21 رمضان المبارک 40 ہجری
29 جنوری 661 عیسوی
یومِ شہادت شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
علی امامِ من استُ منم غلامِ علی
ہزار جانِ گرامی فدا بنامِ علی
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ایام نہیں زمانوں میں زندہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ ہر بہادری، ہر وفا، ہر علم، ہر قربانی میں ان کا عکس شامل ہے۔ کمزور ٹانگوں سے قریش مکہ کے درمیان سے الا اللہ کہنے والا حق گوئی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ خدا کے گھر میں نماز کی حالت میں جان لیوا وار خود پر کھا کر سوہنے علی کو رہتی کائنات تک مثال بنا گیا
مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب کو 19 رمضان المبارک 40 ہجری بمطابق 27 جنوری 661 عیسوی کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنھم کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان المبارک بمطابق 29 جنوری 661 کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن و حضرت حسین نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔
فضائل سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم
حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے آنکھ کھولی تو چہرہ رسولﷺ کو دیکھا یعنی ولادت کے بعد آپ نے آنکھیں نہ کھولیں۔ حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا تب آپ نے آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر حضور علیہ السلام کے چہرہ پر پڑی۔ حضور علیہ السلام نے پہلی گھٹی دی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کی پرورش حضور علیہ السلام نے کی اور تعلیم و تربیت بھی حضور علیہ السلام نے فرمائی۔ آپ کو صحابی رسول ﷺ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور اہل بیت رسول ﷺ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے
حضرت محمدﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ ہی کو سب سے پہلے حضور علیہ السلام پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ یعنی حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کے ساتھ ہی حضرت علی المرتضیٰؓ نے بھی اپنے ایمان کا اعلان فرمایا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ہجرت کی رات حضور علیہ السلام نے اپنے بستر پر آپ ہی کو آرام فرمانے کا حکم فرمایا اور فرمایا ’’اے علی مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔ آپ میرے بستر پر لیٹ جائیں اور کفار و مشرکین کی یہ امانتیں انہیں واپس لوٹا کر تم بھی مدینہ منورہ آ جانا‘‘
حضور علیہ السلام نے مدینہ منورہ میں مواخات قائم کیے، یعنی ایک مہاجر اور ایک انصار کو پکڑ کر ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ اس موقع پر آپ حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! آپ نے ’’عقد مواخاۃ‘‘ میں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا مگر میں یوں ہی رہ گیا۔ آپ نے مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو نبی کریم ﷺ نے شفقت فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’یعنی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو‘‘
حضرت علی المرتضیٰؓ کو علم بارگاہ رسالت سے عطا ہوا۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ذی شان ہے ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں‘‘۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضور علیہ السلام سے پانچ سو چھیاسی حدیثیں روایت کی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیبؓ فرمایا کرتے تھے ’’مدینہ منورہ میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے سوا کوئی ایسا صاحب علم نہیں تھا جو یہ کہہ سکے کہ ’’جس کو جو کچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ علم و فضل رکھنے کے باوجود فرمایا کرتے تھے ’’حضرت علی المرتضیٰؓ سے فرائض کا جاننے والا اور معاملہ فہم کوئی شخص بھی نہیں‘‘۔
حضرت علی المرتضیٰؓ کو علمی کمال ہی کے باعث خلفاء ثلاثہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں قاضی القضا رہے ہیں۔ آپ نے مقدمات کے فیصلے نہایت ہی علمی بصریت سے فرمائے جو تاریخی فیصلہ جات فقہ اسلامی کا اعلیٰ شاہکار ہیں۔
حضرت علی المرتضیٰؓ کی سخاوت، شجاعت، عبادت و ریاضت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ آپ ہی کو رسول اللہﷺ نے مولا قرار دیا۔ ارشاد فرمایا ’’من کنت مولا فعلی مولا‘‘ جس کا میں مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔
حضرت علی المرتضیٰؓ کو فاتح خیبر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’کل میں پرچم اُسے دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا‘‘۔ چنانچہ خیبر کا قلعہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو داماد رسول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ حضرت فاطمہؓ کے شوہر نامدار ہیں۔ ان کا نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے والد ہیں جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں۔
حضرت علی المرتضیٰؓ کی شان مرتبہ و مقام نہایت اعلیٰ و ارفع ہے۔ آپ کی بعض خصوصیات ایسی ہیں وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ چوتھے خلیفہ راشد ہیں،
’’حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا اور ان کو آشوب چشم تھا پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ضرور بالضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہو گا یا اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اس حال میں کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے۔ اور پھر اُنھیں جھنڈا عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلہ میں مرحب نکلا اور کہنے لگا۔‘‘
(تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے)
پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
(میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ)
راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اس کو قتل کر دیا پھر فتح آپ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔‘‘
مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد و السير، باب غزوة الأحزاب و هي الخندق، 3 / ، 1441، الحديث رقم : 1807
ابن حبان في الصحيح، 15 / 382، الحديث رقم : 6935
أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 51
ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 393، الحديث رقم : 36874
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 17، الحديث رقم : 6243
مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام
شیر شمشیر زن ، شاہِ خیبر شکن
مولا دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام۔
سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین ایسی باتیں کہیں جن کا خواہش مند ہم میں سے ہر کوئی تھا:
1۔ جس کا میں( رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) مولا ہوں اسکے علی( رضی اللہ عنہ) بھی مولا ہیں
2۔ علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت بلکل ویسے ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام سے تھی، سوائے اسکے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں
3۔ غزوۃ خیبر کے وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ صبح میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں، وہ جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا
حوالہ:
صحیح مسلم 6220
سنن نسائی الکبری 8439
سنن ابن ماجہ 121
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :
أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ۔
بیشک مومن کے علاوہ کوئی علی سے محبت نہیں رکھتا، اور منافق کے علاوہ کوئی علی سے بغض نہیں رکھتا ۔
( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب 33، حدیث نمبر ۷ )۔
آج یوم علی ہے بلکہ ہر وہ روز یومِ علی ہے جب آپ کسی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں
جس دن آپ ظلم کے سامنے کھڑے ہوجاؤ وہ یومِ علی ہے
جس دن آپ علم کو خود پر لازم کرلو وہ یومِ علی ہے
جس دن آپ حق کے خالی پلڑے کو باطل کے بھاری پلڑے پر چنو وہ یومِ علی ہے
جس دن آپ کفر کو بزور بازو للکارو وہ یومِ علی ہے
جس دن آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے مقدم کرلو وہ یومِ علی ہے
جس دن آپ اپنی اولاد کی تربیت حسن و حسین (رض) جیسی کرلو وہ یومِ علی ہے