Friday, May 15, 2020

پانچ مئی 1989 یومِ پیدائش کیپٹن روح اللہ

05 مئی 1989 
یومِ پیدائش کیپٹن روح اللہ شہید
750 معرکوں میں غازی رہنے والا شیر پیدا ہوتا ہے

ہم کوئی شہادت نہیں بُھولے
ہر شہید ہمارے سر کا تاج ہے

کیپٹن روح اللہ مہمند 750 معرکوں میں غازی رہنے کے بعد  24 اکتوبر 2016 کو کوئٹہ حملے میں شہید ہوئے تھے

کیپٹن روح اللہ انتہائی نایاب صلاحتیوں کے مالک تھے۔ وہ پاکستان آرمی کے ان افسران میں سے تھے جن کی آپریشنز میں حصہ لینے کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ جب باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو ان کے خلاف کاروائی کرنے والے کمانڈوز میں وہ شامل تھے۔ کرسچین کالونی پہ دہشت گرد حملہ آور ہوئے تو ان کو جہنم واصل کرنے میں بھی کیپٹن روح اللہ مہمند شریک تھے۔ مردان کچہری پر دہشت گردوں کے حملہ کے بعد کیپٹن روح اللہ مہمند ریسکیو ٹیم کا حصہ تھے

آپریشن ضربِ عضب کے بعد وہ پاکستان آرمی کے ان نایاب ینگ آفیسرز میں سے ایک تھے جنہوں نے 750 سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IOBs) میں حصہ لیا۔ یوں لگتا تھا کہ خطرات سے کھیلنا کیپٹن روح اللہ کو پسند تھا یا شاید موت کی آنکھوں میں بار بار آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج دینا کیپٹن روح اللہ شہید کو محبوب تھا

انہوں نے چار سو سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور دس کو اپنے ہاتھوں سے جہنم واصل کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی طرف سے تعریفی سند سے نوازا جانا تھا انہیں مگر اللہ نے جلد اپنے پاس بلا لیا

24 اکتوبر 2016 کو کوئٹہ حملے میں پولیس کیڈٹس کو دہشت گردوں سے بازیاب کروانے کے دوران اندھیرے کمرے میں ان کوایک دہشت گرد کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وقت اتنا کم تھا کہ اگر نشانہ لے کر فائر کیا جاتا تو دہشت گرد بلاسٹ کر دیتا اور اگر نشانہ خطا جاتا تو بھی وہ بلاسٹ کر دیتا۔ وہاں شاید چالیس پچاس کیڈٹس تھے اندھیرے کمرے میں۔ ہنگامی صورتحال میں جب کسی بھی لمحے دشمن کی گولی آپ کی پیشانی میں سوراخ کر سکتی ہو یا کسی بمبار کی جیکٹ پھٹ کے آپ کو چیتھروں میں تبدیل کر سکتی ہو تو آپ کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے لمحے سے بھی کم وقت ہوتا ہے۔ جن کیڈٹس کی جان روح اللہ بچانے گئے تھے ان کو بچانے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ خودکش بمبار کے پھٹنے سے پہلے اس پر گر کر دھماکے کی شدت کم کر دی جائے تا کہ باقی لوگوں کا جانی نقصان کم سے کم ہو۔ ایک کیڈٹ جو اس کمرے میں موجود تھا کہتا ہے ہماری آنکھوں کے سامنے کیپٹن روح اللہ مہمند نے اس دہشت گرد پر چھلانگ دی۔ اور اس کے ساتھ ہی دھماکہ ہو گیا۔ وہ جتنی زندگیاں بچا سکتے تھے اپنی جان دے کر بچا گئے

عام زندگی میں ہر کوئی خطرات سے دوچار ہوتا ہے۔ یقیناً ہم میں سے کئی ایسے ہوں گے جن کو موت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر ایمانداری سے بتائیں یقینی موت کی صورت میں جو جوان یہ کہتے ہیں "ٰI am going to lead from the front Sir" ان کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ تنخواہ کےلیے لڑتے ہیں کتنا بڑا ظلم ہے ؟؟؟ 

وہ جو ہماری طرف آنے والی گولیوں کو اپنے سینے پہ ٹھنڈا کرتے ہیں ان کی جگہ پر خود کو رکھ کر سوچیں تو آپ کو ضرور اندازہ ہو گا کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے !!!

No comments:

Post a Comment