Tuesday, March 31, 2020

اکتیس مارچ 1963 یومِ پیدائش ڈاکٹر عارف محمود اعوان

31 مارچ 1963
یومِ پیدائش عارف محمود اعوان

ایک سچا مسلمان، ایک سچا پاکستانی، جس کی رگ رگ سے مسلمانیت اور پاکستانیت جھلکتی ہے۔ آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سچا امتی۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا ایک سچا عقیدت مند۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا ایک پختہ پروکار

آپ 31 مارچ 1963 کو نارووال کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 1971 کی جنگ کے دوران بہت مصیبتیں جِھیلیں۔ جس وقت 1971 کی جنگ چِھڑی آپ اس وقت کلاس چہارم میں زیر تعلیم تھے۔ جنگ کی وجہ سے آپ کو اپنی رہائش گاہ سے ہجرت اختیار کرنی پڑی۔ جنگ کے بعد دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے۔ آپ نے پرائمری تک تعلیم نزدیکی گاؤں سے حاصل کی، مڈل 1976 میں گورنمنٹ ہائی اسکول سے کِیا۔ مڈل کے امتحان میں اعلٰی نمبرز حاصل کئے اور اس وقت 600 روپے کا وظیفہ حاصل کِیا۔ اس کے بعد میٹرک 1978 میں اپنے گاؤں کے اسی سکول سے کِیا۔ میٹرک کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کیلیے لاہور آگئے اور پھر مستقل طور پر لاہور کے ہو کے رہ گئے۔ آپ نے 1981 میں گورنمنٹ کالج سول لائنز سے ایف اے کِیا اور 1985 میں سول لاٰنز سے ہی بی اے کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کِیا۔ بعدازاں آپ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہو گئے

آپ نے اپنے علاقے میں لوکل سیاست میں بھی بھرپور حصہ لِیا، لیکن لوگوں کی تمام تر حمایت کے باوجود مافیاز کی سازشوں کی وجہ سے کونسلر منتخب نا ہوسکے، بعد میں سیاست سے مستقل طور پر کنارہ کش ہو گئے۔

آپ دو بار عمرے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں، بس اب اللہ عزوجل سے جلد از جلد حج کیلیے اذن الٰہی کے منتظر ہیں

میں نے پاکستانیت اپنے باپ سے سیکھی ہے، مجھے فخر ہے کہ میں ایک ایسے شخص کا بیٹا ہوں جو اپنے دین اور وطن کے ساتھ انتہائی مخلص ہے۔ مجھے پاکستان سے عشق اپنے باپ سے ورثے میں مِلا ہے اور یہ عشق میرے دل میں تادمِ مرگ ٹھاٹھیں مارتا رہے گا۔

اللہ عزوجل میرے باپ کی تمام خواہشات کو پورا فرمائیں۔ اللہ عزوجل میرے باپ کی تمام مشکلیں، مصیبتیں، پریشانیاں اپنے پیارے حبیب آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے حل فرمائیں۔ میرا باپ اس دنیا میں اللہ اور اسکے رسول کے بعد دنیاوی طور پر میرا پہلا اور آخری سہارا ہے۔ اللہ عزوجل میرے باپ کو سدا سلامت رکھے۔ آپ کا سایہ تادیر مجھ پہ سلامت رہے۔ اللہ عزوجل آپ کو عمرِ خضر عطا فرمائے۔ اللہ عزوجل میرے باپ کو پاکستان کے لیے مزید مفید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اکتیس مارچ 1926 یومِ پیدائش شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ

31 مارچ 1926
یومِ پیدائش شاہ احمد نورانی

تحریک پاکستان کے کارکن، سیاست میں شرافت و دیانت کی مثال، جن کی زبان سے میں نے کبھی کوئی ہلکا لفظ نہیں سنا۔ وہ صحیح معنوں میں قائد ملت اسلامیہ تھے۔
ایک پہچان تھے جو تلاش کرنے پہ بھی نہیں ملتی۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

علامہ شاہ احمد نورانی 17 رمضان المبارک 1344 ہجری بمطابق 31 مارچ 1926 ء کو میرٹھ یوپی انڈیا میں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کے ہاں پیدا ہوئے جن کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور شجرہ طریقت امام احمد رضا خان قادری سے جا ملتا ہے۔

آپ کے والد گرامی علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اپنے وقت کے اکابر علماء میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان کے علمی اور تبلیغی مقام پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو بھی ناز تھا۔ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ قیام پاکستان کی تحریک کے لئے قائد اعظم ؒ نے شاہ عبدالعلیم صدیقی کو عرب ممالک میں بھیجا جہاں انہوں نے تحریک پاکستان کے مقاصد کو اجاگر کیا اور سفیر اسلام کا خطاب پایا۔ مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے علامہ شاہ احمد نورانی کی تربیت اس انداز سے کی کہ آپ کی رگوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رچ بس گئی۔ بس وہی کیف و سرور ہے جس نے سیاست کے بت کدے میں نعرہ تکبیر بلند کیا۔

علامہ شاہ احمد نورانی نے آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ نيشنل عریبک کالج سے گريجويشن کرنے کے بعد اٰلہ آباد يونيورسٹی سے فاضل عربی اور دارالعلوم عربيہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔

ممتاز عالم دین مولانا امجد علی اعظمی ‘ مولانا غلام جیلانی میرٹھی سے حدیث‘ فقہ اور دیگر علوم حاصل کئے۔ نیشنل تحریک کالج میرٹھ اور اٰلہ آباد یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جب آپ نے درس نظامی کی تکمیل کی تو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی رضا خان بریلوی‘ مولانا نعیم الدین مراد آبادی اور سفیر اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی نے اپنے دست مبارک سے دستار فضیلت عطا کی۔

قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔

1948ء میں علامہ احمد سعید کاظمی نے جمیعت علمائے پاکستان کے نام سے جماعت بنائی اور 1970ء میں مولانا شاہ احمد نورانی نے جب پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تو جمیعت میں شامل ہوئے۔ اس وقت جمیعت کے سربراہ خواجہ قمرالدین سیالوی تھےـ 1970ء میں جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے مد مقابل انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں حصہ لیا۔ 1972ء میں مولانا شاہ احمد نورانی جمیعت علماء پاکستان کے سربراہ بنے اور تا دم مرگ وہ سربراہ رہےـ آپ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور دو مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے۔

1972ء میں جمعیت علمائے پاکستان کی قیادت سنبھالی اور آخری دم تک اس کے سربراہ رہے۔

1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ کے پلیٹ فارم پر فعال ہونے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

مولانا نے دنیا بھر میں اسلام کا آفاقی پیغام عام کرنے کے لئے 1972ء میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی اور مختلف ممالک میں اس کے دفاتر بنا کر اسے فعال کیا۔ نرم مزاجی اور حلم کی وجہ سے وہ دوستوں اور دشمنوں میں یکساں مقبول تھے۔

مولانا شاہ احمد نورانی نے 30 جون 1974ء میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اور آپ 7 ستمبر 1974ء سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی دوسری ترمیم کے محرکین میں شامل تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت شاہ احمد نورانی کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔

انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں متفقہ تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا "

اتحاد بین المسلمین کے لیے انہوں نے 1995ء میں ملی یکجہتی کونسل بنائی۔ جس میں تمام مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر کے کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

مشرف کے دور حکومت میں 2002ء میں دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا تو انہیں متفقہ طور پر سربراہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی موت تک وہ ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) کے سربراہ رہے۔

 علامہ شاہ احمد نورانی پاکستان کے وہ قومی سیاست دان تھے جنہوں نے نصف صدی سیاست کے میدان میں رہنے کے باوجود اپنے اجلے اور شفاف دامن کو آلودہ نہ ہونے دیا۔ ہمیشہ صاف ستھری اور بے داغ سیاست کے علمبردار رہے۔ کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ سے کہ آج ان کے شدید ترین مخالف بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ تجربہ کار سیاست دان، مذہبی رہنما اور عظیم مبلغ اسلام تھے۔ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ ‘ خوش لباسی، خوش گفتاری اور اصول پسندی ان کی شخصیت کا خاصہ اور پہچان تھی

دل کا دورہ پڑنے سے 16 شوال 1424 ہجری بمطابق 11 دسمبر 2003ء کو شاہ احمد نورانی صاحب کا اسلام آباد میں انتقال ہوا۔

ان کی نماز جنازہ ان کے بیٹے انس نورانی نے پڑھائی۔
شاہ احمد نورانی کو کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا

Monday, March 30, 2020

پی ٹی ایم کا دہشت گردی کیلیے بچوں کا استعمال

دہشت گردی کے لیے بچوں کا استعمال

ٹی ٹی پی پہلے بھی یہ کام کر چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ نورک میں ایک خالی گھر میں دہشتگردی کا سامان منتقل کیا گیا ہے۔ فورسز انتظامیہ کے ساتھ مطلوبہ مکان تک پہنچیں تو وہاں پر راکٹ اور دستی بموں کے ساتھ دو تین بچے بھی تھے

اس کے فوراً بعد وہاں مقامی لوگ جمع ہوئے اور نعرے بازی شروع کر دی کہ تم لوگ ہمارے بچے اغواء کر رہے ہو۔ گمان غالب ہے کہ وہ ہجوم پی ٹی ایم کے مقامی کارکنوں کے اشارے پر جمع ہوا تھا

تاہم کوئی یہ بتانے پر تیار نہ ہوا کہ بچوں کے پاس یہ راکٹ اور دستی بم کیا کر رہے تھے۔ نہ ہی مکان کا کوئی ایک مالک یا دعویدار سامنے آیا۔
 گفت و شنید کے بعد بچوں کو چھوڑ دیا گیا۔
تاہم پی ٹی ایم بدستور سوشل میڈیا پر اپنا پراپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

آج پولیس فورس پر آئی ای ڈی حملہ کر دیا گیا۔

 چند دن پہلے ایسی ہی ایک اطلاع پر فورسز نے چھاپہ مارا تو داعش کے پانچ دہشت گرد موجود تھے جن کے ہلاک ہونے کے بعد تصاویر سوشل میڈیا پر بھی آئیں۔ اس مقابلے میں ایک افسر اور ایک جوان شہید ہوگیا تھا۔

پی ٹی ایم مشران بجائے مقامیوں کو نصیحت کرنے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں الٹا خود دہشتگردوں کے سب سے بڑے سہولت کار بن چکے ہیں۔

اب یہ سہولت کار اپنے مذموم مقاصد کے لیے بچوں کو استعمال کرنے لگے ہیں

تیس مارچ 1949 یومِ افتتاح فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور

30 مارچ 1949
فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کا افتتاح

30 مارچ 1949ء کو پاکستان کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے لاہور میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج برائے خواتین کی رسم افتتاح انجام دی
اس موقع پر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی موجود تھیں

خواجہ ناظم الدین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج نہ صرف پاکستان میں بلکہ ساری دنیائے اسلام میں اپنی طرز کا پہلا ادارہ ہے۔ اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والوں کو چاہیے کہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد فرض شناسی‘ بے لوث خدمت اور بلند خیالی کا ایک ایسا معیار قائم کریں جو اس کالج کے لیے نیک نامی کا موجب ہونے کے علاوہ پاکستان کے شایان شان روایات قائم کرنے کا باعث ہو۔

پانچ شعبان 38 ہجری یومِ ولادت امام الساجدین حضرت سیدنا زین العابدین

حضرت اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ واقعہ کربلا کے بعد مدینہ منوّرہ سے کچھ دُور ایک مقام پر آباد ہو گئے تھے

حضرت اِمام حُسین رضی اللّہ عنہُ کو شہید کرنے والوں میں سے ایک شخص کو یزید نے کسی غلطی کی سزا دینا چاہی تو وہ جان بچا کر بھاگا

پوری سلطنت میں سے اسے جان بچانے کی کوئی جگہ نہ مِلی تو وہ بالآخر اسی گھرانے کے پاس چلا آیا جس گھرانے کے خون سے وہ میدانِ کربلا میں اپنے ہاتھ رنگ چُکا تھا۔ وہ شخص حضرت اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ کے پاس آیا اور پناہ چاہی۔ آپ رضی اللّہ عنہُ نے اسے تین دن اپنے پاس ٹھہرایا۔ اس کی خدمت اور تواضع کرتے رہے اور جب وہ رُخصت ہونے لگا تو اسے رختِ سفر بھی دیا۔ یہ حُسنِ سلوک دیکھ کر اس شخص کے باہر جاتے ہوئے قدم رُک گئے، اسے خیال آیا کہ :

'' شائد اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ نے اسے پہچانا نہیں، اگر پہچان لیتے تو شاید یہ سلوک نہ کرتے اور اِنتقام لیتے "
چنانچہ وہ مُڑ کر واپس آیا اور دبے لفظوں میں کہنے لگا کہ :
'' اے عالی مقام! آپ ( رضی اللّہ عنہُ ) نے شائد مجھے پہچانا نہیں ہے ''

آپ رضی اللّہ عنہُ نے پوچھا کہ :
'' تمہیں یہ گُمان کیونکر گُزرا کہ میں نے تمہیں پہچانا نہیں ہے ؟؟؟ ''
اس نے عرض کِیا کہ :
'' جو سلوک آپ ( رضی اللّہ عنہُ ) نے میرے ساتھ کِیا ہے کبھی کوئی اپنے دُشمنوں اور قاتلوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتا ''

اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ مُسکرا پڑے اور فرمانے لگے کہ :

'' ظالم! میں تُجھے میدانِ کربلا کی اس گھڑی سے جانتا ہوں جب میرے باپ کی گردن پر تم تلوار چلا رہے تھے، لیکن فرق یہ ہے کہ وہ تمہارا کِردار تھا اور یہ ہمارا کِردار ہے 💞

نام کتاب =
شہادتِ اِمام حُسین رضی اللّہ عنہُ ( فلسفہ و تعلیمات )

پانچ شعبان المعظم 38 ہجری یومِ ولادت سیدنا امام زین العابدین

05 شعبان المعظم 38 ہجری
یومِ پیدائش سیدنا امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضٰی وجہہ الکریم

