04 شعبان المعظم 26 ہجری
15 مئی 647
یومِ ولادت قمر بنی ہاشم سیدنا عباس بن علی علمدار رضی اللہ عنہ
خدا ہم سب کو اس گھرانے کے غلاموں میں شمار کرے۔ آمین
السلام اے قمر بنی ہاشم
السلام اے ابو الفضل
السلام اے سقائے سکینہ
السلام اے عملدار امام عالی مقام
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے
سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 04 شعبان المعظم 26 ہجری بمطابق 15 مئی 647 کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ والدہ ماجدہ کے علاوہ ام المومنین حضرت اُمِ سَلمہ رضی اللہ عنہا کا دودھ بھی پیا تھا، خواجہ حسن بصری تابعی رحمۃ اللہ علیہ بھی اِن کے رضاعی بھائی تھے
سیدنا عباس بن علی مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا۔ ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد بن جعفر بن ربيعہ بن الوحيد بن عامر بن كعب بن كلاب کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔
اپنے بھائی حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اُن کو باب الحوائج، قمر بنی ہاشم، علمدارِ کربلا، غازی، سقائے سکینہ بھی کہا جاتا ہے۔
باب العلم مولائے کائنات سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش فرمائی تھی۔ علی بن ابی طالب سے عباس علمدار نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کیے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بنا پر اُنہیں ثانی علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
جنگ صفین میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افراد میں سے تھے جنہوں نے مالک اشتر کی سپہ سالاری میں فرات پر حملہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کیلئے پانی کہ فراہمی کا بندوبست کیا۔
سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادات سے خاص شغف رکھتے تھے۔
لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ اپنے بھائی امام حسین رضی اللہ عنہ کے عاشق و گرویدہ تھے اور سخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لیے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔
آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کی خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔
واقعہ کربلا کے وقت امام عالی مقام سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو لشکر کا علمبردار قرار دیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔
10 محرم الحرام کو آپ نے دریائے فرات کے کنارے امام عالی مقام کی طرف سے لڑتے ہوئے شہادت کا اعزاز حاصل کیا۔ کربلا کے میدان میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جس عزم و حوصلہ ، شجاعت و بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کِیا اس کو بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے لکھ سکے۔
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس بن علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے حق کی راہ میں اپنے بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے۔ "آپ رضی اللہ عنہ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپنا حق ادا کر گئے"
10 محرم الحرام 61 ہجری بمطابق 10 اکتوبر 680ء کو حسین بن علی رضی اللہ عنہ نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دئیے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع مِلا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔
سیدنا عباس کے ملعون قاتلوں کے نام
زید بن رقاد الجہنی اور حکیم بن طفیل سنبسی ہیں۔
حضرت عباس کی شادی حضرت سکینہ (لبابہ) بنت عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب سے ہوئی۔
آپ کی اولاد میں
1۔حضرت عبیداللہ بن عباس بن علی
2۔حضرت فضل بن عباس بن علی
3۔حضرت قاسم بن عباس بن علی
رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
بعض روایات کے مطابق حضرت قاسم اور حضرت فضل رضی اللہ عنہم 10 محرم الحرام 61 ہجری کو اپنے والد کی شہادت کے بعد شہید ہوئے ہیں۔ بہر صورت حضرت عباسؑ رضی اللہ عنہ کی نسل عبید اللہ اور ان کے بیٹے حسن رضی اللہ عنہم سے چلی ہے۔
سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید ہیں۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ سادات علوی کی آگے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب و عراق میں ” سادات علوی ‘‘ مصر میں ” سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ” سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ” سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ” سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک وہند میں ” سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے
15 مئی 647
یومِ ولادت قمر بنی ہاشم سیدنا عباس بن علی علمدار رضی اللہ عنہ
خدا ہم سب کو اس گھرانے کے غلاموں میں شمار کرے۔ آمین
السلام اے قمر بنی ہاشم
السلام اے ابو الفضل
السلام اے سقائے سکینہ
السلام اے عملدار امام عالی مقام
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے
سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 04 شعبان المعظم 26 ہجری بمطابق 15 مئی 647 کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ والدہ ماجدہ کے علاوہ ام المومنین حضرت اُمِ سَلمہ رضی اللہ عنہا کا دودھ بھی پیا تھا، خواجہ حسن بصری تابعی رحمۃ اللہ علیہ بھی اِن کے رضاعی بھائی تھے
سیدنا عباس بن علی مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا۔ ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد بن جعفر بن ربيعہ بن الوحيد بن عامر بن كعب بن كلاب کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔
اپنے بھائی حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اُن کو باب الحوائج، قمر بنی ہاشم، علمدارِ کربلا، غازی، سقائے سکینہ بھی کہا جاتا ہے۔
باب العلم مولائے کائنات سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش فرمائی تھی۔ علی بن ابی طالب سے عباس علمدار نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کیے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بنا پر اُنہیں ثانی علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
جنگ صفین میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افراد میں سے تھے جنہوں نے مالک اشتر کی سپہ سالاری میں فرات پر حملہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کیلئے پانی کہ فراہمی کا بندوبست کیا۔
سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادات سے خاص شغف رکھتے تھے۔
لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ اپنے بھائی امام حسین رضی اللہ عنہ کے عاشق و گرویدہ تھے اور سخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لیے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔
آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کی خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔
واقعہ کربلا کے وقت امام عالی مقام سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو لشکر کا علمبردار قرار دیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔
10 محرم الحرام کو آپ نے دریائے فرات کے کنارے امام عالی مقام کی طرف سے لڑتے ہوئے شہادت کا اعزاز حاصل کیا۔ کربلا کے میدان میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جس عزم و حوصلہ ، شجاعت و بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کِیا اس کو بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے لکھ سکے۔
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس بن علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے حق کی راہ میں اپنے بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے۔ "آپ رضی اللہ عنہ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپنا حق ادا کر گئے"
10 محرم الحرام 61 ہجری بمطابق 10 اکتوبر 680ء کو حسین بن علی رضی اللہ عنہ نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دئیے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع مِلا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔
سیدنا عباس کے ملعون قاتلوں کے نام
زید بن رقاد الجہنی اور حکیم بن طفیل سنبسی ہیں۔
حضرت عباس کی شادی حضرت سکینہ (لبابہ) بنت عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب سے ہوئی۔
آپ کی اولاد میں
1۔حضرت عبیداللہ بن عباس بن علی
2۔حضرت فضل بن عباس بن علی
3۔حضرت قاسم بن عباس بن علی
رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
بعض روایات کے مطابق حضرت قاسم اور حضرت فضل رضی اللہ عنہم 10 محرم الحرام 61 ہجری کو اپنے والد کی شہادت کے بعد شہید ہوئے ہیں۔ بہر صورت حضرت عباسؑ رضی اللہ عنہ کی نسل عبید اللہ اور ان کے بیٹے حسن رضی اللہ عنہم سے چلی ہے۔
سیدنا عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید ہیں۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ سادات علوی کی آگے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب و عراق میں ” سادات علوی ‘‘ مصر میں ” سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ” سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ” سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ” سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک وہند میں ” سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے

No comments:
Post a Comment