غزوہ بدر - حق و باطل کا پہلا تاریخ ساز معرکہ
”غزوہ بدر“ سلسلہ غزوات میں اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ ہے۔ غزوہ بدر میں حضور سید عالم ﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جانثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، ان میں ایک حضرت سیدنا علی المرتضٰی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے ہاتھ میں تھا ۔ جب رزم گاہِ بدر کے قریب پہنچے تو امام المجاہدین حضور سرور دو عالم ﷺ نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منتخب جان بازوں کے ساتھ ”غنیم“ کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لئے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی
17 رمضان المبارک 2 ہجری بمطابق 13 مارچ 624 عیسوی، جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدر کی ابتداء ہوئی۔”بدر“ ایک گاﺅں کا نام ہے، جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر ہے۔ جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور سید عالم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کردی تھیں
اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آرہے ہیں۔ اور اس پر مزید یہ کہ عمروبن حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جس نے قریش مکہ کی آتش غضب کو مزید بھڑکا دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور امر واقعہ کا اظہار فرمایا۔حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب میں نہایت جانثارانہ وفدایانہ تقریریں کیں۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (خزرج کے سردار) نے عرض کی کہ ”یا رسول اﷲ ﷺ ! خدا کی قسم ! اگر آپ حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کودنے کو تیار ہیں۔ بہ قول حفیظ جالندھری
نبی کا حکم ہو تو کود جائیں ، ہم سمندر میں
اور جہاں کو محو کردیں نعرئہ اﷲ اکبر میں
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ” ہم موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب خود جاکر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں سے بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے پھر آپ نے اعلان کیا کہ ہم لوگ واقعی آپ کے تابعدار ہوں گے، جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ آپ ﷺ بسم ﷲ کیجئے اور جنگ کا حکم فرمائیں، ان شاءﷲ اسلام ہی غالب آئے گا۔ بقول شاعر
غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے، پروا نہیں کرتے
حضور سرکار ِدو عالم ﷺ نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس جذبہ سر فروشانہ اور جوش ِایمانی کو دیکھا تو آپ کا چہره اقدس فرط ِمسرت سے چمک و دمک اٹھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا چہرئہ مبارکہ آسمان کی طرف اٹھاکر ان سب کےلئے بارگاہِ خداوندی میں دعائے خیر فرمائی۔
اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ” خداوند قدوس نے مجھے قافلہ و لشکر میں سے کسی ایک پر فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بلا شبہ ﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قسم بہ خدا میں ابھی سے کفار کے سرداروں کی قتل گاہ دیکھ رہا ہوں .... پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ فلاں کافر قتل ہو گا، اس جگہ فلاں کافر قتل ہو گا۔ آپ ﷺ نے مقتولوں میں سے ہر ایک کا محل قتل بتا دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہاں جہاں حضور ﷺ نے فرمایا تھا، وہ کافر وہاں ہی قتل ہوا۔(مشکوٰة/مدارج النبوت)
