Sunday, April 5, 2020

پانچ اپریل 1908 یومِ پیدائش تحریک آزادی پاکستان کے کارکن اسلم خٹک

05 اپریل 1908
آج ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻦ ﺍﺳﻠﻢ ﺧﭩﮏ کا یومِ پیدائش ہے

ﺍﺳﻠﻢ ﺧﭩﮏ 5 ﺍﭘﺮﯾﻞ 1908ﺀ ﮐﻮ ﭼﺘﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻗﻠﯽ ﺧﺎﻥ کا بنیادی تعلق ضلع کرک سے تھا لیکن بعد میں انہوں نے بنوں میں بھی کچھ عرصہ تک رہائش رکھی۔ تقسیم سے قبل ﭘﻮﻟﯿﭩﯿﮑﻞ ﺍﯾﺠﻨﭧ  رہے ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﺧﺎﻥ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ

ﺍﺳﻠﻢ ﺧﭩﮏ ﻧﮯ آکسفورﮈ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﻋﻠﯽ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺘﺎﺑﭽﮯ "Now or never" ﮐﯽ ﺗﺪﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﭩﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ۔ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺑﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻢ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ  "ﭘﺎﮎ ﺳﺘﺎﻥ" ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ اسی کتابچہ پر اسلم خٹک کے بھی دستخط تھے۔

ﺍﺳﻠﻢ ﺧﭩﮏ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﺮئیر ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺳﻮﻝ ﺳﺮﻭﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﺁﻝ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﺭﯾﮉﯾﻮ، ﭘﺸﺎﻭﺭ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭩﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺸﺘﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮈﺭﺍﻣﮯ 'ﻭﯾﻨﻮ ﺟﺎﻡ' ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔

ﻗﯿﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﻠﻢ ﺧﭩﮏ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﻔﯿﺮ ﺭﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺳﻤﺒﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ 70 ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺣﺪ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺻﻮﺑﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﻨﺮﻝ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺤﻖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺠﻠﺲ شورٰی ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮨﻮﺋﮯ۔ 1985 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﺟﻮﻧﯿﺠﻮ ﮐﯽ ہر ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﺭﮨﮯ۔

1988ء میں وہ اوجڑی کیمپ کے سانحے کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانے والی کمیٹی کے رکن بنے جس میں انہوں نے اس سانحے میں ملوث فوجی افسران کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔

جنرل ضیاء الحق ان کا یہ احسان نہیں بھولے اور جب انہوں نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کر کے نگران حکومت قائم کی تو اس میں اسلم خٹک کو سینیئر وفاقی وزیر کے طور پر شامل کیا۔

1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے مگر 1990ء کے عام انتخابات میں وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ اس کے بعد وہ کسی انتخاب میں کامیاب نہیں ہوئے۔

عمر کا آخری حصہ انہوں نے گوشہ گمنامی میں گزارا۔

انہوں نے اپنی یادداشتیں
"A pathan Odyssey"
"اے پٹھان او ڈیسی" کے نام سے تحریر کی تھیں۔

10 ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 2008ﺀ ﮐﻮ ﺍﺳﻠﻢ ﺧﭩﮏ ﭘﺸﺎﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﭼﺎﺭ ﺳﺪﮦ ﺭﻭﮈ، ﭘﺸﺎﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﺳﻮﺩﮦٔ ﺧﺎﮎ ﮨﻮﺋﮯ۔

No comments:

Post a Comment