Friday, May 15, 2020

سترہ رمضان المبارک 2 ہجری یومِ وصال حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا

17 رمضان المبارک 02 ہجری
یومِ وفات شہزادی رسول حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

آپ کا نام سیدہ رقیہ اور کنیت  امِ عبد اللہ تھی۔آپ کا سلسلہ نسب اسطرح ہے: سیدہ رقیہ بنت محمدِ مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف

 آپ سیدہ خدیجۃ  الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں۔  آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دوسری صاحبزادی  ہیں۔ آپ کی ولادت سیدہ زینب کی ولادت کے تین سال بعد اور اعلانِ نبوت  سے سات  سال قبل، مکۃ المکرمہ میں  ہوئی۔ اسوقت رسولِ اکرم ﷺ کی عمر مبارک کا تینتیسواں سال تھا

پہلے آپ  کا نکاح ابولہب کے بیٹے ""عتبہ""سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ""سورۂ تبت یدا"" نازل ہوئی ۔جب سورت تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی تو ابو لہب نے عتبہ سے کہا "او عتبہ تیرا سر حرام ہے مطلب یہ کہ میں تجھ سے بیزار ہوں اگر تو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بیٹی کو اپنے سے جدا نہ کرے" اس پر اس نے جدائی کرلی اور علیحدہ ہوگیا

قریش نے ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب کو جدا کرنے پر ابھارا لیکن انہوں نے فرمایا خدا کی قسم میں ہرگز سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی کو جدا نہیں کرونگا اور نہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اس کے عوض قریش کی کوئی اور عورت ہو (مدارج النبوت،۲:۷۸۴) 

اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ رقیہ کا نکاح حضرت سیدنا عثمان ابن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی کے ساتھ مکہ مکرمہ میں کردیا اور بعد میں ان دونوں میاں بیوی نے حبشہ کی طرف پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی اور دونوں صاحب الہجرتین (دو ہجرتوں والے) کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے

 رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:"احسن زوجین رآہما انسان رقیۃ وزوجہا عثمان "۔ترجمہ: سب سےحسین  جوڑا جو دیکھا گیا وہ سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان کا ہے (الاصابہ ، ۸:۹۱)۔  

 جنگ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ زیادہ بیمار تھیں چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگ بدر میں جانے سے روک دیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جس دن جنگ بدر میں فتح مبین کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچے اسی دن بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بیس برس کی عمر پاکر مدینہ میں انتقال کیا  حضور ﷺجنگ بدر کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اگرچہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورﷺ نے ان کو جنگ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا

حضرت بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے جن کا نام ""عبداﷲ"" تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد 4 ہجری میں وفات پا گئے۔ بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی قبر بھی جنت البقیع میں ہے
(شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام،ج۴،ص۳۲۲۔۳۲۳)

No comments:

Post a Comment