22 مارچ 2004
یومِ شہادت الشیخ احمد یاسین بانی حماس
فلسطینی قوم کے روحانی پیشوا اور تحریک آزادی فلسطین کی عہد ساز شخصیت الشیخ احمد یاسین شہید کی شہادت کو 22 مارچ 2020ء کو 16 سال گذر گئے۔
مرکز اطلاعات فلسطین نے ایک رپورٹ میں الشیخ احمد یاسین کے زندگی کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ 22 مارچ 2004 سوموار کے روز نماز فجر کے وقت الشیخ احمد یاسین اپنے ساتھیوں کے ہمراہ غزہ کی پٹی میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے اپاچی ہیلی کاپٹر سے وہیل چیئر پر سوار الشیخ احمد یاسین کو شہید کردیا۔ الشیخ احمد یاسین کی شہادت نے نہ صرف فلسطینی قوم بلکہ پوری مسلم امہ کو غم و غصے سے دوچار کردیا۔
الشیخ احمد یاسین نہ صرف ایک مرد مجاہد تھے بلکہ وہ فلسطینیوں کے روحانی پیشوا تھے۔ انہوں نے جہاد اور مزاحمت کے ایسے عہد کا دور کیا جس نے فلسطینی تحریک آزادی کا رخ اور دھارا تبدیل کردیا۔ وہیل چیئر پر موجود الشیخ احمد یاسین نے فلسطینی تحریک اور تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ان کا شمار فلسطین کے عظیم المرتبت رہ نماؤں میں ہوتا ہے۔
امت واحدہ کے علم بردار
الشیخ احمد یاسین کی 16 ویں برسی پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہ نما الشیخ احمد الحاج علی نے کہا کہ الشیخ احمد یاسین نے حماس کی تشکیل کرکے فلسطینی تحریک آزادی کو صفر سے بام عروج تک پہنچایا۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید احمد یاسین علیہ الرحمہ ایک حکیم و دانا، جسمانی معذوری کے باوجود عالی ہمت، ان کی خلوص سے بھری طبیعت نے ان کی دعوت کو زیادہ پذیرائی بخشی۔ نوجوان ان کے گرد اکٹھے ہونا شروع ہوئے۔ انہوں نے فلسطینی قوم کو متحد کرنے کے ساتھ ساتھ وحدت امت کا تصور پیش کیا۔
عہد ساز شخصیت کا ظہور
الحاج علی نے کہا کہ الشیخ احمد یاسین فلسطینی قوم کے سر کا تاج اور صہیونی دشمن کے حلق کا کانٹا تھے۔ نہ صرف اسرائیل بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے بھی الشیخ احمد یاسین شہید کے مسلسل تعاقب میں رہے۔ وہ جہاں بھی گئے لوگ ان کے گرویدہ ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ الشیخ احمد یاسین شہید کو تاریخ کی نادر روزگار شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔
شیخ ستمبر 2003ء میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے۔ تاہم 22 مارچ 2004ء کو اسرائیل کے ایک گن شپ ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں شہید ہو گئے۔ اس وقت آپ نماز فجر کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔ حملے میں ان کے دونوں محافظین سمیت 10 دیگر افراد بھی شہید ہوئے اورشیخ یاسین کے دو صاحبزادوں سمیت 12 سے زائد افراد زخمی ہوئے
یومِ شہادت الشیخ احمد یاسین بانی حماس
فلسطینی قوم کے روحانی پیشوا اور تحریک آزادی فلسطین کی عہد ساز شخصیت الشیخ احمد یاسین شہید کی شہادت کو 22 مارچ 2020ء کو 16 سال گذر گئے۔
مرکز اطلاعات فلسطین نے ایک رپورٹ میں الشیخ احمد یاسین کے زندگی کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ 22 مارچ 2004 سوموار کے روز نماز فجر کے وقت الشیخ احمد یاسین اپنے ساتھیوں کے ہمراہ غزہ کی پٹی میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے اپاچی ہیلی کاپٹر سے وہیل چیئر پر سوار الشیخ احمد یاسین کو شہید کردیا۔ الشیخ احمد یاسین کی شہادت نے نہ صرف فلسطینی قوم بلکہ پوری مسلم امہ کو غم و غصے سے دوچار کردیا۔
الشیخ احمد یاسین نہ صرف ایک مرد مجاہد تھے بلکہ وہ فلسطینیوں کے روحانی پیشوا تھے۔ انہوں نے جہاد اور مزاحمت کے ایسے عہد کا دور کیا جس نے فلسطینی تحریک آزادی کا رخ اور دھارا تبدیل کردیا۔ وہیل چیئر پر موجود الشیخ احمد یاسین نے فلسطینی تحریک اور تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ان کا شمار فلسطین کے عظیم المرتبت رہ نماؤں میں ہوتا ہے۔
امت واحدہ کے علم بردار
الشیخ احمد یاسین کی 16 ویں برسی پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہ نما الشیخ احمد الحاج علی نے کہا کہ الشیخ احمد یاسین نے حماس کی تشکیل کرکے فلسطینی تحریک آزادی کو صفر سے بام عروج تک پہنچایا۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید احمد یاسین علیہ الرحمہ ایک حکیم و دانا، جسمانی معذوری کے باوجود عالی ہمت، ان کی خلوص سے بھری طبیعت نے ان کی دعوت کو زیادہ پذیرائی بخشی۔ نوجوان ان کے گرد اکٹھے ہونا شروع ہوئے۔ انہوں نے فلسطینی قوم کو متحد کرنے کے ساتھ ساتھ وحدت امت کا تصور پیش کیا۔
عہد ساز شخصیت کا ظہور
الحاج علی نے کہا کہ الشیخ احمد یاسین فلسطینی قوم کے سر کا تاج اور صہیونی دشمن کے حلق کا کانٹا تھے۔ نہ صرف اسرائیل بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے بھی الشیخ احمد یاسین شہید کے مسلسل تعاقب میں رہے۔ وہ جہاں بھی گئے لوگ ان کے گرویدہ ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ الشیخ احمد یاسین شہید کو تاریخ کی نادر روزگار شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔
شیخ ستمبر 2003ء میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے۔ تاہم 22 مارچ 2004ء کو اسرائیل کے ایک گن شپ ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں شہید ہو گئے۔ اس وقت آپ نماز فجر کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔ حملے میں ان کے دونوں محافظین سمیت 10 دیگر افراد بھی شہید ہوئے اورشیخ یاسین کے دو صاحبزادوں سمیت 12 سے زائد افراد زخمی ہوئے

No comments:
Post a Comment