22 مارچ 1940
آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخ ساز اجلاس شروع ہوا تھا
برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1937ء میں جو پہلے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلم لیگ کو بری طرح سے ہزیمت اٹھانی پڑی تھی اور اس کے اس دعویٰ کو شدید زک پہنچی تھی کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اس وجہ سے مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور ان پر ایک عجب بے بسی کا عالم تھا۔ کانگریس کو مدراس، یو پی، سی پی، بہار اور اڑیسہ میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی، سرحد اور بمبئی میں اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی اور سندھ اور آسام میں بھی جہاں مسلمان حاوی تھے کانگریس کو نمایاں کامیابی ملی تھی۔پنجاب میں البتہ سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی اور بنگال میں مولوی فضل الحق کی پرجا کرشک پارٹی کی جیت ہوئی تھی، غرض ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے کسی ایک صوبہ میں بھی مسلم لیگ کو اقتدار حاصل نہ ہو سکا۔ ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلم لیگ برصغیر کے سیاسی دھارے سے الگ ہوتی جا رہی ہے۔
اس دوران میں کانگریس نے جو پہلی بار اقتدار کے نشے میں کچھ زیادہ ہی سرشار تھی، ایسے اقدامات کیے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں خدشات اور خطرات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ مثلاً کانگریس نے ہندی کو قومی زبان قرار دے دیا، گاؤ کشی پر پابندی عائد کردی اور کانگریس کے ترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت دی۔ اس صورت میں مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کے ساتھ اس کی قیادت میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ مسلم لیگ اقتدار سے اس بناء پر محروم کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے۔ یہی نقطہ آغاز تھا مسلم لیگ کی قیادت میں دو جدا قوموں کے احساس کی بیداری کا۔
اسی دوران میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر برطانوی راج اور کانگریس کے درمیان مناقشہ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی تو مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئیے اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ 1940 کو شروع ہوا
آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 واں سالانہ اجلاس ایک تین روزہ جلسہ عام کی صورت میں 22 مارچ سے 24 مارچ 1940 تک قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں 23 مارچ 1940 کو پیش کی جانی والی قرارداد لاہور 24 مارچ 1940 کو منظور کی گئی۔ اجلاس کے پہلے روز نواب سر شاہ نواز ممدوٹ کے استقبالیہ کے بعد محمد علی جناح نے ایک طویل اور فل البدیہہ خطبہ دیا ۔ اجلاس کے دوسرے دن یعنی 23 مارچ 1940 کو شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے تاریخی قرارداد لاہور پیش کی جو آگے جاکر کر پاکستان بننے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔
اس قرارداد کا موسودہ پنجاب کے یونینسٹ وزیراعلیٰ سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا ( یونی نیسٹ پارٹی اُس وقت مسلم لیگ میں ضم ہوچکی تھی )
The full text of the resolution document was as follows:
"THE LAHORE RESOLUTION
Resolved at the Lahore Session of All-India Muslim League held on 22nd-24th March, 1940.
(1) While approving and endorsing the action taken by the Council and the Working Committee of the All Indian Muslim League as indicated in their resolutions dated the 27th of August, 17th and 18th of September and 22ndof October, 1939, and 3rd February 1940 on the constitutional issues, this Session of the All-Indian Muslim League emphatically reiterates that the scheme of federation embodied in the Government of India Act, 1935, is totally unsuited to, and unworkable in the peculiar conditions of this country and is altogether unacceptable to Muslim India.
(2) It further records its emphatic view that while the declaration dated the 18th of October, 1939 made by the Viceroy on behalf of His Majesty’s Government is reassuring in so far as it declares that the policy and plan on which the Government of India Act 1935, is based will be reconsidered in consultation with the various parties, interests and communities in India, Muslim India will not be satisfied unless the whole constitutional plan is reconsidered de novo and that no revised plan would be acceptable to the Muslims unless it is framed with their approval and consent.
(3) Resolved that it is the considered view of this Session of the All India Muslim League that no constitutional plan would be workable in this country or acceptable to Muslims unless it is designed on the following basic principle, namely that geographically contiguous units are demarcated into regions which should be so constituted, with such territorial readjustments as may be necessary, that the areas in which the Muslims are numerically in a majority as in the North-Western and Eastern Zones of India, should be grouped o constitute “Independent States” in which the constituent units shall be autonomous and sovereign.