لشکر اسلام کی تعداد
حضور سید عالم ﷺ 12رمضان المبارک 2 ہجری کو اپنے تین سو تیرہ (313) جانبازو جانثار ساتھیوں کو ساتھ لے کر میدانِ بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ ﷺ اپنے مختصر سے لشکر کو لے کر مدینہ طیبہ سے تھوڑی دور پہنچے تو آپ ﷺ نے جیش اسلام کا جائزہ لیا اور جو اس کارواں میں کم سن اور نو عمر تھے، انہیں واپس فرما دیا۔ حضرت عمیر بن ابی وقاص ایک کم سن سپاہی بھی شامل تھے، انہیں جب واپسی کیلئے کہا گیا تو وہ رو پڑے، حضور ﷺ نے ان کا یہ جذبہ جہاد و شوقِ شہادت دیکھ کر انہیں شاملِ جہاد رہنے کی اجازت عطا فرما دی۔ لشکر اسلام کی کل تعداد 313 تھی ، جس میں سے 60 مہاجرین اور 253 انصار تھے۔
چلتے چلتے یہ بے نظیر و بے مثال لشکر 16رمضان المبارک بہ روز جمعرات 2 ہجری کو میدان بدر پہنچ گیا۔ ادھر مکہ معظمہ سے قریشِ مکہ بڑے ساز و سامان کے ساتھ نکلے تھے ۔ ایک ہزار آدمیوں کا لشکر تھا ۔ سو سواروں کا رسالہ تھا۔ رﺅسائے قریش سب شریکِ جنگ تھے اور اُمرائِ قریش باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے ۔ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے معزز رئیس تھا ،اپنی اس طاغوتی فوج کا سپہ سالار بنایا گیا تھا۔
17 رمضان المبارک کی مبارک شب تھی، تمام مجاہدینِ اسلام آرام کر رہے تھے جبکہ حضور رحمت دو عالم ﷺ نے ساری رات عبادت و ریاضت اور دعا میں گزاری صبح کو نماز فجر کیلئے تمام سر فروشان اسلام مجاہدین کو بیدار کیا اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد قرآن مجید کی”آیاتِ جہاد“ تلاوت فرما کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا کہ مجاہدینِ اسلام کی رگوں میں خون کا قطرہ قطرہ جوش وجذبہ کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور مجاہدین جلد از جلد جنگ کیلئے تیار ہونے لگے۔
صف آرائی کا دل نشین منظر
حضور نبی کریم ﷺ کے دست اقدس میں ایک تیر تھا، اس کے اشارے سے آپ ﷺ مجاہدین کے صفیں قائم فرما رہے تھے۔ ”مہاجرین“ کا علم و پرچم حضرت مصعب بن عمیر کو، ”خزرج“ کے علمبردار حباب بن منذر اور ”اوس“ کے علمبردار سعد بن معاذ مقرر فرمائے۔چنانچہ لشکر اسلام کی صف آرائی ہوئی اور مشرکین مکہ بھی مقابل میں صفیں باندھے کھڑے تھے.... ایسا دل کش نظارہ کبھی زمین و آسمان نے نہیں دیکھا تھا کہ: ایک طرف وہ مشرکین تھے جن کے سر ﷲ وحدہ لا شریک کے سامنے تو نہیں جھکتے تھے، مگر اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کے سامنے خم ہوجاتے تھے.... وہ مشرکین تھے جو سر سے پاﺅں تک تکبر و غرور سے بھر پور تھے ....اور دوسری طرف وہ مومنین کامل تھے، جن کے دل ایمان و ایقان کے نور سے روشن تھے .... وہ مومنین تھے جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ بلند عزائم رکھتے تھے.... وہ صاحبان ایمان و ایقان تھے، جن کے پاس صرف اور صرف دو گھوڑے،چھ زرہیں اور آٹھ شمشیریں تھیں .... وہ مومنین تھے ، جو دنیا بھر کی تقدیر پلٹنے آئے تھے۔
کھڑے تھے اس طرف سب نفس و شیطان کے بندے
صفیں باندھے کھڑے تھے اس طرف رحمان کے بندے
یعنی اُدھر بت پرست تھے، اِدھرحق پرست تھے،
اُدھر کافر تھے، اِدھر مومن تھے ....
اُدھر ظلمت تھی اِدھر نور تھا....
اُدھرظلم وجفا والے تھے، اِدھر صدق ووفا والے تھے....
ادھر ساز و سامان والے تھے، ادھر ایمان ایقان والے تھے....
ادھرجہنمی تھے، ادھر جنتی تھے....
ادھر اہل شیطان تھے، ادھر اہل رحمان تھے....
اُدھر انسانیت کے تخریب کار تھے، اِدھر انسانیت کے معمار تھے....
