Monday, March 23, 2020

تئیس مارچ 1931 بھگت سنگھ کی پھانسی کا دن

23 مارچ 1931
بھگت سنگھ کو دو ساتھیوں سمیت پھانسی دی گئی

بھگت سنگھ کی زندگی پہ جاننے سے پہلے ایک دلچسپ تاریخ کا چکر پڑھیں

یہ 23 مارچ 1931 کی شام کے 7 بج کر 30 منٹ ہیں۔ اچانک لاھور کی سینٹرل جیل میں تین نوجوانوں کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔ ان کی پھانسی کا وقت عدالتی حکم نامے میں 24 مارچ 1931 صبح 6 بج کر 30 منٹ تھا لیکن شورش کے پیش نظر وقت سے 11 گھنٹے پہلے پھانسی دے دی گئی ۔جن کو پھانسی دی گئی ان کے نام تھے۔ بھگت سنگھ ۔راج گرو۔ سکھ دیو

 بھگت سنگھ کو جیل میں پھانسی دینے کے لئے کوئی مجسٹریٹ وہاں جانے کے لئے راضی نہیں ہو رہا تھا، کیونکہ جیل کے تمام قیدی مشتعل تھے، تاہم  ایک آنریری مجسٹریٹ نواب محمد احمد خان نے یہ سرکاری ڈیوٹی سر انجام دی۔اس نے بھگت سنگھ کی موت کی سرکاری تصدیق کی تھی۔

وقت گذرا اور 11 نومبر 1974 آگیا۔سینٹرل جیل کی وہ جگہ اب جیل سے باہر تھی اور شاہ جمال چوک کہلاتی تھی ۔اسی جگہ اس رات ایک قتل ہوا۔ قاتل بھیجے تو بیٹے کے لئے گئے تھے لیکن گولی باپ کو لگ گئی ۔بیٹے کا نام تھا احمد رضا قصوری اور باپ کا نام تھا نواب محمد احمد خان

جی وہ ہی آنریری مجسٹریٹ جس نے اسی جگہ بھگت سنگھ کی موت کی سرکاری تصدیق کی تھی۔
اس قتل کی ایف آئی آر ذولفقار علی بھٹو کے خلاف کاٹی گئی اور اسی جرم میں اسے 4 اپریل 1979 کو پھانسی دی گئی ۔یہاں ایک اور تاریخ کا گول چکر ہے

جس جلاد نے بھگت سنگھ کو پھانسی دی تھی اسی جلاد کے بیٹے تارا مسیح نے ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی  ۔

اب چلتے ہیں بھگت سنگھ کی زندگی کی جانب جو  برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ہیرو تھا

بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور  (موجودہ فیصل آباد) کے موضع بنگہ میں پیدا ہوئے۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ ان کے چچا تھے۔ جلیانوالہ باغ قتل عام اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں اسکول چھوڑ دیا اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ءمیں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوئے اور شاہی قلعہ لاہور میں رکھے گئے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگئے۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا انہوں نے اور بے کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دونوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔

1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے زخمی ہو گئے۔ اس وقت لاہور کے سینئیر سپرنٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے بھگت سنگھ کا تعاقب کیا۔ انہوں نے اس کو بھی گولی مار دی اور ڈی اے وی کالج ہاسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہو گئے۔ آخر خان بہادر شیخ عبد العزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کی سینٹرل جیل کے کمرہ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امر داس سینیئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی !!!

No comments:

Post a Comment