السلام اے سخی ابن سخی ابن سخی
السلام اے کریم ابن کریم ابن کریم

سیدنا امام علی بن حسین رضی اللہ عنہ 5 شعبان المعظم 38 ہجری بمطابق 4 جنوری 659 کو پیدا ہوئے۔

آپ  زین العابدین (عابدوں کی زینت) اورامام الساجدین (سجدہ کرنے والون کا امام) کے نام سے مشہور ہیں

 آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو علی اوسط کہا جاتا ہے، ان کے دوسرے بھائی جو ان سے عمر میں بڑے تھے، ان کو علی اکبر کہا جاتا تھا، جو معرکہٴ کربلا میں اپنے والد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل کوفہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔ علی اوسط یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین رضی اللہ عنہ بھی اپنے والد گرامی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ معرکہٴ کربلا میں شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔

اس موقع پر جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ناحق شہید کر دئیے گئے تو شِمر نے کہا کہ اسے بھی قتل کر دو، شِمر کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا : سبحان اللہ! کیا تم ایسے جوان کو قتل کرنا چاہتے ہو جو مریض ہے اور اس نے ہمارے خلاف قتال میں شرکت بھی نہیں کی ؟ اتنے میں عمرو بن سعد بن ابی وقاص آیا اور کہا کہ ان عورتوں اور اس مریض یعنی علی اوسط سے کوئی تعرض نہ کرے۔ آپ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔

آپ کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچد دن بعد آپ کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انہوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔

واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے  آنسوؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہوجاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز  پڑھتے (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ  رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کاایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں  کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے۔

آپ کی شادی 57 ہجری میں آپ کے چچا حضرت امام حسن بن علی بن ابو طالب کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جن میں سے حضرت امام محمد باقر اور حضرت زید شہید رضی اللہ عنہم زیادہ مشہور ہیں۔

آپ  اپنے جد امجد امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کی آغوش میں تربیت پائی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے  تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب"۔ سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہ پایا۔

امام زین العابدین نے کبار صحابہٴ کرام و تابعین عظام سے کسب فیض کیا، آپ نے امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت اُمِ سَلمہ، حضرت صفیہ، اپنے والد حضرت امام حسین، اپنے چچا حضرت حسن، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس اور ابو رافع، مسور بن مخرمہ، زینب بنت ابی سلمہ، سعید بن مسیب، سعید بن مرجانہ، مروان بن حکم، ذکوان، عمرو بن عثمان بن عفان اور عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہم وغیرہ سے حدیث شریف کا علم حاصل کیا اور اپنے جدا مجد حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بھی مرسل روایت کرتے ہیں۔

خانوادہ نبوت کے اس چشم و چراغ نے ساری زندگی سنتِ نبوی اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چل کر بالآخر داعی اجل کو لبیک کہا، آپ 18 محرم الحرام 94 ہجری بمطابق 20 اکتوبر 713ء میں دار فانی سے دار بقاء کی طرف کُوچ کر گئے، جنت البقیع میں جنازہ پڑھا گیا اور وہیں پر امام حسن المجتبٰی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے

Sunday, March 29, 2020

چار شعبان المعظم 26 ہجری یومِ ولادت حضرت سیدنا عبّاس عملدار رضی اللہ عنہ

04 شعبان المعظم 26 ہجری
15 مئی 647
یومِ ولادت قمر بنی ہاشم سیدنا عباس بن علی علمدار رضی اللہ عنہ

خدا ہم سب کو اس گھرانے کے غلاموں میں شمار کرے۔ آمین

السلام اے قمر بنی ہاشم
السلام اے ابو الفضل
السلام اے سقائے سکینہ
السلام اے عملدار امام عالی مقام

ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے

سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 04 شعبان المعظم 26 ہجری بمطابق 15 مئی 647 کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ والدہ ماجدہ کے علاوہ ام المومنین حضرت اُمِ سَلمہ رضی اللہ عنہا کا دودھ بھی پیا تھا، خواجہ حسن بصری تابعی رحمۃ اللہ علیہ بھی اِن کے رضاعی بھائی تھے

سیدنا عباس بن علی  مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا۔ ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد بن جعفر بن ربيعہ بن الوحيد بن عامر بن كعب بن كلاب کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔

اپنے بھائی حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اُن کو  باب الحوائج، قمر بنی ہاشم، علمدارِ کربلا، غازی، سقائے سکینہ بھی کہا جاتا ہے۔

باب العلم مولائے کائنات سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش فرمائی تھی۔ علی بن ابی طالب سے عباس علمدار نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کیے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بنا پر اُنہیں ثانی علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے۔

جنگ صفین میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افراد میں سے تھے جنہوں نے مالک اشتر کی سپہ سالاری میں فرات پر حملہ کیا اور حضرت  علی رضی اللہ عنہ کی فوج کیلئے پانی کہ فراہمی کا بندوبست کیا۔

سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادات سے خاص شغف رکھتے تھے۔

لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ اپنے بھائی امام حسین رضی اللہ عنہ کے عاشق و گرویدہ تھے اور سخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لیے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔

آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کی خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔

واقعہ کربلا کے وقت امام عالی مقام سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو لشکر کا علمبردار قرار دیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔

10 محرم الحرام کو آپ نے دریائے فرات کے کنارے امام عالی مقام کی طرف سے لڑتے ہوئے شہادت کا اعزاز حاصل کیا۔ کربلا کے میدان میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جس عزم و حوصلہ ، شجاعت و بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کِیا اس کو بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے لکھ سکے۔


واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس بن علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے حق کی راہ میں اپنے بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے۔ "آپ رضی اللہ عنہ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپنا حق ادا کر گئے"

10 محرم الحرام 61 ہجری بمطابق 10 اکتوبر 680ء کو حسین بن علی رضی اللہ عنہ نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دئیے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع مِلا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔  ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔

سیدنا عباس کے ملعون قاتلوں کے نام
زید بن رقاد الجہنی اور حکیم بن طفیل سنبسی ہیں۔

 حضرت عباس  کی شادی حضرت سکینہ  (لبابہ) بنت عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب سے ہوئی۔
 آپ کی اولاد میں
1۔حضرت عبیداللہ بن عباس بن علی
2۔حضرت فضل بن عباس بن علی
3۔حضرت قاسم بن عباس بن علی
رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔

بعض روایات کے مطابق حضرت قاسم اور حضرت فضل رضی اللہ عنہم 10 محرم الحرام 61 ہجری کو  اپنے والد کی شہادت کے بعد شہید ہوئے ہیں۔  بہر صورت حضرت عباسؑ رضی اللہ عنہ کی نسل عبید اللہ اور ان کے بیٹے حسن رضی اللہ عنہم سے چلی ہے۔

سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید ہیں۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ سادات علوی کی آگے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب و عراق میں ” سادات علوی ‘‘ مصر میں ” سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ” سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ” سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ” سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک وہند میں ” سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے

چار شعبان المعظم 26 ہجری یومِ ولادت حضرت غازی عبّاس علمدار شہید

4 شعبان المعظم 26 ہجری
یومِ ولادت حضرت غازی عبّاس علمدار رضی اللہ عنہ

حضرت غازی عباس رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنیؓن تھا جن کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔ وہ ولیہ خدا ، عرفانِ الہیٰ ، محدثہ، فقیہہ ، معرفت اہلبیت اطہار اور علوم ظاہری و باطنی کی حامل تھیں، عباس بن علؓی اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی حسین بن علؓی کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔

ولادت با سعادت :
حضرت عباس بن علیؓ کی ولادت باسعادت 4 شعبان المعظم 26 ہجری کو ہوئی۔ مولا علؓی  نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباسؓ رکھا۔

ابتدائی زندگی :
مولا علؓی نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے انہوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرکہلانے لگے۔ اسی بناء پر اُنہیں ثانی علی المرتضٰؓی بھی کہا جاتا ہے۔ عباس بن علؓی بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادات سے خاص شغف رکھتے تھے۔

واقعہ کربلا اور حضرت عباس بن علؓی :
واقعہ کربلا کے وقت عباس بن علیؓ کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ حضرت امام  حسینؓ نے آپ کو لشکر کا علمبردار قراردیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔ لشکرِ یزید کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر عباس بن علؓی کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔

شہادت :
10 محرم الحرام کو امام حسیؓن نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسیؓن کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دئیے اور شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔

شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علؓی کے ساتھ ہوا، ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں مرجع خلائق ہے

Saturday, March 28, 2020

اٹھائیس مارچ 1947 یومِ وفات بیگم مولانا محمد علی جوہر

28 مارچ 1947
یومِ وفات امجدی بانو بیگم مولانا محمد علی جوہر

امجدی بانو بیگم 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور  کی تائید  کرنے والی واحد خاتون تھیں۔

امجدی بانو بیگم ان بہادر اور حوصلہ مند خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے برصغیر  کے مسلمانوں کے الگ وطن کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔

امجدی بیگم رام پور میں بہت نمایاں شخصیت تھیں ۔ وہ 1885ء میں ریاست رامپور میں پیدا ہوئیں۔ وہ عظمت علی خان کی بیٹی تھیں. انکے بچپن میں ہی انکے والد کا انتقال ہو گیا، انکی دادی نے انکو پالا۔ انکی تعلیم کا گھر میں ہی انتظام  کیا گیا تھا  کیوں کے اس زمانے میں مسلمان لڑکیوں کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا

5 فروری 1902ء کو وہ مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جو رشتے میں آپ کے عزیز تھے۔ مولانا محمد علی جوہر  اپنے ملک کی آزادی کے بارے میں بہت پُرجوش تھے و ہ ایک عظیم مسلم رہنما تھے۔ 1919ء میں جب مولانا محمد علی جوہر کو خلافت تحریک کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا تو بیگم محمد علی جوہر امجدی بانو بیگم عملی سیاست سے منسلک ہوگئیں۔ اسی برس انہیں خود بھی قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی

امجدی بانو بیگم کو برطانوی بھارت کی پہلی مسلمان خاتون سیاسی رہنما کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ یہ وہ وقت تھا جب عورتیں اپنے گھروں تک محدود تھیں اور ان کی ذمہ داری اپنے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا تھی ، وہ اس وقت کی خاتون تھیں۔ انہوں نے تحریک خلافت میں شمولیت اختیار کی اور ہر سفر پر مولانا  کے ساتھ جاتی تھیں، یہاں تک کہ  4 جنوری 1931 کو مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد بھی انہوں نے مسلمانوں کی سربلندی کیلیے کام کرنا بند نہیں کیا۔ 1931 میں انہوں نے لندن کی گول میز کانفرنس میں شرکت کی جہاں انکے کام اور جذبہ کی تعریف کی گئی


امجدی بانو بیگم قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی ایک رکن کے طور پر مقرر کی گئیں۔ یہ کمیٹی پچیس ارکان پر مشتمل تھی اور وہ ان کے درمیان واحد خاتون تھیں

22 سے 24 مارچ 1940 تک  لاہور میں منعقد مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سےایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا گیا جو ایک قرارداد کی صورت میں عوام کے اجلاس میں منظور کیا گیا۔ امجدی بانو بیگم نے اس  کمیٹی کی ایک رکن کے طور پر پاکستان کی اس تاریخی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں  حصہ لیا۔ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں انہوں نے ہندوستان کی مسلمان خواتین کی جانب سے قرارداد لاہور کی تائید میں تقریر کی

وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی رہنما تھیں جنہوں نے اس قرارداد کو قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ ہندوستانی پریس نے طنز کے طور پر اس نام کو ایسا اچھالا کے لفظ پاکستان زبان زد خاص و عام ہوگیا

انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے تحت خواتین کے لئے علیحدہ ونگ کی بنیاد بھی ڈالی

قیام پاکستان سے صرف 5 ماہ قبل 28 مارچ 1947 کو امجدی بانو بیگم کا انتقال ہو گیا، اللہ تعالٰی آپ کی مغفرت فرمائے۔ آمین

تین شعبان 4 ہجری یومِ ولادت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ

03 شعبان المعظم 4 ہجری
08 جنوری 626
یومِ ولادت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ

فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دولت ایمان و نعمت اسلام سے مالا مال و سرفراز فرمایا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسلام کے احکام بتلائے، قرآنی آیات سنائیں، دین کی تمام تر تفصیلات بتلا دیں لیکن آپ نے احکام کی تبلیغ پر کوئی بدلہ و عوض نہ چاہا البتہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کا حکم فرمایا- جیساکہ ارشاد الہی ہے :

قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی
ترجمہ : اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے۔ (سورہ شوریٰ : 23)

جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا کہ وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر ضروری ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے (رضی اللہ تعالی عنہم)
 (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2575)

عَنِ ابْنٍ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : "قُلْ لا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی" قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا.

اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنے کا مطالبہ بظاہر تبلیغ اسلام کا بدلہ معلوم ہوتا ہے لیکن بات ایسی نہیں ہے بلکہ ایمان کے حصول کے بعد اس کی حفاظت کا انتظام انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ شیطان ہروقت ایمان کو تاراج کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے۔ حفاظت ایمان کی خاطر اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی محبت و مودت کا حکم دیا گیا ،ان پاکباز ہستیوں سے تعلق و وابستگی باعث نجات اور ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔

اسی مناسبت سے آج جنتی جوانوں کے سردار، جگر گوشۂ بتول، نواسۂ رسول، سید الشہداء، امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و کمالات آپ حضرات کے سامنے بیان کئے جارہے ہیں۔

فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات متعدد احادیث شریفہ سے ظاہر ہیں، آپ حضور اکرم سید الانبیاء سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسہ و لخت جگر اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی صاحبزادی، سیدۃ نساء اہل الجنۃ سیدہ بتول زہراء رضی اللہ عنہا کے پارہ دل ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی دائمی نسبت اور کمال قربت کوظاہرکرتے ہوئے بیان فرمایا :

حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں
(جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .ج2ص218 حدیث نمبر 4144)

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کی [ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ] کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ ﷺ عائشہ صدیقہ سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ ﷺ حسنین کریمین کو سُونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:122

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : [حسین منی وأنا من حسین ،أحب اللّٰہ من أحب حسینا،حسین سبط من الأسباط ] حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالٰی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123

براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین کو دیکھا اور فرمایا [ اللّٰہم انی احبھمافأحبھما ] اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما

حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123

ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حسین بن علی کو کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا [نعم المرکب رکبت یا غلام فقال النبی ﷺ:نعم الراکب ہو ]کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر اے لڑکے تُو سوار ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سوار کتنا اچھا ہے

حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی الحسن والحسین ] جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا پس تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور وہ حسن و حسین ہیں
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ کے لیے تشریف لے جاتے تو حسن و حسین آپ کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم ﷺنے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا :[من أحبنی فلیحب ھذین ] جو مجھ سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے ۔
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317

تین شعبان المعظم 4 ہجری یومِ ولادت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

03 شعبان المعظم 4 ہجری
08 جنوری 626
یومِ ولادت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ

سیدنا حسین ابن علی امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنھم کے چھوٹے بیٹے تھے۔ "حسین" نام اور "ابو عبد اللہ" کنیت ہے۔ ان کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ " حسین منی و انا من الحسین " یعنی " حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں"

ہجرت کے چوتھے سال 03 شعبان المعظم پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی۔ اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، بیٹے کو گود میں لِیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دی۔ پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السّلام کی غذا بنا۔ ساتویں دن عقیقہ کیا گیا

10 محرم 61 ہجری بمطابق 10 اکتوبر 680 آپ کا یومِ شہادت یے۔ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت جمعہ کے دن کربلا میں ہوئی۔

فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دولت ایمان و نعمت اسلام سے مالا مال و سرفراز فرمایا ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسلام کے احکام بتلائے قرآنی آیات سنائیں دین کی تمام تر تفصیلات بتلا دیں لیکن آپ نے احکام الٰہی کی تبلیغ پر کوئی بدلہ و عوض نہ چاہا البتہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم سے محبت کا حکم فرمایا، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے :

قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی
ترجمہ : اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے۔ (سورہ شوریٰ : 23)

جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا کہ وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر ضروری ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے (رضی اللہ تعالی عنہم)۔
(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2575)

عَنِ ابْنٍ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : "قُلْ لا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی" قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا.

اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم سے محبت کرنے کا مطالبہ بظاہر تبلیغ اسلام کا بدلہ معلوم ہوتا ہے لیکن بات ایسی نہیں ہے بلکہ ایمان کے حصول کے بعد اس کی حفاظت کا انتظام انتہائی ضروری ہوتا ہے شیطان ہروقت ایمان کو تاراج کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے۔ حفاظت ایمان کی خاطر اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم کی محبت و مودت کا حکم دیا گیا ،ان پاکباز ہستیوں سے تعلق و وابستگی باعث نجات اور ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے-

اسی مناسبت سے آج جنتی جوانوں کے سردار،جگر گوشۂ بتول، نواسۂ رسول، سید الشہداء، امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل وکمالات آپ حضرات کے سامنے بیان کئے جارہے ہیں

امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل وکمالات متعدد احادیث شریفہ سے ظاہر ہیں، آپ حضور اکرم سید الانبیاء سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسہ و لخت جگر اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی صاحبزادی، سیدۃ نساء اہل الجنۃ سیدہ بتول زہراء رضی اللہ عنہا کے پارہ دل ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی دائمی نسبت اور کمال قربت کو ظاہر کرتے ہوئے بیان فرمایا :

حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں
(جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .ج2ص218 حدیث نمبر 4144)

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کی [ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ] کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ ﷺ عائشہ صدیقہ سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ ﷺ حسنین کریمین کو سُونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے ۔
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:122

أنس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[حسین منی وأنا من حسین ،أحب اللّٰہ من أحب حسینا،حسین سبط من الأسباط ] حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالٰی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123

براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین کو دیکھا اور فرمایا [ اللّٰہم انی احبھمافأحبھما ] اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما

حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123

ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حسین بن علی کو کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا [نعم المرکب رکبت یا غلام فقال النبی ﷺ:نعم الراکب ہو ]کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر اے لڑکے تو سوار ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سوار کتنا اچھا ہے

حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی الحسن والحسین ] جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا پس تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور وہ حسن و حسین ہیں
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ کے لیے تشریف لے جاتے تو حسن و حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا :[من أحبنی فلیحب ھذین ] جو مجھے سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317

Friday, March 27, 2020

ستائیس مارچ 1898 یومِ وفات سر سید احمد خان

27 مارچ 1898
آج سر سید احمد خان کی برسی ہے

سرسید احمد خاں برصغیرمیں مسلم نشاط ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے اور انہوں نے مسلمانوں میں بیداری علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا. سر سید احمد خان انیسیوں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انہیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی. آپ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔ " سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اسوقت اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے ۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ ..... وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان " سائیس ،خانساماں، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ ... سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جِدوجُہد کرتے رہے۔

سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہرات سے ہندوستان آئے۔ دستور زمانہ کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل كی. ابتدائی تعلیم میں آپ نے قرآن پاك كا مطالعہ كیا اور عربی اور فارسی ادب كا مطالعہ بھی كیا۔ اس كے علاوہ آپ نے حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل كی.جریدے Sayyad القرآن اکبر کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ان کے بڑے بھائی نے شہر کے سب سے پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد رکھی. سر سید نے کئی سال کے لئے ادویات کا مطالعہ کی پیروی کی لیکن اس نے کورس مکمل نہیں ہے.
ابتدائی تعلیم حاصل كرنے كے بعد آپ نے اپنے خالو مولوی خلیل اللہ سے عدالتی كام سیكھا۔ 1837ء میں آگرہ میں كمیشنر كے دفتر میں بطور نائب منشی فرائض سنبھالے۔ 1841ئ اور 1842ئ میں مین پوری اور 1842ء اور1846ء تك فتح پور سیكری میں سركاری خدمات سر انجام دیں۔ محنت اور ایمانداری سے ترقی كرتے ہوئے 1846ء میں دہلی میں صدر امین مقرر ہوئے۔ دہلی میں قیام كے دوران آپ نے اپنی مشہور كتاب " آثار الصنادید" 1847ء میں لكھی۔ 1857ئ میں آپ كا تبادلہ ضلع بجنور ہو گیا۔ ضلع بجنور میں قیام كے دوران آپ نے اپنی " كتاب سركشی ضلع بجنور" لكھی۔ جنگ آزادی كے دوران آپ بجنور میں قیام پذیر تھے۔ اس كٹھن وقت میں آپ نے بہت سے انگریز مردوں، عورتوں اوربچوں كی جانیں بچائیں۔آپ نے یہ كام انسانی ہمدردی كیلئے ادا كیا۔ جنگ آزادی كے بعد آپ كو آپ كی خدمات كے عوض انعام دینے كیلئے ایك جاگیر كی پیشكش ہوئی جسے آپ نے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔

1857ء میں آپ كو ترقی دے كر صدر الصدور بنا دیا گیا اور آپ كی تعیناتی مراد آباد كر دی گئی۔ 1862ء میں آپ كا تبادلہ غازی پور ہو گیا اور 1867ء میں آپ بنارس میں تعینات ہوئے۔

1877ء میں آپ كو امپریل كونسل كاركن نامزد كیا گیا۔ 1888ء میں آپ كو سر كا خطاب دیا گیا اور 1889ء میں انگلستان كی یونیورسٹی اڈنبرا نے آپ كو ایل ایل ڈی كی اعزازی ڈگری دی۔ 1864ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ علی گڑھ گئے تو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نکالا۔

انگلستان سے واپسی پر 1870ء میں رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ اس میں مضامین سرسید نے مسلمانان ہند کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا۔ اورادب میں علی گڑھ تحریک کی بنیاد پڑی۔ سرسید کا کارنامہ علی گڑھ کالج ہے۔ 1887ء میں ستر سال کی عمر میں پینش لے لی اوراپنے کالج کی ترقی اور ملکی مفاد کے لیے وقف کریا۔

 1859 ء میں وہ اپنے بیٹے سید محمود کے ساتھ انگلستان گیے تو وہاں انھیں دو مشہور رسالوں Tatler اور Spectator کے مطالعے کا موقع ملا۔ یہ دونوں رسالے اخلاق اور مزاح کے خوبصورت امتزاج سے اصلاح معاشرہ کے علم بردار تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔۔ ظرافت اور خوش طبعی فطری طور پر شخصیت کا حصہ تھی۔

آپ نے 81 سال کی عمر میں 27 مارچ 1898ء میں وفات پائی اور اپنے محبوب کالج کی مسجد میں دفن ہوئے۔ سرسید کی تمام زندگی قوم و ادب کی خدمت میں گزری۔

سید کے والد کو اکبر شاہ کے زمانہ میں ہر سال تاریخ جلوس کے جشن پر پانچ پارچہ اور تین رقوم جواہر کا خلعت عطا ہوتا تھا مگر اخیر میں ۔ ۔ ۔ انہوں نے دربار کو جانا کم کردیا تھا اور اپنا خلعت سر سید کو ، باوجودیکہ ان کی عمر کم تھی ، دلوانا شروع کردیا تھا۔ سرسید کہتے تھے کہ:
" ایک بار خلعت ملنے کی تاریخ پر ایسا ہوا کہ والد بہت سویرے اُٹھ کر قلعہ چلے گئے اور میں بہت دن چڑھے اُٹھا ۔ ہر چند بہت جلد گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچا مگر پھر بھی دیر ہوگئی ۔ جب لال پردہ کے قریب پہنچا تو قاعدہ کے موافق اول دربار میں جا کر آداب بجا لانے کا وقت نہیں رہا تھا ۔ داروغہ نے کہا کہ بس اب خلعت پہن کر ایک ہی دفعہ دربار میں جانا۔ جب خلعت پہن کر میں نے دربار میں جانا چاہا تو دربار برخاست ہو چکا تھا اور بادشاہ تخت پر سے اُٹھ کر ہوادار پر سوار ہوچکے تھے۔ بادشاہ نے مجھے دیکھ کر والد سے ، جو اس وقت ہوادار کے پاس ہی تھے ، پوچھا کہ " تمہارا بیٹا ہے؟" انہوں نے کہا، "حضور کا خانہ زاد! " بادشاہ چپکے ہو رہے۔ لوگوں نے جانا بس اب محل میں چلے جائیں گے ، مگر جب تسبیح خانہ میں پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ تسبیح خانہ میں بھی ایک چبوترہ بنا ہوا تھا جہاں کبھی کبھی دربار کیا کرتے تھے۔ اس چبوترہ پر بیٹھ گئے اور جواہر خانہ کے داروغہ کو کشتئ جواہر حاضر کرنے کا حکم ہوا۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ بادشاہ نے مجھے اہنے سامنے بلایا اور کمال عنایت سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ " دیر کیوں کی؟" حاضرین نے کہا ، " عرض کرو کہ تقصیر ہوئی " مگر میں چپکا کھڑا رہا۔ جب حضور نے دوبارہ پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ " سو گیا تھا! " بادشاہ مسکرائے اور فرمایا، " بہت سویرے اُٹھا کرو! " اور ہاتھ چھوڑ دئیے ۔ لوگوں نے کہا، " آداب بجا لاؤ! " میں آداب بجا لایا۔ بادشاہ نے جواہرات کی معمولی رقمیں اپنے ہاتھ سے پہنائیں۔ میں نے نذر دی اور بادشاہ اُٹھ کر خاصی ڈیوڑھی سے محل میں چلے گئے۔ تمام درباری میرے والد کو بادشاہ کی اس عنایت پر مبارک سلامت کہنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانہ میں میری عمر آٹھ نو برس کی ہوگی
۔۔۔
1855 ء میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف "آئین اکبری" کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھا ۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی ، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا ،مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کردیا۔
دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثارالصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے ۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے وہ کلیاتِ غالب میں موجود ہے مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصدا ً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ابوالفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔
سر سید کہتے تھے کہ :
" جب میں مرادآباد میں تھا ، اس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے ، میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں ۔ میں فورا سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔"
ظاہراً جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا وہ مرزا سے اور مرزا ان سے نہیں ملے تھے اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا اور اسی لئے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی ان کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے اور پالکی سے اُترے تو ایک بوتل ان کے ہاتھ میں تھی انہوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی ۔ سر سید نے کسی وقت اس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا ۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا توبہت گھبرائے ، سرسید نے کہا:
" آپ خاطر جمع رکھئے ، میں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے۔"
مرزا صاحب نے کہا، " بھئی مجھے دکھا دو ، تم نے کہاں رکھی ہے؟" انہوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دکھا دی ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے کہ، " بھئی ! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے ، شاید اسی لئے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی، حافظ نے سچ کہا ہے:
واعظاں کایں جلوہ در محراب و منبر میکنند چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر میکنند
سرسید ہنس کے چُپ ہورہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی ، رفع ہوگئی ، میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے
۔۔۔۔
تصانیف
۔۔۔۔۔
آثار الصنادید
خطبات احمدیہ
الکلام
سفرنامہ لندن
تاریخ بجنور
۔۔۔۔۔۔
سرسید كا نقطہ نظر تھا كہ مسلم قوم كی ترقی كی راہ تعلیم كی مدد سے ہی ہموار كی جا سكتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں كو مشورہ دیا كہ وہ جدید تعلیم حاصل كریں اوار دوسری اقوام كے شانہ بشانہ آگے بڑھیں۔ انہوں نے محض مشورہ ہی نہیں دیا بلكہ مسلمانوں كے لیے جدید علوم كے حصول كی سہولتیں بھی فراہم كرنے كی پوری كوشش كی۔ انہوںنے سائنس٬ جدید ادب اور معاشرتی علوم كی طرف مسلمانوں كو راغب كیا۔ انہوںنے انگریزی كی تعلیم كو مسلمانوں كی كامیابی كے لیے زینہ قرار دیا تاكہ وہ ہندوئوں كے مساوی و معاشرتی درجہ حاصل كر سكیں۔