اُنہیں سامان ِحرب و ضرب پر ناز تھا، اِنہیں تاج دار عرب و عجم پر ناز تھا۔
اُنہیں نیزے و تلوار پر بھروسہ تھا اور اِنہیں کالی کملی والے پر بھر وسہ تھا ۔۔۔۔۔
یہ منظر بڑا ہی عجیب و غریب تھا کہ اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت چند جانوں پر منحصر تھی۔
چنانچہ حضور سید عالم ﷺ نے میدانِ بدر میں اپنے جانثار و جانباز اور وفادار سپاہیوں کو دیکھا اور ان کی قلیل تعداد اور بے سرو سمانی کو بھی دیکھا تو اپنے یدﷲ والے گورے گورے ہاتھوں کو پھیلا کر بارگاہِ باری تعالیٰ میں یوں التجاء کی:
”اے ﷲ! تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ پورا فرما، اے ﷲ.... اگر آج یہ مٹھی بھر نفوس ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک تمام روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا“ ۔
(صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم، جامع ترمذی۔ مسند امام احمد)
حضور سرور دو عالم ﷺ کچھ اس طرح خشوع وخضوع سے دعا کر رہے تھے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک آپ کے دوش اقدس سے گر گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر مبارک اٹھا کر آپ ﷺ کے کاندھے مبارک پر ڈال دی اور عرض کی کہ یا رسول ﷲ ﷺ ! اب بس کیجئے، اﷲ تعالیٰ نے جو فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ضرور پورا فرمائے گا۔
(البدایہ والنہایہ)
یوم بدر....یوم الفرقان
مؤرخین اس معرکہ کو ”غزوہ بدر الکبریٰ“ اور غزوہ بدرالعظمٰی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن ﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لاریب اور لا فانی کلام قرآنِ مجید میں اس معرکہ کو ”یوم الفرقان“ (یعنی حق و باطل میں درمیان فرق کرنے والے دن) کے نام سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی یہ وہ دن ہے جب حق و باطل، خیر و شر اور کفر و اسلام کے درمیان فرق آشکارا ہو گیا اور اقوامِ عالم کو بھی پتہ چل گیاکہ حق کا علم بردار کون ہے اور باطل کا نقیب کون ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اگر تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو اور اس (چیز) پر جو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر نازل فرمائی، جس دن دو لشکر مقابل (آمنے سامنے) ہوئے اور ﷲ ہر چیز پر قادر ہے“۔(سورة الانفال:آیت۱۴)
٭فرزندانِ توحید کی سر فروشی:
دستور عرب کے مطابق جب جنگ کی ابتداء ہوئی تو مشرکین میں سے عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کے ساتھ میدانِ کارِ زار میں نکلا۔ مبارزت طلب کرنے لگا تو لشکر اسلام میں سے حضرت امیر حمزہ، حضرت علی المرتضی اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہم، عتبہ، ولید اور شیبہ کے مقابل ہوئے اور یوں دست بہ دست جنگ شروع ہوئی توحضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ کو واصل جہنم کر دیا۔ جب کہ حضرت علی حیدر کرار رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو جہنم رسید کیا، جب کہ حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ شیبہ کے ہاتھوں زخمی ہو گئے، یہ دیکھ کر شیر خدا حضرت علی المرتضی آگے بڑھے اور اپنی ضربِ حیدری کے ایک ہی وار سے شیبہ بن ربیعہ کو بھی جہنم رسید کر دیا۔ تینوں مشرکین سرداروں کی لاشیں زمین پر ڈھیر ہو گئیں۔
