Friday, May 15, 2020

دس رمضان المبارک 8 ہجری گستاخ رسول کے قتل کا سرکاری فرمان

10 رمضان المبارک 8 ہجری
01 جنوری 630 عیسوی

رحمت اللعالمین نے گستاخ رسول کے قتل کا سرکاری فرمان جاری کیا۔ یہ حکم بطور شارع بھی تھا اور بطور سربراہ مملکت بھی

گستاخ رسول کو کعبے کی حرمت بھی امان نہیں دے سکتی

  • یہ ہی فیصلہ ہے۔ یہ ہی حکم ہے۔ یہ ہی ہر مسلمان کا عقیدہ ہے۔ جو اس میں کمی بیشی کرے وہ نبی کریم کا امتی نہیں

فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چار آدمی جہاں ملیں‘ انہیں قتل کردیا جائے‘ اگرچہ کعبہ کے پردے کے نیچے ہوں‘ ان میں سے ایک عبداللہ ابن خطل اور دوسرا حویرث ابن نقید

عبداللہ ابن خطل کے قتل کا حکم اس لئے فرمایا کہ پہلے یہ شخص مسلمان تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زکوٰة وصول کرنے کے لئے روانہ کیا‘ اس کے ساتھ ایک انصاری صحابی اور اس کا ایک مسلمان غلام بھی تھا جو ابن خطل کی خدمت کیا کرتا تھا‘ رات کو کسی جگہ ٹھہرے تو ابن خطل نے اپنے خادم غلام کو حکم دیا کہ وہ اس کے لئے بکرا ذبح کر کے کھانا تیار کرے اور خود سوگیا‘ جب جاگا تو دیکھا کہ غلام نے کوئی چیز تیار کرکے نہیں رکھی تو غصہ میں اس نے غلام کو قتل کردیا اور مرتد ہوکر مشرکین مکہ سے جا ملا اور وہاں پہنچ کر ابن خطل نے دو باندیاں خریدیں جو گانا گا کر نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتی تھیں اور یہ اس سے لطف اندوز ہوتا تھا‘ اس لئے حضرت زبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا جبکہ وہ خانہ کعبہ کے پردہ سے لٹکا ہوا تھا اور اس کی ایک باندھی بھی فتح مکہ کے موقع پر قتل کی گئی جبکہ دوسری باندی فرار ہوگئی جو بعد میں مسلمان ہوگئی اور حویرث بن نقید مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید ایذاء پہنچایا کرتا تھا‘ اس لئے یہ بھی قتل کیا گیا‘ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا (فتح الباری)

وہ دس جن کے قتل کا حکم جاری کیا گیا تھا ان کے نام یہ ہیں۔ ( بعض کے ناموں کے ساتھ تصریح تھی کہ کعبے کے پردوں سے بھی چمٹے ہوں تب بھی قتل کر دئیے جائیں )

1۔ عبداللہ بن ابی سرح
2۔ عبداللہ بن خطل
3۔ ابن خطل کی باندی
4۔ ابن خطل کی باندی
5۔ عکرمہ بن ابوجہل 
6۔ صفوان بن امیہ
7۔ حویرث بن نقید
8۔ مقیس بن حبابہ
9۔ ھبار بن اسود 
10۔ ھندہ بنت عتبہ

ان میں سے  2.3.4.7. نمبر کے اشخاص کو قتل کر دیا گیا
باقی کو مختلف اشخاص کی سفارش پر قبول اسلام کے بعد معاف کر دیا گیا

یہ تفصیل محمد حسین ہیکل کی کتاب حیات محمد سے لی گئی ہے

No comments:

Post a Comment