1859 میں سرسید نے مراد آباد اور 1862 میں غازی پور میں مدرسے قائم كیے۔ ان مدرسو ں میں فارسی كے علاوہ انگریزی زبان اور جدید علوم پڑھانے كا بندوبست بھی كیا گیا۔

1875ء میں انہوں نے علی گڑھ میں ایم اے او ہائی سكول كی بنیاد ركھی جو بعد ازاں ایم ۔اے۔ او كالج اور آپ كی وفات كے بعد 1920ء میں یونیورسٹی كا درجہ اختیار كر گیا۔ ان اداروں میں انہوں نے آرچ بولڈ آرنلڈ اور موریسن جیسے انگریز اساتذہ كی خدمات حاصل كیں۔

1863ء میں غازی پور میں سر سید نے سائنٹفك سوسائٹی كے نام سے ایك ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے كے قیام كا مقصد مغربی زبانوں میں لكھی گئیں كتب كے اردو تراجم كرانا تھا۔ بعد ازاں 1876ء میں سوسائٹی كے دفاتر علی گڑھ میں منتقل كر دیے گئے۔ سر سید نے نئی نسل كو انگریزی زبان سیكھنے كی ترغیب دی تاكہ وہ جدید مغربی علوم سے بہرہ ور ہو سكے۔ یوں دیھکتے ہی دیكھتے مغربی ادب سائنس اور دیگر علوم كا بہت سا سرمایہ اردو زبان میں منتقل ہو گیا۔ سوسائٹی كی خدمات كی بدولت اردو زبان كو بہت ترقی نصیب ہوئ ۔

1886 میں سر سید احمد خاں نے محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے نام سے ایك ادارے كی گنیاد ركھی گئی۔ مسلم قوم كی تعلیمی ضرورتون كے لیے قوم كی فراہمی میں اس ادارے نے بڑی مدد دی اور كانفرنس كی كاركردگی سے متاثر ہو كر مختلف شخصیات نے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں كا آغاز كیا۔ لاہور میں اسلامیہ كالج كراچی میں سندھ مسلم مدرسہ٬ پشاور میں اسلامیہ كالج اور كانپور میں حلیم كالج كی بنیاد ركھی۔ محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس مسلمانوں كے سیاسی ثقافتی معاشی اور معاشرت حقوق كے تحفظ كے لیے بھی كوشاں رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید نے زیادہ زور جدید تعلیم پر دیا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ جدید تعلیم کے بغیر مسلمانوں کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ سر سید کی دوربیں نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ زندگی نے جو رخ اختیار کر لیا ہے اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس میں رکاوٹ پیدا کر کے اس کی رفتار کو بھی روکا نہیں جا سکتا بلکہ ایسا کرنے والے خود تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے تمام تر توجہ جدید تعلیم کے فروغ پر مرکوز کر دی۔ سائنٹفک سوسائٹی کا مقصد ہی اپنے ہم وطنوں کو جدید علوم سے روشناس کرانا تھا۔اس سوسائٹی کے جلسوں میں جس میں نئے نئے سائنسی مضامین پر لیکچر ہوتے اور آلات کے ذریعہ تجربے بھی کیے جاتے، کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو بتایا جا سکے کہ بنا جدید علوم خاص طور پرسائنس کے میدان میں ترقی نہیں کی جا سکتی اور اسی لیے سائنٹفک سوسائٹی نے جن دو درجن کتابوں کا ترجمہ کرایا ان میں چند کو چھوڑ کر زیادہ تر ریاضی اورسائنس سے متعلق تھیں۔ سر سید احمد خاں کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ یورپ جس راستے پر جا رہا ہے اور جو تعلیم حاصل کر رہا ہے وہی راستا اور تعلیم مستقبل کی ترقی کی گارنٹی ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ درسگاہیں کیسی ہیں اور ان کا نظام تعلیم کیا ہے؟ اس لیے وہ خود انگلستان گئے، وہاں کے تعلیمی نظام کو دیکھا، تعلیمی اداروں میں رہے، اساتذہ سے ملاقاتیں کیں اور اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ انگلستان کی ہر چیز نے ان کو متاثر کیا۔انہوں نے کہا:” میں نے صرف اس خیال سے کہ کیا راہ ہے جس سے قوم کی حالت درست ہو، دور دراز سفر اختیار کیا اور بہت کچھ دیکھا جو دیکھنے کے لائق تھا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب میں نے کوئی عمدہ چیز دیکھی، جب کبھی عالموں اور مہذب آدمیوں کو دیکھا، جب کبھی علمی مجلسیں دیکھیں، جہاں کہیں عمدہ مکانات دیکھے، جب کبھی عمدہ پھول دیکھے، جب کبھی کھیل کود، عیش و آرام کے جلسے دیکھے، یہاں تک کہ جب کبھی کسی خوب صورت شخص کو دیکھا مجھ کو ہمیشہ اپنا ملک اور اپنی قوم یاد آئی اور نہایت رنج ہوا کہ ہائے ہماری قوم ایسی کیوں نہیں، جہاں تک ہو سکا ہر موقع پر میں نے قومی ترقی کی تدبیروں پر غور کیا سب سے اول یہی تدبیر سوجھی کہ قوم کے لیے قوم ہی کے ہاتھ سے ایک مدرسہ العلوم قائم کیا جائے جس کی بنا آ پ کے شہر میں اور آپ کے زیر سایہ پڑی۔ “
۔۔۔
سرسید نے اس تحریک کا آغاز جنگ آزادی سے ایک طرح سے پہلے سے ہی کر دیا تھا۔ غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ لیکن جنگ آزادی نے سرسید کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے اور ان ہی واقعات نے علی گڑھ تحریک کو بارآور کرنے میں بڑی مدد دی۔ لیکن یہ پیش قدمی اضطراری نہ تھی بلکہ اس کے پس پشت بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ مثلا راجہ رم موہن رائے کی تحریک نے بھی ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ لیکن سب سے بڑا واقعہ سکوت دلی کا ہی ہے۔ اس واقعے نے ان کی فکر اور عملی زندگی میں ایک تلاطم برپا کر دیا۔ اگرچہ اس واقعے کا اولین نتیجہ یار دعمل تو مایوسی ، پژمردگی اور ناامیدی تھا تاہم اس واقعے نے ان کے اندر چھپے ہوئے مصلح کو بیدار کر دیا علی گڑھ تحریک کا وہ بیج جو زیر زمین پرورش پارہا تھا ۔ اب زمین سے باہر آنے کی کوشش کرنے لگا چنا نچہ اس واقعے سے متاثر ہو کر سرسید احمد خان نے قومی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔

ابتداءمیں سر سید احمد خان نے صرف ایسے منصوبوں کی تکمیل کی جو مسلمانوں کے لئے مذہبی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت سر سید احمد خان قومی سطح پر سوچتے تھے۔ اور ہندوئوں کو کسی قسم کی گزند پہنچانے سے گریز کرتے تھے۔ لیکن ورینکلر یونیورسٹی کی تجویز پر ہندوئوں نے جس متعصبانہ رویے کا اظہار کیا، اس واقعے نے سرسید احمد خان کی فکری جہت کو تبدیل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اب ان کے دل میں مسلمانوں کی الگ قومی حیثیت کا خیال جاگزیں ہو گیا تھااور وہ صرف مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود میں مصروف ہوگئے۔ اس مقصد کے لئے کالج کا قیام عمل میں لایا گیا رسالے نکالے گئے تاکہ مسلمانوں کے ترقی کے اس دھارے میں شامل کیا جائے۔

1869 ءمیں سرسید احمد خان کوانگلستان جانے کا موقع ملا اس یہاں پر وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ ہندوستان میں بھی کیمرج کی طرز کا ایک تعلیمی ادارہ قائم کریں گے۔ وہاں کے اخبارات سپکٹیٹر ، اور گارڈین سے متاثر ہو کر ۔ سرسید نے تعلیمی درسگاہ کے علاوہ مسلمانوں کی تہذیبی زندگی میں انقلاب لانے کے لئے اسی قسم کااخبار ہندوستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ اور ”رسالہ تہذیب الاخلاق“ کا اجراءاس ارادے کی تکمیل تھا۔ اس رسالے نے سرسید کے نظریات کی تبلیغ اور مقاصد کی تکمیل میں اعلیٰ خدمات سر انجام دیں. علی گڑھ تحریک ایک بہت بڑی فکری اور ادبی تحریک تھی.

سر سید احمد خاں نے 1875ء میں ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی داغ بیل ڈالی جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا:
” میں ہندوستانیوں کی ایسی تعلیم چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ان کو اپنے حقوق حاصل ہونے کی قدرت ہو جائے، اگرگورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق اب تک نہیں دیے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہو تو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیز ہے کہ خواہ مخواہ طوعاً و کرہاً ہم کو دلا دے گی۔ “
ا س تحریك كے دیگر قائدین میں سے محسن الملك٬ وقار الملك٬ مولانا شبلی نعمانی٬ مولانا الطاف حسین حالی٬ اور مولانا چراغ علی خاص طور پر قابل ذكر ہیں۔ ان لوگوں نے وہ كارہائے نمایاں انجام دیے كہ آنے والی مسلم نسلیں ان كی جتین بھی قدر كریں كم ہے۔ سرسید اور ان كے ساتھیوں نے علی گڑھ تحریك كو ایك ہمہ گیر اور جامع تحریك بنا دیا۔ یوں مسلمانوں كی نشاۃ الثانیہ كا آغازہوا۔
۔۔۔۔۔۔
1857ءكی جنگ آزادی كی تمام تر ذمہ داری انگریزوں نے مسلمانوں پر ڈال دی تھی اور انہیں سزا دینے كے لئے ان كے خلاف نہایت ظالمانہ اقدامات كئے گئے ہندو جو كہ جنگ آزادی میں برابر كے شریك تھے۔ انہیں بالكل كچھ نہ كہا گیا۔ انگریز كی اس پالیسی كی وجہ سے مسلمان معاشرتی طور پر تباہ ہو گئے اور ان معاشی حالت ابتر ہو گئی انگریزوں نے فارسی كی بجائے جو كہ مسلمانوں كی زبان تھی۔ انگریزی كو سركاری زبان كا درجہ دے دیا تھا۔ مسلمان كسی صورت بھی انگریزی زبان سیكھنے پر رضا مند نہ تھے، دوسری طرف ہندووٕں نے فوری طور پر انگریزی زبان كو اپنا لیا تھا اور اس طرح تعلیمی میدان میں مسلمانوں سے آگے نكل گئے۔ان اقدامات نے مسلمانوں كی معاشی اور معاشرتی حالت كو بہت متاثر كیا تھا مسلمان جو كبھی ہندوستان كے حكمران تھے، ادب ادنیٰ درجے كے شہری تھے۔ جنہیں ان كے تمام حقوق سے محروم كر دیا گیا تھا۔

سرسید احمد خان مسلمانوں كی ابتر حالت اور معاشی بدحالی كو دیكھ كر بہت كڑھتے تھے آپ مسلمانوں كو زندگی كے باعزت مقام پر دیكھنا چاہتے تھے اور انہیں ان كا جائز مقام دلانے كے خواہاں تھے۔ آپ نے مسلمانوں كی راہنمائی كا ارادہ كیا اور انہیں زندگی میں اعلیٰ مقام حاصل كرنے كے لئے جدوجہد كی تلقین كی۔

سرسید احمد خان نے یہ محسوس كر لیا تھا كہ ہندوستان كے مسلمانوں كی موجودہ حالت كی زیادہ ذمہ داری خود مسلمانوں كے انتہا پسند رویے كی وجہ سے ہے۔ ہندوستان كے مسلمان انگریز كو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور انگریزی تعلیم سیكھنا اپنے مذہب كے خلاف تصور كرتے تھے۔ مسلمانوں كے اس رویے كی وجہ سے انگریزوں اور مسلمانوں كے درمیان ایك خلیج حائل رہی، سرسید احمد خان نے یہ محسوس كر لیا تھا كہ جب تك مسلمان انگریزی تعلیم اور انگریزوں كے متعلق اپنا رویہ تبدیل نہ كریں گے ان كی حالت بہتر نہ ہو سكے گی اور وہ تعلیمی میدان میں ہمیشہ ہندووٕں سے پیچھے رہیں گے۔ آپ نے مسلمانوں كو یہ تلقین كی كہ وہ انگریزوں كے متعلق اپنا رویہ بدلیں كیونكہ انگریز ملك كے حكمران ہیں۔ آپ نے اپنی تحریك كا آغاز مسلمانوں اور انگریزوں كے درمیان غلط فہمی كی فضا كو ختم كرنے سے كیا۔
۔۔۔۔۔۔
سرسید احمد خان یہ سمجھتے تھے كہ مسلمانوں كی موجودہ بدحالی كا سب سے بڑا سبب مسلمانوں كا انگریزی علوم سے بے بہرہ ہونا ہے۔ آپ یہ سمجھتے تھے كہ مسلمانوں كو انگریزی زبان اور تہذیب سے نفرت كا رویہ ترك كر كے مفاہمت كا راستہ اختیار كرنا چاہئے۔ دوسری طرف ہندو جدید تعلیم حاصل كر كے تعلیمی میدان میں مسلمانوں سے آگے نكل گئے تھے اور اعلیٰ ملازمتیں حاصل كر لی تھیں۔ آپ نے مسلمانوں كو اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے كی تلقین كی اور انہیں یہ باور كرایا كہ جب تك وہ اپنا انتہا پسند رویہ ترك كر كے انگریزی علوم نہیں سیكھیں گے وہ كسی طرح بھی اپنی موجودہ بدحالی پر قابو نہ پا سكیں گے۔ آپ نے قرآن پاك كے حوالے دے كر مسلمانوں كو یہ سمجھایا كہ انگریزی علوم سیكھنا اسلام كے خلاف نہیں ہے آپ نے انتہا پسند عناصر سے مسلمانوں كو خبردار كیا۔ مسلمانوں كی تعلیمی بہتری كے لئے آپ نے متعدد اقدامات كئے۔

