Tuesday, November 3, 2020

ایک نومبر دو ہزار بیس یومِ شہادت ڈاکٹر سیف اللہ شہید

  سری نگر : قابض بھارتی افواج نے ایک جھڑپ میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈر سیف اللہ میر کے شہید ہونے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ان کے ایک ساتھی کو حراست میں لے لیا گیا ہے



کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر کے نواحی علاقے رنگریٹھ میں داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے سرچ آپریشن کیا گیا جس کے دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو شہید اور دوسرے کو حراست میں لے لیا


کشمیر پولیس کے آئی جی وجے کمار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ خفیہ اطلاع پر حزب المجاہدین کے امیر ڈاکٹر سیف اللہ کو گرفتار کرنے گئے تھے تاہم مزاحمت کا سامنا ہونے پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ ان کے ایک ساتھی کو حراست میں لیا گیا ہے


31 سالہ سیف اللہ کی شہادت کی خبر پر سری نگر میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جس کے دوران مظاہرین نے بھارتی فوج پر پتھراؤ کیا اور ’’ گو انڈیا گو‘‘ ’’ ہم کیا چاہتے ہیں۔۔۔ آزادی‘‘ کے نعرے لگائے۔ بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا اور آنسو گیس کے شیلز پھینکے


دوسری جانب حزب المجاہدین کی جانب سے اس خبر پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ رواں برس مئی میں حزب المجاہدین کے آپریشنز کمانڈر ریاض نائیکو کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد ڈاکٹر سیف اللہ میر نے گروپ کی کمان سنبھال لی تھی

Thursday, August 6, 2020

حج اور آل سعود کی مجرمانہ خاموشی

‏اس دفعہ پوری امت کی نظریں حج پر ہونے والے خطبے پر مرکوز ہیں جہاں مفتی اعظم کھل کر نام لے کر بھارتی حکمران مودی کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ کشمیریوں کے حق میں دعائیں ہوں، فلسطینیوں، شامیوں کے لئے دعا ہو۔ پچھلی دفعہ حج کے موقع پر اسرائیل بھارت کے ظلم پر خاموشی اختیار کی گئی، اس دفعہ امید ہے ایسا نہیں ہوگا

Monday, August 3, 2020

قائداعظم اور عیدالاضحٰی

پاکستانیو........!!!
کبھی سوچا تم ہزاروں گائیں اور بیل بے فکر  ذبح کررہے ہو اور تمہارے پڑوس میں تم سے زیادہ تعداد میں مسلمان گائے کے قریب چھری تک نہیں لے جاسکتے ...........دنیا کی دوسری بڑی آبادی اور  چوتھی بڑی انتہا پسند متشدد گاؤ پرست  فوجی طاقت کے پڑوس میں گائے کا گوشت کھاتے ہوئے ان کو دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا جن کی وجہ سے تمہیں  فرض پورا کرنے کی یہ آزادی ملی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ اور مجاہدین افواج پاکستان

اے اللہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ اور مجاہدین افواج پاکستان کے شہداء کو ارض پاکستان میں ہونے والی تمام گائے کی قربانی میں شرکت اور اس کو ممکن بنانے کی سعی و جدوجہد کا اجر عظیم عطا فرما۔ ان کی بخشش اور نجات کا باعث بنا اور ہمارے اور گائے کے انتہاء پسند پجاریوں کے درمیان فضا، زمین اور سمندروں میں ڈٹے مجاہدین افواج پاکستان کو تمام پاکستان کی گائے کی قربانی میں شرکت کا اجر  و ثواب عطا فرما اور ان کی حفاظت و نصرت فرما۔ آمین یا رب العالمین

ایک بار پھر سے شکریہ بابا جانی 💞

Friday, May 15, 2020

اکیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ شہادت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم

21 رمضان المبارک 40 ہجری
یومِ شہادت سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
 

مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب 17 مارچ 599 بمطابق 13 رجب المرجب 30 عام الفیل کو بروز جمعہ شہر مکہ  میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے

سیدنا علی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں جو بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اسلام قبول کرنے والے دوسرے مسلمان تھے (پہلی مسلمان سیدہ خدیجہ الکبری تھیں) آپ کی عمر اس وقت تقریباً 10  سال تھی

17 جون 656ء بمطابق 18 ذی الحجہ 35 ہجری کو مولا علی چوتھے خلیفہ راشد بنے

سیدنا علی بن ابی طالب کو 27 جنوری 651 بمطابق  19 رمضان 40 ہجری کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہرگز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا 

29 جنوری 661 ء بمطابق 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو نماز فجر کے وقت شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن  و حضرت حسین  نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے

اولاد

آپ کے بچوں کی تعداد 27 تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا  سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن، امام حسن اور امام حسین، جبکہ دو صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت ام کلثوم  بھی حضرت سیدہ فاطمہ سے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنفیہ، حضرت عباس بن علی شامل ہیں

مولائے کائنات سیدنا علی ابن طالب  کی اولاد یہ ہیں :

بیٹے۔
 سیدنا حسن بن علی۔
 سیدنا حسین بن علی۔ 
 حضرت عباس بن علی
۔ عمر ابن علی۔
 جعفر ابن علی۔ 
عثمان ابن علی۔
 محمد الاکبر ( محمد بن حنفیہ)
 عبد اللہ ابن علی۔ 
ابوبکر ابن علی
عبید اللہ ابن علی
یحییٰ ابن علی
محمد اصغر ابن علی
محمد اوسط ابن علی

بیٹیاں
سیدتنا زینب بنت علی
سیدتنا ام کلثوم بنت علی
رقیہ بنت علی
رملہ بنت علی
نفیسہ بنت علی
خدیجہ بنت علی
ام ہانی بنت علی
جمانہ بنت علی
امامہ بنت علی
مونا بنت علی
سلمیٰ بنت علی

علی امامِ من استُ منم غلامِ علی 
ہزار جانِ گرامی فدا بنامِ علی

’’حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا اور ان کو آشوب چشم تھا پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ضرور بالضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہو گا یا اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے

راوی بیان کرتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اس حال میں کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے اور پھر اُنھیں جھنڈا عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلہ میں مرحب نکلا اور کہنے لگا‘‘

(تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے)

پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
(میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ)

راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اس کو قتل کر دیا پھر فتح آپ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے‘‘

مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد و السير، باب غزوة الأحزاب و هي الخندق، 3 / ، 1441، الحديث رقم : 1807
 ابن حبان في الصحيح، 15 / 382، الحديث رقم : 6935
أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 51
ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 393، الحديث رقم : 36874
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 17، الحديث رقم : 6243

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین 
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن ، شاہِ خیبر شکن
مولا دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام۔

سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین ایسی باتیں کہیں جن کا خواہش مند ہم میں سے ہر کوئی تھا:

1۔ جس کا میں( رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) مولا ہوں اسکے علی( رضی اللہ عنہ) بھی مولا ہیں

2۔ علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت بلکل ویسے ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام سے تھی،  سوائے اسکے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں

3، غزوۃ خیبر کے وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ صبح میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں،  وہ جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا 

حوالہ:
صحیح مسلم 6220
سنن نسائی الکبری 8439
سنن ابن ماجہ 121۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  فرماتے ہیں : 

أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ۔

بیشک مومن کے علاوہ کوئی علی  سے محبت نہیں رکھتا، اور منافق کے علاوہ کوئی علی  سے بغض نہیں رکھتا
( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب 33، حدیث نمبر ۷ )۔

جس دن آپ ظلم کے سامنے کھڑے ہوجاؤ وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ علم کو خود پر لازم کرلو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ حق کے خالی پلڑے کو باطل کے بھاری پلڑے پر چنو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ کفر کو بزور بازو للکارو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے مقدم کرلو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ اپنی اولاد کی تربیت حسن و حسین (رض) جیسی کرلو وہ یوم علی ہے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  ایام نہیں زمانوں میں زندہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ ہر بہادری ہر وفا ہر علم ہر قربانی میں ان کا عکس شامل ہے . کمزور ٹانگوں سے قریش مکہ کے درمیان سے الا اللہ کہنے والا حق گوئی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ خدا کے گھر میں نماز کی حالت میں جان لیوا وار خود پر کھا کر  سوہنے علی کو رہتی کائنات تک مثال بنا گیا

چودہ مئی 1907 یومِ پیدائش ایوب خان

14 مئی 1907
یومِ پیدائش محمد ایوب خان 

محمد ایوب خان  پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل  تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں

صدر محمد ایوب خان 14 مئی 1907 کو ہری پور ہزارہ کے قریب ایک گاؤں ریحانہ میں ایک ہندکو پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد میر داد خان کی دوسری بیوی کے پہلے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کا نام سرائے صالح کے ایک اسکول میں داخل کروایا گیا اور اس کے علاوہ ایک قریبی گاؤں کاہل پائیں میں بھی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی جو ان کے گھر سے 5 میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ خچر کے ذریعے اسکول جایا کرتے تھے۔ آپ نے 1922 میں علیگڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن تعلیم مکمل نہ کی کیونکہ اس دوران میں آپ نے رائل اکیڈمی آف سینڈہسٹز کو قبول کر لیا تھا

آپ نے اس تربیت گاہ میں بہت اچھا وقت گزارا اور آپ کو 14 پنجاب رجمنٹ شیر دل میں تعینات کیا گیا جو اب 5 پنجاب رجمنٹ ہے۔ جنگ عظیم دوم میں آپ نے بطور کپتان حصہ لیا اور پھر بعد میں برما کے محاذ پر بطور میجر تعینات رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان آرمی جوائن کرلی، اس وقت آپ آرمی میں دسویں نمبر پر تھے۔ جلد ہی آپ کو بریگیڈئیر بنا دیا گیا اور پھر 1948 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1949 میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر آپ کو ڈپٹی کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔ 17 جنوری 1951 کو آپ پاکستانی فوج  کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف بنے

1954 میں جب محمد علی بوگرہ نے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں میجر اسکندر مرزا اور پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ آپ 24 اکتوبر 1954 سے 11 اگست 1955 تک محمد علی بوگرہ کے دور میں حاضر سروس فوجی ہوتے ہوئے بطور وزیر دفاع خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ دنیا کی واحد مثال ہے کہ سول حکومت کا وزیر دفاع حاضر سروس فوجی ہو

 جب اسکند مرزا نے 7 اکتوبر 1958 میں مارشل لاء لگایا تو آپ کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی فوجی کو براہ راست سیاست میں لایا گیا
 
24 اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دئیے گئے لیکن صدر اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنا پر سکندر مرزا صاحب سے ایوب خان کے اختلافات بڑھتے گئے اور فقط 3 دن بعد  27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان نے پاکستان کی صدارت سنبھال لی اور اسکندر مرزا کو معزول کر دیا
 

جنرل ایوب خان نے خود کو 27 اکتوبر 1958  کو صدرِ پاکستان نامزد کردیا مگر اُس کے ساتھ ہی ساتھ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دئیے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اُس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں

 27 اکتوبر 1959ء کو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا

 17 فروری 1960ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے

ایوب خان نے 1961 میں آئین بنوایا جو صدارتی طرز کا تھا۔ 8 جون 1962ء کو انہوں نے مارشل لاء کے خاتمے اور صدارتی طرز حکومت کے نئے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اس آئین کے نتیجے میں 1962 میں عام انتخابات ہوئے اور مارشل لاء اٹھا لیا گیا۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ جزوی طور پر تھا۔ 