That adequate, effective and mandatory safeguards should be specifically provided in the constitution for minorities in these units and in these regions for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights and interests in consultation with them; and in other parts of India where the Mussalmans are in a minority, adequate, effective and mandatory safeguards shall be specially provided in the constitution for them and other minorities for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights and interests in consultation with them.
This Session further authorizes the Working Committee to frame a scheme of constitution in accordance with these basic principles, providing for the assumption finally by the respective regions of all powers such as defense, external affairs, communications, customs and such other matters as may be necessary."
1۔ آئینی مسئلے پر آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مجلس عاملہ کے اس اقدام کی تائید و توصیف کرتے ہوئے جو ان کی 27 اگست، 17-18 ستمبر، 22 اکتوبر 1939 اور 3 فروری 1940ء کی قراردادوں سے واضح ہوتا ہے، آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس پُرزور اعادہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی منصوبہ جس کا اظہار گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ء میں کیا گیا ہے، قطعاً غیر موزوں، اس ملک کے خاص حالات کے پیش نظر ناقابل عمل اور مسلم ہندوستان کیلئے یکسر ناقابل قبول ہے۔
2۔ اس اجلاس کی یہ حتمی رائے ہے کہ 18 اکتوبر 1939ء کو جو اعلان وائسرائے نے حکومت ملک معظم کی جانب سے کیا تھا، وہ اس حد تک تو اطمینان بخش ہے کہ جس مسلک اور منصوبے پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء مبنی ہے اس پر ہندوستان کی مختلف جماعتوں، مفادات اور فرقوں کے مشورے سے دوبارہ غور کرنے کا یقین دلایا گیا ہے لیکن مسلم ہندوستان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک کہ پورے آئینی منصوبے پر ازسرنو غور نہ کیا جائے اور کوئی نیا منصوبہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہ ہوگا تاوقتیکہ ان کی رضا مندی اور منظوری سے مرتب نہ کیاجائے۔
3۔ قرار پایا کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ وہ مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر وضع نہ کیا گیا ہو یعنی جغرافیائی طورپر متصل وحدتوں کی حد بندی ایسے خطوں میں کی جائے (مناسب ردّ و بدل کے ساتھ) کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے، ان کی تشکیل ایسی’’ آزاد ریاستوں‘‘ کی صورت میں کی جائے جن کی مشمولہ وحدتیں خود مختار اور مقتدر ہیں۔
نیز ان وحدتوں اور خطوں میں اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب، مؤثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ کیا جائے اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں۔
مزید برآں اس اجلاس نے مجلس عاملہ کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق آئین کا ایک ایسا منصوبہ مرتب کریں جس کی رُو سے مذکورہ علاقوں کو بالآخر کلی اختیارات حاصل ہوجائیں گے مثلاً دفاع، امور خارجہ، مواصلات ، محصولات اور دیگر ایسے امور جو ضروری سمجھے جائیں۔ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب، مؤثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ کیاجائے۔
آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی
انگریزی زبان میں تحریر کئے گئے اس قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے پیش کیا ۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلم لیگی رہنماؤں نے اس قرارداد کی حمایت میں تقاریر کیں ۔ مسلم لیگ کا یہ اجلاس لاہور میں شاہی مسجد کے بالمقابل واقع منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں منعقد ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت نے اقبال پارک میں ایک پُرشکوہ مینار 'یادگار پاکستان' کے نام سے تعمیر کیا ۔
قرارداد لاہور کے متعلق تاریخی غلط بیانی۔
