30 اپریل 2010
پہلا یومِ شہداء پاکستان منایا گیا
8 برس تک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصانات اٹھانے کے بعد 30 اپریل کو یومِ شہداء منانے کا آغاز 2010 میں اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کیا تھا
قوموں کو اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیئے بے شمار قربانیاں دینی پڑتی ہیں جبکہ ہماری آزادی شہداء کے خون کی مرہون منت ہے اور یہی شہداء ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ یہ الفاظ پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ہیں جو انہوں نے 30 اپریل 2010ء کو پہلے یوم شہداء پاکستان پہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شہید ہونے والے جوانوں اور افسران کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔
دُنیا کے مختلف ممالک میں بھی یوم شہداء منایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہ دن اُن شہداء سے منسوب ہے جنہوں نے ملک کے دفاع اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔ یہ دن صرف پاک بھارت جنگ کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ سوات، مالاکنڈ، جنوبی و شمالی وزیرستان وغیرہ میں لڑی جانے والی جنگوں سے بھی وابستہ ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری عسکری تاریخ میں ایک نئی روایت ہے ۔ وطن کے لیئے جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا زندہ قوموں کا شیوہ ہے
کوئی قوم بھی اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اپنے ملک اور نظریے کی جان و مال سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتی۔ قومیں جب تک اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں کوئی بھی جارح انہیں شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ دُنیا کی ہر قوم پر کٹھن وقت آیا ہوگا لیکن زندہ قومیں اتحاد، یکجہتی اور بے مثال جذبے سے تاریخ میں لازوال نقوش قائم کرتی ہیں جنہیں صدیاں بھی ختم کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ وطن عزیز کی دھرتی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسکے پاس دنیا کی بہادر، محنتی اور جفاکش فوج موجود ہے
افواجِ پاکستان بہادری اور جرات کی لازوال روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اندرونی اور بیرونی خطرات سے مادرِ وطن کا دفاع اور ہر میدان میں عوام کے شانہ بشانہ ، متحد اور مضبوط کھڑی ہے۔ اسکے جوانوں نے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی اور پاک دھرتی کی حفاظت کے لیئے اپنا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ افواجِ پاکستان نے ملک کی علاقائی سالمیت، عوام کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری فوج باصلاحیت ہے اور خاص کر وہ دستے جو میدان جنگ میں موجود ہوتے ہیں
کیپٹن محمد سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، میجر شبیر شریف شہید، جوان سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید جیسے جوانمردوں نے شجاعت و بہادری کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا
14 اگست 1947 سے 31 اگست 2018 تک پاک فوج کے 20108 جانبازوں نے دفاع وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا ہے۔
ہم کوئی شہادت نہیں بُھولے۔
ہر ایک شہید ہمارے سر کا تاج ہے
1947 سے 1948 کے معرکوں میں 2 افسران، 51 جونیئر کمیشنڈ افسران (جے سی اوز) اور 2343 سپاہیوں نے شہادت پائی
1949 سے 1964 کی مختلف لڑائیوں میں 5 افسران، 2 جے سی اوز اور 119 سپاہیوں کے مقدر میں شہادت آئی
6 ستمبر 1965 سے 23 ستمبر تک کی 17 روزہ جنگ میں 57 افسران، 92 جے سی اوز اور 1864 سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا
1966 سے 1970 کی لڑائیوں 5 افسران، 8 جے سی اوز اور 113 سپاہیوں نے وطن پہ جان قربان کی
03 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 1971 تک 13 روزہ جنگ میں 193 افسران، 184 جے سی اوز اور 4681 سپاہیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا
1973 سے 1998 کے معرکوں میں 191 افسران، 96 جے سی اوز اور 2674 سپاہیوں کے حصے میں شہادت کی نعمت آئی
1999 کی لڑائیوں میں 38 افسران، 23 جے سی اوز اور 552 سپاہیوں کو شہادت کی نعمت عطا ہوئی
2000 میں 8 افسران، 13 جے سی اوز اور 251 سپاہیوں کو شہادت کا مرتبہ نصیب ہوا
2001 میں 4 افسران، 3 جے سی اوز اور 136 سپاہی مادر وطن پر قربان ہوئے
2002 میں 13 افسران، 5 جے سی اوز اور 211 سپاہیوں کو شہادت کا رتبہ ملا
2003 میں 10 افسران، 12 جے سی اوز اور 185 سپاہیوں کو وطن پہ قربان ہونے کا شرف حاصل ہوا
2004 میں 17 افسران، 13 جے سی اوز اور 256 سپاہیوں نے اپنی جان وطن پہ قربان کی
2005 میں 19 افسران، 28 جے سی اوز اور 615 سپاہیوں نے وطن کی مٹی کو اپنے لہو سے سینچا
2006 میں دفاع وطن کے مختلف معرکوں میں 13 افسران، 9 جے سی اوز اور 218 سپاہیوں کو وطن پہ قربان ہونے موقع ملا
2007 میں 15 افسران، 23 جے سی اوز اور 436 سپاہیوں نے وطن پہ اپنی جان دی
2008 میں 27 افسران، 26 جے سی اوز اور 335 سپاہیوں کو رب قادر کریم رحیم نے شہادت کی نعمت عطا کی
2009 میں 50 افسران، 34 جے سی اوز اور 713 سپاہیوں کے لیے لفظ شہید لکھا گیا
2010 میں 19 افسران، 28 جے سی اوز اور 433 سپاہیوں نے پاکستان کی حفاظت اپنے خون سے کی
2011 میں 26 افسران، 17 جے سی اوز اور 458 سپاہی شہادت کی نعمت سے سرخرو ہوئے
2012 میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے 20 افسران، 22 جے سی اوز اور 488 سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا
2013 میں 22 افسران، 25 جے سی اوز اور 336 سپاہیوں کے حصے میں جام شہادت آیا
2014 میں 19 افسران، 18 جے سی اوز اور 260 سپاہیوں نے اپنی جان کا نذرانہ عقیدت پیش کیا
2015 میں 26 افسران، 25 جے سی اوز اور 289 سپاہیوں کو شہادت کا اعزاز حاصل ہوا
2016 کے معرکوں میں 11 افسران، 12 جے سی اوز اور 180 سپاہیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا
2017 کی لڑائیوں میں 15 افسران، 17 جے سی اوز اور 225 سپاہیوں کو شہادت کا رتبہ ملا
یکم جنوری 2018 سے 31 اگست 2018 تک 2 افسران، 8 جے سی اوز اور 116 سپاہیوں نے شہادت کا رتبہ پایا
شہید ہونے افسران میں 40 کا تعلق اسلام آباد، 534 کا تعلق پنجاب، 129 کا خیبر پختونخواہ، 64 کا سندھ، 13 کا بلوچستان، 23 کا آزاد جموں کشمیر، 14 کا گلگت بلتستان اور 4 کا تعلق فاٹا سے ہے
شہید ہونے والے 6 جے سی اوز کا تعلق اسلام آباد، 442 کا پنجاب، 110 کاخیبر پختونخواہ، 18 کا سندھ، 3 کا بلوچستان، 154 کا آزاد جموں کشمیر اور 58 کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے
شہید سپاہیوں میں 86 کا تعلق اسلام آباد، 8848 کا پنجاب، 2740 کاخیبر پختونخواہ، 857 کا سندھ، 111 کا بلوچستان، 4511 کا آزاد جموں کشمیر، 1593 کا گلگت بلتستان اور 100 سپاہیوں کا تعلق فاٹا سے ہے
پاک فوج نے نہ صرف اپنی سرزمین کی خاطر قربانیوں کی ایک لمبی داستان رقم کی بلکہ عالمی امن فورس میں بھی پاک فوج کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان نے انیس سو ساٹھ میں اقوام متحدہ کی امن فورس میں شمولیت اختیار کی اور پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود اب بھی عالمی امن اور استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ پاک فوج ایک بے مثال فوج ہے جس کی پوری دنیا میں گونج ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق امن مشن میں فوج بھیجنے اور مہاجرین کو پناہ دینے کے لحاظ سے ایک طویل عرصے تک پاکستان کا سب سے زیادہ حصہ رہا ہے