جنوری 1965ءمیں ملک میں ایک مرتبہ پھر بنیادی جمہوریت کے نظام پر مبنی صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ 02 جنوری 1965 کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات  میں صدر ایوب خان کے مدِ مقابل سب سے اہم حریف مادرِ ملت فاطمہ جناح تھیں جو قائداعظم کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ہار گئیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک شرمناک باب اور انتخابات کے دوران دھاندلی کا آغاز تھا

06 ستمبر 1965ء کو  جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوگئی۔ 

10 جنوری 1966ءکو  تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔ پاکستان کے عوام میں اس معاہدے سے بڑی بددلی پھیلی

فاطمہ جناح کے خلاف مشکوک فتح اور 1965 کی جنگ کی وجہ سے ایوب خان کے لیے حالات ناسازگار ہو چکے تھے۔ تاشقند معاہدے سے واپسی پر اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ملک کی عزت اور قربانی بیچ ڈالی۔ اس بیان کے بعد بھٹو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

1967 میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی اور ایوب خان کی مذہبی، معاشی اور عوامی پالیسیز پر شدید تنقید شروع کر دی۔ بھٹو کی تحریک کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی ایوب خان کے خلاف شیخ مجیب الرحمٰن کی تحریک سرگرم ہو چکی تھی۔ ایوب خان نے بھٹو اور شیخ مجیب کو پابند سلاسل کر دیا۔ اس سے ایوب خان کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا

1968ء میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئےاور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کر دیا۔ ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہو گیا

1968 میں ایوب خان پر قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ 1969 میں ایوب خان نے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ باقی اپوزیشن پارٹیز سے مذاکرات کے لیے گول میز کانفرنس کی لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ اس دوران ایوب خان کو دل کا دورہ لاحق ہوا اور اسی سال ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا اور وہ صاحب فراش ہو گئے۔ انہیں ویل چیئر پر لایا جاتا تھا

ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف احتجاج نے خانہ جنگی کی سی صورت حال پیدا کر دی۔ پولیس کے لیے بلوائیوں کو روکنا مشکل ہو گیا اور بالآخر ایوب خان نے 25 مارچ 1969 کو اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحیٰ خان کو ملک کا صدر بنا دیا اور  خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ گمنامی میں چلے گئے

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 20 اپریل 1974ءکو اسلام آباد میں وفات پاگئے اور اپنے آبائی گاﺅں ریحانہ میں دفن ہوئے

ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری " فرینڈز ناٹ ماسٹرز " کے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہیں

اکیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم

21 رمضان المبارک 40 ہجری
29 جنوری 661 عیسوی
یومِ شہادت  شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

علی امامِ من استُ منم غلامِ علی 
ہزار جانِ گرامی فدا بنامِ علی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ایام نہیں زمانوں میں زندہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ ہر بہادری، ہر وفا، ہر علم، ہر قربانی میں ان کا عکس شامل ہے۔ کمزور ٹانگوں سے قریش مکہ کے درمیان سے الا اللہ کہنے والا حق گوئی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ خدا کے گھر میں نماز کی حالت میں جان لیوا وار خود پر کھا کر  سوہنے علی کو رہتی کائنات تک مثال بنا گیا

مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب کو 19 رمضان المبارک 40 ہجری بمطابق 27 جنوری 661 عیسوی کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن  اور حضرت حسین رضی اللہ عنھم کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان المبارک بمطابق 29 جنوری 661 کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن  و حضرت حسین  نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

فضائل سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم

حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ شرف  حاصل ہے کہ آپ نے آنکھ کھولی تو چہرہ رسولﷺ کو دیکھا یعنی ولادت کے بعد آپ نے آنکھیں نہ کھولیں۔ حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا تب آپ نے آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر حضور علیہ السلام کے چہرہ پر پڑی۔ حضور علیہ السلام نے پہلی گھٹی دی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کی پرورش حضور علیہ السلام نے کی اور تعلیم و تربیت بھی حضور علیہ السلام نے فرمائی۔ آپ کو صحابی رسول ﷺ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور اہل بیت رسول ﷺ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے

حضرت محمدﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ ہی کو سب سے پہلے حضور علیہ السلام پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ یعنی حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کے ساتھ ہی حضرت علی المرتضیٰؓ نے بھی اپنے ایمان کا اعلان فرمایا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ہجرت کی رات حضور علیہ السلام نے اپنے بستر پر آپ ہی کو آرام فرمانے کا حکم فرمایا اور فرمایا ’’اے علی مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔ آپ میرے بستر پر لیٹ جائیں اور کفار و مشرکین کی یہ امانتیں انہیں واپس لوٹا کر تم بھی مدینہ منورہ آ جانا‘‘

حضور علیہ السلام نے مدینہ منورہ میں مواخات قائم کیے، یعنی ایک مہاجر اور ایک انصار کو پکڑ کر ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ اس موقع پر آپ حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! آپ نے ’’عقد مواخاۃ‘‘ میں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا مگر میں یوں ہی رہ گیا۔ آپ نے مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو نبی کریم ﷺ نے شفقت فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’یعنی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو‘‘

حضرت علی المرتضیٰؓ کو علم  بارگاہ رسالت سے عطا ہوا۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ذی شان ہے ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں‘‘۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضور علیہ السلام سے پانچ سو چھیاسی حدیثیں روایت کی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیبؓ فرمایا کرتے تھے ’’مدینہ منورہ میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے سوا کوئی ایسا صاحب علم نہیں تھا جو یہ کہہ سکے کہ ’’جس کو جو کچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ علم و فضل رکھنے کے باوجود فرمایا کرتے تھے ’’حضرت علی المرتضیٰؓ سے فرائض کا جاننے والا اور معاملہ فہم کوئی شخص بھی نہیں‘‘۔ 

حضرت علی المرتضیٰؓ کو علمی کمال ہی کے باعث خلفاء ثلاثہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں قاضی القضا رہے ہیں۔ آپ نے مقدمات کے فیصلے نہایت ہی علمی بصریت سے فرمائے جو تاریخی فیصلہ جات فقہ اسلامی کا اعلیٰ شاہکار ہیں۔ 

حضرت علی المرتضیٰؓ کی سخاوت، شجاعت، عبادت و ریاضت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ آپ ہی کو رسول اللہﷺ نے مولا قرار دیا۔ ارشاد فرمایا ’’من کنت مولا فعلی مولا‘‘ جس کا میں مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔ 

 حضرت علی المرتضیٰؓ کو فاتح خیبر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’کل میں پرچم اُسے دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا‘‘۔ چنانچہ خیبر کا قلعہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوا۔  حضرت علی المرتضیٰؓ کو داماد رسول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ حضرت فاطمہؓ کے شوہر نامدار ہیں۔ ان کا نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے والد ہیں جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں۔

حضرت علی المرتضیٰؓ کی شان مرتبہ و مقام نہایت اعلیٰ و ارفع ہے۔ آپ کی بعض  خصوصیات ایسی ہیں وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ چوتھے خلیفہ راشد ہیں، 

’’حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا اور ان کو آشوب چشم تھا پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ضرور بالضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہو گا یا اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اس حال میں کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے۔ اور پھر اُنھیں جھنڈا عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلہ میں مرحب نکلا اور کہنے لگا۔‘‘

(تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے)

پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
(میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ)

راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اس کو قتل کر دیا پھر فتح آپ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔‘‘

مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد و السير، باب غزوة الأحزاب و هي الخندق، 3 / ، 1441، الحديث رقم : 1807
 ابن حبان في الصحيح، 15 / 382، الحديث رقم : 6935
أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 51
ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 393، الحديث رقم : 36874
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 17، الحديث رقم : 6243

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین 
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن ، شاہِ خیبر شکن
مولا دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام۔

سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین ایسی باتیں کہیں جن کا خواہش مند ہم میں سے ہر کوئی تھا:

1۔ جس کا میں( رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) مولا ہوں اسکے علی( رضی اللہ عنہ) بھی مولا ہیں

2۔ علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت بلکل ویسے ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام سے تھی،  سوائے اسکے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں

3۔ غزوۃ خیبر کے وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ صبح میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں،  وہ جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا 

حوالہ:
صحیح مسلم 6220
سنن نسائی الکبری 8439
سنن ابن ماجہ 121

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  فرماتے ہیں : 

أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ۔

بیشک مومن کے علاوہ کوئی علی  سے محبت نہیں رکھتا، اور منافق کے علاوہ کوئی علی  سے بغض نہیں رکھتا ۔
( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب 33، حدیث نمبر ۷ )۔

آج یوم علی ہے بلکہ ہر وہ روز یومِ علی ہے جب آپ کسی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں
 
جس دن آپ ظلم کے سامنے کھڑے ہوجاؤ وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ علم کو خود پر لازم کرلو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ حق کے خالی پلڑے کو باطل کے بھاری پلڑے پر چنو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ کفر کو بزور بازو للکارو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے مقدم کرلو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ اپنی اولاد کی تربیت حسن و حسین (رض) جیسی کرلو وہ یومِ علی ہے

انیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ ضرب حضرت علی

19 رمضان المبارک 40 ہجری 
27 جنوری 661
حسنین کے بابا پہ فجر کی نماز میں حملہ ہوتا ہے
کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم
رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین

یہ رمضان المبارک کی 19 ویں فجر تھی اور جنوری 661 کی 27 تاریخ۔ کوفہ کی مرکزی جامع مسجد کا مصلی ہے۔سیدہ کائنات کے زوج اور زینب و ام کلثوم کے بابا جان ہیں ۔سیدنا مولائے کائنات علی المرتضی ابن ابو طالب کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم

ایک بدبخت ابن ملجم نے کل کائنات کے مولا کو زہر آلود خنجر کے وار سے عین حالت نماز میں زخمی کر دیا ہے

جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا تو آپ نے اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن  اور حضرت حسین  کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے

یہ ہے اہل بیت کا کردار
یہ سیدوں کی روایت ہے
یہ ہی تو اسلام ہے

سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کا یومِ شہادت 21 رمضان المبارک 40 ہجری بمطابق 29 جنوری 661 عیسوی ہے

یہ تصویر اس جگہ کی ہے جہاں حضرت علی کو زخمی کیا گیا تھا، جامع مسجد کوفہ میں

حضرت علی کے آخری روزے کی افطاری

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّه عنہ کے آخری روزے کی افطاری

جب حضرت علیؓ افطار کرنے کے لیے اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے حضرت ام کلثومؓ فرماتی ہیں جب انیس رمضان کی شب ہوئی میں بابا کی خدمت میں افطار کے لیے ایک برتن لے گئی جس میں دو جو کی روٹیاں تھوڑا سا نمک اور دودھ کا پیالہ تھا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دستر خوان کی طرف متوجہ ہوئے سر کو ہلایا زور زور سے گریہ شروع کردیا

فرمانے لگے کیا کوئی بیٹی اپنے باپ کے ساتھ ایسا کرسکتی ہے جو تم نے کیا ہے

میں نے عرض کیا بابا جان میں نے کیا کِیا ؟

فرمایا : آپ نے ایک دستر خوان پہ دو کھانے لا کے رکھ دئیے، کیا تم چاہتی ہو تیرا باپ بارگاہ رب العزت میں دیر تک کھڑا رہے ؟

میں تو فقط اپنے بھائی رسول اللّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کی پیروی کرتا ہوں جنہوں نے کبھی ایک دستر خوان پہ دو کھانے تناول نہیں فرمائے تھے

بیٹی ایک چیز اٹھا لو میں نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا جو کی ایک روٹی نمک کے ساتھ تناول فرمائی پھر شکر پروردگار ادا کرنے کے بعد دوبارہ مصلہ عبادت پر تشریف لے گئے اور رکوع و سجدے میں مصروف ہوگئے، کبھی کبھی صحن میں تشریف لاتے آسمان کی طرف نظر ڈال کے فرماتے تھے اللہ کی قسم نہ ہی میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے یہ وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے

پھر مصلے پہ تشریف لائے اور فرماتے اے اللہ میری موت میں میرے لیے برکت قرار دے اور کثرت سے انا الله وانا اليه راجعون اور حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود بھیجتے اور کثرت سے استغفار کرتے رہے میں نے پوچھا :
بابا ! آج رات آپ کی یہ کیفیت کیوں ہے ؟

تھوڑی دیر قیام فرمایا پھر مصلے پہ عبادت میں مصروف ہوئے۔ بیٹی ام کلثومؓ مجھے اذان صبح سے پہلے بتا دینا کہ اذان کا وقت قریب ہونے لگا ہے

پھر تیار ہو کے مسجد جانے لگے گھر میں موجود مرغابیوں نے شور کرنا شروع کر دیا تو میں نے امام حسنؓ سے کہا : حسنؓ بھیا ان مرغابیوں نے اس سے قبل کبھی اس طرح کی چیخ و پکار نہیں کی تھی تو امیر المومنین نے فرمایا : 
کچھ دیر بعد رونے کی آواز بلند ہونگی

امام مسجد میں تشریف لے گئے، گلدستہ اذان پہ جاکر اذان کہی۔ کوفہ کے سب لوگوں نے آپ کی اذان کی آواز سنی

پھر آپ گلدستہ اذان سے نیچے اُترے، پھر آپ نے مسجد میں سوئے ہوئے افراد کوجگانا شروع کر دیا اور ہر سوئے ہوئے فرد سے کہتے کہ خدا تجھ پررحم کرے اُٹھو نماز پڑھو۔ آپ لوگوں کو جگاتے ہوئے ابن ملجم معلون کے پاس آئے۔
وہ منہ کے بل لیٹا ہوا تھا اُس نے اپنی تلوار چھپائی ہوئی تھی

امام علیؓ نے اس سےفرمایا :
اے شخص ! نیند سے بیدار ہو جا، اس طرح سے سونے کو خدا ناپسند کرتا ہے یہ شیطان کے سونے کا انداز ہے اور یہ اہل دوزخ کے سونے کا انداز ہے

پھر آپ نے اس لعین سے فرمایا : 
تو جو ارادہ لے کر آیا ہے یہ اتنا خوفناک ہے کہ اس سے آسمان پھٹ سکتے ہیں اور زمین ریزہ ریزہ ہوسکتی ہے اگر میں چاہوں تو میں تجھے یہ بتا سکتا ہوں کہ تو نے کپڑوں میں کیا چھپا رکھا ہے

یہ کہہ کر آپ چلے گئے اور محراب میں تشریف لائے اور نماز شروع کی آپ نے نماز میں طویل رکوع و سجود کیے

ادھر وہ لعین تاریخ انسانیت کے بدترین جرم کے اقدام کی نیت سے اُٹھا اور چلتے ہوئے اس ستون کے قریب آیا جہاں آپ نماز میں مصروف تھے آپ نے پہلی رکعت پڑھی اور پہلا سجدہ ادا کیا.پھر سر کو اُٹھایا وہ لعین آگے بڑھا اور آپ کے سر اطہر پر تلوار کا وار کیا.

جبرائیل امین نے زمین و آسمان کے درمیان آواز دی جسے ہر سننے والے نے سنا

اللہ کی قسم آج ہدایت کے ارکان تباہ ہو گئے، آسمان کے ستارے اور تقویٰ کی نشانیاں ختم ہو گئیں، حضرت پیغمبر گرامی ﷺ کے چچا زاد حضرت علیؓ شہید کر دئیے گئے جسے بد بخت ترین شخص نے شہید کر دیا

(الانوار العلویہ,ص,٣٨٠,٣٨٨,مصائب معصومین ع,ص,٤١,٤٢,علی ع ولادت سے شہادت تک,ص,٤٦٢,٤٦٣)

بارہ مئی 2007 یومِ سیاہ کراچی

12 مئی 2007
کراچی کا یوم سیاہ

آج کراچی کے وارث بننے کے لئے سب تیار ہیں لیکن جب وقت آیا تھا تو کراچی والوں کا وارث کوئی نہیں تھا
کوئی ایک بھی نہیں

جن کے پاس کراچی کا مینڈیٹ تھا وہ طاقت کے نشے میں بدمست تھے۔اور ان کا سرپرست اعلیٰ اسلام آباد میں مکے لہرا رہا تھا

12مئی 2007ء کو کراچی کی سڑکوں پر بے گناہوں کا خون بہہ رہا تھا اور قانون یا اس کی عملداری نام کی کوئی چیز کم از کم موجو د نہیں تھی

مشرف دور میں چیف جسٹس بحالی تحریک اپنے عروج پر تھی اور معزول چیف جسٹس مختلف بار کونسلوں کی دعوت پر مختلف شہروں کے دورے کر رہے تھے، ایسے میں کراچی سے ملنے والی دعوت پر 12 مئی 2007 کی تاریخ کراچی کیلئے مقرر کی گئی

11 مئی 2007 کی رات ہی ائیرپورٹ سے شہر کو جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کردئیے گئے، سند ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے اطراف بھی راستے مسدود کردئیے گئے

معزول چیف جسٹس ایئرپورٹ پہنچے اور رات تک ایئرپورٹ میں ہی محصور رہنے کے بعد گورنر سندھ کے حکم پر صوبہ بدر کردئیے گئے، لیکن شہر میں عدلیہ بحالی تحریک کیلئے نکلنے والی ریلیوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے

شہر گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجتا اور بارود کی بو سے بھبکتا رہا، زخمی سڑکوں پر تڑپتے رہے اور ایمبولینسز کو پہنچنے میں دشواریاں ہوتی رہیں، اس ایک روز میں 50 کے قریب لوگ مارے گئے، کئی درجن زخمی ہوئےجن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے تھا

اس وقت کے مشیر داخلہ وسیم اختر نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کنٹینرز ان کے حکم پر سیکیورٹی کے مقصد کے لیے لگائے گئے تھے

وکلاء انجمن کے صدر منیر اے ملک نے بتایا کہ کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال دیکھتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے آئی جی، سندھ، اور فوج کے کراچی کور کمانڈر کو طلب کیا، لیکن کور کمانڈر نے عدالت میں آنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی جبکہ آئی جی نے میرے سامنے بتایا کہ وہ بے بس ہیں

سندھ کی عدالت کے پورے محکمہ نے 12 مئی 2007 کے  واقعات کی تحقیقات شروع کر دیں۔ وکیل خالد انور نے کہا کہ فسادات کو روکنے کے لیے پولیس کو آزادانہ کارروائی کا حق ہونا چاہیے تھا۔ وکیل فیض عسا نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس بات کی جواب دہی کرنا چاہیے کہ سڑکیں کس نے اور کہاں کہاں بند کی گئیں۔ پاکستان رینجرز کے وکیل نے کہا کہ ان کا فرض صرف پولیس کی  مدد کرنا ہوتا ہے اور اسی وقت جب اس کی درخواست کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انھیں 12 مئی 2007 کو شام 5 بجے یہ کام سونپا گیا کہ وہ اہم مقامات کی حفاظت کریں

سندھ کی عدالت کے ایک دوسرے محکمہ نے 12 مئی 2007 کے واقعات کے حوالے سے وزیر اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین، سندھ حکومت کے مشیر وسیم اختر اور سات دوسرے افراد کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دئیے

7 اگست 2007 کی سماعت میں عدالت نے 35 سوالوں کے جواب صوبائی حکومت سے طلب کیے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ 12 مئی 2007ء کو پرویز مشرف نے اسلام آباد میں تقریر  کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کراچی میں عوام نے طاقت کا مظاہرہ کیا ہے"، ایسا بیان خفیہ اداروں کی کن رپورٹوں پر دیا گیا ؟

10 ستمبر 2007 کو سماعت اس وقت ملتوی کرنا پڑی جب عدالت کے احاطے میں متحدہ قومی موومنٹ کے بہت سے کارکن جمع ہو گئے اور انہوں نے الطاف حسین کے نعرے  لگائے۔ سندھ حکومت کو عدالت کے اس محکمہ کی تشکیل پر اعتراض تھا

فوجی ایمرجنسی کے بعد عدالت کے بہت سے ججوں نے نیا حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد یہ تحقیقات عملاً ختم ہو گئی

تفتیش چند ملزمان کی گرفتاری سے آگے نہ بڑھ سکی۔ متاثرین آج بھی انصاف کے طلبگار ہیں۔ 12 مئی 2018 کو 11 سال بعد چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے 12 مئی کے کیس کی فائل طلب کی لیکن کیس پہ تفتیش ذرہ برابر بھی آگے نہیں بڑھی ہے

سانحہ 12 مئی 2007 نہ صرف اس وقت کی حکومت بلکہ اس کے بعد آنے والی ہر حکومت اور عدلیہ کے لئے بہت بڑا امتحان تھا۔ آزاد عدلیہ کا نعرہ لگانے والوں کو اس بات کا جواب دینا ہو گا کہ آج تک کسی بھی ہائی پروفائل کیس کا واضح فیصلہ سامنے نہیں آ سکا ہے

سانحے بارہ مئی کو 13 برس بیت گئے لیکن تفتیش کی گاڑی کچھ ملزمان کی گرفتاری سے آگے نہ بڑھ سکی۔ کیس میں  میئر کراچی بھی ضمانت پر ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں سانحہ کا ذمہ دار کوئی بھی ہو، انصاف ہونا چاہیئے۔
قاتل کوئی بھی ہو، سزا سے بچنا نہیں چاہیئے

گیارہ مئی 1953 یومِ تحفظ ختم نبوت

11 مئی 1953
جب ختم نبوت کے تحفظ کے جرم میں مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو سزائے موت سنائی گئی

جب بات سرکار کی ناموس کی ہو تو ہم میں سے ہر ایک کو ہر سزا منظور ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی تو ہمارا کل اثاثہ ہے

فروری 1953 میں تحریک ختم نبوت  قادیانی وزیر خارجہ کی برطرفی کے مطالبے سے شروع ہوئی اور 06 مارچ 1953 کو پاکستان کی تاریخ کا پہلا جزوی مارشل لاء لاہور میں نافذ کر دیا گیا ۔اسی مارشل لاء کی فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی

1953ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا عبدالستار خان نیازی کا بڑا اہم کردار ہے۔ تحریک کے مرکز، مسجد وزیر خاں (لاہور) میں تحریک کی قیادت کرتے رہے۔ 9 مارچ 1953 کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے قصور سے روانہ ہوئے تو گرفتار کر لئے گئے

فوجی عدالت میں بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا ۔11 مئی 1953 کو فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ آپ نے خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کیا اور کہا ختم نبوت کی خاطر ہر سزا منظور ہے نہ صرف منظور بلکہ خوشی سے منظور ہے

اس سزا کے خلاف پورے ملک میں احتجاج شروع ہو گیا چنانچہ 13 مئی 1953 کو حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، پھر دو سال اور ایک ماہ بعد یہ سزا بھی ختم ہو گئی

مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ اپنی اسیری کے بارے میں فرماتے ہیں :-

’’مجھے اپنی زندگی پر فخر ہے کہ جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی۔ اس پر میں نے کہا تھا۔ ’’میری عمر وہ دن اور راتیں ہیں جو میں نے ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس جیل والی زندگی پر ناز ہے‘‘

