20 اپریل 1952
یومِ پیدائش سابق سربراہ پاکستان آرمی
جنرل اشفاق پرویز کیانی
اشفاق پرویز کیانی 20 اپریل 1952 کو، گوجر خان، صوبہ پنجاب میں واقع ایک گاؤں منگھوٹ میں پیدا ہوئے- منگھوٹ سطح مُرتفع پوٹھوہار پر واقع ہے- اشفاق پرویز کیانی کے والد پاک فوج میں ایک نان کمیشنڈ افسر (Non-Commissioned Officer) تھے- ایک مقامی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اشفاق پرویز کیانی نے کامیابی کے ساتھ ملٹری کالج جہلم میں داخلہ لیا- بعد ازاں کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے 45th پی ایم اے لانگ کورس (PMA Long Course) کی 1971 میں بیچلر کی ڈگری کے ساتھ گریجویشن کی
اشفاق پرویز کیانی نے 29 اگست 1971 کو بلوچ رجمںٹ کی پانچویں بٹالین میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن حاصل کیا- بھارت کے ساتھ 1971 کی جنگ میں انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور جنگ میں حصہ لیا-
جنگ کے بعد، کیانی نے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی اور کوئٹہ میں موجود کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (Command and Staff College) سے تعلیم حاصل کی- اس کے بعد کیانی امریکہ روانہ ہو گئے اور بالترتیب فورٹ لیونورتھ (Fort Leavenworth) اور فورٹ بیننگ (Fort Benning) میں موجود امریکہ کے 'آرمی کمانڈ اینڈ جنرل سٹاف کالج(Army Command and General Staff College)' اور 'عسکری انفینٹری سکول(Army Infantry School)' میں تعلیم حاصل کی- امریکہ میں فوجی اداروں سے گریجویشن کرنے کے بعد اشفاق پرویز کیانی پاکستان واپس آئے اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد سے جنگی معاملات میں ماسٹرز آف سائنس کیا-
لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر، کیانی نے ایک انفنٹری بٹالین اور بریگیڈئیر کے طور پر ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کی- بعد ازاں انہوں نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دوران اس کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں- دو ستارہ افسر بننے کے بعد، میجر جنرل کیانی نے مری میں بارہویں انفنٹری ڈویژن (12th Infantry Division) کی کمانڈ کی جو تمام لائن آف کنٹرول کے علاقے اور ایکس کور (X-Corps) کے تحت آتا ہے- 2000 میں، اشفاق پرویز کیانی کو ملٹری آپریشنز (Military Operations) کا ڈائریکٹر جنرل (DGMO) لگایا گیا
2001 میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی ہوئی تو ڈی جی ایم او کے طور پر انہوں نے تندہی سے سرحد پر مشترکہ مسلح افواج کی نگرانی کی- بتایا جاتا ہے کے کیانی اس کشیدگی کے دوران صرف ایک رات چند گھنٹے سوئے
ستمبر 2003 میں کیانی کی تین ستارہ افسر کی تقرری صدر پرویز مشرف کی طرف سے منظور کی گئی- اسی سال انہیں راولپنڈی میں ایکس کور (X-Corps) کا فیلڈ آپریشنل کمانڈر (Field Operational Commander) مقرر کیا گیا- ایکس کور (X-Corps) کے فیلڈ آپریشنل کمانڈر کی تقرری سے سابق چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کا کیانی پر اعتماد کا اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک فوجی بغاوت دسویں کور (X-Corps) کے فیلڈ آپریشنل کمانڈر کے بغیر ممکن نہیں- کیانی نے اکتوبر 2004 تک ایکس کور (X-Corps) کی قیادت کی- اس کے بعد انہیں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لگا دیا گیا
اکتوبر 2004 میں، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جنرل احسان الحق الحق جنہیں بعد ازاں 'چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی' لگایا گیا، کی جگہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے عہدے پہ ترقی دے دی گئی- آئی ایس آئی میں اپنے آخری دنوں میں انہوں نے بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی- تین سال کے بعد لیفٹننٹ جنرل ندیم تاج کو جنرل کیانی کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا گیا-
