Sunday, March 29, 2020

چار شعبان المعظم 26 ہجری یومِ ولادت حضرت غازی عبّاس علمدار شہید

4 شعبان المعظم 26 ہجری
یومِ ولادت حضرت غازی عبّاس علمدار رضی اللہ عنہ

حضرت غازی عباس رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنیؓن تھا جن کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔ وہ ولیہ خدا ، عرفانِ الہیٰ ، محدثہ، فقیہہ ، معرفت اہلبیت اطہار اور علوم ظاہری و باطنی کی حامل تھیں، عباس بن علؓی اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی حسین بن علؓی کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔

ولادت با سعادت :
حضرت عباس بن علیؓ کی ولادت باسعادت 4 شعبان المعظم 26 ہجری کو ہوئی۔ مولا علؓی  نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباسؓ رکھا۔

ابتدائی زندگی :
مولا علؓی نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے انہوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرکہلانے لگے۔ اسی بناء پر اُنہیں ثانی علی المرتضٰؓی بھی کہا جاتا ہے۔ عباس بن علؓی بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادات سے خاص شغف رکھتے تھے۔

واقعہ کربلا اور حضرت عباس بن علؓی :
واقعہ کربلا کے وقت عباس بن علیؓ کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ حضرت امام  حسینؓ نے آپ کو لشکر کا علمبردار قراردیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔ لشکرِ یزید کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر عباس بن علؓی کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔

شہادت :
10 محرم الحرام کو امام حسیؓن نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسیؓن کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دئیے اور شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔

شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علؓی کے ساتھ ہوا، ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں مرجع خلائق ہے

No comments:

Post a Comment