حضرت مولانا عبدالستار خاں صاحب نیازیؒ کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ آپ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و نزاکت پر نہایت موثر انداز میں اظہار خیال فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’چودھویں صدی میں تمام عالم اسلام کے اندر ہر محب اسلام کا یہ فرض ہے کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو تمام دوسرے مسائل پر ترجیح دے۔ اگر ہم تحفظ ختم نبوت کے ذریعے اپنی بقاء کا اہتمام کر لیتے ہیں تو توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، قرآن شریف، شریعت الغرض کسی اصول دین کو ضعف نہیں پہنچ سکتا، لیکن خدانخواستہ اگر قادیانی تحفظ ختم نبوت کو ہماری لوح قلب سے ذرا بھی اوجھل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر نہ ہمیں ناموسِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، ہمارا ایمان برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نہ وِلائے اہل بیتؓ ہماری نجات کے لیے کافی ہو سکتی ہے، نہ قرآن ہی کے اوراق میں ہمارے لیے ہدایت باقی رہ جاتی ہے، نہ مساجد ہی کے محراب و منبر میں کوئی تقدیس باقی رہ جاتی ہے اور نہ اولیاء اللہ اور مشائخ عظام ہی کی نسبتیں جاری رہ جاتی ہیں، نہ علمائے کرام ہی کی تدریس و وعظ میں اثر باقی رہ جاتا ہے، نہیں نہیں صرف یہی نہیں، خاکم بدہن اُمت محمدیہؐ کے تسمیہ اور وجود دونوں پر زَد پڑتی ہے۔ اُمتِ محمدیہ ملتوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ملتیں، حکومتوں میں بٹ جاتی ہیں اور حکومتیں، گروہوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتی ہیں، فقط اتنا ہی نہیں خاندان ملت سے خارج ہو جاتے ہیں، خود خاندان کے اندر صلہ رحمی، قطع رحمی سے مبدل ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، خاتم النبیین نہیں تو پھر شریعت نہیں، جب شریعت نہیں تو حرام و حلال بھی نہیں، جب حرام و حلال نہیں تو باپ، بیٹے، ماں بہن، خاوند اور بیوی غرض دنیا کے سب رشتے اپنی تقدیس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ختم نبوت کا انکار آسمان پر فرشتوں کا انکار ہے، زمین پر قبلہ اور حج کا انکار ہے، سیاست میں مسلمانوں کے غلبے اور جداگانہ وجود کا انکار ہے۔ غرض ختم نبوت سے انکار خود مسلمان کے مسلمان ہونے سے انکار ہے، یہاں پہنچ کر زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ قلم ٹوٹ جاتا ہے اور الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جاتا ہے‘‘

ہے یہ وہ نام خاک کو پاک کرے نکھار کر
ہے یہ وہ نام خار کو پھول کرے سنوار کر

ہے یہ وہ نام ارض کو کر دے سما اُبھار کر
اکبر اسی کا ورد تُو صدق سے بیشمار کر

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

سترہ رمضان المبارک 2 ہجری یومِ وصال حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا

17 رمضان المبارک 02 ہجری
یومِ وفات شہزادی رسول حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

آپ کا نام سیدہ رقیہ اور کنیت  امِ عبد اللہ تھی۔آپ کا سلسلہ نسب اسطرح ہے: سیدہ رقیہ بنت محمدِ مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف

 آپ سیدہ خدیجۃ  الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں۔  آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دوسری صاحبزادی  ہیں۔ آپ کی ولادت سیدہ زینب کی ولادت کے تین سال بعد اور اعلانِ نبوت  سے سات  سال قبل، مکۃ المکرمہ میں  ہوئی۔ اسوقت رسولِ اکرم ﷺ کی عمر مبارک کا تینتیسواں سال تھا

پہلے آپ  کا نکاح ابولہب کے بیٹے ""عتبہ""سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ""سورۂ تبت یدا"" نازل ہوئی ۔جب سورت تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی تو ابو لہب نے عتبہ سے کہا "او عتبہ تیرا سر حرام ہے مطلب یہ کہ میں تجھ سے بیزار ہوں اگر تو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بیٹی کو اپنے سے جدا نہ کرے" اس پر اس نے جدائی کرلی اور علیحدہ ہوگیا

قریش نے ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب کو جدا کرنے پر ابھارا لیکن انہوں نے فرمایا خدا کی قسم میں ہرگز سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی کو جدا نہیں کرونگا اور نہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اس کے عوض قریش کی کوئی اور عورت ہو (مدارج النبوت،۲:۷۸۴) 

اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ رقیہ کا نکاح حضرت سیدنا عثمان ابن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی کے ساتھ مکہ مکرمہ میں کردیا اور بعد میں ان دونوں میاں بیوی نے حبشہ کی طرف پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی اور دونوں صاحب الہجرتین (دو ہجرتوں والے) کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے

 رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:"احسن زوجین رآہما انسان رقیۃ وزوجہا عثمان "۔ترجمہ: سب سےحسین  جوڑا جو دیکھا گیا وہ سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان کا ہے (الاصابہ ، ۸:۹۱)۔  

 جنگ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ زیادہ بیمار تھیں چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگ بدر میں جانے سے روک دیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جس دن جنگ بدر میں فتح مبین کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچے اسی دن بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بیس برس کی عمر پاکر مدینہ میں انتقال کیا  حضور ﷺجنگ بدر کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اگرچہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورﷺ نے ان کو جنگ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا

حضرت بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے جن کا نام ""عبداﷲ"" تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد 4 ہجری میں وفات پا گئے۔ بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی قبر بھی جنت البقیع میں ہے
(شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام،ج۴،ص۳۲۲۔۳۲۳)

سترہ رمضان المبارک 58 ہجری یومِ وصال حضرت عائشہ صدیقہ

17 رمضان المبارک 58 ہجری
یومِ وصال محبوبہ محبوب رب العالمین
صدیقہ بنت صدیق

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
یہ چند لفظ ہیں امی جان کے لئے کہ ایمان کا رشتہ ان کے در کی چوکھٹ سے جڑا ہے

’’اے عائشہ : جبرائیلِ امین تمہیں سلام کہتے ہیں‘‘
جس شخصیت کو جبرائیل امین نے سلام کہا، انہوں نے تقریباً 70 سال کی عمر میں 17 رمضان المبارک 58 ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں اس دنیا سے پردہ فرمایا

 اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کچھ خصوصیات حاصل ہیں

 آج ہم ان خصوصیات کا مختصر سا حال بیان کریں گے، کیونکہ یہ خصوصیات حیرت انگیز بھی ہیں اور دلچسپ بھی۔ یہ خصوصیات باقی تمام ازواجِ مطہرات کو حاصل نہیں

سیدہ عائشہ صدیقہؓ دنیا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔ اس سلسلے میں آپ خود فرماتی ہیں: ’’ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہؓ کا ذکر فرمایا تو میں نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول! آپ سیدہ فاطمہؓ کا تو ذکر فرما رہے ہیں، میرے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو ‘‘ (مستدرک حاکم: 4/10) اس پر سید ہ عائشہؓ نے عرض کیا: ’’کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے : ’’عائشہ جنت میں میری بیوی ہے‘‘ (ابنِ شیبہ:128/12) ۔حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں: ’’سیدہ عائشہؓ آپ صلی اللہ وسلم کی دنیا اور آخر میں بیوی ہیں‘‘ ( ترمذی شریف: حدیث نمبر 3883) ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ آئے ہیں: ’’اے عائشہ! موت اب مجھ پر آسان ہو گئی، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تم جنت میں میری بیو ی ہو گی‘‘ (المعجم الکبیر: 39/23) طبقات، مسند اور البدایہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔

سیدہ عائشہؓ کے مرض الموت میں سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ اس وقت سیدہ عائشہؓ کے بھتیجے حضرت عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ آپ کے سرہانے بیٹھے تھے... انہوں نے عرض کیا: ’’ابن عباس ملنے کی اجازت چاہتے ہیں‘‘ آپؓ نے فرمایا: ’’میں اس وقت کسی سے نہیں ملنا چاہتی‘‘ حضرت عبداللہ بن عبدالرحمٰنؓ نے عرض کیا: ’’ابن عباس تو آپ کے نہایت نیک اور صالح بیٹوں میں ہیں، وہ سلام کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپؓ نے فرمایا: ’’اچھا! اگر تم چاہتے ہو تو انہیں بلا لو‘‘ حضرت ابنِ عباسؓ اندر آئے تو انہوںنے عرض کیا: ’’امّاں! آپ کو خوشخبری ہو، جب آپ کی روح آپ کے جسم سے نکلے گی تو آپ سیدھی حضور نبی کریم کے پاس جائیں گی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چہیتی بیویوں میں سے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اچھی چیز کے اور کسی سے محبت نہیں فرماتے تھے‘‘ (مسند احمد: 276/1، المعجم الکبیر: 390/10)

حضرت عائشہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھیں، بلکہ تمام لوگوں میں بھی آپ کو زیادہ محبوب تھیں۔ حضرت عمر و بن عاصؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’تمام لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’عائشہ‘‘ پوچھا گیا: ’’مردوں میں کون ؟‘‘ آ پؐ نے فرمایا: ’’ان کے والد‘‘ پوچھا گیا: ’’پھر کون ؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’عمر ابن خطاب‘‘ پوچھا گیا: ’’پھر کون ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگ بھی گنوائے۔ (مسند احمد: 203/4، بخاری حدیث: نمبر 3662، مسلم: حدیث نمبر 2384، ترمذی: 3880)

جس روز حضرت عائشہؓ کا انتقال ہوا، اس روز حضرت اُم سلمہؓ نے فرمایا: ’’آج اس ہستی کا انتقال ہوا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں‘‘ پھر فرمایا: ’’استغفراللہ! ان کے باپ ابو بکر صدیقؓ کو چھوڑکر‘‘ (مستدرک حاکم 13/4۔ مجمع الزوائد 242/9

حضرت عائشہؓ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ تمام ازواجِ مطہرات کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ایک ایک رات تھی، لیکن حضرت عائشہؓ کے لیے دو راتیں تھیں۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ خود فرماتی ہیں: ’’جب حضرت سودہ بنتِ زمعہؓ عمر رسیدہ ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میں اپنا دن عائشہؓ کو دیتی ہوں‘‘ چنانچہ آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے ہاں 2 دن قیام فرماتے، ایک دن ان کا اپنا اور ایک دن سیدہ سودہؓ کا (بخاری: حدیث نمبر 5212، مسلم حدیث:1463 ) 

ایک خصوصیت سیدہ عائشہؓ کی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز اپنی ازواجِ مطہرات کے ہاں کچھ وقت کے لیے تشریف لے جاتے، اور اس دورے کا اختتام سیدہ عائشہؓ پر فرماتے ( السحط الثمین: حدیث 43) 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ’’میں عائشہ سے محبت کرتا ہوں، تم بھی ان سے محبت کرو‘‘ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے سیدہ فاطمتہ الزہراؓ کو حضور کی خدمت میں بھیجا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہؓ کی چادر میں آرام فرما رہے تھے۔ سیدہ فاطمہؓ نے عرض کیا: ’’اے اﷲ کے رسول! آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، ان کا کہنا ہے کہ آپ بنتِ ابی قحافہ (سید ہ عائشہ) کے بارے میں عدل سے کام لیں‘‘ سیدہ عائشہ یہ سن کر کچھ نہ بولیں، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ’’اے میری پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے میں محبت کرتا ہوں‘‘ سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’بس تم بھی عائشہ سے محبت کیا کرو‘‘ ( مسلم: حدیث نمبر2442، بخاری: حدیث نمبر2581) 