اکتوبر 2007 میں، کیانی کے چار ستارہ کے عہدے پر تقرری کے کاغذات صدر پرویز مشرف کی طرف سے منظورکیے گئے، اور کیانی کو وائس چیف آف آرمی سٹاف سٹاف مقرر کیا گیا- کیانی کو ایک سینیئر افسر لیفٹیننٹ جنرل خالد پر فوقیت دی گئی- 28 نومبر 2007 کو پرویز مشرف کے جانشین کے طور پر انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی کے قریب ایک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا گیا- جنرل کیانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے اور اس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف بن گئے- یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے چار ستارہ افسر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا- اس سے پہلے 1999 میں ایسا ہوا تھا جب جنرل ضیاء الدین بٹ جو کے اس سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے- ضیاء الدین بٹ کو وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا، لیکن ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ممکنہ سبکدوش کیے جانے والے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ بحال کر دیا گیا-
سول اور حکومتی محکموں میں سے فوج کی واپسی کے لئے جنوری 2008 میں جنرل کیانی نے فوجی افسران کو حکم دیا کہ وہ سیاست دانوں کے ساتھ رابطے نہ رکھیں
13 فروری 2008 ء کو جنرل کیانی نے پاکستان کے تمام حکومتی اور سول محکموں میں سے فوجی افسران کی واپسی کا حکم دیا- صدر مشرف کے ناقدین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جن کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ سیاست میں فوج کی دخل اندازی نہ ہو- میڈیا کے مطابق 23 ایسے محکمے جن میں این ایچ اے (National Highway Authority)، قومی احتساب بیورو (National Accountability Bureau)، وزارت تعلیم، وزارت بجلی و پانی وغیرہ شامل تھے، میں سے فوج کے افسران اور ملازمین کو واپس بلا لیا گیا
اشفاق پرویز کیانی پاکستانی فوج کے سربراہ (29 نومبر 2007-29 نومبر 2013) رہے- انہیں 29 نومبر 2007 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی جگہ آرمی چیف لگایا گیا- جنرل کو 8 اکتوبر 2013 سے 29 نومبر 2013 تک پاکستانی فوج کے قائم مقام 'چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی' بھی رہنے کا اعزاز حاصل ہے- اس کے علاوہ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ (اکتوبر 2004-نومبر 2007) بھی رہے- 24 جولائی 2010 کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کی- 2011 کو فوربز نے انہیں دنیا کا 34 واں طاقتور ترین شخص قرار دیا- 2012 کو فوربز ہی نے جنرل کو دنیا کا 28 واں طاقتور ترین شخص قرار دیا
یومِ پیدائش سابق سربراہ پاکستان آرمی
جنرل اشفاق پرویز کیانی
اشفاق پرویز کیانی 20 اپریل 1952 کو، گوجر خان، صوبہ پنجاب میں واقع ایک گاؤں منگھوٹ میں پیدا ہوئے- منگھوٹ سطح مُرتفع پوٹھوہار پر واقع ہے- اشفاق پرویز کیانی کے والد پاک فوج میں ایک نان کمیشنڈ افسر (Non-Commissioned Officer) تھے- ایک مقامی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اشفاق پرویز کیانی نے کامیابی کے ساتھ ملٹری کالج جہلم میں داخلہ لیا- بعد ازاں کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے 45th پی ایم اے لانگ کورس (PMA Long Course) کی 1971 میں بیچلر کی ڈگری کے ساتھ گریجویشن کی
اشفاق پرویز کیانی نے 29 اگست 1971 کو بلوچ رجمںٹ کی پانچویں بٹالین میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن حاصل کیا- بھارت کے ساتھ 1971 کی جنگ میں انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور جنگ میں حصہ لیا-
جنگ کے بعد، کیانی نے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی اور کوئٹہ میں موجود کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (Command and Staff College) سے تعلیم حاصل کی- اس کے بعد کیانی امریکہ روانہ ہو گئے اور بالترتیب فورٹ لیونورتھ (Fort Leavenworth) اور فورٹ بیننگ (Fort Benning) میں موجود امریکہ کے 'آرمی کمانڈ اینڈ جنرل سٹاف کالج(Army Command and General Staff College)' اور 'عسکری انفینٹری سکول(Army Infantry School)' میں تعلیم حاصل کی- امریکہ میں فوجی اداروں سے گریجویشن کرنے کے بعد اشفاق پرویز کیانی پاکستان واپس آئے اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد سے جنگی معاملات میں ماسٹرز آف سائنس کیا-
لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر، کیانی نے ایک انفنٹری بٹالین اور بریگیڈئیر کے طور پر ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کی- بعد ازاں انہوں نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دوران اس کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں- دو ستارہ افسر بننے کے بعد، میجر جنرل کیانی نے مری میں بارہویں انفنٹری ڈویژن (12th Infantry Division) کی کمانڈ کی جو تمام لائن آف کنٹرول کے علاقے اور ایکس کور (X-Corps) کے تحت آتا ہے- 2000 میں، اشفاق پرویز کیانی کو ملٹری آپریشنز (Military Operations) کا ڈائریکٹر جنرل (DGMO) لگایا گیا
