Friday, May 15, 2020

چودہ مئی 1907 یومِ پیدائش ایوب خان

14 مئی 1907
یومِ پیدائش محمد ایوب خان 

محمد ایوب خان  پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل  تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں

صدر محمد ایوب خان 14 مئی 1907 کو ہری پور ہزارہ کے قریب ایک گاؤں ریحانہ میں ایک ہندکو پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد میر داد خان کی دوسری بیوی کے پہلے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کا نام سرائے صالح کے ایک اسکول میں داخل کروایا گیا اور اس کے علاوہ ایک قریبی گاؤں کاہل پائیں میں بھی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی جو ان کے گھر سے 5 میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ خچر کے ذریعے اسکول جایا کرتے تھے۔ آپ نے 1922 میں علیگڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن تعلیم مکمل نہ کی کیونکہ اس دوران میں آپ نے رائل اکیڈمی آف سینڈہسٹز کو قبول کر لیا تھا

آپ نے اس تربیت گاہ میں بہت اچھا وقت گزارا اور آپ کو 14 پنجاب رجمنٹ شیر دل میں تعینات کیا گیا جو اب 5 پنجاب رجمنٹ ہے۔ جنگ عظیم دوم میں آپ نے بطور کپتان حصہ لیا اور پھر بعد میں برما کے محاذ پر بطور میجر تعینات رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان آرمی جوائن کرلی، اس وقت آپ آرمی میں دسویں نمبر پر تھے۔ جلد ہی آپ کو بریگیڈئیر بنا دیا گیا اور پھر 1948 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1949 میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر آپ کو ڈپٹی کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔ 17 جنوری 1951 کو آپ پاکستانی فوج  کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف بنے

1954 میں جب محمد علی بوگرہ نے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں میجر اسکندر مرزا اور پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ آپ 24 اکتوبر 1954 سے 11 اگست 1955 تک محمد علی بوگرہ کے دور میں حاضر سروس فوجی ہوتے ہوئے بطور وزیر دفاع خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ دنیا کی واحد مثال ہے کہ سول حکومت کا وزیر دفاع حاضر سروس فوجی ہو

 جب اسکند مرزا نے 7 اکتوبر 1958 میں مارشل لاء لگایا تو آپ کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی فوجی کو براہ راست سیاست میں لایا گیا
 
24 اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دئیے گئے لیکن صدر اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنا پر سکندر مرزا صاحب سے ایوب خان کے اختلافات بڑھتے گئے اور فقط 3 دن بعد  27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان نے پاکستان کی صدارت سنبھال لی اور اسکندر مرزا کو معزول کر دیا
 

جنرل ایوب خان نے خود کو 27 اکتوبر 1958  کو صدرِ پاکستان نامزد کردیا مگر اُس کے ساتھ ہی ساتھ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دئیے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اُس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں

 27 اکتوبر 1959ء کو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا

 17 فروری 1960ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے

ایوب خان نے 1961 میں آئین بنوایا جو صدارتی طرز کا تھا۔ 8 جون 1962ء کو انہوں نے مارشل لاء کے خاتمے اور صدارتی طرز حکومت کے نئے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اس آئین کے نتیجے میں 1962 میں عام انتخابات ہوئے اور مارشل لاء اٹھا لیا گیا۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ جزوی طور پر تھا۔ 

جنوری 1965ءمیں ملک میں ایک مرتبہ پھر بنیادی جمہوریت کے نظام پر مبنی صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ 02 جنوری 1965 کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات  میں صدر ایوب خان کے مدِ مقابل سب سے اہم حریف مادرِ ملت فاطمہ جناح تھیں جو قائداعظم کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ہار گئیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک شرمناک باب اور انتخابات کے دوران دھاندلی کا آغاز تھا

06 ستمبر 1965ء کو  جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوگئی۔ 

10 جنوری 1966ءکو  تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔ پاکستان کے عوام میں اس معاہدے سے بڑی بددلی پھیلی

فاطمہ جناح کے خلاف مشکوک فتح اور 1965 کی جنگ کی وجہ سے ایوب خان کے لیے حالات ناسازگار ہو چکے تھے۔ تاشقند معاہدے سے واپسی پر اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ملک کی عزت اور قربانی بیچ ڈالی۔ اس بیان کے بعد بھٹو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

1967 میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی اور ایوب خان کی مذہبی، معاشی اور عوامی پالیسیز پر شدید تنقید شروع کر دی۔ بھٹو کی تحریک کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی ایوب خان کے خلاف شیخ مجیب الرحمٰن کی تحریک سرگرم ہو چکی تھی۔ ایوب خان نے بھٹو اور شیخ مجیب کو پابند سلاسل کر دیا۔ اس سے ایوب خان کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا

1968ء میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئےاور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کر دیا۔ ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہو گیا

1968 میں ایوب خان پر قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ 1969 میں ایوب خان نے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ باقی اپوزیشن پارٹیز سے مذاکرات کے لیے گول میز کانفرنس کی لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ اس دوران ایوب خان کو دل کا دورہ لاحق ہوا اور اسی سال ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا اور وہ صاحب فراش ہو گئے۔ انہیں ویل چیئر پر لایا جاتا تھا

ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف احتجاج نے خانہ جنگی کی سی صورت حال پیدا کر دی۔ پولیس کے لیے بلوائیوں کو روکنا مشکل ہو گیا اور بالآخر ایوب خان نے 25 مارچ 1969 کو اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحیٰ خان کو ملک کا صدر بنا دیا اور  خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ گمنامی میں چلے گئے

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 20 اپریل 1974ءکو اسلام آباد میں وفات پاگئے اور اپنے آبائی گاﺅں ریحانہ میں دفن ہوئے

ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری " فرینڈز ناٹ ماسٹرز " کے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہیں

No comments:

Post a Comment