Monday, May 4, 2020

دس رمضان المبارک یومِ وصال سیدہ خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا

10 رمضان المبارک
یومِ وصال سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

ان کی خدمت میں سلام کے بعد دعا کے لئے عرض ہے۔ اے ہماری ماں ہمارے لئے رب سے سلامتی کی دعا فرما دیں
ان کی سیرت طیبہ کے بارے چند حرف  کہ جن سے رب العالمین سے طلب رحمت ک
ی امید ہے

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں۔ خواتین میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت آپ کے حصے میں آئی۔ آپ نے ہر موقع پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوصلہ بڑھایا اور اسلام کے کاموں میں ہر ممکن مدد فرمائی۔ ایک فرزند کے سوا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اولاد بھی آپ ہی کے بطن سے ہوئی

آپ اصحاب الفیل کے واقعہ کے ظہور سے 15 سال قبل پیدا ہوئیں۔ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح سے پہلے بھی آپ کے دو نکاح ہو چکے تھے۔ آپ اپنی فطری شرافت اور اعلیٰ اخلاق کی بنا پر مکہ کے معاشرے میں طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ والد اور شوہر کی وفات کے بعد آپ کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

آپ کو اپنے کاروبار کی نگرانی کے لئے ایسے شخص کی ضرورت تھی جو دیانت اورامانت میں اپنی مثال آپ ہو۔ اس کے لئے آپ کی نگاہِ انتخاب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑی۔ آپ نے اپنی تجارت کا مال شام بھیجنے کے لئے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاوضہ پر اپنے مال کا نگران مقرر کیا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا مال لے کر شام گئے۔ اس سفر میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام میسرہ بھی تھے۔ انہوں نے سفر سے واپسی پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیانت کی بہت تعریف کی اور تجارت کے اس سفر میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت کی وجہ سے منافع بھی بہت ہوا

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل سے مشورہ کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام بھیج دیا۔ یہ پیغام سفر شام کے دو ماہ پچیس دن بعد بھیجا گیا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابو طالب سے مشورہ کیا اور پھر اس پیغام کو قبول فرما لیا۔ نکاح کی مقررہ تاریخ پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا ابو طالب، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر معززین خاندان کی معیت میں تشریف لائے اور حضرت ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ 500 طلائی درہم مہر مقرر ہوا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی زوجہ بنیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کے ولی ورقہ بن نوفل تھے۔

نکاح کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی تمام دولت ، مال و اسباب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ اس سے آپ کو فکر معاش سے نجات مل گئی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے ایک جاں نثار کنینر کی طرح اپنے شوہر کی خدمت کی اور کبھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذات سے کوئی تکلیف نہ ہونے دی۔ نکاح کے وقت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی۔ حضرت خدیجہ رضی للہ عنہا کی عمر کے متعلق دو روایتیں موجود ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ کی عمر 38 سال تھی اور دوسری روایت کے مطابق 40 سال

پہلی بار وحی نازل ہونے پر جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہیبت کا عالم طاری ہوا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ہی آپ کو تسلی تشفی دی اور پہلی وحی کے بعد جب وحی کا سلسلہ عارضی طور پر رک جانے سے حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں حزن و ملال نے ڈیرے جمائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ہی آپ کی دلجوئی کی۔ کفارِ مکہ کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی تکذیب اور طعن و تشنیع پر آپ ہی تھیں جو نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوصلہ دیتیں اور ان کی ہمت بندھاتیں

آپ نے ہجرت مدینہ سے تین سال پہلے نبوت کے دسویں سال اور نکاح کے 23 سال بعد 10 رمضان المبارک میں انتقال فرمایا۔ آپ سے تین یا پانچ روز پہلے ابو طالب بھی خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ آپ دونوں حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہایت پیارے تھے۔ آپ دونوں کے شخصی اثر و رسوخ کی بدولت کفارِ مکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سختی کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ آپ دونوں کی وفات حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نہایت غم و اندوہ کا سبب بنی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ دونوں کی وفات کے سال کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا

وفات کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک 64 برس اور 6 ماہ تھی۔ اس وقت نماز جنازہ کا حکم نہ ہوا تھا۔ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود قبر میں اترے اور اپنی محبوب بیوی کو اپنے ہاتھوں لَحَد میں اتارا

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک بلند پایہ خاتون تھیں۔ آپ نے مال و اسباب کو اسلام کی تبلیغ کے لئے وقف کر دیا۔ آپ اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی بت پرستی سے بیزاری کا اظہار کر چکی تھیں۔ آپ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئیں لیکن رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر آپ نے ہر طرح کی تکلیف اٹھائی اور سختیاں سہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے شدید محبت فرماتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا نکاح نہ کیا

حدیث مبارکہ ہے :

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو جنت میں ایسے محل کی بشارت دوں جو موتیوں کا ہوگا اور جس میں شور و غل اور مشقت نہ ہوگی“

ایک اورحدیث میں آتا ہے :-
”جنت کی عورتوں میں سب سے افضل یہ چار عورتیں ہیں۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد، فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، مریم علیہا السلام بنت عمران اور آسیہ علیہا السلام بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں“

آپ کے بطن سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چھ اولادیں ہوئیں۔ دو فرزند، حضرت قاسم رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور چار صاحبزادیاں، حضرت زینب رضی اللہ عنہا ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مقام اور کردار نہایت بلند ہے۔ وہ عالم اسلام کی وہ بلند و بالا خاتون تھیں جس کی طرف نظر اٹھانے سے تاریخ کی نظر بھی چندھیا جاتی ہے۔ تاریخ ان جیسی خاتون کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے

No comments:

Post a Comment