پہلا یومِ شہداء پاکستان منایا گیا
8 برس تک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصانات اٹھانے کے بعد 30 اپریل کو یومِ شہداء منانے کا آغاز 2010 میں اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کیا تھا
قوموں کو اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیئے بے شمار قربانیاں دینی پڑتی ہیں جبکہ ہماری آزادی شہداء کے خون کی مرہون منت ہے اور یہی شہداء ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ یہ الفاظ پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ہیں جو انہوں نے 30 اپریل 2010ء کو پہلے یوم شہداء پاکستان پہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شہید ہونے والے جوانوں اور افسران کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔
دُنیا کے مختلف ممالک میں بھی یوم شہداء منایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہ دن اُن شہداء سے منسوب ہے جنہوں نے ملک کے دفاع اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔ یہ دن صرف پاک بھارت جنگ کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ سوات، مالاکنڈ، جنوبی و شمالی وزیرستان وغیرہ میں لڑی جانے والی جنگوں سے بھی وابستہ ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری عسکری تاریخ میں ایک نئی روایت ہے ۔ وطن کے لیئے جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا زندہ قوموں کا شیوہ ہے
کوئی قوم بھی اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اپنے ملک اور نظریے کی جان و مال سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتی۔ قومیں جب تک اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں کوئی بھی جارح انہیں شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ دُنیا کی ہر قوم پر کٹھن وقت آیا ہوگا لیکن زندہ قومیں اتحاد، یکجہتی اور بے مثال جذبے سے تاریخ میں لازوال نقوش قائم کرتی ہیں جنہیں صدیاں بھی ختم کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ وطن عزیز کی دھرتی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسکے پاس دنیا کی بہادر، محنتی اور جفاکش فوج موجود ہے
افواجِ پاکستان بہادری اور جرات کی لازوال روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اندرونی اور بیرونی خطرات سے مادرِ وطن کا دفاع اور ہر میدان میں عوام کے شانہ بشانہ ، متحد اور مضبوط کھڑی ہے۔ اسکے جوانوں نے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی اور پاک دھرتی کی حفاظت کے لیئے اپنا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ افواجِ پاکستان نے ملک کی علاقائی سالمیت، عوام کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری فوج باصلاحیت ہے اور خاص کر وہ دستے جو میدان جنگ میں موجود ہوتے ہیں
کیپٹن محمد سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، میجر شبیر شریف شہید، جوان سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید جیسے جوانمردوں نے شجاعت و بہادری کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا
14 اگست 1947 سے 31 اگست 2018 تک پاک فوج کے 20108 جانبازوں نے دفاع وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا ہے۔
ہم کوئی شہادت نہیں بُھولے۔
ہر ایک شہید ہمارے سر کا تاج ہے
1947 سے 1948 کے معرکوں میں 2 افسران، 51 جونیئر کمیشنڈ افسران (جے سی اوز) اور 2343 سپاہیوں نے شہادت پائی
1949 سے 1964 کی مختلف لڑائیوں میں 5 افسران، 2 جے سی اوز اور 119 سپاہیوں کے مقدر میں شہادت آئی
6 ستمبر 1965 سے 23 ستمبر تک کی 17 روزہ جنگ میں 57 افسران، 92 جے سی اوز اور 1864 سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا
1966 سے 1970 کی لڑائیوں 5 افسران، 8 جے سی اوز اور 113 سپاہیوں نے وطن پہ جان قربان کی