1859ء میں مراد آباد كے مقام پر ایك مدرسہ قائم كیا گیا جہاں فارسی كی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس مدرسے میں انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی۔ 1863ئ میں غازی پور میں سائنٹیفك سوسائٹی قائم كی گئی جس كا مقصد انگریزی علوم كو اردو اور فارسی میں ترجمہ كرنا تھا تاكہ ہندوستانی عوام جدید علوم سے استفادہ كرسكیں۔ 1866 میں سائنٹیفك سوسائٹی كے زیر اہتمام ایك اخبارجاری كیا گیا جسے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ كہا جاتا ہے یہ اخبار اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع كیا جاتا تھا۔ اس اخبار كے ذریعے انگریزوں كو مسلمانوں كے جذبات سے آگاہ كیا جاتا تھا۔

1869ء میں آپ كے بیٹے سید محمود كو حكومت كی طرف سے اعلیٰ تعلیم كے لئے انگلستان بھیجا گیا۔ آپ بھی 1869ء میں اپنے بیٹے كے ہمراہ انگلستان چلے گئے۔ وہاں جا كر آپ نے آكسفورڈ اور كیمبرج یونیورسٹیوں كے نظام تعلیم كا مشاہدہ كیا۔ آپ ان یونیورسٹیوں كے نظام تعلیم سے بہت متاثر ہوئے اور یہ ارادہ كیا كہ ہندوستان جا كر ان یونیورسٹیوں كی طرز كا ایك كالج قائم كریں گے۔
آپ انگلستان سے 1870ء میں واپس آئے اور ہندوستان میں انجمن ترقی مسلمانان ہند كے نام سے ایك ادارہ قائم كیا جس كا مقصد مسلمانوں كو جدید تعلیم سے روشناس كرانا تھا۔ 1870ءمیں آپ نے رسالہ تہذیب الاخلاق لكھا جس میں آپ نے مسلمانوں كے ان معاشرتی پہلووٕں كی نشاندہی كی جن كی اصلاح كرنا مقصود تھی اور مسلمانوں كو تلقین كی كہ وہ اپنے ان پہلووٕں كی فوری اصلاح كریں۔
۔۔۔۔۔۔
انگلستان سے واپسی پر آپ نے مسلمانوں كی تعلیمی ترقی كے لئے ایك كمیٹی قائم كر دی جس نے اعلیٰ تعلیم كے لئے ایك كالج كے قیام كے لئے كام شروع كیا۔ اس كمیٹی كو محمڈن كالج كمیٹی كہا جاتا ہے۔ كمیٹی نے ایك فنڈ كمیٹی قائم كی جس نے ملك كے طول و عرض سے كالج كے لئے چندہ اكٹھا كیا۔ حكومت سے بھی امداد كی درخواست كی گئی۔
1875ء میں انجمن ترقی مسلمانان ہند نے علی گڑھ میں ایم اے او ہائی سكول قائم كیا۔ اس ادارے میں جدید اور مشرقی علوم پڑھانے كا بندوبست كیا گیا۔ 1877ء میں اس اسكول كو كالج كا درجہ دے دیا گیا جس كا افتتاح لارڈ لٹن نے كیا۔ یہ كالج رہائشی كالج تھا اور یہاں پر تمام علوم پڑھائے جاتے تھے۔ سرسید كی یہ دلی خواہش تھی كہ اس كالج كو یونیورسٹی كا درجہ دلا دیں۔ یہ كالج سرسید كی وفات كے بعد 1920ء میں یونیورسٹی بن گیا یہاں سے فارغ التحصیل طلباءنے آگے چل كر تحریك پاكستان میں نمایاں كردار ادا كیا۔
۔۔۔۔
سرسید احمد خان نے 27دسمبر 1886ء كو محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كی بنیاد ركھی اس كانفرنس كا بنیادی مقصد مسلمانوں كی تعلیمی ترقی كے لئے اقدامات كرنا تھا۔ اس كا پہلا اجلاس علی گڑھ میں ہوا۔ كانفرنس نے تعلیم كی اشاعت كے لئے مختلف مقامات پر جلسے كئے۔ہر شہر اور قصبے میں اس كی ذیلی كمیٹیاں قائم كی گئیں۔ اس كانفرنس كی كوششوں سے مسلمانوں كے اندر تعلیمی جذبہ اور شوق پیدا ہوا۔ اس كانفرنس نے ملك كے ہر حصے میں اجلاس منعقد كئے اور مسلمانوں كو جدید تعلیم كی اہمیت سے روشناس كرایا۔ اس كانفرنس كے سربراہوں میں نواب محسن الملك، نواب وقار الملك، مولانا شبلی اور مولانا حالی جیسی ہستیاں شامل تھیں۔
محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كا سالانہ جلسہ مختلف شہروں میں ہوتا تھا۔ جہاں مقامی مسلمانوں سے مل كر تعلیمی ترقی كے اقدامات پر غور كیا جاتا تھا اور مسلمانوں كے تجارتی، تعلیمی، صنعتی اور زراعتی مسائل پر غور كیا جاتا تھا۔

آل انڈیا مسلم لیگ كا قیام بھی 1906ء میں محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے سالانہ اجلاس كے موقع پر ڈھاكہ كے مقام پر عمل میں آیا۔ محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے سالانہ اجلاس كے موقع پر برصغیر كے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے مسلم عمائدین نے ڈھاكہ كے نواب سلیم اللہ خاں كی دعوت پر ایك خصوصی اجلاس میں شركت كی۔ اجلاس میں فیصلہ كیا گیا كہ مسلمانوں كی سیاسی راہنمائی كے لیے ایك سیاسی جماعت تشكیل دی جائے۔

 یاد رہے كہ سرسید نے مسلمانوں كو سیاست سے دور رہنے كا مشورہ دیا تھا۔ لیكن بیسویں صدی كے آغاز سے كچھ ایسے واقعات رونما ہونے شروع ہوئے كہ مسلمان ایك سیاسی پلیٹ فارم بنانے كی ضرورت محسوس كرنے لگے۔ ڈھاكہ اجلاس كی صدارت نواب وقار الملك نے كی۔ ننواب محسن الملك، مولانامحمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں، حكیم اجمل خاں اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر سر آغا خان كو چنا گیا۔ مركزی دفتر علی گڑھ میں قائم ہوا۔ تمام صوبوں میں شاخیں بنائی گئیں۔ برطانیہ میں لندن برانچ كا صدر سید امیر علی كو بنایا گیا۔
۔۔۔
1857 ءکی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں میں بڑھتے ہوئے اختلافات کے پیش نظر سر سید احمد خاں نے محسوس کرنا شروع کردیا تھا کہ سیاسی بیداری اور عام ہوتے ہوئے شعور کے نتیجہ میں دونوں قوموں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ مولانا حالی نے حیات جاوید میں سرسید کے حوالے سے بھی ان خدشات کا اظہار کیا ہے ان کے خیال میں سرسید احمد نے 1867 ء میں ہی اردو ہندی تنازعہ کے پیش نظر مسلمانوں اور ہندوؤں کے علیحدہ ہوجانے کی پیش گوئی کر دی تھی۔ انہوں نے اس کا ذکر ایک برطانوی افسر سے کیا تھا کہ دونوں قوموں میں لسانی خلیج وسیع ترہوتی جارہی ہے۔ اور ایک متحدہ قومیت کے طور پر ان کے مل کے رہنے کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ اور آگے چل کر مسلمانوں ار ہندوؤں کی راہیں جدا ہوجائیں گی۔
اردو زبان كی ترقی و ترویج كا آغاز مغلیہ دور سے شروع ہوا اور بہ زبان جلد ہی ترقی كی منزلیں طے كرتی ہوئی ہندوستان كے مسلمانوں كی زبان بن گئی۔ اردو كئی زبانوں كے امتزاج سے معرض وجود میں آئی تھی۔ اس لئے اسے لشكری زبان بھی كہا جاتا ہے۔ اس كی ترقی میں مسلمانوں كے ساتھ ہندو ادیبوں نے بھی بہت كام كیا ہے سرسید احمد خان نے بھی اردو كی ترویج و ترقی میں نمایاں كام كیا لیكن چونكہ ہندو فطری طور پر اس چیز سے نفرت كرتا تھا جس سے مسلمانوں كی تہذیب و تمدن اور ثقافت وابستہ ہو لہٰذا ہندووٕں نے اردو زبان كی مخالفت شروع كر دی۔

1867ء میں بنارس كے چیدہ چیدہ ہندو رہنماوٕں نے مطالبہ كیا كہ سركاری عدالتوں اور دفاتر میں اردو اور فارسی كو یكسر ختم كر دیا جائے اور اس كی جگہ ہندی كو سركاری زبان كے طور پر رائج كیا جائے۔ ہندووٕں كے اس مطالبے سے سرسید احمد خان پر ہندووٕں كا تعصب عیاں ہو گیا اور انہیں ہندو مسلم اتحاد كے بارے میں اپنے خیالات بدلنے پڑے اس موقع پر آپ نے فرمایا كہ :
٫٫ مجھے یقین ہو گیا ہے كہ اب ہندو اور مسلمان بطور ایك قوم كے كبھی نہیں ایك دوسرے كے ساتھ مل كر نہیں رہ سكتے۔٬٬
سرسید احمد خان نے ہندووٕں كی اردو زبان كی مخالفت كے پیش نظر اردو كے تحفظ كے لئے اقدامات كرنیكا ارادہ كیا1867ء میں آپ نے حكومت سے مطالبہ كیا كہ ایك ٫٫ دار الترجمہ٬٬ قائم كیا جائے تاكہ یونیورسٹی كے طلبائ كیلئے كتابوں كا اردو ترجمہ كیا جا سكے ہندووٕں نے سرسید احمد خان كے اس مطالبے كی شدت سے مخالفت كی لیكن آپ نے تحفظ اردو كے لئے ہندووٕں كا خوب مقابلہ كیا۔ آپ نے الٰہ آباد میں ایك تنظیم سنٹرل ایسوسی ایشن قائم كی اورسائنٹیفك سوسائٹی كے ذریعے اردو كی حفاظت كا بخوبی بندوبست كیا۔
ہندووٕں نےاردو كی مخالفت میں اپنی تحریك كو جاری ركھا۔1817ء میں بنگال كے لیفٹیننٹ گورنر كیمبل نے اردو كو نصابی كتب سے خارج كرنے كا حكم دیا۔ ہندووٕں كی تحریك كی وجہ سے 1900ء میں یو پی كے بدنام زمانہ گورنر انٹونی میكڈانلڈ نے احكامات جاری كئے كہ دفاتر میں اردو كی بجائے ہندی كو بطور سركاری زبان استعمال كیا جائے۔
اس حكم كے جاری ہونے پر مسلمانوں میں زبردست ہیجان پیدا ہوا۔ 13مئی 1900 ء كو علی گڑھ میں نواب محسن الملك نے ایك جلسے سے خطاب كرتے ہوئے حكومت كے اقدام پر سخت نكتہ چینی كی۔ نواب محسن الملك نے اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم كی جس كے تحت ملك میں مختلف مقامات پر اردو كی حمایت میں جلسے كئے گئے اور حكومت كے خلاف سخت غصے كا اظہار كیا گیا۔ اردو كی حفاظت كے لئے علی گڑھ كے طلبائ نے پرجوش مظاہرے كئے جس كی بنائ پر گونر میكڈانلڈ كی جانب سے نواب محسن الملك كو یہ دھمكی دی گئی كہ كالج كی سركاری گرانٹ بند كر دی جائے گی۔
اردو كے خلاف تحریك میں كانگریس اپنی پوری قوت كے ساتھ شامل كار رہی اور اسے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔ اردو زبان كی مخالفت كے نتیجے میں مسلمانوں پر ہندو ذہنیت پوری طرح آشكار ہو گئی۔ اس تحریك كے بعد مسلمانوں كو اپنے ثقافتی ورثے كا پوری طرح احساس ہوا اور قوم اپنی تہذیب و ثقافت كے تحفظ كے لئے متحد ہوئی۔
سرسیّد احمد خان نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بڑے زور و شور سے اردو زبان کی مدافعت جاری رکھی۔
۔۔۔۔
آپ نے مسلمانوں كو مشورہ دیا كہ سیاست سے دور رہتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ تعلیم كے حصول اورمعاشی و معاشرتی طورپر بحای پر دین تاكہ وہ ہندوئوں كے برابر مقام حاصل كر سكیں۔ سرسید ہندو مسلم اختلافات كو ختم كر كے تعاون اور اتحاد كی راہ رپ گامزن كرنے كے حق میں بھی تھے۔ انہوںنے دونوں قوموں كو ایك دوسرے كے قریب لانے كی مسلسل كوششیں كیں۔ اپنے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ بھرتی كیے اور ہندو طلباء كو داخلے دیے ہندووں نے اردو كے مقابل ہندی كو سركاری دفاتر كی زبان كا درجہ دلوانے كے لیے كوششیں شروع كر دیں۔

1867ء میں اردو ہندی تنازعے نے سرسید كو بددل كر دیا اور اانہوںنے صرف اور صرف مسلمانوں كے حقوق كے تحفظ كے لیے اپنی تحریك كے ذریعے كام شروع كر دیا۔ زبان كا تنازعہ سرسید كی سوچ اور عمل كو بدل گیا۔ انہوںنے دو قومی نظریہ كی بنیادپر برصغیر كے سیاسی اور دیگر مسائل كے حل تلاش كرنے كا فیصلہ كیا۔
سرسید كی سیاسی حكمت عملی كی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ سرسید نے مسلمانوں كو ایك علیحدہ قوم ثابت كیا اور حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ كے افكار كو آگے بڑھایا۔ دو قومی نظریہ كی اصطلاح سرسید نے ہی سب سے پہلے استعمال كی۔ انہوںنے كہا كہ مسلمان جداگانہ ثقافت رسم و رواج اور مذہب كے حامل ہیں اور ہر اعتبار سے ایك مكمل قوم وك درجہ ركھتے ہیں۔ مسلمانوں كی علیحدہ قومی حیثیت كے حوالے سے سرسید احمد نے ان كے یلے لوكل كونسلوں میں نشستوں كی تخصیص چاہی اعلیٰ سركاری ملازمتوں كے لیے كھلے مقابلے كے امتحان كے خلاف مہم چلائی٬ اكثریت كی مرضی كے تحت قائم ہونے والی حكومت والے نظام كو ناپسند كیا۔ ا نہو ں نے مسلمانوں كی علیحدہ پہچان كروائی اور دو قومی نظریہ كی بنیاد پر ان كے لیے تحفظات مانگے۔ سر سید مسلمانوں كوسیاست سے دور ركھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوںنے مسلمانوں كو 1885ء میں ایك انگریز اے او ہیوم كی كوششوں سے قائم ہونے والی آل انڈیا کانگریس سے دورركھا۔ بعد میں ہونے والے واقعات نے سرسید كی پالیسی كی افادیت كو ثابت كر دیا۔

