Monday, May 4, 2020

یوم فتح مکہ

10 رمضان المبارک 8 ہجری
01 جنوری 630 عیسوی
یومِ فتح مکہ

(فتح مکہ کے حوالے سے دو روایات ہیں ۔ایک کے مطابق 10 رمضان المبارک 8 ہجری، اور دوسری روایت کے مطابق 20 رمضان المبارک 8 ہجری ہے۔ یہ تاریخ 10 رمضان المبارک 8 ہجری کی روایت کے مطابق ہے)

صلح حدیبیہ دس سال کے لیے ہوئی تھی مگر 629ء کے بالکل آخر میں مشرکینِ مکہ کے اتحادی قبیلہ بنو بکر نے مسلمانوں کے اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور کئی آدمی قتل کر دئیے۔ اس دوران مکہ کے مشرک قریش نے چہرے پر نقاب ڈال کر بنو بکر کی مدد بھی کی مگر یہ بات راز نہ رہ سکی۔ یہ صلح حدیبیہ کا اختتام تھا۔ مسلمان اس وقت تک بہت طاقتور ہو چکے تھے۔ ابو سفیان نے بھانپ لیا تھا کہ اب مسلمان اس بات کا بدلہ لیں گے اس لیے اس نے صلح کو جاری رکھنے کی کوشش کے طور پر مدینہ کا دورہ کیا

جب ابوسفیان نے صلح کی تجدید کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رجوع کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر اس نے کئی بزرگوں کی وساطت سے کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ سخت غصے اور مایوسی میں اس نے تجدیدِ صلح کا یکطرفہ اعلان کیا اور مکہ واپس چلا گیا

 قبیلہ بنو خزاعہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فریاد کی تو انہوں نے مکہ فتح کرنے کا فیصلہ کیا

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روانگی کا مقصد بتائے بغیر اسلامی فوج کو تیار کیا اور مدینہ اور قریبی قبائل کے لوگوں کو بھی ساتھ ملایا۔ لوگوں کے خیال میں صلحِ حدیبیہ ابھی قائم تھی اس لیے کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ تیاری مکہ جانے کے لیے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ سے باہر جانے والے راستوں پر نگرانی بھی کروائی تاکہ یہ خبریں قریش کا کوئی جاسوس باہر نہ لے جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا بھی کی کہ اے خدایا آنکھوں اور خبروں کو قریش سے پوشیدہ کر دے تاکہ ہم اچانک ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں۔کسی کو معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے۔ ایک ہفتہ میں مدینہ سے مکہ کا فاصلہ طے ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلہ پر 'مرالظہران' کے مقام پر لشکرِ اسلام خیمہ زن ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ کا ارادہ ہے

جنگ تو ہوئی نہیں مگر احوال کچھ یوں ہے کہ مر الظہران کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تاکید کی کہ لشکر کو بکھیر دیا جائے اور آگ جلائی جائے تاکہ قریشِ مکہ یہ سمجھیں کہ لشکر بہت بڑا ہے اور بری طرح ڈر جائیں اور اس طرح  بغیر خونریزی کے مکہ فتح ہو جائے۔ یہ تدبیر کارگر رہی۔ ابو سفیان لشکر کی خبر لینے آیا تو گرفتار کرلیا گیا۔ بعد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امان دیتے ہوئے چھوڑ دیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ 'ابوسفیان لوگوں کو اطمینان دلا سکتا ہے کہ جو کوئی اس کی پناہ میں آجائے گا امان پائے گا۔ جو شخص اپنے ہتھیار رکھ کر اس کے گھر میں چلا جائے اور دروازہ بند کر لے یا مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ سپاہِ اسلام سے محفوظ رہے گا'۔ اس کے بعد ابوسفیان کو رہا کر دیا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس نے مکہ جا کر اسلامی لشکر کی عظمت بتا کر ان لوگوں کو خوب ڈرایا

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لشکر کو چار دستوں میں تقسیم کیا اور مختلف سمتوں سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا اور تاکید کی کہ جو تم سے لڑے اس کے علاوہ اور کسی سے جنگ نہ کرنا۔ چاروں طرف سے شہر گِھر گیا اور مشرکین کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہا۔ صرف ایک چھوٹے گروہ نے لڑائی کی جس میں صفوان بن امیہ بن ابی خلف اور عکرمہ بن ابی جہل شامل تھے۔ ان کا ٹکراؤ حضرت خالد بن ولید کی قیادت کردہ دستے سے ہوا۔ مشرکین مکہ کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے

 لشکر اسلام انتہائی فاتحانہ طریقہ سے شہرِ مکہ میں داخل ہوا جہاں سے آٹھ سال پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ کچھ آرام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجاہدین کے ہمراہ کعبہ کہ طرف روانہ ہوئے۔ کعبہ پر نظر پڑتے گھوڑے پر سواری کی ہی حالت میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر بلند کرتے تھے اور لشکرِ اسلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جواب میں تکبیر بلند کرتے تھے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام تصاویر کو باہر نکال دیا جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر بھی شامل تھی اور تمام بتوں کو توڑ دیا۔ بتوں کو توڑنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب کو اپنے مبارک کاندھوں پر سوار کیا اور بتوں کو اپنے ہاتھوں سے بھی توڑتے رہے۔ یہاں تک کہ کعبہ کو شرک کی تمام علامتوں سے پاک کر دیا

فتحِ مکہ ایک شاندار فتح تھی جس میں چند کے علاوہ کوئی قتل نہ ہوا۔ فتح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب کو عام معافی دے دی۔ کافی لوگ مسلمان ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے شرک نہ کرنے، زنا نہ کرنے اور چوری نہ کرنے کی تاکید پر بیعت لی۔ اور انہیں اپنے اپنے بتوں کو توڑنے کا حکم دیا۔ مکہ کی فتح عرب سے مشرکین کے مکمل خاتمے کی ابتداء ثابت ہوئی

No comments:

Post a Comment