17 رمضان المبارک 2 ہجری
13 مارچ 624
یومِ فرقان غزوہ بدر
وہ دن جب دنیا بھر کو پیغام دیا گیا کہ عاشقان رسول اور دشمنانِ رسول ایک نہیں ہوسکتے چاہے باپ بیٹے کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو
رشتہ صرف محمد عربی سے ہے اور دشمنان اسلام کے لئے صرف تلوار ہے
غزوہ بدر 17 رمضان المبارک 2 ہجری بمطابق 13 مارچ 624 عیسوی بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔ روایات میں مجموعی تعداد 313 ہے لیکن والد کا نام، قبیلہ کا نام اور ملتے جلتے ناموں کی وجہ سے متفقہ 313 نام کسی جگہ بھی نہیں، البتہ تھوڑے اختلاف سے 331 (91 مہاجر 64 اوس کے اور 176 خزرج کے) نام میسر ہیں
اکثر تواریخ میں اجمالی طور 290 نام ملتے ہیں جن میں سے 76 مہاجرین کے اور 214 انصار (اوس کے اور خزرج) کے ہیں
اسماء مبارک شہداء بدر
غزوہ بدر میں (70 کفار مارے گئے اور 70 قیدی بنے جبکہ) کل 14 صحابہ کرام (مہاجرین میں سے 6 اور انصار میں سے 2 اوسی اور 6 خزرجی) شہید ہوئے۔ جن کے اسمائے گرامی مع مختصر تعارف کے یہ ہیں
(1) مہجع بن صالح قوم عک سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت عمر فاروق کے آزاد کردہ غلام تھے۔ غزوہ بدر میں سب سے پہلے یہی شہید ہوئے تھے
(2) عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبد مناف بن قصی آپ کی کنیت ابو حارث یا ابو معاویہ ہے 63 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ سب سے پہلے اسلامی سریہ کے سردار یہی بنائے گئے تھے
(3) عمیر بن ابی وقاص۔ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی ہیں۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 16 سال کی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو چھوٹے ہونے کی وجہ سے جنگ سے واپس کرنا چاہا تو یہ رونے لگے اس لئے آپ نے اجازت دے دی
(4) عاقل بن بکیر بن عبد ياليل
(5) عمیر بن عبد عمرو بن نضلہ۔
ذوالشمالین آپ کا لقب تھا۔ کنیت ابو محمد تھی۔ بنو زہرہ کے حلیف تھے
(6) عوف یا (عوذ) بن عفرا ۔ یہ انصاری صحابی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام عفرا تھا اور والد کا نام حارث تھا
(7) معوذ بن عفرا۔ یہ عوف بن عفرا کے بھائی ہیں
(8) حارث یا (حارثہ) بن سراقہ بن حارث۔ ان کی والدہ انس بن مالک کی پھوپھی ہیں۔ آپ کے حلق میں تیر لگا تھا
(9) یزید بن حارث یا (حرث) بن قیس بن مالک۔ انصاری صحابی ہیں
(10) رافع بن معلی بن لوذان۔ یہ بھی انصاری صحابی ہیں
(11) عمیر بن حمام بن جموح بن زید بن حرام
انصاری صحابی ہیں۔ حضرت عبیدہ بن حارث کے ساتھ مواخات تھی۔ دونوں ایک ہی میدان میں سرخرو ہو کر رونق افروز جنت ہوئے
(12) عمار بن زیادہ بن رافع۔ انصاری صحابی ہیں
(13) سعد بن خیثمہ انصاری۔ کنیت ابو عبداللہ تھی۔ لقب سعد خیر تھا۔ ان کے والد نے انہیں روکا تھا غزوہ بدر میں نہ جانے کے لئے، وہ چاہتے تھے کہ میں خود جاؤں لیکن حضرت سعد نے کہا مجھے جنت میں جانے سے نہ روکو۔ ان کے والد خیثمہ غزوہ احد میں شہید ہوئے
(14) مبشر بن عبد منذر بن زبیر بن زید۔ انصاری صحابی ہیں
یہ وہ چودہ خوش نصیب صحابی ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ان کے علاوہ اور بھی نام ذکر کئے جاتے ہیں جو مختلف فیہ ہیں

No comments:
Post a Comment