حضرت عائشہؓ کے بارے میں ایک مرتبہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عائشہ کے بارے میں مجھے اذیت نہ دو، کیونکہ کسی دوسری بیوی کے بستر پر مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی سوائے عائشہ کے‘‘ ( بخاری: حدیث 2581، مسلم: حدیث 2441) 

سیدہ عائشہؓ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایامِ مرض میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے آخری ایام سیدہ عائشہؓ ہی کے ہاں گزارے ہیں، بلکہ دوسری ازواج مطہرات سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور سیدہ فرماتی ہیں: ’’رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا انتقال اس حالت میں ہوا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ وفات سے ذرا دیر پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ اس وقت حضرت عبدالرحمٰنؓ کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسواک کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ سیدہ عائشہؓ نے محسوس کیا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ آپ نے اپنے بھائی سے مسواک لے کر اپنے دانتوں سے نرم کی اور آپ کو پیش کی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک فرمائی۔ سیدہ عائشہؓ نہایت فخر سے فرمایا کرتی تھیں: ’’تمام از واج میں مجھ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آخر وقت میں بھی میرے منہ سے نرم کی گئی مسواک آپ نے استعمال فرمائی‘‘ ( یعنی اس مسواک پر میرا لعابِ دہن لگا ہوا تھا) (بخاری: حدیث 3100، 3774، 3099، مسلم: 2444,2443، ترمذی فی شمائل: 368) 

سیدہ عائشہؓ کے بارے میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ کی فضلیت دوسری تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی دوسرے تمام کھانوں پر۔‘‘ ( ابنِ ابی شیبہ: 13/12، مسند احمد: 261/3، بخاری: حدیث نمبر3770، مسلم: حدیث نمبر2446) 

سیدہ عائشہؓ کی ایک بہت انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا اور انہوں نے سیدہ کو سلام کیا۔ امام احمد نے روایت کی ہے، سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’ایک مرتبہ میں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک شخص سے باتیں کرتے دیکھا۔ میں نے عرض کیا: ’’اے اﷲ کے رسول ! میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے، ان سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تم نے انہیں دیکھا ہے ؟‘‘ سیدہؓ نے عرض کیا: ’’جی ہاں‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ دحیہ کلبی نہیں، بلکہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور وہ تمہیں سلام کہتے تھے‘‘ یہ سن کر سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: ’’وعلیہ السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ، اﷲ تعالیٰ انہیں اچھی جزا دے۔ میزبان بھی بہترین اور مہمان بھی بہترین‘‘ (مسند احمد: 84/6، ابن ابی شیبہ:130/12)

ایک روز آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! یہ جبرائیلِ امین تمہیں سلام کہتے ہیں‘‘ سیدہ عائشہؓ نے جواب میں فرمایا: ’’وعلیہ السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ‘‘ (ابنِ شیبہ: 133/12، المعجم الکبیر: 36/23، امام بخاری نے باب الملا ئکہ حدیث 3217 اور مسلم نے حدیث 2447 میں ایسے ہی ذکر کیا ہے ) 

سیدہ عائشہؓ کی ایک بہت بڑی فضلیت یہ ہے کہ جب منافقین نے ان پر بہتان لگایا تو ﷲ تعالیٰ نے ان کی پاکیزگی اور برات بذریعہ وحی آسمانوں سے نازل فرمائی۔ اس واقعے کا ذکر حدیث کی مختلف کتب میں ہے۔ یہ واقعہ، ’’واقعہِ افک‘‘ کہلاتا ہے۔ 
ملاحظہ ہو۔ بخاری: حدیث نمبر4750، مسلم: حدیث نمبر 2771، ترمذی: 3179) 

آپ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ علم و فقہ میں سب سے بڑی عالم تھیں۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: ’’اگر اس اُمت کی تمام عورتوں کا علم جن میں ازواجِ مطہرات بھی شامل ہیں، جمع کیا جائے تو بھی سیدہ عائشہؓ کا علم ان سب سے زیادہ ہوگا‘‘ (المعجم الکبیر، طبرانی: 184/23، مستدرک: 11/4 ) 

ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں: ’’ہم اصحابِ رسول کو جب بھی کسی مسئلے اور حدیث کے بارے میں اشکال واقع ہوتا تھا تو سیدہ عائشہؓ کے پاس جاتے تھے اور اس کا جواب اور علم ان کے پاس پاتے تھے‘‘ ( ترمذی: حدیث نمبر2877) 

حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: ’’میں نے علم القرآن، علم الفرائض، حلال و حرام کے علم میں، فقہ، طب، شعر اور انساب کے علوم میں سیدہ عائشہؓ سے زیادہ عالم اور کسی کو نہیں دیکھا‘‘ ( مستدرک حاکم: 11/4) 

یہ صرف چند خصوصیات بیان کی جا سکیں، ان کے علاوہ بھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی بہت سی خصوصیات ہیں

 ﷲ کی ان پر کروڑوں رحمتیں ہوں۔ آمین

سترہ رمضان المبارک معرکہ حق و باطل غزوہ بدر

غزوہ بدر میں حضرت مقداد رضی اللّه عنہ نے فرمایا 
ہم موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب خود جا کر لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں سے، بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے پھر آپ نے اعلان کیا کہ ہم لوگ واقعی آپ کے تابعدار ہوں گے، جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہا دیں گے
آپ ﷺ بسم اللّه کیجئے اور جنگ کا حکم فرمائیں انشاءﷲ اسلام ہی غالب آئے گا۔ 
بقول شاعر
غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے، پروا نہیں کرتے

حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ یوم بدر میں میرے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام "سبحہ" تھا 
 "قاسم بن عبد الرحمان سے مروی ہے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے جس شخص کو اس کے گھوڑے نے اللّه کی راہ میں دوڑایا وہ حضرت مقداد بن الاسود رضی اللّه عنہ ہیں 💞

(طبقات ابن سعد حصہ سوم 315)

سترہ رمضان، معرکہ غزوہ بدر

غزوہ بدر - حق و باطل کا پہلا تاریخ ساز معرکہ

”غزوہ بدر“ سلسلہ غزوات میں اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ ہے۔ غزوہ بدر میں حضور سید عالم ﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جانثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، ان میں ایک حضرت سیدنا علی المرتضٰی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے ہاتھ میں تھا ۔ جب رزم گاہِ بدر کے قریب پہنچے تو امام المجاہدین حضور سرور دو عالم ﷺ نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منتخب جان بازوں کے ساتھ ”غنیم“ کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لئے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی

17 رمضان المبارک 2 ہجری بمطابق 13 مارچ 624 عیسوی، جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدر کی ابتداء ہوئی۔”بدر“ ایک گاﺅں کا نام ہے، جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر ہے۔ جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور سید عالم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کردی تھیں

اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آرہے ہیں۔ اور اس پر مزید یہ کہ عمروبن حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جس نے قریش مکہ کی آتش غضب کو مزید بھڑکا دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور امر واقعہ کا اظہار فرمایا۔حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب میں نہایت جانثارانہ وفدایانہ تقریریں کیں۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (خزرج کے سردار) نے عرض کی کہ ”یا رسول اﷲ ﷺ ! خدا کی قسم ! اگر آپ حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کودنے کو تیار ہیں۔ بہ قول حفیظ جالندھری
نبی کا حکم ہو تو کود جائیں ، ہم سمندر میں
اور جہاں کو محو کردیں نعرئہ اﷲ اکبر میں

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ” ہم موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب خود جاکر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں سے بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے پھر آپ نے اعلان کیا کہ ہم لوگ واقعی آپ کے تابعدار ہوں گے، جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ آپ ﷺ بسم ﷲ کیجئے اور جنگ کا حکم فرمائیں، ان شاءﷲ اسلام ہی غالب آئے گا۔ بقول شاعر
غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے، پروا نہیں کرتے

حضور سرکار ِدو عالم ﷺ نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس جذبہ سر فروشانہ اور جوش ِایمانی کو دیکھا تو آپ کا چہره اقدس فرط ِمسرت سے چمک و دمک اٹھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا چہرئہ مبارکہ آسمان کی طرف اٹھاکر ان سب کےلئے بارگاہِ خداوندی میں دعائے خیر فرمائی۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ” خداوند قدوس نے مجھے قافلہ و لشکر میں سے کسی ایک پر فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بلا شبہ ﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قسم بہ خدا میں ابھی سے کفار کے سرداروں کی قتل گاہ دیکھ رہا ہوں .... پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ فلاں کافر قتل ہو گا، اس جگہ فلاں کافر قتل ہو گا۔ آپ ﷺ نے مقتولوں میں سے ہر ایک کا محل قتل بتا دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہاں جہاں حضور ﷺ نے فرمایا تھا، وہ کافر وہاں ہی قتل ہوا۔(مشکوٰة/مدارج النبوت)

لشکر اسلام کی تعداد
حضور سید عالم ﷺ 12رمضان المبارک 2 ہجری کو اپنے تین سو تیرہ (313) جانبازو جانثار ساتھیوں کو ساتھ لے کر میدانِ بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ ﷺ اپنے مختصر سے لشکر کو لے کر مدینہ طیبہ سے تھوڑی دور پہنچے تو آپ ﷺ نے جیش اسلام کا جائزہ لیا اور جو اس کارواں میں کم سن اور نو عمر تھے، انہیں واپس فرما دیا۔ حضرت عمیر بن ابی وقاص ایک کم سن سپاہی بھی شامل تھے، انہیں جب واپسی کیلئے کہا گیا تو وہ رو پڑے، حضور ﷺ نے ان کا یہ جذبہ جہاد و شوقِ شہادت دیکھ کر انہیں شاملِ جہاد رہنے کی اجازت عطا فرما دی۔ لشکر اسلام کی کل تعداد 313 تھی ، جس میں سے 60 مہاجرین اور 253 انصار تھے۔
چلتے چلتے یہ بے نظیر و بے مثال لشکر 16رمضان المبارک بہ روز جمعرات 2 ہجری کو میدان بدر پہنچ گیا۔ ادھر مکہ معظمہ سے قریشِ مکہ بڑے ساز و سامان کے ساتھ نکلے تھے ۔ ایک ہزار آدمیوں کا لشکر تھا ۔ سو سواروں کا رسالہ تھا۔ رﺅسائے قریش سب شریکِ جنگ تھے اور اُمرائِ قریش باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے ۔ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے معزز رئیس تھا ،اپنی اس طاغوتی فوج کا سپہ سالار بنایا گیا تھا۔

17 رمضان المبارک کی مبارک شب تھی، تمام مجاہدینِ اسلام آرام کر رہے تھے جبکہ حضور رحمت دو عالم ﷺ نے ساری رات عبادت و ریاضت اور دعا میں گزاری صبح کو نماز فجر کیلئے تمام سر فروشان اسلام مجاہدین کو بیدار کیا اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد قرآن مجید کی”آیاتِ جہاد“ تلاوت فرما کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا کہ مجاہدینِ اسلام کی رگوں میں خون کا قطرہ قطرہ جوش وجذبہ کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور مجاہدین جلد از جلد جنگ کیلئے تیار ہونے لگے۔

