03 شعبان المعظم 4 ہجری
08 جنوری 626
یومِ ولادت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ
فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دولت ایمان و نعمت اسلام سے مالا مال و سرفراز فرمایا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسلام کے احکام بتلائے، قرآنی آیات سنائیں، دین کی تمام تر تفصیلات بتلا دیں لیکن آپ نے احکام کی تبلیغ پر کوئی بدلہ و عوض نہ چاہا البتہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کا حکم فرمایا- جیساکہ ارشاد الہی ہے :
قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی
ترجمہ : اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے۔ (سورہ شوریٰ : 23)
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا کہ وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر ضروری ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے (رضی اللہ تعالی عنہم)
(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2575)
عَنِ ابْنٍ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : "قُلْ لا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی" قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا.
اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنے کا مطالبہ بظاہر تبلیغ اسلام کا بدلہ معلوم ہوتا ہے لیکن بات ایسی نہیں ہے بلکہ ایمان کے حصول کے بعد اس کی حفاظت کا انتظام انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ شیطان ہروقت ایمان کو تاراج کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے۔ حفاظت ایمان کی خاطر اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی محبت و مودت کا حکم دیا گیا ،ان پاکباز ہستیوں سے تعلق و وابستگی باعث نجات اور ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
اسی مناسبت سے آج جنتی جوانوں کے سردار، جگر گوشۂ بتول، نواسۂ رسول، سید الشہداء، امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و کمالات آپ حضرات کے سامنے بیان کئے جارہے ہیں۔
فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات متعدد احادیث شریفہ سے ظاہر ہیں، آپ حضور اکرم سید الانبیاء سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسہ و لخت جگر اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی صاحبزادی، سیدۃ نساء اہل الجنۃ سیدہ بتول زہراء رضی اللہ عنہا کے پارہ دل ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی دائمی نسبت اور کمال قربت کوظاہرکرتے ہوئے بیان فرمایا :
حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں
(جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .ج2ص218 حدیث نمبر 4144)
انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کی [ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ] کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ ﷺ عائشہ صدیقہ سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ ﷺ حسنین کریمین کو سُونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:122
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : [حسین منی وأنا من حسین ،أحب اللّٰہ من أحب حسینا،حسین سبط من الأسباط ] حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالٰی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123
براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین کو دیکھا اور فرمایا [ اللّٰہم انی احبھمافأحبھما ] اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما
حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حسین بن علی کو کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا [نعم المرکب رکبت یا غلام فقال النبی ﷺ:نعم الراکب ہو ]کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر اے لڑکے تُو سوار ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سوار کتنا اچھا ہے
حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی الحسن والحسین ] جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا پس تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور وہ حسن و حسین ہیں
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ کے لیے تشریف لے جاتے تو حسن و حسین آپ کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم ﷺنے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا :[من أحبنی فلیحب ھذین ] جو مجھ سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے ۔
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317
08 جنوری 626
یومِ ولادت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ
فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دولت ایمان و نعمت اسلام سے مالا مال و سرفراز فرمایا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسلام کے احکام بتلائے، قرآنی آیات سنائیں، دین کی تمام تر تفصیلات بتلا دیں لیکن آپ نے احکام کی تبلیغ پر کوئی بدلہ و عوض نہ چاہا البتہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کا حکم فرمایا- جیساکہ ارشاد الہی ہے :
قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی
ترجمہ : اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے۔ (سورہ شوریٰ : 23)
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا کہ وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر ضروری ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے (رضی اللہ تعالی عنہم)
(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2575)
عَنِ ابْنٍ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : "قُلْ لا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی" قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا.
اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنے کا مطالبہ بظاہر تبلیغ اسلام کا بدلہ معلوم ہوتا ہے لیکن بات ایسی نہیں ہے بلکہ ایمان کے حصول کے بعد اس کی حفاظت کا انتظام انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ شیطان ہروقت ایمان کو تاراج کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے۔ حفاظت ایمان کی خاطر اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی محبت و مودت کا حکم دیا گیا ،ان پاکباز ہستیوں سے تعلق و وابستگی باعث نجات اور ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
اسی مناسبت سے آج جنتی جوانوں کے سردار، جگر گوشۂ بتول، نواسۂ رسول، سید الشہداء، امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و کمالات آپ حضرات کے سامنے بیان کئے جارہے ہیں۔
فضائل سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات متعدد احادیث شریفہ سے ظاہر ہیں، آپ حضور اکرم سید الانبیاء سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسہ و لخت جگر اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی صاحبزادی، سیدۃ نساء اہل الجنۃ سیدہ بتول زہراء رضی اللہ عنہا کے پارہ دل ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی دائمی نسبت اور کمال قربت کوظاہرکرتے ہوئے بیان فرمایا :
حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں
(جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .ج2ص218 حدیث نمبر 4144)
انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کی [ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ] کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ ﷺ عائشہ صدیقہ سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ ﷺ حسنین کریمین کو سُونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:122
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : [حسین منی وأنا من حسین ،أحب اللّٰہ من أحب حسینا،حسین سبط من الأسباط ] حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالٰی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں
حوالہ۔۔سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123
براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین کو دیکھا اور فرمایا [ اللّٰہم انی احبھمافأحبھما ] اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما
حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حسین بن علی کو کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا [نعم المرکب رکبت یا غلام فقال النبی ﷺ:نعم الراکب ہو ]کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر اے لڑکے تُو سوار ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سوار کتنا اچھا ہے
حوالہ۔ سنن الترمذی،أبواب المناقب،باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی،ج:6،ص:123
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی الحسن والحسین ] جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا پس تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور وہ حسن و حسین ہیں
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ کے لیے تشریف لے جاتے تو حسن و حسین آپ کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم ﷺنے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا :[من أحبنی فلیحب ھذین ] جو مجھ سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے ۔
حوالہ۔ سنن النسائی ،کتاب الفضائل ،مناقب الحسن والحسین ،ج:7،ص:317

No comments:
Post a Comment