یکم شعبان المعظم 6 ہجری
یومِ ولادت سیدہ زینب بنت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی شیرِ خدا
السلام اے بنت سیدہ کائنات
السلام اے بنت مولائے کائنات
سیدنا زینب سلام اللہ علیھا کے یومِ ولادت کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن یہاں صرف آپ سلام اللہ علیھا کی سیرت مبارکہ کے بارے میں بات کرنا مقصود ہے
سیدہ زینب سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم اور سیدہ فاطمہ بنت محمد رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بیٹی تھیں۔ سیدہ زینب واقعہ کربلا کی سب سے نمایاں خاتون تھیں
تاریخی کتابوں میں آپ کے ذکر شدہ القاب کی تعداد 61 ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور القاب درج ذیل ہیں:ثانیِ زہرا، نائبۃ الزہراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغرٰی، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء
سیدہ زینب بنت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی کو نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو 12 ربیع الاول 11 ہجری کو ان کے نانا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ اس کے تقریباً تین ماہ بعد 03 رمضان المبارک 11 ہجری کو سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی انتقال فرما گئیں۔
سیدہ زینب کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ ان کے پانچ شہزادے تولد ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہمراہ شہید ہو گئے
سیدہ زینب بنت سیدنا علی المرتضٰی کربلا میں موجود تھیں۔ واقعہ کربلا کے بعد سیدہ زینب کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید کے دربار میں دِیا گیا آپ کا خطبہ بہت مشہور ہے۔
سیدہ زینب بنت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی کا انتقال ہفتہ 15 رجب 62 ہجری بمطابق 29 مارچ 682ء کو دمشق، موجودہ شام میں ہوا اور وہیں آپ کی تدفین کی گئی۔ آپ کی مدتِ حیات بوقت وفات 57 سال 2 ماہ 10 دن قمری اور 55 سال 5 ماہ 28 دن شمسی تھی۔ آپ کا مزارِ مبارک دمشو ملکِ شام میں مرجع خلائق ہے
یومِ ولادت سیدہ زینب بنت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی شیرِ خدا
السلام اے بنت سیدہ کائنات
السلام اے بنت مولائے کائنات
سیدنا زینب سلام اللہ علیھا کے یومِ ولادت کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن یہاں صرف آپ سلام اللہ علیھا کی سیرت مبارکہ کے بارے میں بات کرنا مقصود ہے
سیدہ زینب سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم اور سیدہ فاطمہ بنت محمد رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بیٹی تھیں۔ سیدہ زینب واقعہ کربلا کی سب سے نمایاں خاتون تھیں
تاریخی کتابوں میں آپ کے ذکر شدہ القاب کی تعداد 61 ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور القاب درج ذیل ہیں:ثانیِ زہرا، نائبۃ الزہراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغرٰی، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء
سیدہ زینب بنت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی کو نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو 12 ربیع الاول 11 ہجری کو ان کے نانا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ اس کے تقریباً تین ماہ بعد 03 رمضان المبارک 11 ہجری کو سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی انتقال فرما گئیں۔
سیدہ زینب کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ ان کے پانچ شہزادے تولد ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہمراہ شہید ہو گئے
سیدہ زینب بنت سیدنا علی المرتضٰی کربلا میں موجود تھیں۔ واقعہ کربلا کے بعد سیدہ زینب کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید کے دربار میں دِیا گیا آپ کا خطبہ بہت مشہور ہے۔
سیدہ زینب بنت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی کا انتقال ہفتہ 15 رجب 62 ہجری بمطابق 29 مارچ 682ء کو دمشق، موجودہ شام میں ہوا اور وہیں آپ کی تدفین کی گئی۔ آپ کی مدتِ حیات بوقت وفات 57 سال 2 ماہ 10 دن قمری اور 55 سال 5 ماہ 28 دن شمسی تھی۔ آپ کا مزارِ مبارک دمشو ملکِ شام میں مرجع خلائق ہے

No comments:
Post a Comment