صف آرائی کا دل نشین منظر
حضور نبی کریم ﷺ کے دست اقدس میں ایک تیر تھا، اس کے اشارے سے آپ ﷺ مجاہدین کے صفیں قائم فرما رہے تھے۔ ”مہاجرین“ کا علم و پرچم حضرت مصعب بن عمیر کو، ”خزرج“ کے علمبردار حباب بن منذر اور ”اوس“ کے علمبردار سعد بن معاذ مقرر فرمائے۔چنانچہ لشکر اسلام کی صف آرائی ہوئی اور مشرکین مکہ بھی مقابل میں صفیں باندھے کھڑے تھے.... ایسا دل کش نظارہ کبھی زمین و آسمان نے نہیں دیکھا تھا کہ: ایک طرف وہ مشرکین تھے جن کے سر ﷲ وحدہ لا شریک کے سامنے تو نہیں جھکتے تھے، مگر اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کے سامنے خم ہوجاتے تھے.... وہ مشرکین تھے جو سر سے پاﺅں تک تکبر و غرور سے بھر پور تھے ....اور دوسری طرف وہ مومنین کامل تھے، جن کے دل ایمان و ایقان کے نور سے روشن تھے .... وہ مومنین تھے جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ بلند عزائم رکھتے تھے.... وہ صاحبان ایمان و ایقان تھے، جن کے پاس صرف اور صرف دو گھوڑے،چھ زرہیں اور آٹھ شمشیریں تھیں .... وہ مومنین تھے ، جو دنیا بھر کی تقدیر پلٹنے آئے تھے۔
کھڑے تھے اس طرف سب نفس و شیطان کے بندے
صفیں باندھے کھڑے تھے اس طرف رحمان کے بندے
یعنی اُدھر بت پرست تھے، اِدھرحق پرست تھے،
اُدھر کافر تھے، اِدھر مومن تھے ....
اُدھر ظلمت تھی اِدھر نور تھا....
اُدھرظلم وجفا والے تھے، اِدھر صدق ووفا والے تھے....
ادھر ساز و سامان والے تھے، ادھر ایمان ایقان والے تھے....
ادھرجہنمی تھے، ادھر جنتی تھے....
ادھر اہل شیطان تھے، ادھر اہل رحمان تھے....
اُدھر انسانیت کے تخریب کار تھے، اِدھر انسانیت کے معمار تھے....
اُنہیں سامان ِحرب و ضرب پر ناز تھا، اِنہیں تاج دار عرب و عجم پر ناز تھا۔
اُنہیں نیزے و تلوار پر بھروسہ تھا اور اِنہیں کالی کملی والے پر بھر وسہ تھا ۔۔۔۔۔
یہ منظر بڑا ہی عجیب و غریب تھا کہ اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت چند جانوں پر منحصر تھی۔ 

چنانچہ حضور سید عالم ﷺ نے میدانِ بدر میں اپنے جانثار و جانباز اور وفادار سپاہیوں کو دیکھا اور ان کی قلیل تعداد اور بے سرو سمانی کو بھی دیکھا تو اپنے یدﷲ والے گورے گورے ہاتھوں کو پھیلا کر بارگاہِ باری تعالیٰ میں یوں التجاء کی:
”اے ﷲ! تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ پورا فرما، اے ﷲ.... اگر آج یہ مٹھی بھر نفوس ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک تمام روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا“ ۔
(صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم، جامع ترمذی۔ مسند امام احمد)

حضور سرور دو عالم ﷺ کچھ اس طرح خشوع وخضوع سے دعا کر رہے تھے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک آپ کے دوش اقدس سے گر گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر مبارک اٹھا کر آپ ﷺ کے کاندھے مبارک پر ڈال دی اور عرض کی کہ یا رسول ﷲ ﷺ ! اب بس کیجئے، اﷲ تعالیٰ نے جو فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ضرور پورا فرمائے گا۔
(البدایہ والنہایہ)

یوم بدر....یوم الفرقان
مؤرخین اس معرکہ کو ”غزوہ بدر الکبریٰ“ اور غزوہ بدرالعظمٰی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن ﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لاریب اور لا فانی کلام قرآنِ مجید میں اس معرکہ کو ”یوم الفرقان“ (یعنی حق و باطل میں درمیان فرق کرنے والے دن) کے نام سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی یہ وہ دن ہے جب حق و باطل، خیر و شر اور کفر و اسلام کے درمیان فرق آشکارا ہو گیا اور اقوامِ عالم کو بھی پتہ چل گیاکہ حق کا علم بردار کون ہے اور باطل کا نقیب کون ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اگر تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو اور اس (چیز) پر جو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر نازل فرمائی، جس دن دو لشکر مقابل (آمنے سامنے) ہوئے اور ﷲ ہر چیز پر قادر ہے“۔(سورة الانفال:آیت۱۴)

٭فرزندانِ توحید کی سر فروشی:
دستور عرب کے مطابق جب جنگ کی ابتداء ہوئی تو مشرکین میں سے عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کے ساتھ میدانِ کارِ زار میں نکلا۔ مبارزت طلب کرنے لگا تو لشکر اسلام میں سے حضرت امیر حمزہ، حضرت علی المرتضی اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہم، عتبہ، ولید اور شیبہ کے مقابل ہوئے اور یوں دست بہ دست جنگ شروع ہوئی توحضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ کو واصل جہنم کر دیا۔ جب کہ حضرت علی حیدر کرار رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو جہنم رسید کیا، جب کہ حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ شیبہ کے ہاتھوں زخمی ہو گئے، یہ دیکھ کر شیر خدا حضرت علی المرتضی آگے بڑھے اور اپنی ضربِ حیدری کے ایک ہی وار سے شیبہ بن ربیعہ کو بھی جہنم رسید کر دیا۔ تینوں مشرکین سرداروں کی لاشیں زمین پر ڈھیر ہو گئیں۔

اسلام اور کفر کے مابین پہلی باقاعدہ جنگ کا آغاز اس حسین اور دل نشین انداز میں ہوا کہ روحِ عالم کو وجد آ گیا.... حسن فطرت پر نکھار آ گیا.... حق و صداقت کا سر فخر سے بلند ہوگیا.... باطل کا سر ندامت سے جھک گیا.... اور آنِ واحد میں مشرکین کے تین سورماﺅ ں کے قتل سے ہل چل مچ گئی۔ کیونکہ قریش کے جب یہ تینوں سرداروں کو اسلام کے شاہینوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تو اس اندیشہ سے کہ کفار حوصلہ نہ ہار دیں، ابوجہل نے بلند آواز سے یہ نعرہ لگایا.... لنالعزیٰ و لاعزیٰ لکم.... (ہمارا مددگار عزیٰ ہے اور تمھارے پاس کوئی عزیٰ نہیں جو تمھاری مدد کرے) حضور سید عالم ﷺ نے فرزندانِ توحید کو حکم دیا کہ اس کے جواب میں یہ نعرہ بلند کریں۔

اللہ مولاناولا مولا کم قتلا نا فی الجنتہ و قتلا کم فی النار....” یعنی ﷲ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

اس کے بعد پھر عام لڑائی شروع ہوگئی تو حضور اکرم ﷺ نے باہر نکل کر ایک مٹھی کنکروں کی اٹھائی اور لشکر کفار کی طرف پھینکی اور فرمایا؛
” شاھت الوجوہ“ ”برے ہو گئے یہ چہرے “۔ چنانچہ کوئی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھوں اور ناک وغیرہ میں ان سنگریزوں سے کوئی چیز نہ پہنچی ہو۔ یہ سنگریزے نہیں تھے بلکہ اسلامی”ایٹم بم“ تھے کہ جو ہر ایک کافر فوجی کو لگے اور ان کی قوت و طاقت بالکل ٹوٹ گئی اور لشکر کفار میں بھگدڑ مچ گئی۔

چنانچہ قرآن پاک میں ﷲ تبارک و تعالیٰ نے ان کنکریوں کا مارنا یوں بیان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:” اور (اے حبیبﷺ!) آپ نے (حقیقتاً وہ خاک) نہیں پھینکی، جس وقت (بہ ظاہر) آپ نے (خاک) پھینکی تھی، لیکن وہ (خاک) اﷲ تعالیٰ نے پھینکی“۔۔ (سورة الانفال: 17)

جب دست بہ دست عام لڑائی شروع ہو گئی تو لشکر اسلام کا ہر سپاہی پورے جوش و جذبہ کے ساتھ لڑ رہا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا۔ اسلام کا ایک ایک سپاہی کفار کے بیسیوں سپاہیوں پر بھاری تھا اور ان کو جہنم رسید کر رہا تھا ایسے ہی جانباز و جانثار اپنی شجاعت و بہادری اور جذبہ جانثاری کی وجہ سے اور اپنے ملک و ملت اور مذہب پر پروانوں کی طرح اپنی قیمتی جان قربان کر کے ﷲ تعالیٰ کے دربار میں سرخرو ہوتے ہیں۔

٭مسلمانوں کی شاہکار اور تاریخی فتح:
میدانِ بدر میں لشکر اسلام کے پاسبان و محافظ اور جان بازو جان نثار سپاہی کچھ اس بے جگری سے لڑے کہ تھوڑے ہی عرصے میں کفار کی کثرت کو کچل کر واصل جہنم کردیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کی مستجاب دعاﺅں کے صدقے اور طفیل اور خدائے رب ذوالجلال کی تائید و نصرت کی بدولت کفار کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔

کفار کے تقریبا ًستر (70 ) آدمی قتل ہوئے اور 70 افراد کو قیدی بنا دیا گیا اور کفار کے وہ سردار جو شجاعت و بہادری میں بیمثال سمجھے جاتے تھے اور جن پر کفار مکہ کو بڑا ناز تھا، وہ سب کے سب مسلمان مجاہدوں کے ہاتھوں مقتول ہو کر دوزخ کا ایندھن بن گئے اور جو کافر زندہ رہ گئے، وہ میدان چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا اور سیدھا مکہ میں اپنے گھروں میں جاکر دم لیا۔ لشکر اسلام میں سے صرف ( (14خوش نصیب سرفروش مجاہدوں نے شہادت کا عظیم منصب حاصل کیا اور جنت الفردوس میں داخل ہو گئے، جن میں سے چھ (6) مہاجرین اور آٹھ (8) انصار تھے۔

٭غزوہ بدر....تاریخی اہمیت وافادیت:
غزوہ بدر کی اہمیت تاریخ اسلام میں مسلمہ ہے۔ اس جنگ نے چند غریب الوطن سرفروشانِ اسلام کو وہ عزم وحوصلہ اور ولولہ کی ایسی دولت عطا کر دی، جس کی بدولت ان میں مستقبل کی بڑی سے بڑی قوت و طاقت کے خلاف بھی نبرد آزما ہونے کی جرات و ہمت پیدا کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بدر ہی سے اسلام کا عروج شروع ہوا کیونکہ اس جنگ کی عظیم فتح نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اب مسلمان ایک ایسی زندہ قوم اور ایسی عظیم قوت بن گئے ہیں کہ جن کا مٹانا ”لوہے کے چنے چبانا“ کے مترادف ہے۔ مٹھی بھر مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا زیادہ مسلح دشمنوں کو صرف چند گھنٹوں میں راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ ایک معجزہ کی حیثیت سے کم نہیں تھا، چنانچہ اس عظیم واقعہ کے بعد لوگوں کو اسلام کی حقانیت و صداقت اور آفاقی پیغام رشدو ہدایت پر کامل یقین آ گیا اور لوگ فوج در فوج اسلام قبول کرنے لگے، گویا کہ اس عظیم جنگ نے اسلام کے نشرو اشاعت کے دروازے کھول دئیے ۔

جنگ بدر کی عظیم فتح کے بعد دنیائے عالم میں اور بالخصوص عالم اسلام اور سارے عرب میں مسلمانوں کی شان و شوکت کا ڈنکہ بجنے لگا اور ہزاروں لوگ فوج در فوج اسلام قبول کرنے لگے ۔ اسلام کی اس پہلی عظیم فتح سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی جنگ میں پہل نہیں کرتے بلکہ آخری وقت تک جنگ سے احتراز کرتے ہیں اس لئے کہ دین اسلام، امن و سلامتی کا دین ہے۔
غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا ایک یاد گار ترین واقعہ ہے۔ یہ کفر کے خلاف اسلام کی پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔ جب اہل کفر اور اہل اسلام مجتمع ہو کر ایک دوسرے کے خلاف مقابل ہوئے اور مسلمانوں نے قلیل تعداد اور آلاتِ حرب و ضرب کے ناکافی ہونے کے باوجود عالم کفر کو عبرت ناک شکست فاش دی، اس اعتبار سے یہ اپنی نوعیت کا، تاریخ انسانیت کا انوکھا ترین واقعہ ہے۔

جنگ بدر کی عظیم الشان فتح کے بعد مدینہ منورہ اور گردو نواح کے دشمنانِ اسلام بڑے خوفزدہ ہوئے جس سے مسلمانوں کو اور اسلام کو بہت بڑی زیادہ قوت وتقویت ملی، اس جنگ کی عظیم فتح نے مسلمانوں کے قدم انتہائی مضبوط ومستحکم کر دیئے اور دینِ حق کی سر بلندی اور استحکام کا خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہوا۔

جنگ بدر سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اگر خلوص و للہیت کے ساتھ کلمہ حق بلند کرنے کیلئے میدان میں نکلا جائے تو ہرحال میں ﷲ تبارک و تعالیٰ کی تائید و نصرت ہمارے شامل حال ہوتی ہے۔ کیونکہ:

آج بھی ہو جو ابراہیم کا سا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔ اندازِ گلستان پیدا

دُعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ ہمیں ہر میدان میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید الانبیاءو المرسلین.

