02 مئی 2011
یومِ شہادت اسامہ بن لادن
اسامہ بن لادن کا مکمل نام اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن، اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957ء کو سعودیہ عرب کے دار الحکومت ریاض میں پیدا ہوئے
اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان بن لادن خاندان سے تھا۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے تھے جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ بن لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے
اسامہ بن لادن نے ابتدائی تعلیم سعودی عرب سے ہی حاصل کی بعد ازاں انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA)کیا
80 کے عشرے میں اسامہ بن لادن مشہور عرب عالم دینشیخ عبد اللہ عزام کی تحریک پر اپنی تمام خاندانی دولت اور عیش و آرام کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کمیونسٹوں سے جہاد کرنے کے لیے افغانستان آ گئے۔ جب مجاہدین کے ہاتھوں روس کی شکست کے بعد جب مجاہدین کی قیادت افغانستان میں اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں لڑ پڑی تو اسامہ بن لادن مایوس ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ جب اسامہ بن لادن سعودی عرب میں تھے تو صدام حسین نے 1991ء میں کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس موقع پر جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں باقی عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہو جہاں امریکا نے ایک طرف کویت کا بہانہ بنا کر عراق پرحملہ کر دیا تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سرزمین میں داخل ہو گیا۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سرزمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ تجویز دی کہ عراق کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد نے شیخ اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکے امریکیوں کو مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابین تلخی پیدا ہو گئی اور بالآخر 1992ء میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا
اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کیے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتویٰ بھی جاری کر دیا۔ جس کو ساری دنیا میں شہرت ملی یہاں تک کہ اسامہ بن لادن کی امریکا مخالف جدوجہد کی بازگشت امریکی ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ یہ وہ وقت جب تنزانیہ اور نیروبی میں امریکی مفادات پر کامیاب حملوں کے بعد سوڈانی حکومت کو اسامہ بن لادن کی سوڈان میں موجوگی پر شدید امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا
اسی دوران طالبان پاکستانی ایجینسیوں کی مدد سے کابل فتح کر کے تقریباً 60 فیصد افغانستان پر قدم جما کر ایک مستحکم حکومت قائم کر چکے تھے۔ اسی سال یعنی 1996ء میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹرڈ جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں طالبان کے امیر ملا محمد عمر اخوند کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ حاصل ہو گئی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القاعدہ کو ازسر نو منظم کیا اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کر دیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی ٹھکانے زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کیے۔ 1997ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد طالبان اور امریکا میں تلخی کافی بڑھ گئی
1998ء میں امریکا نے کروز میزائل سے افغانستان اور سوڈان پر حملہ کیا اور دعوٰی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کے بعد اسامہ بن لادن کو اسلامی دنیا میں ایک نئی شناخت ملی۔ پوری دنیا میں ان کی شہرت ہوئی اور ہر جگہ انہی کا تذکرہ ہونے لگا۔ اس حملے کے بعد القاعدہ کے قدرے کم مقبول رہنما پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ ان حملوں کے بعد القاعدہ کو رضاکار بھرتی کرنے میں بھی آسانی ہو گئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہو گئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کر دیا۔ امریکی حکومت نے 11 ستمبر 2001ء کو امریکا کے شہروں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگا دیا۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے واضح انکار کیا۔ اس کے باوجود دنیا کے سب سے طاقتور ملک نے اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ کم از کم چالیس دوسرے خوشحال ملکوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 2001ء کے وسط میں دنیا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک افغانستان پر دھاوا بول دیا، لیکن 10 سال تک اسامہ بن لادن کو مارنے میں ناکام رہا