تاریخ میں قرارداد لاہور سے معتلق چند غلط بیانیاں کی گئیں ہیں اور کئی مصنفین ان مغالطوں کو آج تک درست کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان مغالطوں میں سر فہرست قرارداد کا نام ہے۔ اس قرارداد کا نام قرارداد لاہور ہے مگر قرارداد منظور ہونے کے بعد اس کو قرارداد پاکستان کہا گیا۔ اور آج اس قرارداد کا اپنا اصل نام تاریخ کی کتابوں سے ناپید ہو چکا ہے۔ اس قرارداد کے متن میں کہیں بھی پاکستان کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے خود مختار وطن کے لیے سب سے پہلے پاکستان کا نام 1933 میں چودھری رحمت علی نے استعمال کیا تھا۔ یقینی بات ہے کہ مسلم لیگی زعماء قرارداد لاہور کے وقت اس نام سے واقف تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی قرارداد کے لیے قرارداد پاکستان کا نام رکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ قرارداد لاہور کو قرارداد پاکستان کا نام ہندو پریس نے طنزیہ طور پہ دیا تھا جسے مسلمانان ہند نے بخوشی قبول کر لیا۔
یہ قراداد 23 مارچ 1940 کو پیش ہوئی اور اگلے روز یعنی 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی۔ لیکن پاکستان کی ساری درسی (اور کچھ سرکاری مؤرخوں کی تحریروں ) میں اس قرارداد کی منظوری کی تاریخ 23 مارچ 1940 درج ہے ۔ جو کہ سراسر غلط ہے۔ مثال کے طور پر قرارداد مقاصد 7 مارچ 1949 کو پیش ہوئی اور 5 دن بعد 12 مارچ 1949 کو منظور ہوئی اور آج قراردادِ مقاصد کے ساتھ اس کی منظوری کی تاریخ یعنی 12 مارچ 1949 جُڑی ہوئی ہے۔ بالکل اسی طرح قرارداد لاہور بھی 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی اور اسی تاریخ کی اہمیت ہونی چاہئے۔
پاکستان میں 23 مارچ کو ہر سال یومِ پاکستان کے نام سے منایا جاتا ہے اور اس کی مناسبت 1940 کی قرارداد لاہور سے کی جاتی ہے۔ اصل میں یہ تقریبات یومِ جمہوریہ کے سلسلے میں ہیں
آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں اجلاس کا مکمل اوریجنل ریکارڈ، جو کہ 22 مارچ 1940 سے شروع ہو کر 24 مارچ 1940 تک جاری رہا تھا، پاکستان نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے لیکن وہ پیپر جن پر یہ قرارداد لکھی گئی تھی، وہ گم شدہ ہیں۔ اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک کے مطابق اس قرارداد کی اوریجنل دستاویز پیر علی محمد راشدی کے پاس تھی، جو سندھ کے مشہور سیاسی گھرانے کے فرد ہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ وہ دستاویز شمس الحسن سید کے پاس تھی۔ شمس الحسن سید نے 1914 سے آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر کام سنبھالا اور بعد میں مرکزی سیکریٹری ہو گئے تھے۔ 1947 تک وہ اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ پاکستان کی تخلیق کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں بھی یہی عہدہ سنبھالا، جو 1958 کے مارشل لاء تک جاری رہا۔ 1947 میں وہ قائداعظم کے حکم پر آل انڈیا مسلم لیگ کا سارا ریکارڈ، پاکستان لے آئے تھے۔ سید صاحب، واجد شمس الحسن کے والد تھے، وہی واجد شمس الحسن، جو زرداری دور میں پاکستان کے انگلینڈ میں ہائی کمشنر رہے، جن کا نام زرداری کیس کے سوئیس پیپرز کے سلسلے میں بہت مشہور ہوا تھا۔
یہ تفصیلات نوے کی دہائی میں ایک ریڈیو پروگرام سوغات کے ہفتہ وار سلسلے ’’ایک اہم دستاویز‘‘ میں ڈائریکٹر جنرل آرکائیوز، عتیق ظفر شیخ نشر کر چکے ہیں۔ اس وقت تک اگرچہ آل انڈیا مسلم لیگ کے ریکارڈ کی اڑھائی تین لاکھ دستاویزات نیشنل آرکائیوز میں آ چکی تھیں، جنہیں قائداعظم پیپرز کا نام دیا گیا ہے لیکن 2006 میں سید شمس الحسن کے صاحبزادے خالد شمس الحسن نے، اپنے والد کی دستاویزات کا ذاتی اثاثہ بھی کیبنٹ ڈویژن کو عطیہ کر دیا تھا، جسے ’’شمس الحسن کولیکشن‘‘ کہتے ہیں۔ اب ممکن ہے 23 مارچ 1940 کو پیش کی گئی قرارداد کی اوریجنل دستاویز اس کولیکشن کے ساتھ نیشنل آرکائیوز میں آچکی ہو
آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخ ساز اجلاس شروع ہوا تھا
برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1937ء میں جو پہلے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلم لیگ کو بری طرح سے ہزیمت اٹھانی پڑی تھی اور اس کے اس دعویٰ کو شدید زک پہنچی تھی کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اس وجہ سے مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور ان پر ایک عجب بے بسی کا عالم تھا۔ کانگریس کو مدراس، یو پی، سی پی، بہار اور اڑیسہ میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی، سرحد اور بمبئی میں اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی اور سندھ اور آسام میں بھی جہاں مسلمان حاوی تھے کانگریس کو نمایاں کامیابی ملی تھی۔پنجاب میں البتہ سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی اور بنگال میں مولوی فضل الحق کی پرجا کرشک پارٹی کی جیت ہوئی تھی، غرض ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے کسی ایک صوبہ میں بھی مسلم لیگ کو اقتدار حاصل نہ ہو سکا۔ ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلم لیگ برصغیر کے سیاسی دھارے سے الگ ہوتی جا رہی ہے۔
