Saturday, May 2, 2020

دو مئی 2001 یومِ وفات مجاہد ختم نبوت مولانا عبدالستار خان نیازی

02 مئی 2001
یومِ وفات مجاہد ختم نبوت
"مولانا عبدالستار خان نیازی"

آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔ دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا

دس سال کی قید سن کر بھی میں گھبرایا نہیں۔ مجھے امید تھی کہ میرا گروہ مجھے یہاں سے چھڑوا لے گا لیکن آج دو سال ہو چکے ہیں مجھے چھڑوانے کوئی نہیں آیا۔ اب میں اکثر تنہائی میں روتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ نہ جانے کیوں اب اس کال کوٹھری سے میرا دل گھبرانے سا لگا ہے۔ اب تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا ہے۔ وہ بھی اکثر مجھ سے حال احوال پوچھنے آجاتا ہے

1953 کا ہی ایک روشن دن تھا جب جیل میں ایک نیا قیدی آیا۔ وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔ اس کا دراز قد، روشن چہرہ اور سر پر عمامہ اس کی شخصیت کو متاثر کن بنانے کیلئے کافی تھا۔ اس کے چہرہ کا اطمینان دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوا کرتی تھی۔ جیلر نے بتایا کہ اسے ریاست کے خلاف بغاوت کے جرم میں سزائے موت ہو چکی ہے۔ لیکن میرا دل قطعی ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسا شخص باغی بھی ہو سکتا ہے

اسے میرے ساتھ والی بند کوٹھری میں قید رکھا گیا تھا۔ اس کے اور میرے کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے میرے لئے اس پر نظر رکھنا مشکل نہ تھا

میں اکثر اس کے معمولات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا۔ پانچ وقت نماز پڑھنے کے علاوہ ہر وقت وہ درود شریف کا ورد کر رہا ہوتا۔ دو دن ایسے ہی گزر گئے۔ تیسرے دن شور کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخ نکل گئی

پانچ چھ افراد جو شکل سے کسی محکمے کے افسران لگتے تھے وہ اس شخص  پر لاٹھیوں کی برسات کر رہے تھے اور وہ ہر لاٹھی پر الحمدللہ کہ اٹھتا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک افسر کے اشارے پر وہاں سانپ لائے گئے اور اس کے برہنہ جسم پر سانپوں کو چھوڑ دیا گیا۔ وہ سانپ اس قدر زہریلے تو نہ تھے کہ اس کی جان لیتے تاہم وہ اس کا جسم نوچ رہے تھے

افسر نے چلا کر کہا "نیازی، کتنی تکلیفیں اٹھائے گا ؟ ہم تجھے رہا کرنے کو تیار ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف بیان نہ دے"

قیدی نے غضبناک آنکھوں سے افسر کو دیکھا اور چلا کر کہا
"اگر میں رہا ہو گیا تب بھی باہر جا کر پہلی بات یہی کرونگا کہ قادیانی کافر ہیں"

میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھ رہے تھے کہ یہ شخص کون ہے؟؟؟ اور یہ افسر اسے کس جرم میں مار رہے ہیں ؟؟؟ اور یہ اب تک ڈٹ کر کیوں اور کیسے کھڑا ہے ؟؟؟

ان کے جانے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا میں نے صدا لگائی
"اے اللہ کے نیک بندے تُو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے ؟؟؟یہ لوگ تجھے کیوں مار رہے ہیں؟؟؟"

اس شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بولا

" قادیانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔ تمام مسلمان یہ مطابہ کر رہے ہیں کہ ان کو کافر قرار دیا جائے۔ ملک میں تحریک ختم نبوت کی ابتداء ہو چکی ہے اور ان شاء اللہ ہم تب تک امن سے نہ بیٹھیں گے جب تک قادیانی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دئیے جاتے "

میرے تن بدن میں آگ سی لگ چکی تھی۔ میں گناہگار ضرور تھا لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہا کی عقیدت رکھتا تھا۔ اب مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ میں منشیات کے برے کام میں کیوں پڑا ورنہ آج میں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا

میں نے اس شخص سے اس کا نام دریافت کیا
تو اس شخص نے مختصر سا جواب دیا

"عبدالستار خان نیازی"

یہ نام سن کر میرے جسم پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں کچھ اور کہنے کی جسارت نہ کر سکا۔ میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔ میں زور سے چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز میرے حلق میں ہی اٹک کر رہ گئی تھی

میں اس شخص کو جانتا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں ہر ایک کی زبان پر اس کا نام دیکھا تھا۔ یہ وہی تھا جس نے قائداعظم کو پنجاب کے کئی اضلاع سونپے تھے۔ یہ وہی تھا جسے قائداعظم بھی کہا کرتے تھے

"مولانا آپ کی تحریکوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا"

یہ وہی تھا جس کا شمار مسلم لیگ کے قائدین میں ہوتا تھا اور آج یہ میرے سامنے ایک تاریک کوٹھڑی میں موجود تھا۔ اللہ اور اس کے رسول کی محبت اسے کہاں لے آئی تھی اور پھر بے اختیار میری زبان سے اس کیلئے دعائیں نکلنے لگیں

اگلے دن وہ ایمان فراموش افسر پھر آ ٹپکے اور اب کی بار میں چلا اٹھا
"او ظالمو! تمہیں شرم نہیں آتی تم کسے مار رہے ہو ؟؟؟
کیا تمہیں نار جہنم نہیں ڈراتی ؟؟؟"

لیکن ان سنگدلوں پر اثر نہ ہوا اور مولانا کو آج گھنٹوں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا اور جب مولانا بے ہوش ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ میں رو رو کر مولانا کو آواز لگا رہا تھا

جب تشدد بڑھنے لگا تو مولانا پر کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا لیکن مولانا کو نہ پیچھے ہٹنا تھا نہ وہ ہٹے
وقت تیزی سے گزر گیا

چند سال بعد مولانا رہا ہو چکے تھے لیکن یہ بات میں ہی جانتا تھا کہ کونسا ایسا ظلم ہے جو ان کے جسم پر نہ ڈھایا گیا

مجھے اب مولانا کی یاد بے قرار رکھتی تھی۔ میں بھی ختم نبوت کی عظیم المرتبت تحریک میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ آج 5 جنوری 1961 ہے۔ کل صبح مجھے رہا کر دیا جائے گا اور میں ابھی سے تصورات کی دنیا میں خود کو مولانا کے شانہ بشانہ تاجدار ختم نبوت کی صدا بلند کرتے دیکھ رہا ہوں

اللہ کی ان پہ کروڑوں رحمتیں ہوں اور انکے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین

No comments:

Post a Comment