اسلام اور کفر کے مابین پہلی باقاعدہ جنگ کا آغاز اس حسین اور دل نشین انداز میں ہوا کہ روحِ عالم کو وجد آ گیا.... حسن فطرت پر نکھار آ گیا.... حق و صداقت کا سر فخر سے بلند ہوگیا.... باطل کا سر ندامت سے جھک گیا.... اور آنِ واحد میں مشرکین کے تین سورماﺅ ں کے قتل سے ہل چل مچ گئی۔ کیونکہ قریش کے جب یہ تینوں سرداروں کو اسلام کے شاہینوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تو اس اندیشہ سے کہ کفار حوصلہ نہ ہار دیں، ابوجہل نے بلند آواز سے یہ نعرہ لگایا.... لنالعزیٰ و لاعزیٰ لکم.... (ہمارا مددگار عزیٰ ہے اور تمھارے پاس کوئی عزیٰ نہیں جو تمھاری مدد کرے) حضور سید عالم ﷺ نے فرزندانِ توحید کو حکم دیا کہ اس کے جواب میں یہ نعرہ بلند کریں۔
اللہ مولاناولا مولا کم قتلا نا فی الجنتہ و قتلا کم فی النار....” یعنی ﷲ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
اس کے بعد پھر عام لڑائی شروع ہوگئی تو حضور اکرم ﷺ نے باہر نکل کر ایک مٹھی کنکروں کی اٹھائی اور لشکر کفار کی طرف پھینکی اور فرمایا؛
” شاھت الوجوہ“ ”برے ہو گئے یہ چہرے “۔ چنانچہ کوئی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھوں اور ناک وغیرہ میں ان سنگریزوں سے کوئی چیز نہ پہنچی ہو۔ یہ سنگریزے نہیں تھے بلکہ اسلامی”ایٹم بم“ تھے کہ جو ہر ایک کافر فوجی کو لگے اور ان کی قوت و طاقت بالکل ٹوٹ گئی اور لشکر کفار میں بھگدڑ مچ گئی۔
چنانچہ قرآن پاک میں ﷲ تبارک و تعالیٰ نے ان کنکریوں کا مارنا یوں بیان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:” اور (اے حبیبﷺ!) آپ نے (حقیقتاً وہ خاک) نہیں پھینکی، جس وقت (بہ ظاہر) آپ نے (خاک) پھینکی تھی، لیکن وہ (خاک) اﷲ تعالیٰ نے پھینکی“۔۔ (سورة الانفال: 17)
جب دست بہ دست عام لڑائی شروع ہو گئی تو لشکر اسلام کا ہر سپاہی پورے جوش و جذبہ کے ساتھ لڑ رہا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا۔ اسلام کا ایک ایک سپاہی کفار کے بیسیوں سپاہیوں پر بھاری تھا اور ان کو جہنم رسید کر رہا تھا ایسے ہی جانباز و جانثار اپنی شجاعت و بہادری اور جذبہ جانثاری کی وجہ سے اور اپنے ملک و ملت اور مذہب پر پروانوں کی طرح اپنی قیمتی جان قربان کر کے ﷲ تعالیٰ کے دربار میں سرخرو ہوتے ہیں۔
٭مسلمانوں کی شاہکار اور تاریخی فتح:
میدانِ بدر میں لشکر اسلام کے پاسبان و محافظ اور جان بازو جان نثار سپاہی کچھ اس بے جگری سے لڑے کہ تھوڑے ہی عرصے میں کفار کی کثرت کو کچل کر واصل جہنم کردیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کی مستجاب دعاﺅں کے صدقے اور طفیل اور خدائے رب ذوالجلال کی تائید و نصرت کی بدولت کفار کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔
کفار کے تقریبا ًستر (70 ) آدمی قتل ہوئے اور 70 افراد کو قیدی بنا دیا گیا اور کفار کے وہ سردار جو شجاعت و بہادری میں بیمثال سمجھے جاتے تھے اور جن پر کفار مکہ کو بڑا ناز تھا، وہ سب کے سب مسلمان مجاہدوں کے ہاتھوں مقتول ہو کر دوزخ کا ایندھن بن گئے اور جو کافر زندہ رہ گئے، وہ میدان چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا اور سیدھا مکہ میں اپنے گھروں میں جاکر دم لیا۔ لشکر اسلام میں سے صرف ( (14خوش نصیب سرفروش مجاہدوں نے شہادت کا عظیم منصب حاصل کیا اور جنت الفردوس میں داخل ہو گئے، جن میں سے چھ (6) مہاجرین اور آٹھ (8) انصار تھے۔
