Saturday, May 2, 2020

دو مئی 1949 واہ آرڈیننس فیکٹری کی تعمیر کا آغاز ہوا

02 مئی 1949
 واہ آرڈیننس فیکٹری کی تعمیر کا آغاز ہوا تھا

قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان میں ایک ایسے کارخانے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی جہاں اسلحہ سازی کی جاسکے اور ملک کو اسلحہ سازی کی صنعت میں خود کفیل کیا جاسکے۔ 2 مئی 1949ء وہ یادگار دن تھا جب واہ کینٹ کے علاقے میں ایک اسلحہ ساز فیکٹری کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ تعمیر تقریباً ڈھائی سال میں مکمل ہوئی اور 28 دسمبر 1951ء کو پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کی اس پہلی آرڈیننس فیکٹری کا افتتاح کیا

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے موجودہ غیر یقینی حالات کے پیش نظر پاکستان کے دفاع کو بہت اہمیت حاصل ہے اسی لیے مسلح افواج کی دیکھ بھال اور ان کے لیے بہترین اسلحے کی فراہمی کو دوسرے تمام کاموں پر فوقیت دی گئی ہے
پاکستان آرڈیننس فیکٹری، پاکستان کی دفاعی ضروریات پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہے اور یوں پاکستان کی تعمیر و ترقی کا ایک روشن مینارہ بن چکی ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر قصبے واہ میں واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹریز ملک میں روایتی اسلحے اور گولہ بارود کا سب سے بڑا پیدواری کمپلیکس ہے

سن انیس سو اکاون میں قائم ہونے والے یہ کارخانے وفاقی وزارتِ دفاعی پیداوار کے ماتحت کام کرتے ہیں اور اس کے متعدد پیدواری یونٹس میں چالیس ہزار سے زائد افراد کام کرتے ہیں

واہ میں واقع کارخانوں میں ہلکے اسلحے اور گولہ بارود کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج کی وردیاں بھی تیار ہوتی ہیں۔ یہاں تیار کیے جانے والا اسلحہ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کی ضروریات کو پورا کرتا ہے

پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں تیار ہونے والے بھاری اسلحے میں الخالد ٹینک خاص طور پر قابل ذکر ہے جسے فوجی اسلحے کی نئی نمائشوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں عام شکار کے لیے استعمال ہونے والے بارہ بور کارتوس اور کئی دیگر کمرشل اشیاء بھی تیار ہوتی ہیں

تقسیم کے وقت پاکستان کے حصے میں کوئی آرڈیننس فیکٹری نہیں آئی تھی کیونکہ اس وقت تک قائم ہونے والی تمام اسلحے کی فیکٹریاں بھارت کے حصے میں آئی تھیں۔ اسی بات کے پیشِ نظر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کے صرف چار ماہ بعد تھری ناٹ تھری رائفل اور اس کی گولیاں بنانے کا ایک یونٹ لگانے کے احکامات جاری کیے۔ واہ میں چار آرڈیننس یونٹس کا سنگِ بنیاد ملک کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے رکھا تھا

اس وقت واہ میں پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کے چودہ کارخانے ہیں جن میں ویپنز فیکٹری، مشین گن فیکٹری، سمال آرمز ایمیونیشن فیکٹری، ٹینک ایمیونیشن فیکٹری، میڈیم آرٹلری ایمیونیشن فیکٹری، ہیوی آرٹلری ایمیونیشن فیکٹری، براس مل، سٹیل فاؤنڈری اور یونیفارم فیکٹری اہم ہیں

پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے چار ذیلی ادارے بھی ہیں جو واہ نوبل، واہ انڈسٹریز، ہائی ٹیک پلاسٹکس اور اٹک کیمیکلز کے ناموں سے کام کر رہے ہیں

No comments:

Post a Comment