Tuesday, November 3, 2020

ایک نومبر دو ہزار بیس یومِ شہادت ڈاکٹر سیف اللہ شہید

  سری نگر : قابض بھارتی افواج نے ایک جھڑپ میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈر سیف اللہ میر کے شہید ہونے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ان کے ایک ساتھی کو حراست میں لے لیا گیا ہے



کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر کے نواحی علاقے رنگریٹھ میں داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے سرچ آپریشن کیا گیا جس کے دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو شہید اور دوسرے کو حراست میں لے لیا


کشمیر پولیس کے آئی جی وجے کمار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ خفیہ اطلاع پر حزب المجاہدین کے امیر ڈاکٹر سیف اللہ کو گرفتار کرنے گئے تھے تاہم مزاحمت کا سامنا ہونے پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ ان کے ایک ساتھی کو حراست میں لیا گیا ہے


31 سالہ سیف اللہ کی شہادت کی خبر پر سری نگر میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جس کے دوران مظاہرین نے بھارتی فوج پر پتھراؤ کیا اور ’’ گو انڈیا گو‘‘ ’’ ہم کیا چاہتے ہیں۔۔۔ آزادی‘‘ کے نعرے لگائے۔ بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا اور آنسو گیس کے شیلز پھینکے


دوسری جانب حزب المجاہدین کی جانب سے اس خبر پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ رواں برس مئی میں حزب المجاہدین کے آپریشنز کمانڈر ریاض نائیکو کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد ڈاکٹر سیف اللہ میر نے گروپ کی کمان سنبھال لی تھی

Thursday, August 6, 2020

حج اور آل سعود کی مجرمانہ خاموشی

‏اس دفعہ پوری امت کی نظریں حج پر ہونے والے خطبے پر مرکوز ہیں جہاں مفتی اعظم کھل کر نام لے کر بھارتی حکمران مودی کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ کشمیریوں کے حق میں دعائیں ہوں، فلسطینیوں، شامیوں کے لئے دعا ہو۔ پچھلی دفعہ حج کے موقع پر اسرائیل بھارت کے ظلم پر خاموشی اختیار کی گئی، اس دفعہ امید ہے ایسا نہیں ہوگا

Monday, August 3, 2020

قائداعظم اور عیدالاضحٰی

پاکستانیو........!!!
کبھی سوچا تم ہزاروں گائیں اور بیل بے فکر  ذبح کررہے ہو اور تمہارے پڑوس میں تم سے زیادہ تعداد میں مسلمان گائے کے قریب چھری تک نہیں لے جاسکتے ...........دنیا کی دوسری بڑی آبادی اور  چوتھی بڑی انتہا پسند متشدد گاؤ پرست  فوجی طاقت کے پڑوس میں گائے کا گوشت کھاتے ہوئے ان کو دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا جن کی وجہ سے تمہیں  فرض پورا کرنے کی یہ آزادی ملی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ اور مجاہدین افواج پاکستان

اے اللہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ اور مجاہدین افواج پاکستان کے شہداء کو ارض پاکستان میں ہونے والی تمام گائے کی قربانی میں شرکت اور اس کو ممکن بنانے کی سعی و جدوجہد کا اجر عظیم عطا فرما۔ ان کی بخشش اور نجات کا باعث بنا اور ہمارے اور گائے کے انتہاء پسند پجاریوں کے درمیان فضا، زمین اور سمندروں میں ڈٹے مجاہدین افواج پاکستان کو تمام پاکستان کی گائے کی قربانی میں شرکت کا اجر  و ثواب عطا فرما اور ان کی حفاظت و نصرت فرما۔ آمین یا رب العالمین

ایک بار پھر سے شکریہ بابا جانی 💞

Friday, May 15, 2020

اکیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ شہادت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم

21 رمضان المبارک 40 ہجری
یومِ شہادت سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
 

مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب 17 مارچ 599 بمطابق 13 رجب المرجب 30 عام الفیل کو بروز جمعہ شہر مکہ  میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے

سیدنا علی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں جو بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اسلام قبول کرنے والے دوسرے مسلمان تھے (پہلی مسلمان سیدہ خدیجہ الکبری تھیں) آپ کی عمر اس وقت تقریباً 10  سال تھی

17 جون 656ء بمطابق 18 ذی الحجہ 35 ہجری کو مولا علی چوتھے خلیفہ راشد بنے

سیدنا علی بن ابی طالب کو 27 جنوری 651 بمطابق  19 رمضان 40 ہجری کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہرگز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا 

