Monday, March 23, 2020

تئیس مارچ 1940 یومِ پاکستان

23 مارچ
یومِ پاکستان

آج یومِ پاکستان ہے۔ آج لاہور میں پاکستان کے قیام کی قرارداد پیش کی گئی تھی۔ قرداد پاکستان جس کا اصل نام قرارداد لاہور ہے

آج کا دن یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کیوں بنا تھا۔ لہٰذا قرارداد پاکستان پر بات کرنے سے پہلے ہم اس کے پس منظر پر روشنی ڈالیں گے

دو قومی نظریہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کے جو گروہ یا قومیں آباد ہیں، وہ دو قسم کی ہیں پہلا گروہ جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ اور کاروبار حیات چلانے میں اس کے احکام کی اطاعت کرتا ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت سے انکاری ہے اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔ جو گروہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے انہیں امتِ مسلمہ، امتِ ابراہیمی، امتِ وسطٰی اور حزب اللہ جیسے ناموں سے پکارا گیا اور ثانی الذکر  گروہ کو ملت کفار، مشرکین اور حزب الشیطان جیسے ناموں سے منسوب کیا گیا ہے۔

برصغیر میں دو قومی نظریے کے تحت تقسیم اسلئے بھی نا گزیر تھی کہ مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو الگ الگ نظریات کی حامل قومیں تھیں۔

ہم گائے کی قربانی کرتے تھے اور وہ اسکی پوجا کرتے تھے غرض ہم اور وہ ہر طریقے سے الگ تھے

قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ :-
" ہم دونوں قوموں میں فرق صرف مذہب کا نہیں بلکہ، ہمارا کلچر، ہمارا دین، ہمارا ضابطہ حیات الگ ہے جو ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے

قائد اعظم محمد علی جناح نے 8 مارچ 1944ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ : " جس دن پہلا غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوا تھا اسی دن پاکستان کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی "

مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے وطن یا نسل نہیں۔
کیونکہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے طریق عبادت ، تصور طہارت اور لباس سب مختلف تھے۔ اس لئے ایک الگ ریاست کا خیال پیدا ہوا، تاکہ مسلمان اسلام کے طرز پر زندگی گزار سکیں۔

برصغیر کے جدید جمہوری نظام نے مسلمانوں کو یہ باور کرا دیا تھا کہ ہندو اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر برصغیر کی دوسری اقوام پر ہمیشہ حکومت کرتے رہیں گے۔

کانگریس کے ڈھائی سالہ دور اقتدار (39-1937ء) نے مسلمانوں پر واضح کر دیا تھا کہ ہندو اکثریتی راج میں مسلمانوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جائے گا اور ان کی کیا حثیت ہو گی۔ جنگی حکمت عملی میں اختلاف کی بناء پر کانگریسی وزارتوں کے مستعفی ہونے کی وجہ سے برطانوی حکومت کا جھکاؤ مسلم لیگ کی طرف ہو گیا تھا۔اس ماحول میں مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے اور چوہدری رحمت علی کے خاکے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے مارچ 1940ء میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر "تقسیم ہند" کی قرارداد منظور کی۔

مارچ 1939ء میں مسلم لیگ کی ایک ورکنگ کمیٹی نے قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی کے ذمے یہ کام لگایا کہ مسلمانوں کے سیاسی مسائل کے حل کے لئے اب تک جتنی تجاویز اور سفارشات سامنے آئی ہیں ان پر غور کر کے ایک رپورٹ تیار کرے

اس کے ساتھ ہی اگست 1939ء میں مسلم لیگ کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی یہ آئی کہ اس نے وفاق کے نظریے کو یکسر مسترد کر دیا کیونکہ اس میں اکثریتی فرقے کا ہمیشہ کے لئے اقلیتی فرقے پر مسلط ہونے کا اندیشہ تھا۔

فروری 1940ء کو دہلی میں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ مارچ 1940ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں برطانوی حکومت سے مسلمانوں کے لئے بر صیغر میں ایک علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جائے۔ چنانچہ اس اجلاس ميں 22 مارچ 1940ءکو منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔

23 مارچ 1940 کے اجلاس میں بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی اے کے فضل الحق نے مسلمانوں کے مطالبات پر مبنی ایک تاریخی قرارداد پیش کی جسے اب قرارداد پاکستان کہا جاتا ہے۔

"قرار پایا کہ غور و خوض کے بعد اس اجلاس کی متفقہ رائے یہ ہے کہ ملک میں وہی آئینی منصوبہ قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہوگا جو جغرافیائی اعتبار سے محلق و متصل اکائیوں کی خطوں کی صورت میں مناسب علاقائی رد و بدل کے بعد اس طرح حد بندی کی جائے کہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں ہیں آزاد مملکتوں کی شکل اختیار کر لیں اور یہ مختلف اکائیاں خود مختار اور حاکمیت کی حامل ہوں، حسب ضرورت مؤثر اور واجب التعمیل تحفظات خصوصاً ان اکائیوں میں اقلیتوں کے لیے فراہم کیے جائیں تاکہ ان کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا تحفظ ہوسکے"

توقع کے عین مطابق یہ قرارداد ہندوؤں اور کانگریسی مسلمانوں کی تنقید کا نشانہ بنی۔ہندو پریس نے قرارداد کی مذمت میں ان گنت اداریے لکھ مارے اور اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا حالانکہ قرارداد میں کہیں بھی لفظ پاکستان استعمال نہیں ہوا تھا غرض ہندووّں کے عزائم کھل کر سامنے آنے لگے۔

برصغیر میں مسلمانوں پر سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے ہندو عزائم نے مسلمانوں میں باہمی اتحاد، جداگانہ قومی تشخص کے مفید جزبات اور تحریکوں کو جنم دیا، ہندوؤں نے ان تحریکوں کی بھر پور مزاحمت کی۔ جس کی وجہ سے مسلمان اپنی تمدن، معاشراتی اقدار اور مذہب کو خطرات میں گِھرا محسوس کرنے لگے، وہ اپنا تحفظ چاہتے تھے، دوسری طرف ہندوؤں کا مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کا بڑھتا ہوا رویہ، اُس نے مسلمانوں کو اپنے ملی تشخص کے لئے اور وسیع تر قومی مفاد کے لئے قائد اعظم کی فقید المثال قیادت میں متحد ہونے پر مجبور کردیا۔

مسلمانوں نے تمام تر فروعی اور گروہی اختلافات بُھلا دئیے اور قوم ایک جسد واحد بن کر اُبھری۔ جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت کم تھی اور انہیں یقین تھا کہ ان کے علاقے پاکستان کا حصہ نہیں بن سکیں گےانہوں نے بھی دوسرے مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا۔

دو قومی نظریہ جسکی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا، اگر ہم تحقیقی جائزہ لیں تو اسی میں ہمارے پاکستان کی بقاء ہے۔ ہمیں ایک بار پھر خود کو دیگر رنگ و نسل، لسانیت، فرقے اور سیاسی  بنیادوں پر تقسیم ہونے کے بجائے  سب کو ایک بار پھر جسد واحد بننے کی ضرورت ہے۔
ہمیں پاکستان اور ایک پاکستانی بن کر سوچنا ہے۔ ہمارے بڑوں نے بہت قربانیوں سے یہ وطن حاصل کیا ہے۔ اسکی حفاظت اب ہماری زمہ داری ہے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد !!!

No comments:

Post a Comment