اس دوران میں کانگریس نے جو پہلی بار اقتدار کے نشے میں کچھ زیادہ ہی سرشار تھی، ایسے اقدامات کیے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں خدشات اور خطرات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ مثلاً کانگریس نے ہندی کو قومی زبان قرار دے دیا، گاؤ کشی پر پابندی عائد کردی اور کانگریس کے ترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت دی۔ اس صورت میں مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کے ساتھ اس کی قیادت میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ مسلم لیگ اقتدار سے اس بناء پر محروم کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے۔ یہی نقطہ آغاز تھا مسلم لیگ کی قیادت میں دو جدا قوموں کے احساس کی بیداری کا۔
اسی دوران میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر برطانوی راج اور کانگریس کے درمیان مناقشہ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی تو مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئیے اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ 1940 کو شروع ہوا
آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 واں سالانہ اجلاس ایک تین روزہ جلسہ عام کی صورت میں 22 مارچ سے 24 مارچ 1940 تک قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں 23 مارچ 1940 کو پیش کی جانی والی قرارداد لاہور 24 مارچ 1940 کو منظور کی گئی۔ اجلاس کے پہلے روز نواب سر شاہ نواز ممدوٹ کے استقبالیہ کے بعد محمد علی جناح نے ایک طویل اور فل البدیہہ خطبہ دیا ۔ اجلاس کے دوسرے دن یعنی 23 مارچ 1940 کو شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے تاریخی قرارداد لاہور پیش کی جو آگے جاکر کر پاکستان بننے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔
اس قرارداد کا موسودہ پنجاب کے یونینسٹ وزیراعلیٰ سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا ( یونی نیسٹ پارٹی اُس وقت مسلم لیگ میں ضم ہوچکی تھی )
The full text of the resolution document was as follows:
"THE LAHORE RESOLUTION
Resolved at the Lahore Session of All-India Muslim League held on 22nd-24th March, 1940.
(1) While approving and endorsing the action taken by the Council and the Working Committee of the All Indian Muslim League as indicated in their resolutions dated the 27th of August, 17th and 18th of September and 22ndof October, 1939, and 3rd February 1940 on the constitutional issues, this Session of the All-Indian Muslim League emphatically reiterates that the scheme of federation embodied in the Government of India Act, 1935, is totally unsuited to, and unworkable in the peculiar conditions of this country and is altogether unacceptable to Muslim India.
(2) It further records its emphatic view that while the declaration dated the 18th of October, 1939 made by the Viceroy on behalf of His Majesty’s Government is reassuring in so far as it declares that the policy and plan on which the Government of India Act 1935, is based will be reconsidered in consultation with the various parties, interests and communities in India, Muslim India will not be satisfied unless the whole constitutional plan is reconsidered de novo and that no revised plan would be acceptable to the Muslims unless it is framed with their approval and consent.
(3) Resolved that it is the considered view of this Session of the All India Muslim League that no constitutional plan would be workable in this country or acceptable to Muslims unless it is designed on the following basic principle, namely that geographically contiguous units are demarcated into regions which should be so constituted, with such territorial readjustments as may be necessary, that the areas in which the Muslims are numerically in a majority as in the North-Western and Eastern Zones of India, should be grouped o constitute “Independent States” in which the constituent units shall be autonomous and sovereign.
