Monday, March 30, 2020

پانچ شعبان المعظم 38 ہجری یومِ ولادت سیدنا امام زین العابدین

05 شعبان المعظم 38 ہجری
یومِ پیدائش سیدنا امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضٰی وجہہ الکریم

السلام اے سخی ابن سخی ابن سخی
السلام اے کریم ابن کریم ابن کریم

سیدنا امام علی بن حسین رضی اللہ عنہ 5 شعبان المعظم 38 ہجری بمطابق 4 جنوری 659 کو پیدا ہوئے۔

آپ  زین العابدین (عابدوں کی زینت) اورامام الساجدین (سجدہ کرنے والون کا امام) کے نام سے مشہور ہیں

 آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو علی اوسط کہا جاتا ہے، ان کے دوسرے بھائی جو ان سے عمر میں بڑے تھے، ان کو علی اکبر کہا جاتا تھا، جو معرکہٴ کربلا میں اپنے والد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل کوفہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔ علی اوسط یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین رضی اللہ عنہ بھی اپنے والد گرامی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ معرکہٴ کربلا میں شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔

اس موقع پر جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ناحق شہید کر دئیے گئے تو شِمر نے کہا کہ اسے بھی قتل کر دو، شِمر کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا : سبحان اللہ! کیا تم ایسے جوان کو قتل کرنا چاہتے ہو جو مریض ہے اور اس نے ہمارے خلاف قتال میں شرکت بھی نہیں کی ؟ اتنے میں عمرو بن سعد بن ابی وقاص آیا اور کہا کہ ان عورتوں اور اس مریض یعنی علی اوسط سے کوئی تعرض نہ کرے۔ آپ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔

آپ کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچد دن بعد آپ کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انہوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔

واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے  آنسوؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہوجاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز  پڑھتے (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ  رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کاایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں  کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے۔

آپ کی شادی 57 ہجری میں آپ کے چچا حضرت امام حسن بن علی بن ابو طالب کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جن میں سے حضرت امام محمد باقر اور حضرت زید شہید رضی اللہ عنہم زیادہ مشہور ہیں۔

آپ  اپنے جد امجد امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کی آغوش میں تربیت پائی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے  تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب"۔ سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہ پایا۔

امام زین العابدین نے کبار صحابہٴ کرام و تابعین عظام سے کسب فیض کیا، آپ نے امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت اُمِ سَلمہ، حضرت صفیہ، اپنے والد حضرت امام حسین، اپنے چچا حضرت حسن، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس اور ابو رافع، مسور بن مخرمہ، زینب بنت ابی سلمہ، سعید بن مسیب، سعید بن مرجانہ، مروان بن حکم، ذکوان، عمرو بن عثمان بن عفان اور عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہم وغیرہ سے حدیث شریف کا علم حاصل کیا اور اپنے جدا مجد حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بھی مرسل روایت کرتے ہیں۔

خانوادہ نبوت کے اس چشم و چراغ نے ساری زندگی سنتِ نبوی اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چل کر بالآخر داعی اجل کو لبیک کہا، آپ 18 محرم الحرام 94 ہجری بمطابق 20 اکتوبر 713ء میں دار فانی سے دار بقاء کی طرف کُوچ کر گئے، جنت البقیع میں جنازہ پڑھا گیا اور وہیں پر امام حسن المجتبٰی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے

No comments:

Post a Comment