Saturday, May 2, 2020

دو مئی 2001 یومِ وفات مجاہد تحریک آزادی پاکستان مولانا عبدالستار خان نیازی

02 مئی 2001
دنیا میں سب سے پہلی مرتبہ پاکستان زندہ باد کہنے والی زبان خاموش ہو گئی 

یومِ وفات مجاہد تحریک آزادی پاکستان مولانا عبدالستار خان نیازی

مولانا عبدالستار خان نیازی میانوالی کے سب سے معتبر سیاست دان تھے، انہوں نے تحریک پاکستان میں شاندار کردار ادا کیا تھا۔ آج کل کے پاکستانی لیڈروں میں خاص طور پر مذہبی لیڈروں میں کوئی ایسا موجود نہیں جو ان کا ہمسر قرار دیا جاسکے

مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915ء کو ضلع میانوالی کے گاؤں اٹک پنوالا تحصیل عیسیٰ خیل
 میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ذوالفقار خان ایک نیک سیرت اور پاکباز انسان تھے، دینی گھرانہ ہونے کی وجہ سے مولانا نیازی کو بچپن ہی سے مذہبی ماحول میسر رہا

1933ء میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے میٹرک پاس کیا اور حصول تعلیم کیلئے لاہور تشریف لے آئے، لاہور میں آپ نے انجمن حمایت اسلام کے زیر انتظام "اشاعت اسلام کالج" میں داخلہ لے لیا اور1936ء میں "ماہر تبلیغ" کی حیثیت سے کالج میں ٹاپ کیا، اسی دوران مولانا عبدالستار خان نیازی کی ملاقات حکیم الامت علامہ محمد اقبال سے ہوئی، اسرار خودی کے مطالعے نے فارسی پڑھنے کے شوق کو اِس قدر ابھارا کہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے چھ ماہ میں منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کرلیا، اسی سال آپ نے ایف اے کا امتحان دیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لے لیا، مولانا عبدالستار خان نیازی نے 1938ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ایم اے عربی میں داخلہ لے لیا اور ایم اے کرنے کے بعد 1942ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ڈین آف اسلامک اسٹیڈیز کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں

یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ کا بڑا چرچا تھا، نیشنلسٹ طلباء کی تنظیم "نیشنل اسٹوڈینس فیڈریشن" تعلیمی اداروں میں چھائی ہوئی تھی، چنانچہ 1936ء میں مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا ابراہیم علی چشتی ، میاں محمد شفیع، مشہور صحافی حمید نظامی اور عبدالسلام خورشید نے علامہ اقبال کی قیام گاہ پر اُن کے مشورے سے طلباء کی تنظیم "دی مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلم طلباء کو نیشنلسٹوں کے اثر سے بچانا اور سیاسی شعور اجاگر کرکے قیام پاکستان کی راۂ ہموار کرنا تھا، مولانا عبدالستار خان نیازی 1938ء میں اِس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے، صدر منتخب ہونے کے بعد آپ نے "مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن" کے منشور میں پہلی تبدیلی یہ کی کہ "مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ خطہ زمین جس میں مسلمانوں کی حکومت ہو" کو خلافت پاکستان کا نام دیا، 1939 میں میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن کی جانب سے "خلافت پاکستان اسکیم" نامی پمفلٹ بھی شائع کیا، جس کی ایک کاپی قائداعظم محمد علی جناح کو بھی بھجوائی گئی، جسے قائداعظم نے مولانا عبدالستار خان نیازی سے ملاقات میں ایک گرم اسکیم قرار دیا

23مارچ 1940ء کو جب قرار داد لاہور پیش ہوئی، اُس وقت مولانا عبدالستار خان نیازی ایم اے فائنل ائیر میں زیر تعلیم تھے، اِس اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام مقررین کا مدعا اگرچہ پاکستان کا قیام ہی تھا مگر کسی نے اپنی تقریر میں پاکستان کا نام نہیں لیا، یہ اعزاز صرف مولانا عبدالستار خان نیازی کو جاتا ہے کہ آپ نے پہلی بار اِس اجتماع میں "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ لگایا، جو مسلمانوں کے کسی عظیم اجتماع میں پاکستان کیلئے لگایا گیا پہلا نعرہ تھا

مولانا عبدالستار خان نیازی نے میانوالی ڈسٹرکٹ میں مسلم لیگ کو دوبارہ منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ضلع میانوالی کے صدر سمیت مسلم لیگ کے کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں، 1945ء میں قائداعظم نے آپ کو ضلع میانوالی سے پرونشیل اسمبلی کا ٹکٹ دیا جس پر آپ نے یونینسٹ پارٹی کے امیداوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی، مولانا عبدالستار خان نیازی قیام پاکستان کے بعد 1951ء تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے، مگر جب مسلم لیگ کو عملاً ایک لمیٹیڈ کمپنی بنادیا گیا تو آپ نے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے اپنے آپ کو خلافت پاکستان ، جس کا مقصد ملکی قوانین کو شریعت کے مطابق بنانا اور اسلامی نظام کا مکمل نفاذ تھا، کیلئے وقف کردیا

 1953ء میں انہوں نے تحریک تحفظ ختم نبوت میں فعال کردار ادا کیا جس پر انہیں مارشل لاء کی ایک فوجی عدالت نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے ساتھ سزائے موت سنائی۔ بعدازاں ان دونوں رہنماؤں کی یہ سزا 14 سال قید بامشقت میں تبدیل ہوگئی

1970ء کی دہائی میں انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور اس کے سیکریٹری جنرل اور مرکزی صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء اور 1990ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1994ء سے 1999ء تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ اسی دوران انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں

مولانا عبدالستار خان نیازی عمر بھر ایک سربکف مجاہد کا کردار ادا کرتے رہے اور قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات 2 مئی 2001ء تک اپنے مشن کی تکمیل، مقصد کے حصول اور ریاست کی فلاح و بہبود کیلئے کمر بستہ رہے

تحریک پاکستان میں مولانا عبدالستار خان نیازی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ مولانا عبدالستار خان نیازی ہی تھے جنھوں نے پنجاب میں قائداعظم کی تائید و حمایت میں پہلی اور موثر آواز بلند کی ، سر سکندر حیات کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرکے مسلم لیگ کے قیام و استحکام کی راہ ہموار کی اور مسلم لیگ کو اہل پنجاب کے دلوں کی دھڑکن بنادیا

مولانا عبدالستار خان نیازی پاکستان بنانے والوں میں سے ایک تھے، اُن کا اوڑھنا بچھونا سب کچھ ہی پاکستان اور نفاذ اسلام کیلئے تھا، وہ فنا فی الپاکستان تھے، وہ پاکستان کو دنیا کے سامنے خلافت راشدہ کی طرز پر ایک جدید فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے، مولانا نے اِس مقصد کیلئے متعدد کتابچے اور کتابیں بھی لکھیں جن میں"خلافت پاکستان"، مسودۂ آئین پاکستان، منشور خلافت، اتحاد بین المسلمین وغیرہ شامل ہیں

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

No comments:

Post a Comment