29 جنوری 661 ء بمطابق 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو نماز فجر کے وقت شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن  و حضرت حسین  نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے

اولاد

آپ کے بچوں کی تعداد 27 تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا  سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن، امام حسن اور امام حسین، جبکہ دو صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت ام کلثوم  بھی حضرت سیدہ فاطمہ سے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنفیہ، حضرت عباس بن علی شامل ہیں

مولائے کائنات سیدنا علی ابن طالب  کی اولاد یہ ہیں :

بیٹے۔
 سیدنا حسن بن علی۔
 سیدنا حسین بن علی۔ 
 حضرت عباس بن علی
۔ عمر ابن علی۔
 جعفر ابن علی۔ 
عثمان ابن علی۔
 محمد الاکبر ( محمد بن حنفیہ)
 عبد اللہ ابن علی۔ 
ابوبکر ابن علی
عبید اللہ ابن علی
یحییٰ ابن علی
محمد اصغر ابن علی
محمد اوسط ابن علی

بیٹیاں
سیدتنا زینب بنت علی
سیدتنا ام کلثوم بنت علی
رقیہ بنت علی
رملہ بنت علی
نفیسہ بنت علی
خدیجہ بنت علی
ام ہانی بنت علی
جمانہ بنت علی
امامہ بنت علی
مونا بنت علی
سلمیٰ بنت علی

علی امامِ من استُ منم غلامِ علی 
ہزار جانِ گرامی فدا بنامِ علی

’’حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا اور ان کو آشوب چشم تھا پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ضرور بالضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہو گا یا اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے

راوی بیان کرتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اس حال میں کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے اور پھر اُنھیں جھنڈا عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلہ میں مرحب نکلا اور کہنے لگا‘‘

(تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے)

پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
(میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ)

راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اس کو قتل کر دیا پھر فتح آپ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے‘‘

مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد و السير، باب غزوة الأحزاب و هي الخندق، 3 / ، 1441، الحديث رقم : 1807
 ابن حبان في الصحيح، 15 / 382، الحديث رقم : 6935
أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 51
ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 393، الحديث رقم : 36874
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 17، الحديث رقم : 6243

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین 
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن ، شاہِ خیبر شکن
مولا دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام۔

سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین ایسی باتیں کہیں جن کا خواہش مند ہم میں سے ہر کوئی تھا:

1۔ جس کا میں( رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) مولا ہوں اسکے علی( رضی اللہ عنہ) بھی مولا ہیں

2۔ علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت بلکل ویسے ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام سے تھی،  سوائے اسکے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں

3، غزوۃ خیبر کے وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ صبح میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں،  وہ جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا 

حوالہ:
صحیح مسلم 6220
سنن نسائی الکبری 8439
سنن ابن ماجہ 121۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  فرماتے ہیں : 

أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ۔

بیشک مومن کے علاوہ کوئی علی  سے محبت نہیں رکھتا، اور منافق کے علاوہ کوئی علی  سے بغض نہیں رکھتا
( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب 33، حدیث نمبر ۷ )۔

جس دن آپ ظلم کے سامنے کھڑے ہوجاؤ وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ علم کو خود پر لازم کرلو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ حق کے خالی پلڑے کو باطل کے بھاری پلڑے پر چنو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ کفر کو بزور بازو للکارو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے مقدم کرلو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ اپنی اولاد کی تربیت حسن و حسین (رض) جیسی کرلو وہ یوم علی ہے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  ایام نہیں زمانوں میں زندہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ ہر بہادری ہر وفا ہر علم ہر قربانی میں ان کا عکس شامل ہے . کمزور ٹانگوں سے قریش مکہ کے درمیان سے الا اللہ کہنے والا حق گوئی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ خدا کے گھر میں نماز کی حالت میں جان لیوا وار خود پر کھا کر  سوہنے علی کو رہتی کائنات تک مثال بنا گیا

چودہ مئی 1907 یومِ پیدائش ایوب خان

14 مئی 1907
یومِ پیدائش محمد ایوب خان 

محمد ایوب خان  پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل  تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں

