Sunday, March 22, 2020

اکیس مارچ 1940 قائداعظم کا آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کیلیے لاہور پہنچنا

21 مارچ 1940
قائد اعظم محمد علی جناح آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخ ساز اجلاس میں شرکت کے لیے لاہور پہنچے  تھے۔


21 مارچ 1940 کی صبح  آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں اجلاس میں قیادت کے لیے قائداعظم محمد علی جناح فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچے جہاں لوگوں کا ہجوم آپ کے شاندار استقبال کیلئے موجود تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی

قائداعظم نے تقریباً 100 منٹ پر مشتمل شاندار تقریر کی جس کو سن حاضرین جلسہ دم بخود رہ گئے۔ قائداعظم نے ہندوؤں کو الگ قوم گردانتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الگ قوم ہیں، میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں مسلمان اور مسلمانوں کا رہنما ہوں جبکہ گاندھی خود کو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں قوموں کا لیڈر کہتے ہیں۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ ہندو ہیں اور صرف ہندو قوم کے لیڈر ہیں۔ کیا ان کو یہ کہنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔

اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح منٹو پارک لاہور  جلسہ گاہ تشریف لے گئے جہاں انہوں نے اگلے روز منعقد ہونے والے جلسہ عام کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

21 مارچ 1940 کی  شام غروب آفتاب کے بعد لیگ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں جنرل سیکریٹری کی رسمی رپورٹ کے بعد ضابطے کے مطابق مجلس انتخابِ مضامین (سبجیکٹس کمیٹی) کے چند ارکان نامزد کیے گئے، اُن میں پنجاب سے ڈاکٹر محمد عالم اور میاں فیروز الدین احمد کو جگہ ملی، سر سکندر مرحوم اس جلسے میں شریک تو ہوئے ،لیکن خلاف معمول بہت پیچھے بیٹھے تھے۔ اُن کی وجہ سے یونینسٹ پارٹی کے تمام ارکان بھی اُن کے ساتھ پچھلی کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ قائد اعظم نے لاہور پہنچتے ہی اخباری نمائندوں کو بیان دیا تھا کہ لیگ اس اجلاس میں ایک انقلاب آفرین اقدام کرے گی، اُن کے اس ارشاد پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں ہونے لگیں، ہندو اخباروں نے بھی بڑے بڑے حاشیے چڑھائے، لیکن بات کی تہہ تک کوئی نہ پہنچ سکا تھا

No comments:

Post a Comment