23 مارچ 1940
یومِ یکجہتی فلسطین
لاہور کے منٹو پارک میں منعقد آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں سالانہ اجلاس میں جہاں دوسرے معاملات زیر بحث آئے تھے وہیں فلسطین کا مسئلہ بھی زیر غور آیا تھا اور فلسطینی عوام کے لئے بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی
برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں خودمختار ریاستوں کا مطالبہ مولانا محمد علی جوہر کی اس تقریر میں بھی موجود تھا جو انہوں نے 1930 میں برطانوی وزیراعظم کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس تقریر کے بعد 4 جنوری 1931 کو مولانا محمد علی جوہر کا انتقال لندن میں ہوا اور بیت المقدس میں تدفین ہوئی۔ مولانا محمد علی جوہر کی بیت المقدس میں تدفین نے تحریکِ پاکستان اور فلسطین میں ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم کیا جسے قائداعظمؒ محمد علی جناح نے بھی آخری سانس تک نبھایا۔
22 سے 24 مارچ تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں 23 مارچ 1940 کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں چار قراردادیں پیش ہوئی تھیں۔
پہلی قرارداد مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں خود مختار ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا تھا
دوسری قرارداد میں سرزمین فلسطین پر برطانوی فوج کی بڑی تعداد میں موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ عربوں کو محکومی پر مجبور نہ کیا جائے۔
تیسری قرارداد میں 19مارچ کو لاہور میں خاکساروں پر فائرنگ کی مذمت کی گئی
اور
چوتھی قرارداد کے ذریعے مسلم لیگ کے آئین میں کچھ ترامیم کے ذریعہ صوبائی تنظیموں کو مرکزی تنظیم کی پالیسی پر عملدرآمد کا پابند بنایا گیا۔
مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل خود مختار ریاستوں کے مطالبے پر مشتمل مرکزی قرارداد بنگال کے وزیراعظم مولوی فضل الحق نے پیش کی اور چوہدری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی جن کا تعلق اترپردیش سے تھا۔ بیگم مولانا محمد علی جوہر (امجدی بانو) نے اس قرارداد کے حق میں تقریر کی۔
قائداعظمؒ نے مفتی اعظم فلسطین مفتی امین الحسینی کے ساتھ اپنا رابطہ بعد میں بھی برقرار رکھا۔
12 اکتوبر 1945 کو مفتی اعظم فلسطین نے قائداعظمؒ کے نام اپنے ہاتھ سے عربی میں خط لکھا جس میں اخوتِ اسلامی کے لئے قائداعظمؒ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ مجھے جلاوطن کرنے پر آپ کی آواز پہلی اسلامی آواز تھی جو میرے کانوں تک پہنچی جس پر میں آپ کا اور مسلم لیگ کا شکرگزار ہوں۔ اس خط میں مفتی اعظم فلسطین نے یہودیوں کی بجائے صہیونی تحریک کی مذمت کی اور بتایا کہ یہ ایک مذہبی تحریک ہے جو ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تسخیر چاہتی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اسی جگہ تھا جہاں اب مسجد اقصیٰ واقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ برطانیہ اور امریکہ صہیونی تحریک کی پشت پناہی کررہے ہیں لہٰذا دنیا بھر کے مسلمانوں کا فرض عین ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کا تحفظ کریں۔
یومِ یکجہتی فلسطین
لاہور کے منٹو پارک میں منعقد آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں سالانہ اجلاس میں جہاں دوسرے معاملات زیر بحث آئے تھے وہیں فلسطین کا مسئلہ بھی زیر غور آیا تھا اور فلسطینی عوام کے لئے بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی
برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں خودمختار ریاستوں کا مطالبہ مولانا محمد علی جوہر کی اس تقریر میں بھی موجود تھا جو انہوں نے 1930 میں برطانوی وزیراعظم کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس تقریر کے بعد 4 جنوری 1931 کو مولانا محمد علی جوہر کا انتقال لندن میں ہوا اور بیت المقدس میں تدفین ہوئی۔ مولانا محمد علی جوہر کی بیت المقدس میں تدفین نے تحریکِ پاکستان اور فلسطین میں ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم کیا جسے قائداعظمؒ محمد علی جناح نے بھی آخری سانس تک نبھایا۔
22 سے 24 مارچ تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں 23 مارچ 1940 کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں چار قراردادیں پیش ہوئی تھیں۔
پہلی قرارداد مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں خود مختار ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا تھا
دوسری قرارداد میں سرزمین فلسطین پر برطانوی فوج کی بڑی تعداد میں موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ عربوں کو محکومی پر مجبور نہ کیا جائے۔
تیسری قرارداد میں 19مارچ کو لاہور میں خاکساروں پر فائرنگ کی مذمت کی گئی
اور
چوتھی قرارداد کے ذریعے مسلم لیگ کے آئین میں کچھ ترامیم کے ذریعہ صوبائی تنظیموں کو مرکزی تنظیم کی پالیسی پر عملدرآمد کا پابند بنایا گیا۔
مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل خود مختار ریاستوں کے مطالبے پر مشتمل مرکزی قرارداد بنگال کے وزیراعظم مولوی فضل الحق نے پیش کی اور چوہدری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی جن کا تعلق اترپردیش سے تھا۔ بیگم مولانا محمد علی جوہر (امجدی بانو) نے اس قرارداد کے حق میں تقریر کی۔
قائداعظمؒ نے مفتی اعظم فلسطین مفتی امین الحسینی کے ساتھ اپنا رابطہ بعد میں بھی برقرار رکھا۔
12 اکتوبر 1945 کو مفتی اعظم فلسطین نے قائداعظمؒ کے نام اپنے ہاتھ سے عربی میں خط لکھا جس میں اخوتِ اسلامی کے لئے قائداعظمؒ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ مجھے جلاوطن کرنے پر آپ کی آواز پہلی اسلامی آواز تھی جو میرے کانوں تک پہنچی جس پر میں آپ کا اور مسلم لیگ کا شکرگزار ہوں۔ اس خط میں مفتی اعظم فلسطین نے یہودیوں کی بجائے صہیونی تحریک کی مذمت کی اور بتایا کہ یہ ایک مذہبی تحریک ہے جو ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تسخیر چاہتی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اسی جگہ تھا جہاں اب مسجد اقصیٰ واقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ برطانیہ اور امریکہ صہیونی تحریک کی پشت پناہی کررہے ہیں لہٰذا دنیا بھر کے مسلمانوں کا فرض عین ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کا تحفظ کریں۔

No comments:
Post a Comment