Friday, March 20, 2020

آفت کیسی ؟؟؟

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کورونا کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی آفت قرار دے دیا

آفت ؟؟؟ کیا اس سے پہلے کوئی آفت نہیں آئی ؟؟؟
کیا دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا جنت بن گئی تھی ؟؟؟

وہ بھی آفت تھی جب برطانیہ اور فرانس نے مل کر بیت المقدس میں صیہونیوں کو لا بسایا

وہ بھی آفت تھی جب بھارت نے کشمیر پر جبراً قبضہ کر لِیا

وہ بھی آفت تھی جب ظالم اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون لبنان میں موجود دو فلسطینی کیمپوں صابرہ اور شتیلہ کو روند رہا تھا جسکی ویڈیوز دیکھتے ہوئے انسانی روح آج بھی تڑپ اٹھتی ہے

وہ بھی آفت تھی جب امریکہ ایٹم بم کے بعد سب سے بڑا بم MOB یعنی مدر آف آل بم افغانستان پر پھینک رہا تھا اور دوسری طرف قندوز مدرسے کے تین سو بچوں کے جسموں کےچیتھرے اڑا رہا تھا

آپکے چند لوگ کیا مر گئے کہ اسے آفت قرار دے دیا گیا ؟؟؟

چشم فلک ایک صدی سے برپا آپکے مظالم دیکھتا رہا، اب ایک لاٹھی آپ پر پڑی تو دنیا میں آپکی چیخیں نہیں رک رہیں

اس آفت میں بھی آپ اس قوم کو صابر پاؤ گے جس قوم نے آپکے نائن الیون کے الزامات بھگتے ، جس قوم نے آپکے اسرائیلی طیاروں کی گن گرج کی آوازیں ستر سال تک سنیں ، جس قوم کے ایک حصے کشمیر پر چار ماہ سے مسلط جبرً کرفیو پر آپکے لب نہیں ہلے

سنو اور غور سے سنو، مسلمان احتیاط بھی کرتا ہے اور موت کی تیاری بھی۔ انکی نظر میں موت خدا سے ملنے کا ایک موقعہ ہے، جسے تم آفت قرار دے رہی ہو اس سے اِن شاء اللہ مسلمان نکلیں گے۔ انسانیت کو بھی نکالنے کی کوشش کرینگے لیکن آپ ذرا اپنے گریبان میں ایک بار جھانکیے

آپ لوگوں کے ہاتھ خون سے کتنے ہی رنگین ہیں ، کتنے ہی کرونا وائرس آپ مسلم امہ پر مسلط کر چکی ہیں

یہ آپکے اور ہمارے یسوع مسیح کے رب کی طرف سے تنبیہ ہے لیکن اسکے لئے شعور کی نگاہیں چاہییں !!!

No comments:

Post a Comment