Monday, March 30, 2020

پانچ شعبان 38 ہجری یومِ ولادت امام الساجدین حضرت سیدنا زین العابدین

حضرت اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ واقعہ کربلا کے بعد مدینہ منوّرہ سے کچھ دُور ایک مقام پر آباد ہو گئے تھے

حضرت اِمام حُسین رضی اللّہ عنہُ کو شہید کرنے والوں میں سے ایک شخص کو یزید نے کسی غلطی کی سزا دینا چاہی تو وہ جان بچا کر بھاگا

پوری سلطنت میں سے اسے جان بچانے کی کوئی جگہ نہ مِلی تو وہ بالآخر اسی گھرانے کے پاس چلا آیا جس گھرانے کے خون سے وہ میدانِ کربلا میں اپنے ہاتھ رنگ چُکا تھا۔ وہ شخص حضرت اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ کے پاس آیا اور پناہ چاہی۔ آپ رضی اللّہ عنہُ نے اسے تین دن اپنے پاس ٹھہرایا۔ اس کی خدمت اور تواضع کرتے رہے اور جب وہ رُخصت ہونے لگا تو اسے رختِ سفر بھی دیا۔ یہ حُسنِ سلوک دیکھ کر اس شخص کے باہر جاتے ہوئے قدم رُک گئے، اسے خیال آیا کہ :

'' شائد اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ نے اسے پہچانا نہیں، اگر پہچان لیتے تو شاید یہ سلوک نہ کرتے اور اِنتقام لیتے "
چنانچہ وہ مُڑ کر واپس آیا اور دبے لفظوں میں کہنے لگا کہ :
'' اے عالی مقام! آپ ( رضی اللّہ عنہُ ) نے شائد مجھے پہچانا نہیں ہے ''

آپ رضی اللّہ عنہُ نے پوچھا کہ :
'' تمہیں یہ گُمان کیونکر گُزرا کہ میں نے تمہیں پہچانا نہیں ہے ؟؟؟ ''
اس نے عرض کِیا کہ :
'' جو سلوک آپ ( رضی اللّہ عنہُ ) نے میرے ساتھ کِیا ہے کبھی کوئی اپنے دُشمنوں اور قاتلوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتا ''

اِمام زین العابدین رضی اللّہ عنہُ مُسکرا پڑے اور فرمانے لگے کہ :

'' ظالم! میں تُجھے میدانِ کربلا کی اس گھڑی سے جانتا ہوں جب میرے باپ کی گردن پر تم تلوار چلا رہے تھے، لیکن فرق یہ ہے کہ وہ تمہارا کِردار تھا اور یہ ہمارا کِردار ہے 💞

نام کتاب =
شہادتِ اِمام حُسین رضی اللّہ عنہُ ( فلسفہ و تعلیمات )

No comments:

Post a Comment