2001 میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی ہوئی تو ڈی جی ایم او کے طور پر انہوں نے تندہی سے سرحد پر مشترکہ مسلح افواج کی نگرانی کی- بتایا جاتا ہے کے کیانی اس کشیدگی کے دوران صرف ایک رات چند گھنٹے سوئے
ستمبر 2003 میں کیانی کی تین ستارہ افسر کی تقرری صدر پرویز مشرف کی طرف سے منظور کی گئی- اسی سال انہیں راولپنڈی میں ایکس کور (X-Corps) کا فیلڈ آپریشنل کمانڈر (Field Operational Commander) مقرر کیا گیا- ایکس کور (X-Corps) کے فیلڈ آپریشنل کمانڈر کی تقرری سے سابق چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کا کیانی پر اعتماد کا اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک فوجی بغاوت دسویں کور (X-Corps) کے فیلڈ آپریشنل کمانڈر کے بغیر ممکن نہیں- کیانی نے اکتوبر 2004 تک ایکس کور (X-Corps) کی قیادت کی- اس کے بعد انہیں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لگا دیا گیا
اکتوبر 2004 میں، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جنرل احسان الحق الحق جنہیں بعد ازاں 'چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی' لگایا گیا، کی جگہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے عہدے پہ ترقی دے دی گئی- آئی ایس آئی میں اپنے آخری دنوں میں انہوں نے بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی- تین سال کے بعد لیفٹننٹ جنرل ندیم تاج کو جنرل کیانی کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا گیا-
اکتوبر 2007 میں، کیانی کے چار ستارہ کے عہدے پر تقرری کے کاغذات صدر پرویز مشرف کی طرف سے منظورکیے گئے، اور کیانی کو وائس چیف آف آرمی سٹاف سٹاف مقرر کیا گیا- کیانی کو ایک سینیئر افسر لیفٹیننٹ جنرل خالد پر فوقیت دی گئی- 28 نومبر 2007 کو پرویز مشرف کے جانشین کے طور پر انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی کے قریب ایک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا گیا- جنرل کیانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے اور اس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف بن گئے- یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے چار ستارہ افسر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا- اس سے پہلے 1999 میں ایسا ہوا تھا جب جنرل ضیاء الدین بٹ جو کے اس سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے- ضیاء الدین بٹ کو وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا، لیکن ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ممکنہ سبکدوش کیے جانے والے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ بحال کر دیا گیا-
سول اور حکومتی محکموں میں سے فوج کی واپسی کے لئے جنوری 2008 میں جنرل کیانی نے فوجی افسران کو حکم دیا کہ وہ سیاست دانوں کے ساتھ رابطے نہ رکھیں
13 فروری 2008 ء کو جنرل کیانی نے پاکستان کے تمام حکومتی اور سول محکموں میں سے فوجی افسران کی واپسی کا حکم دیا- صدر مشرف کے ناقدین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جن کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ سیاست میں فوج کی دخل اندازی نہ ہو- میڈیا کے مطابق 23 ایسے محکمے جن میں این ایچ اے (National Highway Authority)، قومی احتساب بیورو (National Accountability Bureau)، وزارت تعلیم، وزارت بجلی و پانی وغیرہ شامل تھے، میں سے فوج کے افسران اور ملازمین کو واپس بلا لیا گیا
اشفاق پرویز کیانی پاکستانی فوج کے سربراہ (29 نومبر 2007-29 نومبر 2013) رہے- انہیں 29 نومبر 2007 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی جگہ آرمی چیف لگایا گیا- جنرل کو 8 اکتوبر 2013 سے 29 نومبر 2013 تک پاکستانی فوج کے قائم مقام 'چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی' بھی رہنے کا اعزاز حاصل ہے- اس کے علاوہ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ (اکتوبر 2004-نومبر 2007) بھی رہے- 24 جولائی 2010 کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کی- 2011 کو فوربز نے انہیں دنیا کا 34 واں طاقتور ترین شخص قرار دیا- 2012 کو فوربز ہی نے جنرل کو دنیا کا 28 واں طاقتور ترین شخص قرار دیا

No comments:
Post a Comment