27 اپریل 1942
آج جدوجہد آزادی کے معروف رہنما اور قائداعظم کے قریبی ساتھی حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون کی برسی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں 2 سے 8 اکتوبر 1938ء کو مسلم لیگ سندھ کے زیر اہتمام کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی۔ اس کانفرنس میں بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق‘ پنجاب کے وزیراعلیٰ سر سکندر حیات‘ آسام کے وزیراعلیٰ مہر سعید اللہ خان، سندھ کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو‘ مولانا شوکت علی‘ راجہ صاحب محمود آباد ، نواب بہادر یار جنگ‘ نواب اسماعیل خان‘ نواب لیاقت علی خان‘ چودھری خلیق الزمان‘ مولانا جمال میاں فرنگی محلی‘ سید سجاد حیدر یلدرم‘ بیگم مولانا محمد علی جوہر‘ غلام بھیک نیرنگ‘ پیر مرید حسین شاہ (ملتان)، نواب احمد یار خان دولتانہ اور لاہور سے ملک برکت علی جیسی اہم شخصیات شریک تھیں۔ اس کانفرنس میں استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین سر عبداللہ ہارون تھے۔ جو قومی جذبہ رکھنے والی کراچی کی اہم شخصیت تھے۔ 1872ء میں کراچی میں پیدا ہونے والے حاجی سر عبداللہ ہارون نے تجارت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نام کمایا۔وہ کراچی میونسلپٹی کے ممبر رہے۔ پھر کانگریس میں بھی کچھ عرصہ گزارا لیکن مسلم لیگ میں آئے تو اسی کے ہو کر رہ گئے ۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے لئے سندھ سے ”الوحید“ نامی اخبار کا اجراء تھا جس نے صوبے بھر کے مسلمانوں کو متحد کیا
1938ء میں علامہ اقبالؒ‘ نواب محمد اسماعیل خان اور سر عبداللہ ہارون مسلمانوں کےلئے الگ ملک بنانے کے لئے دن رات سرگرم تھے تو قائداعظمؒ نے اس حوالے سے ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا کام حاجی عبداللہ ہارون کو سونپا ، ایک برس سے کم عرصے میں انہوں نے یہ رپورٹ تیار کی اور 1939ء کے مدارس میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی۔ جسے اس اجلاس میں منظور بھی کر لیا گیا اور پھر اگلے برس 1940 میں اسے قرارداد لاہور کی صورت میں مسلمانان ہند کی قرار داد بننے کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا۔ سر عبداللہ ہارون نے فلاحی خدمات اور بھرپور سیاسی زندگی گزارتے ہوئے 27 اپریل 1942ء کو وفات پائی۔
انہوں نے رفاہ عامہ کے لیے بھی متعدد کام کیے اور کئی مدرسے، کالج، مساجد اور یتیم خانے بنوائے۔ کراچی میں عبداللہ ہارون کالج اور عبداللہ ہارون روڈ انہی کی یادگار ہے
آج جدوجہد آزادی کے معروف رہنما اور قائداعظم کے قریبی ساتھی حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون کی برسی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں 2 سے 8 اکتوبر 1938ء کو مسلم لیگ سندھ کے زیر اہتمام کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی۔ اس کانفرنس میں بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق‘ پنجاب کے وزیراعلیٰ سر سکندر حیات‘ آسام کے وزیراعلیٰ مہر سعید اللہ خان، سندھ کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو‘ مولانا شوکت علی‘ راجہ صاحب محمود آباد ، نواب بہادر یار جنگ‘ نواب اسماعیل خان‘ نواب لیاقت علی خان‘ چودھری خلیق الزمان‘ مولانا جمال میاں فرنگی محلی‘ سید سجاد حیدر یلدرم‘ بیگم مولانا محمد علی جوہر‘ غلام بھیک نیرنگ‘ پیر مرید حسین شاہ (ملتان)، نواب احمد یار خان دولتانہ اور لاہور سے ملک برکت علی جیسی اہم شخصیات شریک تھیں۔ اس کانفرنس میں استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین سر عبداللہ ہارون تھے۔ جو قومی جذبہ رکھنے والی کراچی کی اہم شخصیت تھے۔ 1872ء میں کراچی میں پیدا ہونے والے حاجی سر عبداللہ ہارون نے تجارت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نام کمایا۔وہ کراچی میونسلپٹی کے ممبر رہے۔ پھر کانگریس میں بھی کچھ عرصہ گزارا لیکن مسلم لیگ میں آئے تو اسی کے ہو کر رہ گئے ۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے لئے سندھ سے ”الوحید“ نامی اخبار کا اجراء تھا جس نے صوبے بھر کے مسلمانوں کو متحد کیا
1938ء میں علامہ اقبالؒ‘ نواب محمد اسماعیل خان اور سر عبداللہ ہارون مسلمانوں کےلئے الگ ملک بنانے کے لئے دن رات سرگرم تھے تو قائداعظمؒ نے اس حوالے سے ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا کام حاجی عبداللہ ہارون کو سونپا ، ایک برس سے کم عرصے میں انہوں نے یہ رپورٹ تیار کی اور 1939ء کے مدارس میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی۔ جسے اس اجلاس میں منظور بھی کر لیا گیا اور پھر اگلے برس 1940 میں اسے قرارداد لاہور کی صورت میں مسلمانان ہند کی قرار داد بننے کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا۔ سر عبداللہ ہارون نے فلاحی خدمات اور بھرپور سیاسی زندگی گزارتے ہوئے 27 اپریل 1942ء کو وفات پائی۔
انہوں نے رفاہ عامہ کے لیے بھی متعدد کام کیے اور کئی مدرسے، کالج، مساجد اور یتیم خانے بنوائے۔ کراچی میں عبداللہ ہارون کالج اور عبداللہ ہارون روڈ انہی کی یادگار ہے

No comments:
Post a Comment