دہشت گردی کے لیے بچوں کا استعمال
ٹی ٹی پی پہلے بھی یہ کام کر چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ نورک میں ایک خالی گھر میں دہشتگردی کا سامان منتقل کیا گیا ہے۔ فورسز انتظامیہ کے ساتھ مطلوبہ مکان تک پہنچیں تو وہاں پر راکٹ اور دستی بموں کے ساتھ دو تین بچے بھی تھے
اس کے فوراً بعد وہاں مقامی لوگ جمع ہوئے اور نعرے بازی شروع کر دی کہ تم لوگ ہمارے بچے اغواء کر رہے ہو۔ گمان غالب ہے کہ وہ ہجوم پی ٹی ایم کے مقامی کارکنوں کے اشارے پر جمع ہوا تھا
تاہم کوئی یہ بتانے پر تیار نہ ہوا کہ بچوں کے پاس یہ راکٹ اور دستی بم کیا کر رہے تھے۔ نہ ہی مکان کا کوئی ایک مالک یا دعویدار سامنے آیا۔
گفت و شنید کے بعد بچوں کو چھوڑ دیا گیا۔
تاہم پی ٹی ایم بدستور سوشل میڈیا پر اپنا پراپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
آج پولیس فورس پر آئی ای ڈی حملہ کر دیا گیا۔
چند دن پہلے ایسی ہی ایک اطلاع پر فورسز نے چھاپہ مارا تو داعش کے پانچ دہشت گرد موجود تھے جن کے ہلاک ہونے کے بعد تصاویر سوشل میڈیا پر بھی آئیں۔ اس مقابلے میں ایک افسر اور ایک جوان شہید ہوگیا تھا۔
پی ٹی ایم مشران بجائے مقامیوں کو نصیحت کرنے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں الٹا خود دہشتگردوں کے سب سے بڑے سہولت کار بن چکے ہیں۔
اب یہ سہولت کار اپنے مذموم مقاصد کے لیے بچوں کو استعمال کرنے لگے ہیں
ٹی ٹی پی پہلے بھی یہ کام کر چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ نورک میں ایک خالی گھر میں دہشتگردی کا سامان منتقل کیا گیا ہے۔ فورسز انتظامیہ کے ساتھ مطلوبہ مکان تک پہنچیں تو وہاں پر راکٹ اور دستی بموں کے ساتھ دو تین بچے بھی تھے
اس کے فوراً بعد وہاں مقامی لوگ جمع ہوئے اور نعرے بازی شروع کر دی کہ تم لوگ ہمارے بچے اغواء کر رہے ہو۔ گمان غالب ہے کہ وہ ہجوم پی ٹی ایم کے مقامی کارکنوں کے اشارے پر جمع ہوا تھا
تاہم کوئی یہ بتانے پر تیار نہ ہوا کہ بچوں کے پاس یہ راکٹ اور دستی بم کیا کر رہے تھے۔ نہ ہی مکان کا کوئی ایک مالک یا دعویدار سامنے آیا۔
گفت و شنید کے بعد بچوں کو چھوڑ دیا گیا۔
تاہم پی ٹی ایم بدستور سوشل میڈیا پر اپنا پراپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
آج پولیس فورس پر آئی ای ڈی حملہ کر دیا گیا۔
چند دن پہلے ایسی ہی ایک اطلاع پر فورسز نے چھاپہ مارا تو داعش کے پانچ دہشت گرد موجود تھے جن کے ہلاک ہونے کے بعد تصاویر سوشل میڈیا پر بھی آئیں۔ اس مقابلے میں ایک افسر اور ایک جوان شہید ہوگیا تھا۔
پی ٹی ایم مشران بجائے مقامیوں کو نصیحت کرنے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں الٹا خود دہشتگردوں کے سب سے بڑے سہولت کار بن چکے ہیں۔
اب یہ سہولت کار اپنے مذموم مقاصد کے لیے بچوں کو استعمال کرنے لگے ہیں

No comments:
Post a Comment