2001 میں آمریکی حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کا القاعدہ کی آپریشنل ایکٹیویٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ وہ پہاڑوں پر رہتے اور گھوڑے یا چھڑی کی مدد سے سفر کرتے۔ مصری سائنس دان اور اسامہ کے دست راست ایمن الظواہری اسامہ بن لادن کی عدم دستیابی میں القاعدہ کے آپریشنل نگران سمجھے جاتے۔ اسامہ بن لادن کا کا آخری انٹرویو مشہور پاکستانی صحافی حامد میر نے 2001ء میں لیا تھا جبکہ ان کا دنیا سے آخری رابطہ 2004ء میں امریکی انتخابات کے دوران ایک ویڈیو ٹیپ کے ذریعے ہوا تھا جو عربی زبان کے ایک سیٹیلائٹ چینل الجزیرہ نے نشر کیا تھا
اسامہ بن لادن کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی ساری دنیا کے لیے ایک معمہ رہی۔ اور اس کی وجہ بھی خود امریکی حکام کا رویہ ہی تھا
2001ء میں امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے مختلف متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہتیں۔ کبھی کہا جاتا اسامہ بن لادن امریکی فوجیوں کے گھیرے میں آ گئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہو جاتا کہ اسامہ بن لادن انتقال کر گئے ہیں۔ بعض لوگ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی دیتے اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001ء میں تورا بورا پر امریکی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے
القاعدہ کے رابطوں کا کئی سال تک تعاقب اور پکڑے گئے قیدیوں سے تفتیش کے نتیجے میں سی آئی اے نے پتہ لگایا کہ پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں ایک مکان ایسا ہے جس کے رہائشی پراسرار حد تک خود کو سماجی و معاشرتی معاملات میں محدود رکھتے ہيں۔ حتٰی الامکان اس جگہ کی جاسوسی کرنے کے باوجود حکام اس میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے۔ بالآخر امریکی حکام نے رسک لینے کا فیصلہ کیا۔ پینٹاگون نے اس مکان پر فوجی آپریشن کی منظوری دی اور اس آپریشن کے لیے افغانستان میں بگرام میں موجود امریکی فوجی اڈے کو آپریشن مرکز بنایا گیا۔ اس سلسلے میں امریکی فوجیوں کو اس بات کا اندیشہ نہيں تھا کہ وہ پاکستانی علاقے میں جارحیت کرنے جا رہے ہيں کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ پاکستانی حکام پچھلے واقعات کی طرح اس دراندازی پر بھی خاموش رہیں گے۔ اندیشہ صرف اس بات کا تھا کہ کہیں اتنے اہم اور بڑے آپریشن کے نتیجے میں اسامہ بن لادن تو دور کی بات القاعدہ کا کوئی رکن بھی ہاتھ نہ لگا تو آنے والے وقتوں میں ان کے حوصلے ٹوٹ سکتے ہيں۔ ان کے بقول خلاف توقع آپریشن کامیاب رہا
01 اور 02 مئی 2011ء کی درمیانی شب تین امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز نے پاکستانی سرحد عبور کر کے اس مکان پر دھاوا بول دیا۔ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ۔ مکان میں اسامہ بن لادن کے ساتھ ان کے بیوی بچے بھی موجود تھے۔ بعض القاعدہ ارکان کے بقول اسامہ بن لادن ہر وقت خودکش جیکٹ پہنے رہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے گرفتاری سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جب کہ امریکی فوجیوں کے دعوے کے مطابق بن لادن کو گولی ماری گئی۔ ایک امریکی فوجی کے بیان کے مطابق بن لادن گرفتاری کے وقت غیر مسلح تھے
اس آپریشن کے مناظر براہ راست مختلف مقامات پر نشر کیے جاتے رہے جس میں پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس بھی شامل ہیں۔ آپریشن چند ہی منٹوں میں ختم ہو گیا۔ پاکستانی حکام کو جتنی دیر میں امریکی دراندازی کے بارے میں معلوم ہوا اور ان کے جیٹ طیاروں نے مذکورہ مکان کی طرف آنے کے لیے پرواز کی اس سے پہلے ہی آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں نے اسامہ بن لادن کی لاش، ان کی بیوی بچوں، ان کے مکان سے ملنے والے تمام اہم سامان اور لٹریچر کو ہیلی کاپٹر میں ڈالا اور افغانستان میں اپنے اڈے پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر ڈی این اے کے ذریعے اسامہ بن لادن کی میت کی پہچان کی گئی۔ مگر بن لادن کے لاش کی تصویر کبھی منظر عام پر نہيں آئی۔ جب کہ اس کی میت کو بھی بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری بیڑے پر پہنچایا گیا بعد ازاں اس کو بحیرہ عرب میں سمندر برد کر دیا گیا
مشہور امریکی صحافی سیمور ہرش نے اسامہ کی اس حملہ میں موت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی روئیداد جھوٹ پر مبنی ہے
اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ انہیں ہمیشہ سے مقدس اسلامی مقامات مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے انتہائی عقیدت رہی ۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں ان دونوں مقدس مقامات کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے تھے
اسامہ بن لادن لادن نے 3 شادیاں کی تھیں اور ان کی 24 یا 25 اولادیں ہیں۔ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد سعودیہ عرب میں رہائش پزیر ہیں
