Friday, May 15, 2020

حضرت علی کے آخری روزے کی افطاری

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّه عنہ کے آخری روزے کی افطاری

جب حضرت علیؓ افطار کرنے کے لیے اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے حضرت ام کلثومؓ فرماتی ہیں جب انیس رمضان کی شب ہوئی میں بابا کی خدمت میں افطار کے لیے ایک برتن لے گئی جس میں دو جو کی روٹیاں تھوڑا سا نمک اور دودھ کا پیالہ تھا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دستر خوان کی طرف متوجہ ہوئے سر کو ہلایا زور زور سے گریہ شروع کردیا

فرمانے لگے کیا کوئی بیٹی اپنے باپ کے ساتھ ایسا کرسکتی ہے جو تم نے کیا ہے

میں نے عرض کیا بابا جان میں نے کیا کِیا ؟

فرمایا : آپ نے ایک دستر خوان پہ دو کھانے لا کے رکھ دئیے، کیا تم چاہتی ہو تیرا باپ بارگاہ رب العزت میں دیر تک کھڑا رہے ؟

میں تو فقط اپنے بھائی رسول اللّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کی پیروی کرتا ہوں جنہوں نے کبھی ایک دستر خوان پہ دو کھانے تناول نہیں فرمائے تھے

بیٹی ایک چیز اٹھا لو میں نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا جو کی ایک روٹی نمک کے ساتھ تناول فرمائی پھر شکر پروردگار ادا کرنے کے بعد دوبارہ مصلہ عبادت پر تشریف لے گئے اور رکوع و سجدے میں مصروف ہوگئے، کبھی کبھی صحن میں تشریف لاتے آسمان کی طرف نظر ڈال کے فرماتے تھے اللہ کی قسم نہ ہی میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے یہ وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے

پھر مصلے پہ تشریف لائے اور فرماتے اے اللہ میری موت میں میرے لیے برکت قرار دے اور کثرت سے انا الله وانا اليه راجعون اور حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود بھیجتے اور کثرت سے استغفار کرتے رہے میں نے پوچھا :
بابا ! آج رات آپ کی یہ کیفیت کیوں ہے ؟

تھوڑی دیر قیام فرمایا پھر مصلے پہ عبادت میں مصروف ہوئے۔ بیٹی ام کلثومؓ مجھے اذان صبح سے پہلے بتا دینا کہ اذان کا وقت قریب ہونے لگا ہے

پھر تیار ہو کے مسجد جانے لگے گھر میں موجود مرغابیوں نے شور کرنا شروع کر دیا تو میں نے امام حسنؓ سے کہا : حسنؓ بھیا ان مرغابیوں نے اس سے قبل کبھی اس طرح کی چیخ و پکار نہیں کی تھی تو امیر المومنین نے فرمایا : 
کچھ دیر بعد رونے کی آواز بلند ہونگی

امام مسجد میں تشریف لے گئے، گلدستہ اذان پہ جاکر اذان کہی۔ کوفہ کے سب لوگوں نے آپ کی اذان کی آواز سنی

پھر آپ گلدستہ اذان سے نیچے اُترے، پھر آپ نے مسجد میں سوئے ہوئے افراد کوجگانا شروع کر دیا اور ہر سوئے ہوئے فرد سے کہتے کہ خدا تجھ پررحم کرے اُٹھو نماز پڑھو۔ آپ لوگوں کو جگاتے ہوئے ابن ملجم معلون کے پاس آئے۔
وہ منہ کے بل لیٹا ہوا تھا اُس نے اپنی تلوار چھپائی ہوئی تھی

امام علیؓ نے اس سےفرمایا :
اے شخص ! نیند سے بیدار ہو جا، اس طرح سے سونے کو خدا ناپسند کرتا ہے یہ شیطان کے سونے کا انداز ہے اور یہ اہل دوزخ کے سونے کا انداز ہے

پھر آپ نے اس لعین سے فرمایا : 
تو جو ارادہ لے کر آیا ہے یہ اتنا خوفناک ہے کہ اس سے آسمان پھٹ سکتے ہیں اور زمین ریزہ ریزہ ہوسکتی ہے اگر میں چاہوں تو میں تجھے یہ بتا سکتا ہوں کہ تو نے کپڑوں میں کیا چھپا رکھا ہے

یہ کہہ کر آپ چلے گئے اور محراب میں تشریف لائے اور نماز شروع کی آپ نے نماز میں طویل رکوع و سجود کیے

ادھر وہ لعین تاریخ انسانیت کے بدترین جرم کے اقدام کی نیت سے اُٹھا اور چلتے ہوئے اس ستون کے قریب آیا جہاں آپ نماز میں مصروف تھے آپ نے پہلی رکعت پڑھی اور پہلا سجدہ ادا کیا.پھر سر کو اُٹھایا وہ لعین آگے بڑھا اور آپ کے سر اطہر پر تلوار کا وار کیا.

جبرائیل امین نے زمین و آسمان کے درمیان آواز دی جسے ہر سننے والے نے سنا

اللہ کی قسم آج ہدایت کے ارکان تباہ ہو گئے، آسمان کے ستارے اور تقویٰ کی نشانیاں ختم ہو گئیں، حضرت پیغمبر گرامی ﷺ کے چچا زاد حضرت علیؓ شہید کر دئیے گئے جسے بد بخت ترین شخص نے شہید کر دیا

(الانوار العلویہ,ص,٣٨٠,٣٨٨,مصائب معصومین ع,ص,٤١,٤٢,علی ع ولادت سے شہادت تک,ص,٤٦٢,٤٦٣)

No comments:

Post a Comment