صدر محمد ایوب خان 14 مئی 1907 کو ہری پور ہزارہ کے قریب ایک گاؤں ریحانہ میں ایک ہندکو پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد میر داد خان کی دوسری بیوی کے پہلے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کا نام سرائے صالح کے ایک اسکول میں داخل کروایا گیا اور اس کے علاوہ ایک قریبی گاؤں کاہل پائیں میں بھی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی جو ان کے گھر سے 5 میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ خچر کے ذریعے اسکول جایا کرتے تھے۔ آپ نے 1922 میں علیگڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن تعلیم مکمل نہ کی کیونکہ اس دوران میں آپ نے رائل اکیڈمی آف سینڈہسٹز کو قبول کر لیا تھا

آپ نے اس تربیت گاہ میں بہت اچھا وقت گزارا اور آپ کو 14 پنجاب رجمنٹ شیر دل میں تعینات کیا گیا جو اب 5 پنجاب رجمنٹ ہے۔ جنگ عظیم دوم میں آپ نے بطور کپتان حصہ لیا اور پھر بعد میں برما کے محاذ پر بطور میجر تعینات رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان آرمی جوائن کرلی، اس وقت آپ آرمی میں دسویں نمبر پر تھے۔ جلد ہی آپ کو بریگیڈئیر بنا دیا گیا اور پھر 1948 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1949 میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر آپ کو ڈپٹی کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔ 17 جنوری 1951 کو آپ پاکستانی فوج  کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف بنے

1954 میں جب محمد علی بوگرہ نے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں میجر اسکندر مرزا اور پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ آپ 24 اکتوبر 1954 سے 11 اگست 1955 تک محمد علی بوگرہ کے دور میں حاضر سروس فوجی ہوتے ہوئے بطور وزیر دفاع خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ دنیا کی واحد مثال ہے کہ سول حکومت کا وزیر دفاع حاضر سروس فوجی ہو

 جب اسکند مرزا نے 7 اکتوبر 1958 میں مارشل لاء لگایا تو آپ کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی فوجی کو براہ راست سیاست میں لایا گیا
 
24 اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دئیے گئے لیکن صدر اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنا پر سکندر مرزا صاحب سے ایوب خان کے اختلافات بڑھتے گئے اور فقط 3 دن بعد  27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان نے پاکستان کی صدارت سنبھال لی اور اسکندر مرزا کو معزول کر دیا
 

جنرل ایوب خان نے خود کو 27 اکتوبر 1958  کو صدرِ پاکستان نامزد کردیا مگر اُس کے ساتھ ہی ساتھ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دئیے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اُس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں

 27 اکتوبر 1959ء کو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا

 17 فروری 1960ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے

ایوب خان نے 1961 میں آئین بنوایا جو صدارتی طرز کا تھا۔ 8 جون 1962ء کو انہوں نے مارشل لاء کے خاتمے اور صدارتی طرز حکومت کے نئے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اس آئین کے نتیجے میں 1962 میں عام انتخابات ہوئے اور مارشل لاء اٹھا لیا گیا۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ جزوی طور پر تھا۔ 

جنوری 1965ءمیں ملک میں ایک مرتبہ پھر بنیادی جمہوریت کے نظام پر مبنی صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ 02 جنوری 1965 کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات  میں صدر ایوب خان کے مدِ مقابل سب سے اہم حریف مادرِ ملت فاطمہ جناح تھیں جو قائداعظم کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ہار گئیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک شرمناک باب اور انتخابات کے دوران دھاندلی کا آغاز تھا

06 ستمبر 1965ء کو  جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوگئی۔ 

10 جنوری 1966ءکو  تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔ پاکستان کے عوام میں اس معاہدے سے بڑی بددلی پھیلی

فاطمہ جناح کے خلاف مشکوک فتح اور 1965 کی جنگ کی وجہ سے ایوب خان کے لیے حالات ناسازگار ہو چکے تھے۔ تاشقند معاہدے سے واپسی پر اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ملک کی عزت اور قربانی بیچ ڈالی۔ اس بیان کے بعد بھٹو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

1967 میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی اور ایوب خان کی مذہبی، معاشی اور عوامی پالیسیز پر شدید تنقید شروع کر دی۔ بھٹو کی تحریک کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی ایوب خان کے خلاف شیخ مجیب الرحمٰن کی تحریک سرگرم ہو چکی تھی۔ ایوب خان نے بھٹو اور شیخ مجیب کو پابند سلاسل کر دیا۔ اس سے ایوب خان کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا

1968ء میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئےاور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کر دیا۔ ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہو گیا

