Saturday, March 28, 2020

اٹھائیس مارچ 1947 یومِ وفات بیگم مولانا محمد علی جوہر

28 مارچ 1947
یومِ وفات امجدی بانو بیگم مولانا محمد علی جوہر

امجدی بانو بیگم 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور  کی تائید  کرنے والی واحد خاتون تھیں۔

امجدی بانو بیگم ان بہادر اور حوصلہ مند خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے برصغیر  کے مسلمانوں کے الگ وطن کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔

امجدی بیگم رام پور میں بہت نمایاں شخصیت تھیں ۔ وہ 1885ء میں ریاست رامپور میں پیدا ہوئیں۔ وہ عظمت علی خان کی بیٹی تھیں. انکے بچپن میں ہی انکے والد کا انتقال ہو گیا، انکی دادی نے انکو پالا۔ انکی تعلیم کا گھر میں ہی انتظام  کیا گیا تھا  کیوں کے اس زمانے میں مسلمان لڑکیوں کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا

5 فروری 1902ء کو وہ مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جو رشتے میں آپ کے عزیز تھے۔ مولانا محمد علی جوہر  اپنے ملک کی آزادی کے بارے میں بہت پُرجوش تھے و ہ ایک عظیم مسلم رہنما تھے۔ 1919ء میں جب مولانا محمد علی جوہر کو خلافت تحریک کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا تو بیگم محمد علی جوہر امجدی بانو بیگم عملی سیاست سے منسلک ہوگئیں۔ اسی برس انہیں خود بھی قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی

امجدی بانو بیگم کو برطانوی بھارت کی پہلی مسلمان خاتون سیاسی رہنما کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ یہ وہ وقت تھا جب عورتیں اپنے گھروں تک محدود تھیں اور ان کی ذمہ داری اپنے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا تھی ، وہ اس وقت کی خاتون تھیں۔ انہوں نے تحریک خلافت میں شمولیت اختیار کی اور ہر سفر پر مولانا  کے ساتھ جاتی تھیں، یہاں تک کہ  4 جنوری 1931 کو مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد بھی انہوں نے مسلمانوں کی سربلندی کیلیے کام کرنا بند نہیں کیا۔ 1931 میں انہوں نے لندن کی گول میز کانفرنس میں شرکت کی جہاں انکے کام اور جذبہ کی تعریف کی گئی


امجدی بانو بیگم قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی ایک رکن کے طور پر مقرر کی گئیں۔ یہ کمیٹی پچیس ارکان پر مشتمل تھی اور وہ ان کے درمیان واحد خاتون تھیں

22 سے 24 مارچ 1940 تک  لاہور میں منعقد مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سےایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا گیا جو ایک قرارداد کی صورت میں عوام کے اجلاس میں منظور کیا گیا۔ امجدی بانو بیگم نے اس  کمیٹی کی ایک رکن کے طور پر پاکستان کی اس تاریخی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں  حصہ لیا۔ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں انہوں نے ہندوستان کی مسلمان خواتین کی جانب سے قرارداد لاہور کی تائید میں تقریر کی

وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی رہنما تھیں جنہوں نے اس قرارداد کو قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ ہندوستانی پریس نے طنز کے طور پر اس نام کو ایسا اچھالا کے لفظ پاکستان زبان زد خاص و عام ہوگیا

انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے تحت خواتین کے لئے علیحدہ ونگ کی بنیاد بھی ڈالی

قیام پاکستان سے صرف 5 ماہ قبل 28 مارچ 1947 کو امجدی بانو بیگم کا انتقال ہو گیا، اللہ تعالٰی آپ کی مغفرت فرمائے۔ آمین

No comments:

Post a Comment