 ان كو بجا طور پر پاكستان كے بانیوں میں شمار كیا جاتا ہے۔ مولوی عبدالحق نے سرسید كی قومی و سیاسی خدمات كے حوالے سے لكھا ہے :

" قصرِ پاكستان كی بنیاد میں پہلی اینٹ اسی مرد پِیر نے ركھی تھی "

دو شعبان المعظم عرس مبارک امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت

دو شعبان المعظم عرسِ
مبارک ، امامُ الائمّہ سراجُ الفُقہاء  آفتابِ علم و فضل ، مُحدّثِ کبیر ، امامُ المجہتدین ،جلیل القدر تابعی، فقہِ حنفی کے بانی امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ 💞

دو شعبان المعظم یومِ وفات امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابٹ

2 شعبان المعظم 150 ہجری
 یومِ وفات
کروڑوں حنفیوں کے امام
امام اعظم امام  ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ

آپ کا اسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ کی ولادت 05 ستمبر 699 کو  عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ آپ کے والد کا نام ثابت رحمتہ اللہ تھا اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان و اشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ آپ کے والد حضرت ثابت رحمتہ اللہ بچپن میں حضرت علی رضی اللہ کی خدمت میں لائے گئے تو حضرت علی رضی اللہ نے آپ اور آپ کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی جو ایسی قبول ہوئی کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ جیسا عظیم محدث و فقیہ اور خدا ترس انسان پیدا ہوا۔

آپ نے زندگی کے ابتدائی ایام میں ضروری علم کی تحصیل کے بعد تجارت شروع کی لیکن آپ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے علم حدیث کی معروف شخصیت شیخ عامر شعبی رحمتہ اللہ کوفی ۱۷ھ – ۱۰۴ھ" جنہیں پانچ سو سے زیادہ اصحاب رسول رضی اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہے، نے آپ کو تجارت چھوڑ کر مزید علمی کمال حاصل کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ آپ نے اما شعبی رحمتہ اللہ کوفی کے مشورہ پر علم کلام، علم حدیث اور علم فقہ کی طرف توجہ فرمائی اور ایسا کمال پیدا کیا کہ علمی و عملی دنیا میں امام اعظم رحمتہ اللہ کہلائے۔ آپ نے کوفہ ، بصرہ اور بغداد کے بے شمار شیوخ سے علمی استفادہ کرنے کے ساتھ حصول علم کے لئے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور ملک شام کے متعداد اسفار کئے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کو ملک کے قاضی ہونے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے معذرت چاہی تو وہ اپنے مشورہ پر اصرار کرنے لگا چنانچہ آپ نے صراحتہ انکار کر دیا اور قسم کھالی کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے 146 ہجری میں آپ کو قید کر دیا گیا۔ امام صاحب رحمتہ اللہ کی علمی شہرت کی وجہ سے قید خانہ میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور امام محمد رحمتہ اللہ جیسے محدث و فقیہ نے جیل میں ہی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ سے تعلیم حاصل کی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی مقبولیت سے خوفزدہ خلیفہ وقت نے امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر دلوا دیا۔ جب امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں 14 جون 767 کو  وفات پا گئے۔ تقریبا پچاس ہزار افراد نے نماز جنازہ پڑھی، بغداد کے خیزران قبرستان میں دفن کئے گئے۔ ۳۷۵ھ میں اس قبرستان کے قریب ایک بڑی مسجد "جامع الامام الاعظم رحمتہ اللہ " تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔ عرض ۱۵۰ھ میں صحابہ و بڑے بڑے تابعین سے روایت کرنے والا ایک عظیم محدث و فقیہ دنیا سے رخصت ہو گیا اور اس طرح صرف اور صرف اللہ تعالی کے خوف سے قاضی کے عہدہ کو قبول نہ کرنے والے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تاکہ خلیفہ وقت اپنی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ نہ کراسکے جس کی وجہ سے مولاء حقیقی ناراض ہو۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بشارت

مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی شافعی مصری رحمتہ اللہ ۸۴۹ھ – ۹۱۱ھ" نے اپنی کتاب "تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " میں بخاری و مسلم و دیگر کتب حدیث میں وارد نبی اکرم کے اقوال : " اگر ایمان ثریا ستارے کے قریب بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے۔ "بخاری" اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرلے گا۔ "مسلم" اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس کو حاصل کر لے گا "طبرانی" اگر دین ثریا ستارہ پر بھی معلق ہو گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں گے "طبرانی" ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ "شیخ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ " کے بارے میں ان احادیث میں بشارت دی ہے اور یہ احادیث امام صاحب کی بشارت و فضیلت کے بارے میں ایسی صریح ہیں کہ ان پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے۔ شیخ ابن حجر الھیتمی المکی الشافعی رحمتہ اللہ "۹۰۹ھ – ۹۷۳ھ" نے اپنی مشہور و معروف کتاب " الخیرات الحسان فی مناقب امام ابی حنیفہ" میں تحریر کیا ہے کہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ کے بعض تلامذہ نے فرمایا اور جس پر ہمارے مشائخ نے بھی اعتماد کیا ہے کہ ان احادیث کی مراد بلاشبہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں اس لئے کہ اہل فارس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی بھی علم کے اس درجہ کو نہیں پہنچا جس پر امام صاحب رحمتہ اللہ فائز تھے۔

وضاحت : ان احادیث کی مراد میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے مگر عصر قدیم سے عصر تک ہر زمانہ کے محدثین و فقہاء علماء کی ایک جماعت نے تحریر کیا ہے کہ ان احادیث سے مراد حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں۔ علماء شوافع رحمتہ اللہ نے خاص طور پر اس قول کو مدلل کیا ہے جیسا کہ شافعی مکتبہ فکر کے دو مشہور جید علماء مفسر قرآن کے اقوال ذکر کئے گئے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ "جو فن حدیث کے امام شمار کئے جاتے ہیں" سے جب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو پایا ، اس لئے کہ وہ ۸۰ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہاں صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن اوفیرضی اللہ موجود تھے، ان کا انتقال اس کے بعد ہوا ہے۔ بصرہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تھے اور ان کا انتقال ۹۰ یا ۹۳ ہجری میں ہواہے۔ ابن سعد رحمتہ اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کہا جائے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ کو دیکھا ہے اور وہ طبقہ تابعین میں سے ہیں۔ نیز حضرت انس بن مالک رضی اللہ کے علاوہ بھی اس شہر میں دیگر صحابہ کرام اس وقت حیات تھے۔

شیخ محمد بن یوسف صالحی و مشقی شافعی رحمتہ اللہ نے " عقود الجمان فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " کے نویں باب میں ذکر کیا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ اس زمانہ میں پیدا ہوئے جس میں صحابہ کرام کی کثرت تھی۔

اکثر محدثین " جن میں امام خطیب بغدادی رحمتہ اللہ ، علامہ نووی رحمتہ اللہ ، علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ ، علامہ ذہبی رحمتہ اللہ ، علامہ زین العابدین سخاوی رحمتہ اللہ ، حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمتہ اللہ ، امام دار قطنی رحمتہ اللہ ، حافظ ابن البر رحمتہ اللہ اور علامہ ابن الجوزی رحمتہ اللہ کے نام قابل ذکر ہیں" کا یہی فیصلہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے۔

محدثین و محققین کی تشریح کے مطابق صحابی رسول رضی اللہ سے روایت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ صحابی کا دیکھنا بھی کافی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے تو صحابہ کرام کی ایک جماعت کو دیکھنے کے علاوہ بعض صحابہ کرام خاص کر انس بن مالکرضی اللہ سے احادیث روایت بھی کی ہیں۔

غرضیکہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تابعی ہیں اور آپ کا زمانہ صحابہ ، تابعین تبع تابعین کا زمانہ ہے جس دور کی امانت و دیانت اور تقوی کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن کریم " سورہ التوبہ آیت نمبر ۱۰۰" میں فرمایا ہے۔ نیز نبی اکرم کے فرمان کے مطابق یہ بہترین زمانوں میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی حیات میں ہی حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق بشارت دی تھی ، جیساکہ بیان کیا جا چکا ہے جس سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی تابعیت اور فضیلت روز روشن کی واضح ہو جاتی ہے۔

Thursday, March 26, 2020

چھبیس مارچ 1915 دُلا بھٹی کا یومِ شہادت

26 مارچ 1599
دُلا بھٹی کا یومِ  شہادت

پنجاب کے بیٹوں کو بیرونی حملہ آوروں کے سامنے سر جھکانے کا طعنہ دینے والے دُلّا بھٹی کو کیوں بھول جاتے ہیں ؟؟؟

دُلّا بھٹی پنجاب کی دھرتی کا ایک زندہ و جاوید کردار ہے


قلعہ لاہور کی اونچی اونچی فصیلوں کے درمیان ابھری ہوئی برجیوں میں ماہر تیر انداز بیٹھے ہوئے ہیں۔ فصیل کی شمال مغربی سیدھ کے ساتھ دریائے راوی کا ٹھاٹھیں مارتا پانی گزر رہا ہے۔ قلعے کے عظیم الشان دروازے کے ساتھ کئی ہاتھی بمعہ جنگی ساز و سامان کھڑے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ پر مضبوط قد و قامت کے مالک پٹھان اور راجپوت دستوں نے ہر جانب ایک ہُو کاعالم طاری کر رکھا ہے۔ جلال اکبری کی ہیبت دیکھ کر دوسرے ممالک سے آئے سیاح مبہوت ہوئے جا رہے ہیں۔

قلعے کے اندرونی محلات میں بیگمات دالانوں کے بھاری بھرکم پردوں میں گفتگو بھی سرگوشیوں کی صورت میں کر رہی ہیں۔ پائیں باغ کا مالی اپنے ایک دوست اور ایک محلاتی خواجہ سرا کے ساتھ آزادانہ گفتگو کر رہا ہے کیونکہ باغ قلعے کی سرکاری عمارت سے نسبتاً کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ خاموشی کی سنسناتی آواز میں ایک دم ایک دس گیارہ برس کے بچے کے ہنسنے اور دوڑنے کی آوازیں آتی ہیں جس کے پیچھے پیچھے اس کا اتالیق بھاگ رہا ہے۔ اتالیق کے ساتھ ساتھ کچھ نگران بھی گھبرائے ہوئے بھاگے پھر رہے ہیں۔ لیکن بچہ ہے کہ ہاتھ نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے اور بھاگتے بھاگتے وہ پائیں باغ میں آن پہنچتا ہے۔ بچہ ان کو منہ چڑاتا جا رہا ہے۔ اسی کی ہنسی نے تمام فضا میں ایک آزادی کی خوشبو مہکا دی تھی۔ بھاگتے بھاگتے وہ مالی کی جانب دیکھ کر بولا

’’مالی چاچا میں ان کے ہاتھ نہیں آنے والا‘‘

جواب میں ہنس کر مالی نے سر ہلا دیا اور بچہ ہوا کے ایک جھونکے کی مانند آیا اور جھونکے کی مانند واپس اڑتا چلا گیا۔

’’بھائی یہ کون تھا‘‘ مالی کا دوست حقے کا ایک کش بھر کر بولا

’’بھیا یہ دُلّا ہے، دُلّا بھٹی‘‘ مالی پھول کی پنکھڑیاں درست کرتے ہوئے بولا

’’ہائے ہائے‘ دلہا کہو‘ دلہا کہو‘‘ خواجہ سرا تالی بجا کر بولا

’’ویسے بھی پنجابی زبان میں دلہا‘ انتہائی خوبصورت اور پیارے کو کہتے ہیں‘‘ مالی بولا

’’میں سمجھا شاید عبداللہ سے بگڑ کر دُلّا بنا ہے‘‘ دوست بولا

’’محل میں تو سارے اسے عبداللہ ہی سمجھتے ہیں‘‘ خواجہ سرا بولا

’’نئی ساندل بار کی آزاد سرزمین سے آیا ہے، اڑتا پنچھی قفس میں پھنس گیا ہے‘‘ مالی نے بھی حقے کا ایک کش بھرا

’’یہ بار کیا ہوتا ہے‘‘ خواجہ سرا بولا

’’بار کے دو مطلب ہوتے ہیں پہلا جو کہ زیادہ مستند ہے۔ ہم ایسے علاقے کو بار کہتے ہیں جو دو دریاؤں کے درمیان کی جگہ ہو جیسا کہ پنجاب میں ساندل بار‘ نیلی بار اور گنجی بار بہت مشہور ہیں۔ ساندل بار دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے‘‘

’’ہاں‘ اسی علاقے میں گرونانک نے جنم لیا اور صاحب عالی مقام بادشاہ اکبر نے سلیم کے نام پر نیا شہر شیخوپورہ آباد کیا ہے‘‘ مالی کا دوست بولا

’’ مالی چاچا دوسرا مطلب کیا ہے ‘‘  خواجہ سرا نے پوچھا

’’ارے نصیبن‘ دو دریاؤں کی درمیانی جگہ بھی بہت زرخیز ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہاں قدرتی چراگاہیں بہت ہوتی ہیں۔ اس طرح کا ایک مقام پنڈی بھٹیاں کا بھی ہے۔ یہاں پر کئی صدیوں سے بھٹیوں کی آزاد حکومت تھی اور اب سرکار کا راج ہے۔ یہیں کا یہ دُلّا بھٹی بھی ہے اور دوسرا مطلب ایسی جگہ کو بھی بار کہتے ہیں جہاں پر قدرتی سبزہ‘ جنگل‘ اجاڑ و بیابان ہو، جہاں پر جانوروں کے لئے قدرتی خوراک کی فراوانی ہو‘‘

