Friday, May 15, 2020

اکیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ شہادت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم

21 رمضان المبارک 40 ہجری
یومِ شہادت سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
 

مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب 17 مارچ 599 بمطابق 13 رجب المرجب 30 عام الفیل کو بروز جمعہ شہر مکہ  میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے

سیدنا علی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں جو بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اسلام قبول کرنے والے دوسرے مسلمان تھے (پہلی مسلمان سیدہ خدیجہ الکبری تھیں) آپ کی عمر اس وقت تقریباً 10  سال تھی

17 جون 656ء بمطابق 18 ذی الحجہ 35 ہجری کو مولا علی چوتھے خلیفہ راشد بنے

سیدنا علی بن ابی طالب کو 27 جنوری 651 بمطابق  19 رمضان 40 ہجری کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہرگز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا 

29 جنوری 661 ء بمطابق 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو نماز فجر کے وقت شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن  و حضرت حسین  نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے

اولاد

آپ کے بچوں کی تعداد 27 تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا  سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن، امام حسن اور امام حسین، جبکہ دو صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت ام کلثوم  بھی حضرت سیدہ فاطمہ سے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنفیہ، حضرت عباس بن علی شامل ہیں

مولائے کائنات سیدنا علی ابن طالب  کی اولاد یہ ہیں :

بیٹے۔
 سیدنا حسن بن علی۔
 سیدنا حسین بن علی۔ 
 حضرت عباس بن علی
۔ عمر ابن علی۔
 جعفر ابن علی۔ 
عثمان ابن علی۔
 محمد الاکبر ( محمد بن حنفیہ)
 عبد اللہ ابن علی۔ 
ابوبکر ابن علی
عبید اللہ ابن علی
یحییٰ ابن علی
محمد اصغر ابن علی
محمد اوسط ابن علی

بیٹیاں
سیدتنا زینب بنت علی
سیدتنا ام کلثوم بنت علی
رقیہ بنت علی
رملہ بنت علی
نفیسہ بنت علی
خدیجہ بنت علی
ام ہانی بنت علی
جمانہ بنت علی
امامہ بنت علی
مونا بنت علی
سلمیٰ بنت علی

علی امامِ من استُ منم غلامِ علی 
ہزار جانِ گرامی فدا بنامِ علی

’’حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا اور ان کو آشوب چشم تھا پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ضرور بالضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہو گا یا اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے

راوی بیان کرتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اس حال میں کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئے اور پھر اُنھیں جھنڈا عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلہ میں مرحب نکلا اور کہنے لگا‘‘

(تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے)

پس حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا :
(میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ)

راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اس کو قتل کر دیا پھر فتح آپ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے‘‘

مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد و السير، باب غزوة الأحزاب و هي الخندق، 3 / ، 1441، الحديث رقم : 1807
 ابن حبان في الصحيح، 15 / 382، الحديث رقم : 6935
أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 51
ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 393، الحديث رقم : 36874
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 17، الحديث رقم : 6243

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین 
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن ، شاہِ خیبر شکن
مولا دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام۔

سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین ایسی باتیں کہیں جن کا خواہش مند ہم میں سے ہر کوئی تھا:

1۔ جس کا میں( رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) مولا ہوں اسکے علی( رضی اللہ عنہ) بھی مولا ہیں

2۔ علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نسبت بلکل ویسے ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام سے تھی،  سوائے اسکے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں

3، غزوۃ خیبر کے وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ صبح میں اس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں،  وہ جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا 

حوالہ:
صحیح مسلم 6220
سنن نسائی الکبری 8439
سنن ابن ماجہ 121۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  فرماتے ہیں : 

أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ۔

بیشک مومن کے علاوہ کوئی علی  سے محبت نہیں رکھتا، اور منافق کے علاوہ کوئی علی  سے بغض نہیں رکھتا
( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب 33، حدیث نمبر ۷ )۔

جس دن آپ ظلم کے سامنے کھڑے ہوجاؤ وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ علم کو خود پر لازم کرلو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ حق کے خالی پلڑے کو باطل کے بھاری پلڑے پر چنو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ کفر کو بزور بازو للکارو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے مقدم کرلو وہ یوم علی ہے 
جس دن آپ اپنی اولاد کی تربیت حسن و حسین (رض) جیسی کرلو وہ یوم علی ہے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  ایام نہیں زمانوں میں زندہ رہنے والی شخصیت ہیں۔ ہر بہادری ہر وفا ہر علم ہر قربانی میں ان کا عکس شامل ہے . کمزور ٹانگوں سے قریش مکہ کے درمیان سے الا اللہ کہنے والا حق گوئی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ خدا کے گھر میں نماز کی حالت میں جان لیوا وار خود پر کھا کر  سوہنے علی کو رہتی کائنات تک مثال بنا گیا

No comments:

Post a Comment