1968 میں ایوب خان پر قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ 1969 میں ایوب خان نے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ باقی اپوزیشن پارٹیز سے مذاکرات کے لیے گول میز کانفرنس کی لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ اس دوران ایوب خان کو دل کا دورہ لاحق ہوا اور اسی سال ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا اور وہ صاحب فراش ہو گئے۔ انہیں ویل چیئر پر لایا جاتا تھا

ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف احتجاج نے خانہ جنگی کی سی صورت حال پیدا کر دی۔ پولیس کے لیے بلوائیوں کو روکنا مشکل ہو گیا اور بالآخر ایوب خان نے 25 مارچ 1969 کو اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحیٰ خان کو ملک کا صدر بنا دیا اور  خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ گمنامی میں چلے گئے

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 20 اپریل 1974ءکو اسلام آباد میں وفات پاگئے اور اپنے آبائی گاﺅں ریحانہ میں دفن ہوئے

ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری " فرینڈز ناٹ ماسٹرز " کے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہیں

اکیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم

21 رمضان المبارک 40 ہجری
29 جنوری 661 عیسوی
یومِ شہادت  شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

علی امامِ من استُ منم غلامِ علی 
ہزار جانِ گرامی فدا بنامِ علی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ایام نہیں زمانوں میں زندہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ ہر بہادری، ہر وفا، ہر علم، ہر قربانی میں ان کا عکس شامل ہے۔ کمزور ٹانگوں سے قریش مکہ کے درمیان سے الا اللہ کہنے والا حق گوئی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ خدا کے گھر میں نماز کی حالت میں جان لیوا وار خود پر کھا کر  سوہنے علی کو رہتی کائنات تک مثال بنا گیا

مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب کو 19 رمضان المبارک 40 ہجری بمطابق 27 جنوری 661 عیسوی کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن  اور حضرت حسین رضی اللہ عنھم کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان المبارک بمطابق 29 جنوری 661 کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن  و حضرت حسین  نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

فضائل سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم

حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ شرف  حاصل ہے کہ آپ نے آنکھ کھولی تو چہرہ رسولﷺ کو دیکھا یعنی ولادت کے بعد آپ نے آنکھیں نہ کھولیں۔ حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا تب آپ نے آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر حضور علیہ السلام کے چہرہ پر پڑی۔ حضور علیہ السلام نے پہلی گھٹی دی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کی پرورش حضور علیہ السلام نے کی اور تعلیم و تربیت بھی حضور علیہ السلام نے فرمائی۔ آپ کو صحابی رسول ﷺ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور اہل بیت رسول ﷺ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے

حضرت محمدﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ ہی کو سب سے پہلے حضور علیہ السلام پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ یعنی حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کے ساتھ ہی حضرت علی المرتضیٰؓ نے بھی اپنے ایمان کا اعلان فرمایا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ہجرت کی رات حضور علیہ السلام نے اپنے بستر پر آپ ہی کو آرام فرمانے کا حکم فرمایا اور فرمایا ’’اے علی مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔ آپ میرے بستر پر لیٹ جائیں اور کفار و مشرکین کی یہ امانتیں انہیں واپس لوٹا کر تم بھی مدینہ منورہ آ جانا‘‘

حضور علیہ السلام نے مدینہ منورہ میں مواخات قائم کیے، یعنی ایک مہاجر اور ایک انصار کو پکڑ کر ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ اس موقع پر آپ حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! آپ نے ’’عقد مواخاۃ‘‘ میں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا مگر میں یوں ہی رہ گیا۔ آپ نے مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو نبی کریم ﷺ نے شفقت فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’یعنی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو‘‘

حضرت علی المرتضیٰؓ کو علم  بارگاہ رسالت سے عطا ہوا۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ذی شان ہے ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں‘‘۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضور علیہ السلام سے پانچ سو چھیاسی حدیثیں روایت کی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیبؓ فرمایا کرتے تھے ’’مدینہ منورہ میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے سوا کوئی ایسا صاحب علم نہیں تھا جو یہ کہہ سکے کہ ’’جس کو جو کچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ علم و فضل رکھنے کے باوجود فرمایا کرتے تھے ’’حضرت علی المرتضیٰؓ سے فرائض کا جاننے والا اور معاملہ فہم کوئی شخص بھی نہیں‘‘۔ 

حضرت علی المرتضیٰؓ کو علمی کمال ہی کے باعث خلفاء ثلاثہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں قاضی القضا رہے ہیں۔ آپ نے مقدمات کے فیصلے نہایت ہی علمی بصریت سے فرمائے جو تاریخی فیصلہ جات فقہ اسلامی کا اعلیٰ شاہکار ہیں۔ 