That adequate, effective and mandatory safeguards should be specifically provided in the constitution for minorities in these units and in these regions for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights and interests in consultation with them; and in other parts of India where the Mussalmans are in a minority, adequate, effective and mandatory safeguards shall be specially provided in the constitution for them and other minorities for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights and interests in consultation with them.
This Session further authorizes the Working Committee to frame a scheme of constitution in accordance with these basic principles, providing for the assumption finally by the respective regions of all powers such as defense, external affairs, communications, customs and such other matters as may be necessary."
1۔ آئینی مسئلے پر آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مجلس عاملہ کے اس اقدام کی تائید و توصیف کرتے ہوئے جو ان کی 27 اگست، 17-18 ستمبر، 22 اکتوبر 1939 اور 3 فروری 1940ء کی قراردادوں سے واضح ہوتا ہے، آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس پُرزور اعادہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی منصوبہ جس کا اظہار گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ء میں کیا گیا ہے، قطعاً غیر موزوں، اس ملک کے خاص حالات کے پیش نظر ناقابل عمل اور مسلم ہندوستان کیلئے یکسر ناقابل قبول ہے۔
2۔ اس اجلاس کی یہ حتمی رائے ہے کہ 18 اکتوبر 1939ء کو جو اعلان وائسرائے نے حکومت ملک معظم کی جانب سے کیا تھا، وہ اس حد تک تو اطمینان بخش ہے کہ جس مسلک اور منصوبے پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء مبنی ہے اس پر ہندوستان کی مختلف جماعتوں، مفادات اور فرقوں کے مشورے سے دوبارہ غور کرنے کا یقین دلایا گیا ہے لیکن مسلم ہندوستان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک کہ پورے آئینی منصوبے پر ازسرنو غور نہ کیا جائے اور کوئی نیا منصوبہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہ ہوگا تاوقتیکہ ان کی رضا مندی اور منظوری سے مرتب نہ کیاجائے۔
3۔ قرار پایا کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ وہ مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر وضع نہ کیا گیا ہو یعنی جغرافیائی طورپر متصل وحدتوں کی حد بندی ایسے خطوں میں کی جائے (مناسب ردّ و بدل کے ساتھ) کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے، ان کی تشکیل ایسی’’ آزاد ریاستوں‘‘ کی صورت میں کی جائے جن کی مشمولہ وحدتیں خود مختار اور مقتدر ہیں۔
نیز ان وحدتوں اور خطوں میں اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب، مؤثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ کیا جائے اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں۔
مزید برآں اس اجلاس نے مجلس عاملہ کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق آئین کا ایک ایسا منصوبہ مرتب کریں جس کی رُو سے مذکورہ علاقوں کو بالآخر کلی اختیارات حاصل ہوجائیں گے مثلاً دفاع، امور خارجہ، مواصلات ، محصولات اور دیگر ایسے امور جو ضروری سمجھے جائیں۔ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب، مؤثر اور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ کیاجائے۔
آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی
انگریزی زبان میں تحریر کئے گئے اس قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے پیش کیا ۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلم لیگی رہنماؤں نے اس قرارداد کی حمایت میں تقاریر کیں ۔ مسلم لیگ کا یہ اجلاس لاہور میں شاہی مسجد کے بالمقابل واقع منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں منعقد ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت نے اقبال پارک میں ایک پُرشکوہ مینار 'یادگار پاکستان' کے نام سے تعمیر کیا ۔