٭غزوہ بدر....تاریخی اہمیت وافادیت:
غزوہ بدر کی اہمیت تاریخ اسلام میں مسلمہ ہے۔ اس جنگ نے چند غریب الوطن سرفروشانِ اسلام کو وہ عزم وحوصلہ اور ولولہ کی ایسی دولت عطا کر دی، جس کی بدولت ان میں مستقبل کی بڑی سے بڑی قوت و طاقت کے خلاف بھی نبرد آزما ہونے کی جرات و ہمت پیدا کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بدر ہی سے اسلام کا عروج شروع ہوا کیونکہ اس جنگ کی عظیم فتح نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اب مسلمان ایک ایسی زندہ قوم اور ایسی عظیم قوت بن گئے ہیں کہ جن کا مٹانا ”لوہے کے چنے چبانا“ کے مترادف ہے۔ مٹھی بھر مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا زیادہ مسلح دشمنوں کو صرف چند گھنٹوں میں راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ ایک معجزہ کی حیثیت سے کم نہیں تھا، چنانچہ اس عظیم واقعہ کے بعد لوگوں کو اسلام کی حقانیت و صداقت اور آفاقی پیغام رشدو ہدایت پر کامل یقین آ گیا اور لوگ فوج در فوج اسلام قبول کرنے لگے، گویا کہ اس عظیم جنگ نے اسلام کے نشرو اشاعت کے دروازے کھول دئیے ۔
جنگ بدر کی عظیم فتح کے بعد دنیائے عالم میں اور بالخصوص عالم اسلام اور سارے عرب میں مسلمانوں کی شان و شوکت کا ڈنکہ بجنے لگا اور ہزاروں لوگ فوج در فوج اسلام قبول کرنے لگے ۔ اسلام کی اس پہلی عظیم فتح سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی جنگ میں پہل نہیں کرتے بلکہ آخری وقت تک جنگ سے احتراز کرتے ہیں اس لئے کہ دین اسلام، امن و سلامتی کا دین ہے۔
غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا ایک یاد گار ترین واقعہ ہے۔ یہ کفر کے خلاف اسلام کی پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔ جب اہل کفر اور اہل اسلام مجتمع ہو کر ایک دوسرے کے خلاف مقابل ہوئے اور مسلمانوں نے قلیل تعداد اور آلاتِ حرب و ضرب کے ناکافی ہونے کے باوجود عالم کفر کو عبرت ناک شکست فاش دی، اس اعتبار سے یہ اپنی نوعیت کا، تاریخ انسانیت کا انوکھا ترین واقعہ ہے۔
جنگ بدر کی عظیم الشان فتح کے بعد مدینہ منورہ اور گردو نواح کے دشمنانِ اسلام بڑے خوفزدہ ہوئے جس سے مسلمانوں کو اور اسلام کو بہت بڑی زیادہ قوت وتقویت ملی، اس جنگ کی عظیم فتح نے مسلمانوں کے قدم انتہائی مضبوط ومستحکم کر دیئے اور دینِ حق کی سر بلندی اور استحکام کا خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہوا۔
جنگ بدر سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اگر خلوص و للہیت کے ساتھ کلمہ حق بلند کرنے کیلئے میدان میں نکلا جائے تو ہرحال میں ﷲ تبارک و تعالیٰ کی تائید و نصرت ہمارے شامل حال ہوتی ہے۔ کیونکہ:
آج بھی ہو جو ابراہیم کا سا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔ اندازِ گلستان پیدا
دُعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ ہمیں ہر میدان میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید الانبیاءو المرسلین.