یومِ شہادت اسامہ بن لادن
اسامہ بن لادن کا مکمل نام اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن، اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957ء کو سعودیہ عرب کے دار الحکومت ریاض میں پیدا ہوئے
اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان بن لادن خاندان سے تھا۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے تھے جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ بن لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے
اسامہ بن لادن نے ابتدائی تعلیم سعودی عرب سے ہی حاصل کی بعد ازاں انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA)کیا
80 کے عشرے میں اسامہ بن لادن مشہور عرب عالم دینشیخ عبد اللہ عزام کی تحریک پر اپنی تمام خاندانی دولت اور عیش و آرام کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کمیونسٹوں سے جہاد کرنے کے لیے افغانستان آ گئے۔ جب مجاہدین کے ہاتھوں روس کی شکست کے بعد جب مجاہدین کی قیادت افغانستان میں اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں لڑ پڑی تو اسامہ بن لادن مایوس ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ جب اسامہ بن لادن سعودی عرب میں تھے تو صدام حسین نے 1991ء میں کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس موقع پر جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں باقی عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہو جہاں امریکا نے ایک طرف کویت کا بہانہ بنا کر عراق پرحملہ کر دیا تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سرزمین میں داخل ہو گیا۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سرزمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ تجویز دی کہ عراق کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد نے شیخ اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکے امریکیوں کو مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابین تلخی پیدا ہو گئی اور بالآخر 1992ء میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا
اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کیے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتویٰ بھی جاری کر دیا۔ جس کو ساری دنیا میں شہرت ملی یہاں تک کہ اسامہ بن لادن کی امریکا مخالف جدوجہد کی بازگشت امریکی ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ یہ وہ وقت جب تنزانیہ اور نیروبی میں امریکی مفادات پر کامیاب حملوں کے بعد سوڈانی حکومت کو اسامہ بن لادن کی سوڈان میں موجوگی پر شدید امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا
اسی دوران طالبان پاکستانی ایجینسیوں کی مدد سے کابل فتح کر کے تقریباً 60 فیصد افغانستان پر قدم جما کر ایک مستحکم حکومت قائم کر چکے تھے۔ اسی سال یعنی 1996ء میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹرڈ جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں طالبان کے امیر ملا محمد عمر اخوند کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ حاصل ہو گئی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القاعدہ کو ازسر نو منظم کیا اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کر دیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی ٹھکانے زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کیے۔ 1997ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد طالبان اور امریکا میں تلخی کافی بڑھ گئی
1998ء میں امریکا نے کروز میزائل سے افغانستان اور سوڈان پر حملہ کیا اور دعوٰی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کے بعد اسامہ بن لادن کو اسلامی دنیا میں ایک نئی شناخت ملی۔ پوری دنیا میں ان کی شہرت ہوئی اور ہر جگہ انہی کا تذکرہ ہونے لگا۔ اس حملے کے بعد القاعدہ کے قدرے کم مقبول رہنما پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ ان حملوں کے بعد القاعدہ کو رضاکار بھرتی کرنے میں بھی آسانی ہو گئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہو گئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کر دیا۔ امریکی حکومت نے 11 ستمبر 2001ء کو امریکا کے شہروں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگا دیا۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے واضح انکار کیا۔ اس کے باوجود دنیا کے سب سے طاقتور ملک نے اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ کم از کم چالیس دوسرے خوشحال ملکوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 2001ء کے وسط میں دنیا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک افغانستان پر دھاوا بول دیا، لیکن 10 سال تک اسامہ بن لادن کو مارنے میں ناکام رہا
