Tuesday, March 31, 2020

اکتیس مارچ 1926 یومِ پیدائش شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ

31 مارچ 1926
یومِ پیدائش شاہ احمد نورانی

تحریک پاکستان کے کارکن، سیاست میں شرافت و دیانت کی مثال، جن کی زبان سے میں نے کبھی کوئی ہلکا لفظ نہیں سنا۔ وہ صحیح معنوں میں قائد ملت اسلامیہ تھے۔
ایک پہچان تھے جو تلاش کرنے پہ بھی نہیں ملتی۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

علامہ شاہ احمد نورانی 17 رمضان المبارک 1344 ہجری بمطابق 31 مارچ 1926 ء کو میرٹھ یوپی انڈیا میں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کے ہاں پیدا ہوئے جن کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور شجرہ طریقت امام احمد رضا خان قادری سے جا ملتا ہے۔

آپ کے والد گرامی علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اپنے وقت کے اکابر علماء میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان کے علمی اور تبلیغی مقام پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو بھی ناز تھا۔ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ قیام پاکستان کی تحریک کے لئے قائد اعظم ؒ نے شاہ عبدالعلیم صدیقی کو عرب ممالک میں بھیجا جہاں انہوں نے تحریک پاکستان کے مقاصد کو اجاگر کیا اور سفیر اسلام کا خطاب پایا۔ مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے علامہ شاہ احمد نورانی کی تربیت اس انداز سے کی کہ آپ کی رگوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رچ بس گئی۔ بس وہی کیف و سرور ہے جس نے سیاست کے بت کدے میں نعرہ تکبیر بلند کیا۔

علامہ شاہ احمد نورانی نے آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ نيشنل عریبک کالج سے گريجويشن کرنے کے بعد اٰلہ آباد يونيورسٹی سے فاضل عربی اور دارالعلوم عربيہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔

ممتاز عالم دین مولانا امجد علی اعظمی ‘ مولانا غلام جیلانی میرٹھی سے حدیث‘ فقہ اور دیگر علوم حاصل کئے۔ نیشنل تحریک کالج میرٹھ اور اٰلہ آباد یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جب آپ نے درس نظامی کی تکمیل کی تو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی رضا خان بریلوی‘ مولانا نعیم الدین مراد آبادی اور سفیر اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی نے اپنے دست مبارک سے دستار فضیلت عطا کی۔

قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔

1948ء میں علامہ احمد سعید کاظمی نے جمیعت علمائے پاکستان کے نام سے جماعت بنائی اور 1970ء میں مولانا شاہ احمد نورانی نے جب پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تو جمیعت میں شامل ہوئے۔ اس وقت جمیعت کے سربراہ خواجہ قمرالدین سیالوی تھےـ 1970ء میں جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے مد مقابل انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں حصہ لیا۔ 1972ء میں مولانا شاہ احمد نورانی جمیعت علماء پاکستان کے سربراہ بنے اور تا دم مرگ وہ سربراہ رہےـ آپ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور دو مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے۔

1972ء میں جمعیت علمائے پاکستان کی قیادت سنبھالی اور آخری دم تک اس کے سربراہ رہے۔

1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ کے پلیٹ فارم پر فعال ہونے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

مولانا نے دنیا بھر میں اسلام کا آفاقی پیغام عام کرنے کے لئے 1972ء میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی اور مختلف ممالک میں اس کے دفاتر بنا کر اسے فعال کیا۔ نرم مزاجی اور حلم کی وجہ سے وہ دوستوں اور دشمنوں میں یکساں مقبول تھے۔

مولانا شاہ احمد نورانی نے 30 جون 1974ء میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اور آپ 7 ستمبر 1974ء سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی دوسری ترمیم کے محرکین میں شامل تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت شاہ احمد نورانی کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔

انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں متفقہ تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا "

اتحاد بین المسلمین کے لیے انہوں نے 1995ء میں ملی یکجہتی کونسل بنائی۔ جس میں تمام مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر کے کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

مشرف کے دور حکومت میں 2002ء میں دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا تو انہیں متفقہ طور پر سربراہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی موت تک وہ ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) کے سربراہ رہے۔

 علامہ شاہ احمد نورانی پاکستان کے وہ قومی سیاست دان تھے جنہوں نے نصف صدی سیاست کے میدان میں رہنے کے باوجود اپنے اجلے اور شفاف دامن کو آلودہ نہ ہونے دیا۔ ہمیشہ صاف ستھری اور بے داغ سیاست کے علمبردار رہے۔ کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ سے کہ آج ان کے شدید ترین مخالف بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ تجربہ کار سیاست دان، مذہبی رہنما اور عظیم مبلغ اسلام تھے۔ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ ‘ خوش لباسی، خوش گفتاری اور اصول پسندی ان کی شخصیت کا خاصہ اور پہچان تھی

دل کا دورہ پڑنے سے 16 شوال 1424 ہجری بمطابق 11 دسمبر 2003ء کو شاہ احمد نورانی صاحب کا اسلام آباد میں انتقال ہوا۔

ان کی نماز جنازہ ان کے بیٹے انس نورانی نے پڑھائی۔
شاہ احمد نورانی کو کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا

No comments:

Post a Comment