سترہ رمضان المبارک 2 ہجری یومِ فرقان غزوہ بدر

17 رمضان المبارک 2 ہجری
13 مارچ 624
یومِ فرقان غزوہ بدر 

وہ دن جب دنیا بھر کو پیغام دیا گیا کہ عاشقان رسول اور دشمنانِ رسول ایک نہیں ہوسکتے چاہے باپ بیٹے کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو
رشتہ صرف محمد عربی سے ہے اور دشمنان اسلام کے لئے صرف تلوار ہے

غزوہ بدر 17 رمضان المبارک 2 ہجری بمطابق 13 مارچ 624 عیسوی بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔ روایات میں مجموعی تعداد 313 ہے لیکن والد کا نام، قبیلہ کا نام اور ملتے جلتے ناموں کی وجہ سے متفقہ 313 نام کسی جگہ بھی نہیں، البتہ تھوڑے اختلاف سے  331 (91 مہاجر 64 اوس کے اور 176 خزرج کے) نام میسر ہیں

اکثر تواریخ میں اجمالی طور 290 نام ملتے ہیں جن میں سے 76 مہاجرین کے اور 214 انصار (اوس کے اور خزرج) کے ہیں

اسماء مبارک شہداء بدر 

غزوہ بدر میں (70 کفار مارے گئے اور 70 قیدی بنے جبکہ) کل 14 صحابہ کرام (مہاجرین میں سے 6 اور انصار میں سے 2 اوسی اور 6 خزرجی) شہید ہوئے۔ جن کے اسمائے گرامی مع مختصر تعارف کے یہ ہیں

(1) مہجع بن صالح قوم عک سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت عمر فاروق کے آزاد کردہ غلام تھے۔ غزوہ بدر میں سب سے پہلے یہی شہید ہوئے تھے
(2) عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبد مناف بن قصی آپ کی کنیت ابو حارث یا ابو معاویہ ہے 63 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ سب سے پہلے اسلامی سریہ کے سردار یہی بنائے گئے تھے
(3) عمیر بن ابی وقاص۔ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی ہیں۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 16 سال کی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو چھوٹے ہونے کی وجہ سے جنگ سے واپس کرنا چاہا تو یہ رونے لگے اس لئے آپ نے اجازت دے دی
(4) عاقل بن بکیر بن عبد ياليل
(5) عمیر بن عبد عمرو بن نضلہ۔
ذوالشمالین آپ کا لقب تھا۔ کنیت ابو محمد تھی۔ بنو زہرہ کے حلیف تھے
(6) عوف یا (عوذ) بن عفرا ۔ یہ انصاری صحابی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام عفرا تھا اور والد کا نام حارث تھا
(7) معوذ بن عفرا۔ یہ عوف بن عفرا کے بھائی ہیں
(8) حارث یا (حارثہ) بن سراقہ بن حارث۔ ان کی والدہ انس بن مالک کی پھوپھی ہیں۔ آپ کے حلق میں تیر لگا تھا
(9) یزید بن حارث یا (حرث) بن قیس بن مالک۔ انصاری صحابی ہیں
(10) رافع بن معلی بن لوذان۔ یہ بھی انصاری صحابی ہیں
(11) عمیر بن حمام بن جموح بن زید بن حرام
انصاری صحابی ہیں۔ حضرت عبیدہ بن حارث کے ساتھ مواخات تھی۔ دونوں ایک ہی میدان میں سرخرو ہو کر رونق افروز جنت ہوئے
(12) عمار بن زیادہ بن رافع۔ انصاری صحابی ہیں
(13) سعد بن خیثمہ انصاری۔ کنیت ابو عبداللہ تھی۔ لقب سعد خیر تھا۔ ان کے والد نے انہیں روکا تھا غزوہ بدر میں نہ جانے کے لئے، وہ چاہتے تھے کہ میں خود جاؤں لیکن حضرت سعد نے کہا مجھے جنت میں جانے سے نہ روکو۔ ان کے والد خیثمہ غزوہ احد میں شہید ہوئے
(14) مبشر بن عبد منذر بن زبیر بن زید۔ انصاری صحابی ہیں

یہ وہ چودہ خوش نصیب صحابی ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ان کے علاوہ اور بھی نام ذکر کئے جاتے ہیں جو مختلف فیہ ہیں

شہدائے بدر میں سے تیرہ حضرات تو میدان بدر ہی میں مدفون ہوئے مگر حضرت عبیدہ بن حارث نے چونکہ بدر سے واپسی پر منزل "صفراء" میں وفات پائی اس لئے ان کی قبر شریف منزل "صفراء" میں ہے

10 مئی، مدرز ڈے

چلتی پِھرتی ہُوئی آنکھوں سے ، اَذاں دیکھی ہے 
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ، مگر ماں دیکھی ہے

پندرہ رمضان المبارک یومِ پیدائش حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ

15 رمضان المبارک 3 ہجری
04 مارچ 625 عیسوی
یومِ پیدائش خلیفہ خامس سیدنا امام حسن المجتبٰی
السلام اے سخی ابن سخی
السلام اے کریم ابن کریم
السلام اے حلیم ابن علیم 
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

امام حسن المجتبٰی مولائے کائنات سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی اور فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے بڑے بیٹے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن، لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی۔

سبط رسول الله وحفيده وريحانته
سيد شباب أهل الجنة، أبو محمد

سیدنا امام حسن المجتبٰی 04 مارچ 625 بمطابق  15 رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں آپ کی پیدائش بہت بڑی خوشی تھی۔ جب مکہ مکرمہ میں رسول اللہ کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکیوں کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کو خوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا۔ آپ کی ولادت سے پہلے ام الفضل نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکڑا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی

حسن بن علی کے مدینہ میں آنے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی حسن بن علی اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ اج دُنیا آلِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں۔ جبکہ رسول اللہ کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجود تھی ایسے فنا ہوئے کہ نام و نشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا۔ یہ ہے قران کی سچائی اور رسول اللہ کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش سے پیغمبر خدا کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیا کے سامنے آئی

ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن رکھا۔ یہ نام اسلام سے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر خدا کے اسی فرزند کا نام قرار پایا۔ حسین ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان سے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کُود کر آپ ﷺ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ایسے کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نرمی سے اٹھتے تھے تا کہ وہ (حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ) گر نہ جائیں۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ ﷺ جیسا سلوک ان کے ساتھ کرتے ہیں،  ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرائے گا ‘‘ 
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا : پس اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ ان کی خلافت میں  ایک شیشی کی مقدار بھی خون نہیں بہایا گیا

سیدنا امام حسن المجتبٰی کی شہادت 28 صفر المظفر 50 ہجری بمطابق یکم اپریل 670 کو ہوئی ۔آپ جنت البقیع مدینہ منورہ میں مدفون ہیں

ازواج :
ام كلثوم بنت الفضل بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف
خولہ بنت منظور بن زَبّان بن سیار بن عمرو
ام بشیر بنت ابی مسعود عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ
جعدہ بنت الاشعث بن قیس بن معدی كرب الكندی

ام ولد تدعى بقیلہ
ام ولد تدعى ظمیاء
ام ولد تدعى صافیہ
ام اسحاق بنت طلحہ بن عبید الله
زینب بنت سبیع بن عبد الله اخی جریر بن عبد الله البجلی

اولاد (متفق علیہ) :
الحسن المثنى بن الحسن السبط
فاطمہ بنت الحسن بن علی
زید بن الحسن السبط
ام الحسن بنت الحسن بن علی
القاسم بن الحسن بن علی
عبد الله بن الحسن بن علی
حسین بن الحسن بن علی (حسین الاثرم)
عبد الرحمٰن بن الحسن بن علی
ام سلمہ بنت الحسن بن علی
ام عبد الله بن الحسن بن علی
عمرو بن الحسن بن علی
طلحہ بن الحسن بن علی

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج : حدیث صحیح، اخرجہ الطیالسی: 874، ابن حبان:6964،  طبرانی فی ’’الکبیر‘‘: 2591

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ آپ ﷺ ایک مرتبہ لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک بار ان پر نظر ڈالتے اور فرماتے تھے : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ‘‘

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اخرجہ البخاری:2704، 3746، 7109

(دوسری سند)
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،  وہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ گئے۔ وہ  آپ ﷺ کے پاس منبر پر چلے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں سینہ مبارک سے لگا لیا اور ان کے سر پر ہاتھ  پھیر کر فرمایا : ’’ میرا  یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ‘‘

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج : انظر الحدیث بالطریق الاول 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اُس نے مجھے ہی دیکھا، کیوں کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ‘‘ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: جب یہی حدیث  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کی تو میں نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو  خواب میں دیکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا : کیا واقعی تم نے دیکھا ہے ؟  میں نے کہا : جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا کہ آپ ﷺ  ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ ﷺ کے  چلنے کا انداز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہیں

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: 391، مستدرک حاکم:4/393

عُقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : نبی کریم ﷺ کی وفات  کے چند راتوں بعد  میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ نکلا۔ ان کے پہلو میں  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی چلے آ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم ﷺ کے مشابہ ہے۔ یہ اپنے والد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہنس پڑے۔

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ صحیح علیٰ شرط البخاری، اخرجہ البزار:53،  مسند ابویعلیٰ:38،  طبرانی فی ’’الکبیر‘‘:2528

حضرت ابو جُحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ ﷺ لوگوں میں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اخرجہ البخاری:3543، 3544، مسلم:2343

پندرہ رمضان المبارک 3 ہجری یومِ پیدائش حضرت امام حسن المجتبٰی رضی اللہ عنہ

15 رمضان المبارک 3 ہجری
04 مارچ 625 عیسوی
یومِ پیدائش خلیفہ خامس سیدنا امام حسن المجتبٰی
السلام اے سخی ابن سخی
السلام اے کریم ابن کریم
السلام اے حلیم ابن علیم 
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

امام حسن المجتبٰی مولائے کائنات سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی اور فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے بڑے بیٹے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن، لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی۔

سبط رسول الله وحفيده وريحانته
سيد شباب أهل الجنة، أبو محمد

سیدنا امام حسن المجتبٰی 04 مارچ 625 بمطابق  15 رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں آپ کی پیدائش بہت بڑی خوشی تھی۔ جب مکہ مکرمہ میں رسول اللہ کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکیوں کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کو خوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا۔ آپ کی ولادت سے پہلے ام الفضل نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکڑا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی

