شعبان المعظم کا چاند مبارک ہو
اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کے لئے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے (بحوالہ : ماثبت من السنۃ، ص 141، فضائل الایام والشہور، ص 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد پنجاب)
شعبان المعظّم میں رونما ہونے والے بعض مشہور واقعات :-
1… شعبان المعظم 4 ہجری کی 03 تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی۔
2… شعبان المعظم کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے۔
3… شعبان المعظم 2 ہجری کی 16 تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم ﷺ کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ اﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے (بحوالہ: عجائب المخلوقات ص 47، فضائل الایام والشہور ، ص405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
حدیث :- نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے
(بحوالہ: الجامع الصغیر حدیث 4889، ص 301)
شب برأت کی فضیلت و اہمیت :-
ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو شب برأت کہا جاتا ہے۔ شب کے معنی ’’رات‘‘ اور برأت کے معنی نجات کے ہیں۔ یعنی اس رات کو ’’نجات کی رات‘‘ کہا جاتا ہے چونکہ اس رات کو مسلمان عبادت و ریاضت میں گزار کر جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے اس رات کو شب برأت کہا جاتا ہے۔
القرآن : ترجمہ … قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا ہے، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (سورۃ الدخان 2/4)
حدیث شریف :- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سید عالم نور مجسم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول ﷲ ﷺ آپ فرمائیے۔ ارشاد ہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں۔ وہ سب اس شب میں لکھ دئیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں، وہ بھی اس رات میں لکھ دئیے جاتے ہیں اور رات میں لوگوں کے (سال بھر کے) اعمال اٹھا لئے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتا ہے (بحوالہ: مشکوٰۃ شریف، جلد اول، ص 277)
شعبان المعظم میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول :
اس برکتوں والے ماہِ مبارک کے آنے سے قبل ”شعبان المعظم“ میں ہی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استقبال کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات میں اضافہ ہو جاتا، نہ صرف خود بلکہ اس فکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بھی شریک فرماتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رمضان المبارک “ کے ساتھ اُنس پیدا کرنے کے لیے ”شعبان المعظم“ کی پندرہویں رات اور اس دن کے روزے کی ترغیب دی ہے اوراس بارے میں صرف زبانی ترغیب پر ہی اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عملی طور پر خود اس میدان میں سب سے آگے نظر آتے ہیں
چنانچہ اس ماہ کے شروع ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات میں غیر معمولی تبدیلی نظر آتی جس کا اندازہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس ارشاد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، آپ فرماتی ہیں : (ما رأیتہ في شھرٍ أکثر صیاماً منہ في شعبان) کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں کثرت سے (نفلی) روزے رکھتے نہیں دیکھا“ (صحیح مسلم ،رقم الحدیث: ۲۷۷۷)
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ”شعبان المعظم “ میں بکثرت روزہ رکھنے کی وجہ سے اس مہینے میں روزہ رکھنے کو علامہ نووی رحمہ اللہ نے مسنون قرار دیا ہے، فرماتے ہیں ”ومن المسنون صوم شعبان“(المجموع شرح المہذب:۶/۳۸۶)۔
مذکورہ حدیثِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اور دیگر بہت سی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علیہ الصلاة والسلام کا یہ عمل اور امت کو ترغیب دینا استقبال رمضان کے لیے ہوتا تھا
اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کے لئے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے (بحوالہ : ماثبت من السنۃ، ص 141، فضائل الایام والشہور، ص 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد پنجاب)
شعبان المعظّم میں رونما ہونے والے بعض مشہور واقعات :-
1… شعبان المعظم 4 ہجری کی 03 تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی۔
2… شعبان المعظم کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے۔
3… شعبان المعظم 2 ہجری کی 16 تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم ﷺ کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ اﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے (بحوالہ: عجائب المخلوقات ص 47، فضائل الایام والشہور ، ص405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
حدیث :- نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے
(بحوالہ: الجامع الصغیر حدیث 4889، ص 301)
شب برأت کی فضیلت و اہمیت :-
ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو شب برأت کہا جاتا ہے۔ شب کے معنی ’’رات‘‘ اور برأت کے معنی نجات کے ہیں۔ یعنی اس رات کو ’’نجات کی رات‘‘ کہا جاتا ہے چونکہ اس رات کو مسلمان عبادت و ریاضت میں گزار کر جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے اس رات کو شب برأت کہا جاتا ہے۔
القرآن : ترجمہ … قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا ہے، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (سورۃ الدخان 2/4)
حدیث شریف :- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سید عالم نور مجسم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول ﷲ ﷺ آپ فرمائیے۔ ارشاد ہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں۔ وہ سب اس شب میں لکھ دئیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں، وہ بھی اس رات میں لکھ دئیے جاتے ہیں اور رات میں لوگوں کے (سال بھر کے) اعمال اٹھا لئے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتا ہے (بحوالہ: مشکوٰۃ شریف، جلد اول، ص 277)
شعبان المعظم میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول :
اس برکتوں والے ماہِ مبارک کے آنے سے قبل ”شعبان المعظم“ میں ہی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استقبال کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات میں اضافہ ہو جاتا، نہ صرف خود بلکہ اس فکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بھی شریک فرماتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رمضان المبارک “ کے ساتھ اُنس پیدا کرنے کے لیے ”شعبان المعظم“ کی پندرہویں رات اور اس دن کے روزے کی ترغیب دی ہے اوراس بارے میں صرف زبانی ترغیب پر ہی اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عملی طور پر خود اس میدان میں سب سے آگے نظر آتے ہیں
چنانچہ اس ماہ کے شروع ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات میں غیر معمولی تبدیلی نظر آتی جس کا اندازہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس ارشاد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، آپ فرماتی ہیں : (ما رأیتہ في شھرٍ أکثر صیاماً منہ في شعبان) کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں کثرت سے (نفلی) روزے رکھتے نہیں دیکھا“ (صحیح مسلم ،رقم الحدیث: ۲۷۷۷)
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ”شعبان المعظم “ میں بکثرت روزہ رکھنے کی وجہ سے اس مہینے میں روزہ رکھنے کو علامہ نووی رحمہ اللہ نے مسنون قرار دیا ہے، فرماتے ہیں ”ومن المسنون صوم شعبان“(المجموع شرح المہذب:۶/۳۸۶)۔
مذکورہ حدیثِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اور دیگر بہت سی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علیہ الصلاة والسلام کا یہ عمل اور امت کو ترغیب دینا استقبال رمضان کے لیے ہوتا تھا

No comments:
Post a Comment