21 اپریل 1938
یومِ وفات علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
وہ بستر جس پر حکیم ایشیاء نے آخری سانسیں لیں
یہ بیس اپریل کی رات تھی، نو بجے منیرہ اقبال اپنے والد کے بستر میں گھس گئی اور ان سے باتیں کرنے لگی
چند منٹ بعد آنٹی ڈورس منیرہ کو لینے آگئی تو منیرہ کہنے لگے Aunty one minute more
والد نے آنٹی ڈورس سے کہا اسکی چھٹی حس اسے بتا رہی ہے کہ this is the last meeting with the father
آدھے گھنٹے بعد جب وہ سو گئی تو اسے والد کے بیڈ سے اپنے روم میں لے جایا گیا
حکیم قرشی جو ہر رات کچھ گھنٹوں کے لئے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہوتے تھے وہ گیارا بجے اپنے گھر چلے گئے
اب علامہ اقبال رح کے کمرے میں ڈاکٹر عبدالقیوم ، راجہ حسن اختر ، میاں محمد شفیع اور انکے ملازم علی بخش رہ گئے۔ ڈاکٹر قیوم نے رات بارہ بجے کے بعد انہیں افیون کا انجکشن لگانا چاہا تو اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے منع کر دیا اور کہا
" میں نشے کی حالت میں مرنا نہیں چاہتا ، میں موت کا سامنا کرناچاہتا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ موت کس طرح ہوتی ہے "
اسکے بعد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی وہ آخری رباعی پڑھی کہ
دگر دانائے راز آید کہ ناید
اکیس اپریل صبح آذان ختم ہوتے ہی انہوں نے علی بخش کی گود میں اپنا سر رکھا اور دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے یااللہ کہا اور پھر ملت اسلامیہ کے یہ دانائے راز ابدی نیند سو گئے
مرنے والوں کی جبین روشن ہے اس ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
بانگ درا
یومِ وفات علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
وہ بستر جس پر حکیم ایشیاء نے آخری سانسیں لیں
یہ بیس اپریل کی رات تھی، نو بجے منیرہ اقبال اپنے والد کے بستر میں گھس گئی اور ان سے باتیں کرنے لگی
چند منٹ بعد آنٹی ڈورس منیرہ کو لینے آگئی تو منیرہ کہنے لگے Aunty one minute more
والد نے آنٹی ڈورس سے کہا اسکی چھٹی حس اسے بتا رہی ہے کہ this is the last meeting with the father
آدھے گھنٹے بعد جب وہ سو گئی تو اسے والد کے بیڈ سے اپنے روم میں لے جایا گیا
حکیم قرشی جو ہر رات کچھ گھنٹوں کے لئے اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہوتے تھے وہ گیارا بجے اپنے گھر چلے گئے
اب علامہ اقبال رح کے کمرے میں ڈاکٹر عبدالقیوم ، راجہ حسن اختر ، میاں محمد شفیع اور انکے ملازم علی بخش رہ گئے۔ ڈاکٹر قیوم نے رات بارہ بجے کے بعد انہیں افیون کا انجکشن لگانا چاہا تو اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے منع کر دیا اور کہا
" میں نشے کی حالت میں مرنا نہیں چاہتا ، میں موت کا سامنا کرناچاہتا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ موت کس طرح ہوتی ہے "
اسکے بعد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی وہ آخری رباعی پڑھی کہ
دگر دانائے راز آید کہ ناید
اکیس اپریل صبح آذان ختم ہوتے ہی انہوں نے علی بخش کی گود میں اپنا سر رکھا اور دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے یااللہ کہا اور پھر ملت اسلامیہ کے یہ دانائے راز ابدی نیند سو گئے
مرنے والوں کی جبین روشن ہے اس ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
بانگ درا

No comments:
Post a Comment