حسن بن علی کے مدینہ میں آنے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی حسن بن علی اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ اج دُنیا آلِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں۔ جبکہ رسول اللہ کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجود تھی ایسے فنا ہوئے کہ نام و نشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا۔ یہ ہے قران کی سچائی اور رسول اللہ کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش سے پیغمبر خدا کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیا کے سامنے آئی

ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن رکھا۔ یہ نام اسلام سے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر خدا کے اسی فرزند کا نام قرار پایا۔ حسین ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان سے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کُود کر آپ ﷺ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ایسے کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نرمی سے اٹھتے تھے تا کہ وہ (حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ) گر نہ جائیں۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ ﷺ جیسا سلوک ان کے ساتھ کرتے ہیں،  ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرائے گا ‘‘ 
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا : پس اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ ان کی خلافت میں  ایک شیشی کی مقدار بھی خون نہیں بہایا گیا

سیدنا امام حسن المجتبٰی کی شہادت 28 صفر المظفر 50 ہجری بمطابق یکم اپریل 670 کو ہوئی ۔آپ جنت البقیع مدینہ منورہ میں مدفون ہیں

ازواج :
ام كلثوم بنت الفضل بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف
خولہ بنت منظور بن زَبّان بن سیار بن عمرو
ام بشیر بنت ابی مسعود عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ
جعدہ بنت الاشعث بن قیس بن معدی كرب الكندی

ام ولد تدعى بقیلہ
ام ولد تدعى ظمیاء
ام ولد تدعى صافیہ
ام اسحاق بنت طلحہ بن عبید الله
زینب بنت سبیع بن عبد الله اخی جریر بن عبد الله البجلی

اولاد (متفق علیہ) :
الحسن المثنى بن الحسن السبط
فاطمہ بنت الحسن بن علی
زید بن الحسن السبط
ام الحسن بنت الحسن بن علی
القاسم بن الحسن بن علی
عبد الله بن الحسن بن علی
حسین بن الحسن بن علی (حسین الاثرم)
عبد الرحمٰن بن الحسن بن علی
ام سلمہ بنت الحسن بن علی
ام عبد الله بن الحسن بن علی
عمرو بن الحسن بن علی
طلحہ بن الحسن بن علی

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج : حدیث صحیح، اخرجہ الطیالسی: 874، ابن حبان:6964،  طبرانی فی ’’الکبیر‘‘: 2591

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ آپ ﷺ ایک مرتبہ لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک بار ان پر نظر ڈالتے اور فرماتے تھے : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ‘‘

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اخرجہ البخاری:2704، 3746، 7109

(دوسری سند)
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،  وہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ گئے۔ وہ  آپ ﷺ کے پاس منبر پر چلے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں سینہ مبارک سے لگا لیا اور ان کے سر پر ہاتھ  پھیر کر فرمایا : ’’ میرا  یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ‘‘

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج : انظر الحدیث بالطریق الاول 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اُس نے مجھے ہی دیکھا، کیوں کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ‘‘ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: جب یہی حدیث  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کی تو میں نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو  خواب میں دیکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا : کیا واقعی تم نے دیکھا ہے ؟  میں نے کہا : جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا کہ آپ ﷺ  ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ ﷺ کے  چلنے کا انداز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہیں

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: 391، مستدرک حاکم:4/393

عُقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : نبی کریم ﷺ کی وفات  کے چند راتوں بعد  میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ نکلا۔ ان کے پہلو میں  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی چلے آ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم ﷺ کے مشابہ ہے۔ یہ اپنے والد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہنس پڑے۔

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ صحیح علیٰ شرط البخاری، اخرجہ البزار:53،  مسند ابویعلیٰ:38،  طبرانی فی ’’الکبیر‘‘:2528

حضرت ابو جُحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ ﷺ لوگوں میں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے

مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اخرجہ البخاری:3543، 3544، مسلم:2343

تیرہ رمضان المبارک 15 ہجری یومِ فتح بیت المقدس

13 رمضان المبارک 15 ہجری
جب سیدنا عمر بیت المقدس میں فاتح بن کر داخل ہوئے

2 اکتوبر 1187
جب صلاح الدین ایوبی بیت المقدس میں حضرت عمر فاروق کے بعد دوسری مرتبہ فاتح بن کر داخل ہوئے

اس کے بعد بیت المقدس 1 اگست 1967 تک مسلمانوں کے پاس تھا۔ لیکن آج اسرائیلی فوجی دندناتے پھرتے ہیں ۔صلاح الدین کب آئے گا 

بیت المقدس 583 ہجری بمطابق 2 اکتوبر 1187ء میں ایوبی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا اور 20 ستمبر 1187 سے 2 اکتوبر1187  تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کرلیا۔ فتح بیت المقدس کے بعد سلطان نے کسی قسم کا خون
خرابا نہیں کیا جس کا مظاہرہ پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر صلیبیوں نے کیا تھا۔

4 جولائی 1187ء کو جنگ حطین میں زبردست شکست کے بعد عیسائیوں کی مملکت یروشلم کمزور پڑگئی اور کئی اہم شخصیات صلاح الدین کی قید میں چلی گئیں۔ ستمبر کے وسط میں صلاح الدین نے عکہ، نابلوس، یافہ، سیدون، بیروت اور دیگر شہر فتح کرلئے۔ جنگ کے شکست خوردہ عیسائی صور پہنچ گئے۔ جہاں حطین کے معرکے کے شکست خوردہ کئی عیسائی جنگجو بھی تھے جن میں بیلین ابیلنی بھی شامل تھا اس نے اپنے اہل خانہ کو واپس لانے کے لئے صلاح الدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے بیت المقدس جانے کی اجازت دے۔ صلاح الدین نے اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ایک دن سے زیادہ قیام نہیں کرے گا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ملکہ سبلیا نے اس سے شہر کا دفاع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوج کی کمان سنبھالنے کی ہدایت کی۔ بیلین نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں اور شہر میں اشیائے خورد و نوش اور اسلحے کا ذخیرہ جمع کرنا شروع کردیا

صلاح الدین کی زیر قیادت شام و مصر کی افواج صور کے ناکام محاصرے کے بعد 20 ستمبر 1187ء کو بیت المقدس پہنچ گئیں

صلاح الدین اور بیلین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ صلاح الدین بغیر خون خرابے کے شہر حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن شہر کے عیسائیوں نے بغیر لڑے مقدس شہر چھوڑنے سے انکار کردیا اور دھمکی دی کہ وہ پرامن طور پر شہر دشمن کے حوالے کرنے پر اسے تباہ کرنے اور خود مرجانے کو ترجیح دیں گے

مذاکرات میں ناکامی پر صلاح الدین نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ صلاح الدین کی افواج برج داؤد اور باب دمشق کے سامنے کھڑی ہوگئیں اور تیر اندازوں نے حملے کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ منجنیقوں کے ذریعے شہر پر سنگ باری کی گئی۔ صلاح الدین کی افواج نے کئی مرتبہ دیواریں توڑنے کی کوشش کی لیکن عیسائیوں نے اسے ناکام بنادیا۔ 6 روزہ محاصرے کے بعد صلاح الدین نے افواج کو شہر کے دوسرے حصے کی جانب منتقل کردیا اور حملہ جبل زیتون کی جانب سے کیا جانے لگا۔ 29 ستمبر کو مسلم افواج شہر کی فصیل کا ایک حصہ گرانے میں کامیاب ہوگئیں تاہم وہ فوری طور پر شہر میں داخل نہ ہوئیں اور دشمن کی عسکری قوت کو ختم کرتی رہیں۔

ستمبر 1187 کے اختتام پر بیلین نے صلاح الدین سے مذاکرات کے دوران ہتھیار ڈال دئیے۔ صلاح الدین نے مردوں کے لئے 20، عورتوں کے لئے 10 اور بچوں کے لئے 5 اشرفیوں کا فدیہ طلب کیا اور جو لوگ فدیہ نہیں دے سکے ان کا فدیہ سلطان صلاح الدین نے خود ادا کیا یا انہیں غلام بنالیا گیا۔ بعد ازاں سلطان نے فدیہ کی رقم مزید کم کرکے مردوں کے لئے 10، عورتوں کے لئے 5 اور بچوں کے لئے صرف ایک اشرفی مقرر کردی۔ بیلین نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ یہ بھی بہت زیادہ ہے جس پر سلطان نے صرف 30 ہزار اشرفیوں کے بدلے تمام عیسائیوں کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا

2  اکتوبر 1187 کو بیلین نے برج داؤد کی چابیاں سلطان کے حوالے کردیں۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ تمام عیسائیوں کو فدیہ کی ادائیگی کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا جارہا ہے جس میں 50 دن تک کی توسیع کی گئی۔

صلاح الدین ایک رعایا پرور اور رحم دل بادشاہ تھا اس نے غلام بنائے گئے عیسائیوں کا فدیہ خود ادا کرکے انہیں رہا کردیا۔

فتح بیت المقدس کے بعد صلاح الدین کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے عیسائیوں سے مسلمانوں کے اس قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جو انہوں نے 1099ء میں بیت المقدس کی فتح کے بعد کیا تھا بلکہ اس نے انہیں حد درجہ رعایت دی

فتح کے بعد سلطان نے مسجد اقصٰی کو عرق گلاب سے دھلوایا

فتح بیت المقدس کی خبر یورپ کے عیسائیوں پر بجلی بن کر گری جس کے جواب میں انہوں نے تیسری صلیبی جنگ کا اعلان کردیا اور انگلینڈ کے رچرڈ شیر دل، فرانس کے فلپ آگسٹس اور جرمنی کے فریڈرک باربروسا کی زیر قیادت ایک عظیم مسیحی لشکر بیت المقدس پر چڑھائی کے لئے روانہ ہوا

تیسری صلیبی جنگ میں یورپ کے عیسائیوں کو ناکامی ہوئی۔ یہ جنگ 1189ء سے 1192ء تک جاری رہی۔

بیت المقدس پر تقربیاً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ تاآنکہ 14 مئی 1948ء میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں 1 اگست 1967 کو بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کر لیا

بیت المقدس کی سرزمین آج بھی کسی صلاح الدین ایوبی کا راستہ دیکھ رہی ہے

یہ میری قوم کے حکمراں بھی سنیں
میری اجڑی ہوئی داستاں بھی سنیں
جو مجھے ملک تک مانتے ہی نہیں
ساری دنیا کے وہ رہنما بھی سنیں
صرف لاشیں ہی لاشیں میری گود میں
کوئی پوچھے میں کیوں اتنا غمگین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

آئے تھے ایک دن میرے گھر آئے تھے
دشمنوں کو بھی تنہا نظر آئے تھے
اونٹ پر اپنا خادم بٹھائے ہوئے
میری اس سرزمیں پر عمر  آئے تھے
جس کی پرواز ہے آسمانوں تلک
زخمی زخمی میں وہ ایک شاہین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

میرے دامن میں ایمان پلتا رہا
ریت پر رب کا فرمان پلتا رہا
میرے بچے لڑے آخری سانس تک
اور سینوں میں قرآن پلتا رہا
ذرے ذرے میں اللہ اکبر لئے
خوش نصیبی ہے میں صاحبِ دین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

نہ ہی روئیں گے اور نہ ہی مسکائیں گے
صرف نغمے شہادت کے ہی گائیں گے
اپنا بیت المقدس بچانے کو تو
میرے بچے ابابیل بن جائیں گے
جو ستم ڈھا رہے ابرہہ کی طرح
ان کی خاطر میں سامانِ توہین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں