15 رمضان المبارک 3 ہجری
04 مارچ 625 عیسوی
یومِ پیدائش خلیفہ خامس سیدنا امام حسن المجتبٰی
السلام اے سخی ابن سخی
السلام اے کریم ابن کریم
السلام اے حلیم ابن علیم
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ
امام حسن المجتبٰی مولائے کائنات سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی اور فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے بڑے بیٹے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن، لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی۔
سبط رسول الله وحفيده وريحانته
سيد شباب أهل الجنة، أبو محمد
سیدنا امام حسن المجتبٰی 04 مارچ 625 بمطابق 15 رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں آپ کی پیدائش بہت بڑی خوشی تھی۔ جب مکہ مکرمہ میں رسول اللہ کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکیوں کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کو خوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا۔ آپ کی ولادت سے پہلے ام الفضل نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکڑا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی
حسن بن علی کے مدینہ میں آنے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی حسن بن علی اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ اج دُنیا آلِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں۔ جبکہ رسول اللہ کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجود تھی ایسے فنا ہوئے کہ نام و نشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا۔ یہ ہے قران کی سچائی اور رسول اللہ کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش سے پیغمبر خدا کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیا کے سامنے آئی
ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن رکھا۔ یہ نام اسلام سے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر خدا کے اسی فرزند کا نام قرار پایا۔ حسین ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان سے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کُود کر آپ ﷺ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ایسے کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نرمی سے اٹھتے تھے تا کہ وہ (حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ) گر نہ جائیں۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ ﷺ جیسا سلوک ان کے ساتھ کرتے ہیں، ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرائے گا ‘‘
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا : پس اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ ان کی خلافت میں ایک شیشی کی مقدار بھی خون نہیں بہایا گیا
سیدنا امام حسن المجتبٰی کی شہادت 28 صفر المظفر 50 ہجری بمطابق یکم اپریل 670 کو ہوئی ۔آپ جنت البقیع مدینہ منورہ میں مدفون ہیں
ازواج :
ام كلثوم بنت الفضل بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف
خولہ بنت منظور بن زَبّان بن سیار بن عمرو
ام بشیر بنت ابی مسعود عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ
جعدہ بنت الاشعث بن قیس بن معدی كرب الكندی
ام ولد تدعى بقیلہ
ام ولد تدعى ظمیاء
ام ولد تدعى صافیہ
ام اسحاق بنت طلحہ بن عبید الله
زینب بنت سبیع بن عبد الله اخی جریر بن عبد الله البجلی
اولاد (متفق علیہ) :
الحسن المثنى بن الحسن السبط
فاطمہ بنت الحسن بن علی
زید بن الحسن السبط
ام الحسن بنت الحسن بن علی
القاسم بن الحسن بن علی
عبد الله بن الحسن بن علی
حسین بن الحسن بن علی (حسین الاثرم)
عبد الرحمٰن بن الحسن بن علی
ام سلمہ بنت الحسن بن علی
ام عبد الله بن الحسن بن علی
عمرو بن الحسن بن علی
طلحہ بن الحسن بن علی
مسند امام احمد بن حنبل
تخریج : حدیث صحیح، اخرجہ الطیالسی: 874، ابن حبان:6964، طبرانی فی ’’الکبیر‘‘: 2591
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے۔ آپ ﷺ ایک مرتبہ لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک بار ان پر نظر ڈالتے اور فرماتے تھے : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ‘‘
مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اخرجہ البخاری:2704، 3746، 7109
(دوسری سند)
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ گئے۔ وہ آپ ﷺ کے پاس منبر پر چلے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں سینہ مبارک سے لگا لیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ‘‘
مسند امام احمد بن حنبل
تخریج : انظر الحدیث بالطریق الاول
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اُس نے مجھے ہی دیکھا، کیوں کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ‘‘ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: جب یہی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کی تو میں نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا : کیا واقعی تم نے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا کہ آپ ﷺ ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ ﷺ کے چلنے کا انداز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہیں
مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: 391، مستدرک حاکم:4/393
عُقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : نبی کریم ﷺ کی وفات کے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ نکلا۔ ان کے پہلو میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی چلے آ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم ﷺ کے مشابہ ہے۔ یہ اپنے والد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہنس پڑے۔
مسند امام احمد بن حنبل
تخریج: اسنادہ صحیح علیٰ شرط البخاری، اخرجہ البزار:53، مسند ابویعلیٰ:38، طبرانی فی ’’الکبیر‘‘:2528
حضرت ابو جُحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ ﷺ لوگوں میں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے
مسند امام احمد بن حنبل

No comments:
Post a Comment