03 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 1971 تک 13 روزہ جنگ میں 193 افسران، 184 جے سی اوز اور 4681 سپاہیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا
1973 سے 1998 کے معرکوں میں 191 افسران، 96 جے سی اوز اور 2674 سپاہیوں کے حصے میں شہادت کی نعمت آئی
1999 کی لڑائیوں میں 38 افسران، 23 جے سی اوز اور 552 سپاہیوں کو شہادت کی نعمت عطا ہوئی
2000 میں 8 افسران، 13 جے سی اوز اور 251 سپاہیوں کو شہادت کا مرتبہ نصیب ہوا
2001 میں 4 افسران، 3 جے سی اوز اور 136 سپاہی مادر وطن پر قربان ہوئے
2002 میں 13 افسران، 5 جے سی اوز اور 211 سپاہیوں کو شہادت کا رتبہ ملا
2003 میں 10 افسران، 12 جے سی اوز اور 185 سپاہیوں کو وطن پہ قربان ہونے کا شرف حاصل ہوا
2004 میں 17 افسران، 13 جے سی اوز اور 256 سپاہیوں نے اپنی جان وطن پہ قربان کی
2005 میں 19 افسران، 28 جے سی اوز اور 615 سپاہیوں نے وطن کی مٹی کو اپنے لہو سے سینچا
2006 میں دفاع وطن کے مختلف معرکوں میں 13 افسران، 9 جے سی اوز اور 218 سپاہیوں کو وطن پہ قربان ہونے موقع ملا
2007 میں 15 افسران، 23 جے سی اوز اور 436 سپاہیوں نے وطن پہ اپنی جان دی
2008 میں 27 افسران، 26 جے سی اوز اور 335 سپاہیوں کو رب قادر کریم رحیم نے شہادت کی نعمت عطا کی
2009 میں 50 افسران، 34 جے سی اوز اور 713 سپاہیوں کے لیے لفظ شہید لکھا گیا
2010 میں 19 افسران، 28 جے سی اوز اور 433 سپاہیوں نے پاکستان کی حفاظت اپنے خون سے کی
2011 میں 26 افسران، 17 جے سی اوز اور 458 سپاہی شہادت کی نعمت سے سرخرو ہوئے
2012 میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے 20 افسران، 22 جے سی اوز اور 488 سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا
2013 میں 22 افسران، 25 جے سی اوز اور 336 سپاہیوں کے حصے میں جام شہادت آیا
2014 میں 19 افسران، 18 جے سی اوز اور 260 سپاہیوں نے اپنی جان کا نذرانہ عقیدت پیش کیا
2015 میں 26 افسران، 25 جے سی اوز اور 289 سپاہیوں کو شہادت کا اعزاز حاصل ہوا
2016 کے معرکوں میں 11 افسران، 12 جے سی اوز اور 180 سپاہیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا
2017 کی لڑائیوں میں 15 افسران، 17 جے سی اوز اور 225 سپاہیوں کو شہادت کا رتبہ ملا
یکم جنوری 2018 سے 31 اگست 2018 تک 2 افسران، 8 جے سی اوز اور 116 سپاہیوں نے شہادت کا رتبہ پایا
شہید ہونے افسران میں 40 کا تعلق اسلام آباد، 534 کا تعلق پنجاب، 129 کا خیبر پختونخواہ، 64 کا سندھ، 13 کا بلوچستان، 23 کا آزاد جموں کشمیر، 14 کا گلگت بلتستان اور 4 کا تعلق فاٹا سے ہے
شہید ہونے والے 6 جے سی اوز کا تعلق اسلام آباد، 442 کا پنجاب، 110 کاخیبر پختونخواہ، 18 کا سندھ، 3 کا بلوچستان، 154 کا آزاد جموں کشمیر اور 58 کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے
شہید سپاہیوں میں 86 کا تعلق اسلام آباد، 8848 کا پنجاب، 2740 کاخیبر پختونخواہ، 857 کا سندھ، 111 کا بلوچستان، 4511 کا آزاد جموں کشمیر، 1593 کا گلگت بلتستان اور 100 سپاہیوں کا تعلق فاٹا سے ہے
پاک فوج نے نہ صرف اپنی سرزمین کی خاطر قربانیوں کی ایک لمبی داستان رقم کی بلکہ عالمی امن فورس میں بھی پاک فوج کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان نے انیس سو ساٹھ میں اقوام متحدہ کی امن فورس میں شمولیت اختیار کی اور پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود اب بھی عالمی امن اور استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ پاک فوج ایک بے مثال فوج ہے جس کی پوری دنیا میں گونج ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق امن مشن میں فوج بھیجنے اور مہاجرین کو پناہ دینے کے لحاظ سے ایک طویل عرصے تک پاکستان کا سب سے زیادہ حصہ رہا ہے

No comments:
Post a Comment