’’بھائی پھر یہ دُلّا یہاں کیوں ہے‘‘ مالی کے دوست نے حیرانگی سے پوچھا‘‘

’’دلا بھٹی کی ماں نے کچھ روز شیخو کو دودھ پلایا تھا اور یہ دونوں دودھ شریک بھائی ہیں۔ کیا کمال حوصلے والی عورت ہے اماں لدھی بھی۔ سرکار عالی مقام نے کہا، لدھی شیخو تیرا اور دلا میرا ہوا۔ یہاں پر اس کی تعلیم و تربیت کے لئے لایا گیا ہے۔

’’ دُلّے کا باپ کدھر ہے…؟‘‘ دوست نے پوچھا

’’ارے کیا موت کو آواز دینی ہے تم دونوں نے‘ کس قسم کی باتیں شروع کر دیں ہیں۔ قلعے میں دیواروں کے نہیں … ہوا کے بھی کان ہوتے ہیں‘ خواجہ سرا گھبرا کر بولا اور اپنا دوپٹہ درست کرتا اندر کی جانب چلا گیا۔ مالی نے اپنا کام پھر سے شروع کر دیا اور اس کا دوست حقے کے کش بھرتا گیا۔

ساندل بار کا علاقہ ایک وسیع و عریض رقبے پر مشتمل تھا۔ جہاں پر بھٹی قبائل کئی صدیوں سے آباد تھے۔ پنڈی بھٹیاں کے مقام پر ایک قبیلہ فرید خان بھٹی کی سرداری تھی اور اس کا باپ ساندل خان بھٹی ان قبائلی سرداروں کا سردار مانا جاتا تھا۔ اپنی جوانی میں سردار بجلی خان کے نام سے بھی مشہور تھا۔ ساندل کی رہنمائی میں ان قبائل نے بابر اور ہمایوں کے عہد میں مغل سرکار کی بھرپور مخالفت کی اور ہر محاذ پر ان کو شدید مزاحمت کا رویہ ملا۔ ہمایوں کے بعد جب اکبر نے تخت سنبھالا اور اکبر کو ان قبائل ہی کی مزاحمت کے باعث کئی برسوں تک لاہور کو دارالحکومت بنانا پڑا۔ اس دوران کئی بار سرکاری فوج اور بھٹیوں کا آمنا سامنا ہوا لیکن سرکاری فوج کو شکست فاش ہوئی۔ اس شکست کی بنیادی وجہ مقامی لوگوں کا بیرون ملک سے آئے مغلوں کی سرکار کو نہ ماننا تھا لیکن جب قلعہ فرید تباہ ہوا تو دونوں باپ بیٹوں کو گرفتار کر کے قلعہ لاہور میں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے حضور پیش کیا گیا۔ اس وقت کی رواجی اطاعت کے تحت دونوں باپ بیٹے کو تین طرح کے معاہدوں کی پیش کش کی گئی۔

1۔ مغل سرکار کی اطاعت کریں‘ سرکاری شرح کے مطابق مالیہ دیا جائے

2۔ مغل سرکار کی اطاعت کر کے اناج اور دیگر آمدنیوں کی شرح سرکار کو دی جائے

3۔ آخری شرط یہ ہے کہ اگر درج بالا شرائط قبول نہیں تو مغل سرکار کو تسلیم کیا جائے اور صرف جنگی حالات میں مغل فوج کو اناج اور کمک فراہم کی جائے۔

لیکن دونوں بہادر سرداروں نے سرکار کے دئیے اس نظام کو نہ مانا کیونکہ آزاد سرزمین کے باسی تھے۔ وہ بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ لوگوں کے حقوق کا سودا کیونکر کرتے۔ دونوں سرداروں کو پھانسی دے دی گئی اور لوگوں کے لئے عبرت بنانے کے لئے دونوں کی نعشوں میں بھس بھر کر قلعہ لاہور کے باہر ٹانگ دیا گیا۔ دونوں سرداروں کی اس طرح کی گئی تذلیل کے باعث ساندل بار کے جوانوں کے دِلوں میں مغل سرکار کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ شنہشاہ اکبر جو کہ دنیا بھر میں اپنی سیاست کے باعث جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک ہاتھ تلوار کا دکھایا اور دوسرا پیار کا۔ فرید خان کی بیوہ اماں لدھی جو کہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ اس کو علاقے کی نفرت ختم کرنے کے لئے استعمال کیا اور پیدا ہونے والے دُلّے کے ساتھ شیخو کو دودھ پلایا اور یہ کہا کہ دُلّا میرا ہوا اور شیخو تمہارا ہوا۔ یہ دونوں دودھ شریک بھائی ٹھہرے اور اس کے ساتھ ساتھ شیخوپورہ میں قلعہ بھی تعمیر کرنا شروع کر دیا کہ آنے والے وقت میں آزادی کے پروانوں کو کچلا جا سکے۔ حکومتوں کے تسلسل کے لئے بچھائی گئی بساط کی اس طرح کی مہارت اکبر ہی کے ہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

دُلے کی عزت و تکریم شاہی خاندان کے لوگوں کے برابر ٹھہرائی گئی۔ شہزادہ سلیم کے ہم رتبہ ہونے کے باعث شاہی محلات میں وہ سب کچھ دُلّے کو حاصل تھا جو شیخو کو حاصل تھا۔ دُلے کو دی جانے والی تعلیم میں اس کو درباری ادب و آداب سکھائے جانے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت کی بیورو کریسی کے تیار کردہ نصاب میں درج مضامین کا ایک ہی محاصل تھا اور وہ تھا ’’ظل الٰہی‘‘ بادشاہ ہی عوام کی امیدوں کی آخری اور پہلی کرن ہے۔ پاکیزگی اور طہارت کے تمام درجات صاحب تخت کی جانب سے مقرر کردہ تھے۔ آزاد منش باپ اور دادا کا خون کیونکر ان چیزوں کو قبول کرتا۔ طبقات میں تقسیم کردہ معاشرت جس کی تمام تشبیہات دربار میں بدرجہ اتم موجود ہیں، وہ کسی بھی طور دُلے کو اپنا نہ کر سکیں اور ایک روز دُلا تمام تر بادشاہی اور بادشاہی تعلیم کو ٹھکرا کر ایسا ساندل بار کو گیا کہ پھر دوبارہ واپس نہ آیا۔

کنوئیں کے صاف و شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھتی جوان لڑکیاں ایک دوسرے سے مذاق کر رہی تھیں ،کچھ لڑکیاں پانی کے گھڑے‘ پانی سے بھر کر لہلہاتے کھیتوں میں چہل قدمی کر رہی تھیں۔ ایک جانب سے نوجوان دُلا اپنی غلیل کے ساتھ چڑیوں کا شکار کرتا بھاگتا ہوا کنوئیں کی جانب آیا۔ دُلے کو دیکھ کر لڑکیاں بھاگیں اور گھبرائی نظر آئیں، یوں جان پڑتا تھا کہ شاید کرشن گوپیوں کی جانب آیا ہو۔

’’بھاگو یہاں سے، اب اس نے ہمیں تنگ کرنا ہے‘‘ ایک نوجوان لڑکی بولی

’’چلو جلدی سے اپنے گھڑے اٹھاؤ اور گھر کی جانب چلو‘‘ ایک دوسری لڑکی بولی

’’اصل میں اماں لدھی کا لاڈلا ہے نہ … دلا بھٹی‘‘ ایک اور لڑکی بولی

’’یہ کس نے میرا نام پکارا‘‘ دُلا غلیل سے نشانہ لیتے ہوئے بولا

’’میں نے ہی کہا تھا کہ چلو تم یہ گھڑا ہی اٹھوا دو مجھے‘‘ وہی لڑکی بولی

’’تمہیں پتہ نہیں میں شکار کر رہا ہوں‘‘ دُلا اکڑ کر بولا

’’لو دیکھو بڑا شکاری‘‘ لڑکی نے ہنس کر کہا

’’کیا میں شکاری نہیں‘‘ دُلا غلیل سے ایک بار پھر نشانہ لگا کر بولا

’’ہاں ہے تو تُو بہت بڑا شکاری … لیکن ہے چڑی مار‘‘ دوسری لڑکی نے ہنس کر کہا

’’اچھا تو یہ بات ہے‘‘ دُلے بھٹی نے کہا اور نشانہ لے کر اس کا گھڑا توڑ دیا

’’ہائے… ہائے… میرا گھڑا توڑ دیا چڑی مار‘‘

’’کل آ کر دوسرا گھڑا بھی توڑ دوں گا‘‘

’’اتنی اکڑ ہے تو جا کر مغلوں کے سر قلم کر جنہوں نے تیرے باپ دادا کا قتل کیا‘‘

’’کیا… کیا مطلب ؟؟؟ ‘‘  مغلوں نے میرے باپ دادا کو قتل کیا تھا‘‘ وہ لڑکی کے پاس بیٹھتے بولا

’’جا کر اماں لدھی سے پوچھ بڑا آیا راجپوت، تُو تو بس لڑکیوں کے گھڑے توڑنے والا ہے … چڑی مار‘‘

’’مجھے میری ماں نے کبھی کچھ نہیں بتایا … تم مجھے بتاؤ‘‘

’’چل بیٹھ میں تجھے ساری بات بتاتی ہوں‘‘ یہ کہہ کر لڑکیاں اپنے گھروں کو چلی گئیں اور وہ لڑکی اس کو تفصیلات بتانے لگی۔

اس لڑکی سے باتیں سننے کے بعد دُلا بھٹی سیدھا اماں لدھی کے پاس گیا۔ ماں نے اسے پہلے سینے سے لگایا اور پھر بتایا کہ وہ تو خود اس دن کا انتظار کر رہی تھی کہ کس دن وہ عمر کے اس حصے میں پہنچے گا جب تجھے مغلوں کے کئے گئے مظالم کے بارے میں بتاؤں گی کہ کس طرح انہوں نے تیرے جوان باپ اور بزرگ دادا کو ان کی غلامی نہ کرنے پر موت سے ہمکنار کیا۔

ماں کی باتیں سن کر اس کے اندر کا آزاد راجپوت جاگ گیا اور اس کے کانوں میں رہ رہ کر شاہی اتالیق اور دیگر اساتذہ کی باتیں گونجنے لگیں جن پر عمل کر کے وہ بادشاہی میں ایک اچھا مقام حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن جب اس کو بات سمجھ میں آئی کہ اس کے باپ دادا نے ذاتی مفادات نہیں بلکہ لوگوں کی آزادی اور لوگوں کے حقوق کے لئے مغل بادشاہی کو ماننے سے انکار کیا کیونکہ بادشاہی تو ہے ہی لوگوں کے خون پینے کے مترادف۔

وقت گزرتا گیا، دُلا بھٹی اپنے ساندل بار کے ساتھیوں کے ساتھ اکبر سلطنت کے لئے خوف اور دہشت کی علامت بنتا گیا۔ دُلا بھٹی نے جگہ جگہ پر گوریلا کارروائیاں کرکے مغل سلطنت اور ان کے حمایت یافتہ قافلوں کو لُوٹنا شروع کیا۔ لُوٹی ہوئی دولت سے نہ صرف اپنی طاقت کو بڑھایا بلکہ غریب لوگوں کو بھی اس دولت میں حصہ دیا۔ لوگوں کی ہمدردیاں تو پہلے ہی سے ساندل اور فرید بھٹی کی قربانیوں کے باعث دُلے بھٹی کے ساتھ تھیں لیکن جس طرح اس نے لوگوں کے حقوق کی رکھوالی کی اس کے باعث اس کی شہرت، اس کی قوت اور طاقت کا باعث بنتی گئی۔ مغل سرکار کے ظلموں سے تنگ نوجوانوں نے دُلے بھٹی کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ دن بدن بھڑتی طاقت کے باعث اکبر نے لاہور میں ڈیرے یہاں تک بڑھا لئے کہ کئی برس تک لاہور دارالحکومت بنا رہا۔ اس دوران سیاسی چالیں بھی چلی گئیں۔ اماں لدھی سے جہانگیر کو نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ بھی لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دُلے بھٹی کو سلطنت میں اہم عہدوں کی پیش کش بھی کی گئی لیکن دُلا تو آزادی اور آزاد سماج کے لئے جنگ لڑ رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لاہور کے عظیم صوفی شاعر شاہ حسین رحمتہ اللہ علیہ بھی دُلا بھٹی کی حمایت میں شامل تھے لیکن شہنشاہ اکبر کی سیاسی چالیں اپنا کام کرتی رہیں اور ایک روز دھوکے سے دُلے بھٹی کو گرفتار کر لیا گیا اور گرفتاری کے بعد لاہور کے قلعہ میں لایا گیا۔ وہاں پر ایک بار پھر سے اس کے ساتھ کئی طرح کے معاہدات کی پیش کش کی گئی لیکن آزاد دُلے بھٹی نے اپنے والد اور دادا کی مانند موت کو قبول کیا اور مغل بادشاہی کو ماننے سے انکار کیا۔ ساندل بار کے انتہائی پسندیدہ شخص کو ایک باغی کے روپ میں پیش کیا گیا اور قدیم دہلی دروازہ لاہور کے باہر قدیمی نخاس کے سامنے دُلے بھٹی کو سرِعام پھانسی دے دی گئی تاکہ لوگوں کو عبرت رہے کہ آئندہ بادشاہی کے سامنے کوئی سر نہ اٹھا سکے اور 26 مارچ 1599ء میں اسے لاہور میں پھانسی دی گئی۔

دُلا بھٹی کی شہادت کے بعد ایک عرصہ تک دُلے کا نام بھی لوگوں کے لئے ممنوع تھا۔ دُلے بھٹی کی حمایت کے باعث کئی برسوں تک مغل سلطنت کے اہلکار شاہ حسین کے ساتھ سائے کی مانند چمٹے رہے اور ایک ایک پل کی خبر شہنشاہ اکبر تک جاتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام عام لوگوں کے ساتھ ساتھ شاہی محلات تک بھی پہنچتا رہا۔ دُلے کا نام مغل عہد میں باغی کے روپ میں پیش کر کے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دُلے بھٹی کا کردار پنجابی لوک داستان کی ایک خاص صنف ’’وار‘‘ میں زندہ رہا۔ بادشاہت نے ہمیشہ کی بادشاہت کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز سرکار کے عہد میں لاہور کی تاریخ پر لکھوائی گئیں کُتب میں دُلے بھٹی کو ایک ڈاکو‘ راہزن اور باغی کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ ’’تحقیقات چشتیہ‘‘ میں مولوی نور احمد چشتی نے بھی دُلے بھٹی کو درج بالا الفاظ میں ہی تحریر کیا۔

دوسری جانب لوگوں کے حقوق کے لئے جان دینے والا دُلا بھٹی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہا۔ دُلے بھٹی کا کردار تقسیم کے بعد بھی دونوں پنجابوں میں قابل عزت رہا۔ دونوں جانب کے اہم مصنفین نے مضامین اور ڈرامے تحریر کئے۔ واروں میں کردار جیتا جاگتا رہا۔ اس حوالے سے ایک اہم لیکن غیر معروف گائیک جو کہ لاہور کے ایک پرانے علاقے مزنگ کے رہائشی تھے۔ ’’شیخ بسا‘‘ نے ایک عرصہ تک واریں گائیں۔

دُلا بھٹی جو کہ ایک عہد‘ ایک شخصیت‘ ایک تحریک اور فلسفے کا نام تھا، چار سو پچاس برس سے زائد قدیم اس عظیم شخصیت کو ہر آنے والی بادشاہی نے ختم کرنا چاہا لیکن وہ اس کو ختم نہ کر سکے۔ شیخ بسا کا عہد حاضر میں واریں گانا اور پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں گیتوں کے اندر یہ جیتا جاگتا کردار‘ جلال اکبری کی حدود سے باہر ہے !!!

