فضائیہ کو خیر باد کہنے کے بعد لاہور میں سینٹ انتھونی سکول قائم کیا اور تدریس سے وابستہ ہو گئے
70 سال کی عمر میں پھیپڑوں کے سرطان کی وجہ سے 13 اپریل 2012 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا
سیسل چودھری کے بیٹے سیسل شین چودھری بتاتے ہیں کہ ان کے بچپن کی کتابوں میں 65 اور 71 کی جنگوں کے دوسرے ہیروز کے ساتھ سیسل چودھری کا نام بھی لیا جاتا تھا۔ ان پر بھی نصابی اسباق موجود تھے۔ مگر رفتہ رفتہ وہ ختم کر دئیے گئے۔ سیسل شین چودھری کہتے ہیں کہ غیر مسلم ہیروز کو بھی مسلم ہیروز کے ساتھ نصاب کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان سے ان کی محبت کسی دوسرے شہری سے کم نہیں ہے اور پاکستانی بچوں کو ان کی پاکستان کے لئے قربانیوں کا علم ہونا چاہیے

No comments:
Post a Comment