2001 میں آمریکی حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کا القاعدہ کی آپریشنل ایکٹیویٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ وہ پہاڑوں پر رہتے اور گھوڑے یا چھڑی کی مدد سے سفر کرتے۔ مصری سائنس دان اور اسامہ کے دست راست ایمن الظواہری اسامہ بن لادن کی عدم دستیابی میں القاعدہ کے آپریشنل نگران سمجھے جاتے۔ اسامہ بن لادن کا کا آخری انٹرویو مشہور پاکستانی صحافی حامد میر نے 2001ء میں لیا تھا جبکہ ان کا دنیا سے آخری رابطہ 2004ء میں امریکی انتخابات کے دوران ایک ویڈیو ٹیپ کے ذریعے ہوا تھا جو عربی زبان کے ایک سیٹیلائٹ چینل الجزیرہ نے نشر کیا تھا
اسامہ بن لادن کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی ساری دنیا کے لیے ایک معمہ رہی۔ اور اس کی وجہ بھی خود امریکی حکام کا رویہ ہی تھا
2001ء میں امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے مختلف متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہتیں۔ کبھی کہا جاتا اسامہ بن لادن امریکی فوجیوں کے گھیرے میں آ گئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہو جاتا کہ اسامہ بن لادن انتقال کر گئے ہیں۔ بعض لوگ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی دیتے اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001ء میں تورا بورا پر امریکی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے
القاعدہ کے رابطوں کا کئی سال تک تعاقب اور پکڑے گئے قیدیوں سے تفتیش کے نتیجے میں سی آئی اے نے پتہ لگایا کہ پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں ایک مکان ایسا ہے جس کے رہائشی پراسرار حد تک خود کو سماجی و معاشرتی معاملات میں محدود رکھتے ہيں۔ حتٰی الامکان اس جگہ کی جاسوسی کرنے کے باوجود حکام اس میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے۔ بالآخر امریکی حکام نے رسک لینے کا فیصلہ کیا۔ پینٹاگون نے اس مکان پر فوجی آپریشن کی منظوری دی اور اس آپریشن کے لیے افغانستان میں بگرام میں موجود امریکی فوجی اڈے کو آپریشن مرکز بنایا گیا۔ اس سلسلے میں امریکی فوجیوں کو اس بات کا اندیشہ نہيں تھا کہ وہ پاکستانی علاقے میں جارحیت کرنے جا رہے ہيں کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ پاکستانی حکام پچھلے واقعات کی طرح اس دراندازی پر بھی خاموش رہیں گے۔ اندیشہ صرف اس بات کا تھا کہ کہیں اتنے اہم اور بڑے آپریشن کے نتیجے میں اسامہ بن لادن تو دور کی بات القاعدہ کا کوئی رکن بھی ہاتھ نہ لگا تو آنے والے وقتوں میں ان کے حوصلے ٹوٹ سکتے ہيں۔ ان کے بقول خلاف توقع آپریشن کامیاب رہا
01 اور 02 مئی 2011ء کی درمیانی شب تین امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز نے پاکستانی سرحد عبور کر کے اس مکان پر دھاوا بول دیا۔ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ۔ مکان میں اسامہ بن لادن کے ساتھ ان کے بیوی بچے بھی موجود تھے۔ بعض القاعدہ ارکان کے بقول اسامہ بن لادن ہر وقت خودکش جیکٹ پہنے رہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے گرفتاری سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جب کہ امریکی فوجیوں کے دعوے کے مطابق بن لادن کو گولی ماری گئی۔ ایک امریکی فوجی کے بیان کے مطابق بن لادن گرفتاری کے وقت غیر مسلح تھے
اس آپریشن کے مناظر براہ راست مختلف مقامات پر نشر کیے جاتے رہے جس میں پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس بھی شامل ہیں۔ آپریشن چند ہی منٹوں میں ختم ہو گیا۔ پاکستانی حکام کو جتنی دیر میں امریکی دراندازی کے بارے میں معلوم ہوا اور ان کے جیٹ طیاروں نے مذکورہ مکان کی طرف آنے کے لیے پرواز کی اس سے پہلے ہی آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں نے اسامہ بن لادن کی لاش، ان کی بیوی بچوں، ان کے مکان سے ملنے والے تمام اہم سامان اور لٹریچر کو ہیلی کاپٹر میں ڈالا اور افغانستان میں اپنے اڈے پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر ڈی این اے کے ذریعے اسامہ بن لادن کی میت کی پہچان کی گئی۔ مگر بن لادن کے لاش کی تصویر کبھی منظر عام پر نہيں آئی۔ جب کہ اس کی میت کو بھی بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری بیڑے پر پہنچایا گیا بعد ازاں اس کو بحیرہ عرب میں سمندر برد کر دیا گیا
مشہور امریکی صحافی سیمور ہرش نے اسامہ کی اس حملہ میں موت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی روئیداد جھوٹ پر مبنی ہے
اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ انہیں ہمیشہ سے مقدس اسلامی مقامات مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے انتہائی عقیدت رہی ۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں ان دونوں مقدس مقامات کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے تھے
اسامہ بن لادن لادن نے 3 شادیاں کی تھیں اور ان کی 24 یا 25 اولادیں ہیں۔ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد سعودیہ عرب میں رہائش پزیر ہیں

No comments:
Post a Comment