یکم شعبان المعظم یومِ ولادت مخدومہ کائنات سیدہ زینب بنت علی المرتضٰی

یکم شعبان المعظم یومِ ولادت مخدومہ کائنات سیدہ زینب کبرٰی بنت سیدنا علی رضی اللہ عنہ و بنتِ سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنھا سلام اللّه علیہا

دربار یزید پلید ملعون میں حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا بنت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ و بنت سیدہ زہراء رضی اللہ عنھا کا تاریخی خطبہ اردو ترجمہ کے ساتھ جس نے دنیا کو ہِلا کر رکھ دیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

أَلْحَمْدُللهِِ رَبِّ الْعالَمينَ، وَصَلَّى اللهُ عَلى رَسُولِهِ وَآلِهِ أجْمَعينَ، صَدَقَ اللهُ كَذلِكَ يَقُولُ: (ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوأَى أَنْ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِئُون).
أَظَنَنْتَ يا يَزِيدُ حَيْثُ أَخَذْتَ عَلَيْنا أَقْطارَ الاَْرْضِ وَآفاقَ السَّماءِ، فَأَصْبَحْنا نُساقُ كَما تسُاقُ الأُسارى أَنَّ بِنا عَلَى اللهِ هَواناً، وَبِكَ عَلَيْهِ كَرامَةً وَأَنَّ ذلِكَ لِعِظَمِ خَطَرِكَ عِنْدَهُ، فَشَمَخْتَ بِأَنْفِكَ، وَنَظَرْتَ فِي عِطْفِكَ جَذْلانَ مَسْرُوراً حِينَ رَأَيْتَ الدُّنْيا لَكَ مُسْتَوْثِقَةٌ وَالاُْمُورَ مُتَّسِقَةٌ وَحِينَ صَفا لَكَ مُلْكُنا وَسُلْطانُنا، فَمَهْلاً مَهْلاً، أَنَسِيتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ: (وَ لاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ خَيْرٌ لاَِّنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْماً وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ).

سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے  اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت (علیهم السلام) پر۔
اما بعد ! بالآخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا 
اے یزید! کیا تُو سمجھتا ہے کہ تُو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے [مختلف طرح سے] تنگ کر دئیے ہیں اور آلِ رسول کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں ؟

کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تُو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے ؟ کیا تُو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے ؟ آج تُو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے
مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اِترا رہا ہے اور زمامداری [خلافت] کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کی سانس لے
کیا تُو نے خدا کا یہ فرمان بُھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے ۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں ۔ اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین کیا جا چکا ہے

اس کے بعد فرمایا :

«أَ مِنَ الْعَدْلِ يَابْنَ الطُّلَقاءِ! تَخْدِيرُكَ حَرائِرَكَ وَ إِمائَكَ، وَ سَوْقُكَ بَناتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّم سَبايا، قَدْ هَتَكْتَ سُتُورَهُنَّ، وَ أَبْدَيْتَ وُجُوهَهُنَّ، تَحْدُو بِهِنَّ الاَْعداءُ مِنْ بَلد اِلى بَلد، يَسْتَشْرِفُهُنَّ أَهْلُ الْمَناهِلِ وَ الْمَناقِلِ، وَ يَتَصَفَّحُ وُجُوهَهُنَّ الْقَرِيبُ وَ الْبَعِيدُ، وَ الدَّنِيُّ وَ الشَّرِيفُ، لَيْسَ مَعَهُنَّ مِنْ رِجالِهِنَّ وَلِيُّ، وَ لا مِنْ حُماتِهِنَّ حَمِيٌّ، وَ كَيْفَ يُرْتَجى مُراقَبَةُ مَنْ لَفَظَ فُوهُ أَكْبادَ الاَْزْكِياءِ، وَ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ دِماءِ الشُّهَداءِ، وَ كَيْفَ يَسْتَبْطِأُ فِي بُغْضِنا أَهْلَ الْبَيْتِ مَنْ نَظَرَ إِلَيْنا بِالشَّنَفِ وَ الشَّنَآنِ وَ الاِْحَنِ وَ الاَْضْغانِ، ثُمَّ تَقُولُ غَيْرَ مُتَّأَثِّم وَ لا مُسْتَعْظِم:
لاََهَلُّوا و اسْتَهَلُّوا فَرَحاً *** ثُمَّ قالُوا يا يَزيدُ لا تَشَلْ
مُنْتَحِياً عَلى ثَنايا أَبِي عَبْدِاللهِ سَيِّدِ شَبابِ أَهْلِ الجَنَّةِ، تَنْكُتُها بِمِخْصَرَتِكَ، وَ كَيْفَ لا تَقُولُ ذلِكَ وَ قَدْ نَكَأْتَ الْقَرْحَةَ، وَ اسْتَأْصَلْتَ الشَّأْفَةَ بِإِراقَتِكَ دِماءَ ذُرّيَةِ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَ نُجُومِ الاَْرْضِ مِنْ آلِ عَبْدِالمُطَّلِبِ، وَ تَهْتِفُ بِأَشْياخِكَ، زَعَمْتَ أَنَّكَ تُنادِيهِمْ، فَلَتَرِدَنَّ وَ شِيكاً مَوْرِدَهُمْ وَ لَتَوَدَّنَّ أَنَّكَ شَلَلْتَ وَ بَكِمْتَ، وَ لَمْ تَكُنْ قُلْتَ ما قُلْتَ وَ فَعَلْتَ ما فَعَلْتَ».

اے طلقاء کے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تُو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹها رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے تُو نے مخدرات عصمت کی چادریں لُوٹ لیں اور ان کی بے حُرمتی کا مرتکب ہوا تیرے حُکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا

تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے اور لوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دُور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں ۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بیبیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں ۔آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں ۔ آج آلِ محمد کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے ۔
اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہو سکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر کو چبایا ہو اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس نے شہیدوں کا خون پی رکها ہو۔ وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت(علیهم السلام) پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے

اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تُو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں
اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی (علیه السلام) کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے

اے یزید، تُو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تُو نے اپنے ظُلم و استبداد کے ذریعے فرزند رسولِ خدا اور عبدالمطلب کے خاندانی ستاروں کا خون بہا کر ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ تُو نے اولادِ رسول کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں۔
تُو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں

آج تُو آلِ رسول کو قتل کر کے اپنے بد نہاد [برے] اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے ۔ تُو سمجهتا ہے که وه تیری آواز سن رہے ہیں؟ (جلدی نہ کر) عنقریب تُو بهی اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے باز رہتا

اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے آسمان کی طرف منہ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا !

«أَللّهُمَّ خُذْ بِحَقِّنا، وَ انْتَقِمْ مِنْ ظالِمِنا، وَ أَحْلِلْ غَضَبَكَ بِمَنْ سَفَكَ دِماءَنا، وَ قَتَلَ حُماتَنا، فَوَاللهِ ما فَرَيْتَ إِلاّ جِلْدَكَ، وَلا حَزَزْتَ إِلاّ لَحْمَكَ، وَ لَتَرِدَنَّ عَلى رَسُولِ اللهِ بِما تَحَمَّلْتَ مِنْ سَفْكِ دِماءِ ذُرِّيَّتِهِ، وَ انْتَهَكْتَ مِنْ حُرْمَتِهِ فِي عَتْرَتِهِ وَ لُحْمَتِهِ، حَيْثُ يَجْمَعُ اللهُ شَمْلَهُمْ، وَ يَلُمُّ شَعْثَهُمْ، وَ يَأْخُذُ بِحَقِّهِمْ (وَ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِى سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ). وَ حَسْبُكَ بِاللهِ حاكِماً، وَ بِمُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّمَ خَصِيماً، وَ بِجَبْرَئِيلَ ظَهِيراً، وَ سَيَعْلَمُ مَنْ سَوّى لَكَ وَ مَكَّنَكَ مِنْ رِقابِ المُسْلِمِينَ، بِئْسَ لِلظّالِمِينَ بَدَلاً، وَ أَيُّكُمْ شَرٌّ مَكاناً، وَ أَضْعَفُ جُنْداً».

اے ہمارے پروردگار، تُو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے ۔ اے پردگار تُو ہی ان سِتمگروں سے ہمارا انتقام لے ۔ اور اے خدا تُو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا ۔ اے یزید ! (خدا کی قسم ) تُو نے جو ظُلم کیا ہے یہ اپنے ساتھ ظلم کیا ہے ۔ تُو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے ۔ اور تُو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے ۔ تُو رسولِ خدا کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناونے جرم کی باز پُرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا ۔ نیز رسول کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا ۔

اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا ۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا ۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر چکے ہیں، بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں

اے یزید ! یاد رکھ کہ تُو نے جو ظلم آلِ محمد پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ، عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے ۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول کی گواہی دیں گے ۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعہ تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا ۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے

عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا ۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ سِتمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں

اس کے بعد فرمایا :

«وَ لَئِنْ جَرَّتْ عَلَيَّ الدَّواهِي مُخاطَبَتَكَ، إِنِّي لاََسْتَصْغِرُ قَدْرَكَ، وَ أَسْتَعْظِمُ تَقْرِيعَكَ، وَ أَسْتَكْثِرُ تَوْبِيخَكَ، لكِنَّ العُيُونَ عَبْرى، وَ الصُّدُورَ حَرّى، أَلا فَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ لِقَتْلِ حِزْبِ اللهِ النُّجَباءِ بِحِزْبِ الشَّيْطانِ الطُّلَقاءِ، فَهذِهِ الاَْيْدِي تَنْطِفُ مِنْ دِمائِنا، وَ الأَفْواهُ تَتَحَلَّبُ مِنْ لُحُومِنا، وَ تِلْكَ الجُثَثُ الطَّواهِرُ الزَّواكِي تَنْتابُها العَواسِلُ، وَ تُعَفِّرُها اُمَّهاتُ الْفَراعِلِ.
وَ لَئِنِ اتَّخَذْتَنا مَغْنَماً لَتَجِدَ بِنا وَ شِيكاً مَغْرَماً حِيْنَ لا تَجِدُ إلاّ ما قَدَّمَتْ يَداكَ، وَ ما رَبُّكَ بِظَلاَّم لِلْعَبِيدِ، وَ إِلَى اللهِ الْمُشْتَكى، وَ عَلَيْهِ الْمُعَوَّلُ، فَكِدْ كَيْدَكَ، وَ اسْعَ سَعْيَكَ، وَ ناصِبْ جُهْدَكَ، فَوَاللهِ لا تَمْحُو ذِكْرَنا، وَ لا تُمِيتُ وَحْيَنا، وَ لا تُدْرِكُ أَمَدَنا، وَ لا تَرْحَضُ عَنْكَ عارَها، وَ هَلْ رَأيُكَ إِلاّ فَنَدٌ، وَ أَيّامُكَ إِلاّ عَدَدٌ، وَ جَمْعُكَ إِلاّ بَدَدٌ؟ يَوْمَ يُنادِي الْمُنادِي: أَلا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظّالِمِينَ.
وَ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعالَمِينَ، أَلَّذِي خَتَمَ لاَِوَّلِنا بِالسَّعادَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ، وَ لاِخِرِنا بِالشَّهادَةِ وَ الرَّحْمَةِ. وَ نَسْأَلُ اللهَ أَنْ يُكْمِلَ لَهُمُ الثَّوابَ، وَ يُوجِبَ لَهُمُ الْمَزيدَ، وَ يُحْسِنَ عَلَيْنَا الْخِلافَةَ، إِنَّهُ رَحيمٌ وَدُودٌ، وَ حَسْبُنَا اللهُ وَ نِعْمَ الْوَكيلُ».

اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد [برے انسان] سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں ۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں تُو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے ۔ میری اس جُرات سخن پر تو مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بدسلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں

افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹِپک رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑئیے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گُھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں

اے یزید ! اگر آج تُو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کو برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا ۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے

اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھرپور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تُجهے معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دِلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے تُو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔ تُو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا ۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے ۔تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے ۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و سِتمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے

ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور امام حسین علیہ السلام کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا ۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے ۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے 💞