قرارداد لاہور کے متعلق تاریخی غلط بیانی۔
تاریخ میں قرارداد لاہور سے معتلق چند غلط بیانیاں کی گئیں ہیں اور کئی مصنفین ان مغالطوں کو آج تک درست کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان مغالطوں میں سر فہرست قرارداد کا نام ہے۔ اس قرارداد کا نام قرارداد لاہور ہے مگر قرارداد منظور ہونے کے بعد اس کو قرارداد پاکستان کہا گیا۔ اور آج اس قرارداد کا اپنا اصل نام تاریخ کی کتابوں سے ناپید ہو چکا ہے۔ اس قرارداد کے متن میں کہیں بھی پاکستان کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے خود مختار وطن کے لیے سب سے پہلے پاکستان کا نام 1933 میں چودھری رحمت علی نے استعمال کیا تھا۔ یقینی بات ہے کہ مسلم لیگی زعماء قرارداد لاہور کے وقت اس نام سے واقف تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی قرارداد کے لیے قرارداد پاکستان کا نام رکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ قرارداد لاہور کو قرارداد پاکستان کا نام ہندو پریس نے طنزیہ طور پہ دیا تھا جسے مسلمانان ہند نے بخوشی قبول کر لیا۔
یہ قراداد 23 مارچ 1940 کو پیش ہوئی اور اگلے روز یعنی 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی۔ لیکن پاکستان کی ساری درسی (اور کچھ سرکاری مؤرخوں کی تحریروں ) میں اس قرارداد کی منظوری کی تاریخ 23 مارچ 1940 درج ہے ۔ جو کہ سراسر غلط ہے۔ مثال کے طور پر قرارداد مقاصد 7 مارچ 1949 کو پیش ہوئی اور 5 دن بعد 12 مارچ 1949 کو منظور ہوئی اور آج قراردادِ مقاصد کے ساتھ اس کی منظوری کی تاریخ یعنی 12 مارچ 1949 جُڑی ہوئی ہے۔ بالکل اسی طرح قرارداد لاہور بھی 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی اور اسی تاریخ کی اہمیت ہونی چاہئے۔
پاکستان میں 23 مارچ کو ہر سال یومِ پاکستان کے نام سے منایا جاتا ہے اور اس کی مناسبت 1940 کی قرارداد لاہور سے کی جاتی ہے۔ اصل میں یہ تقریبات یومِ جمہوریہ کے سلسلے میں ہیں
آل انڈیا مسلم لیگ کے 27 ویں اجلاس کا مکمل اوریجنل ریکارڈ، جو کہ 22 مارچ 1940 سے شروع ہو کر 24 مارچ 1940 تک جاری رہا تھا، پاکستان نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے لیکن وہ پیپر جن پر یہ قرارداد لکھی گئی تھی، وہ گم شدہ ہیں۔ اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک کے مطابق اس قرارداد کی اوریجنل دستاویز پیر علی محمد راشدی کے پاس تھی، جو سندھ کے مشہور سیاسی گھرانے کے فرد ہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ وہ دستاویز شمس الحسن سید کے پاس تھی۔ شمس الحسن سید نے 1914 سے آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر کام سنبھالا اور بعد میں مرکزی سیکریٹری ہو گئے تھے۔ 1947 تک وہ اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ پاکستان کی تخلیق کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں بھی یہی عہدہ سنبھالا، جو 1958 کے مارشل لاء تک جاری رہا۔ 1947 میں وہ قائداعظم کے حکم پر آل انڈیا مسلم لیگ کا سارا ریکارڈ، پاکستان لے آئے تھے۔ سید صاحب، واجد شمس الحسن کے والد تھے، وہی واجد شمس الحسن، جو زرداری دور میں پاکستان کے انگلینڈ میں ہائی کمشنر رہے، جن کا نام زرداری کیس کے سوئیس پیپرز کے سلسلے میں بہت مشہور ہوا تھا۔
یہ تفصیلات نوے کی دہائی میں ایک ریڈیو پروگرام سوغات کے ہفتہ وار سلسلے ’’ایک اہم دستاویز‘‘ میں ڈائریکٹر جنرل آرکائیوز، عتیق ظفر شیخ نشر کر چکے ہیں۔ اس وقت تک اگرچہ آل انڈیا مسلم لیگ کے ریکارڈ کی اڑھائی تین لاکھ دستاویزات نیشنل آرکائیوز میں آ چکی تھیں، جنہیں قائداعظم پیپرز کا نام دیا گیا ہے لیکن 2006 میں سید شمس الحسن کے صاحبزادے خالد شمس الحسن نے، اپنے والد کی دستاویزات کا ذاتی اثاثہ بھی کیبنٹ ڈویژن کو عطیہ کر دیا تھا، جسے ’’شمس الحسن کولیکشن‘‘ کہتے ہیں۔ اب ممکن ہے 23 مارچ 1940 کو پیش کی گئی قرارداد کی اوریجنل دستاویز اس کولیکشن کے ساتھ نیشنل آرکائیوز میں آچکی ہو

No comments:
Post a Comment