حضرت علی المرتضیٰؓ کی سخاوت، شجاعت، عبادت و ریاضت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ آپ ہی کو رسول اللہﷺ نے مولا قرار دیا۔ ارشاد فرمایا ’’من کنت مولا فعلی مولا‘‘ جس کا میں مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔ 

 حضرت علی المرتضیٰؓ کو فاتح خیبر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’کل میں پرچم اُسے دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا‘‘۔ چنانچہ خیبر کا قلعہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوا۔  حضرت علی المرتضیٰؓ کو داماد رسول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ حضرت فاطمہؓ کے شوہر نامدار ہیں۔ ان کا نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے والد ہیں جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں۔

حضرت علی المرتضیٰؓ کی شان مرتبہ و مقام نہایت اعلیٰ و ارفع ہے۔ آپ کی بعض  خصوصیات ایسی ہیں وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ چوتھے خلیفہ راشد ہیں، 

’’حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا اور ان کو آشوب چشم تھا پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ضرور بالضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہو گا یا اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اس حال میں کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے۔ اور پھر اُنھیں جھنڈا عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلہ میں مرحب نکلا اور کہنے لگا۔‘‘

(تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے)

پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
(میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ)

راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اس کو قتل کر دیا پھر فتح آپ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔‘‘

مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد و السير، باب غزوة الأحزاب و هي الخندق، 3 / ، 1441، الحديث رقم : 1807
 ابن حبان في الصحيح، 15 / 382، الحديث رقم : 6935
أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 51
ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 393، الحديث رقم : 36874
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 17، الحديث رقم : 6243

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین 
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن ، شاہِ خیبر شکن
مولا دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام۔

سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین ایسی باتیں کہیں جن کا خواہش مند ہم میں سے ہر کوئی تھا:

1۔ جس کا میں( رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) مولا ہوں اسکے علی( رضی اللہ عنہ) بھی مولا ہیں

2۔ علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت بلکل ویسے ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام سے تھی،  سوائے اسکے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں

3۔ غزوۃ خیبر کے وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ صبح میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں،  وہ جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا 

حوالہ:
صحیح مسلم 6220
سنن نسائی الکبری 8439
سنن ابن ماجہ 121

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  فرماتے ہیں : 

أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ۔

بیشک مومن کے علاوہ کوئی علی  سے محبت نہیں رکھتا، اور منافق کے علاوہ کوئی علی  سے بغض نہیں رکھتا ۔
( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب 33، حدیث نمبر ۷ )۔

آج یوم علی ہے بلکہ ہر وہ روز یومِ علی ہے جب آپ کسی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں
 
جس دن آپ ظلم کے سامنے کھڑے ہوجاؤ وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ علم کو خود پر لازم کرلو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ حق کے خالی پلڑے کو باطل کے بھاری پلڑے پر چنو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ کفر کو بزور بازو للکارو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے مقدم کرلو وہ یومِ علی ہے 

جس دن آپ اپنی اولاد کی تربیت حسن و حسین (رض) جیسی کرلو وہ یومِ علی ہے

انیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ ضرب حضرت علی

19 رمضان المبارک 40 ہجری 
27 جنوری 661
حسنین کے بابا پہ فجر کی نماز میں حملہ ہوتا ہے
کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم
رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین

یہ رمضان المبارک کی 19 ویں فجر تھی اور جنوری 661 کی 27 تاریخ۔ کوفہ کی مرکزی جامع مسجد کا مصلی ہے۔سیدہ کائنات کے زوج اور زینب و ام کلثوم کے بابا جان ہیں ۔سیدنا مولائے کائنات علی المرتضی ابن ابو طالب کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم

ایک بدبخت ابن ملجم نے کل کائنات کے مولا کو زہر آلود خنجر کے وار سے عین حالت نماز میں زخمی کر دیا ہے

جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا تو آپ نے اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن  اور حضرت حسین  کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے

یہ ہے اہل بیت کا کردار
یہ سیدوں کی روایت ہے
یہ ہی تو اسلام ہے

سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کا یومِ شہادت 21 رمضان المبارک 40 ہجری بمطابق 29 جنوری 661 عیسوی ہے

یہ تصویر اس جگہ کی ہے جہاں حضرت علی کو زخمی کیا گیا تھا، جامع مسجد کوفہ میں