Friday, May 15, 2020

انیس رمضان المبارک 40 ہجری یومِ ضرب حضرت علی

19 رمضان المبارک 40 ہجری 
27 جنوری 661
حسنین کے بابا پہ فجر کی نماز میں حملہ ہوتا ہے
کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم
رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین

یہ رمضان المبارک کی 19 ویں فجر تھی اور جنوری 661 کی 27 تاریخ۔ کوفہ کی مرکزی جامع مسجد کا مصلی ہے۔سیدہ کائنات کے زوج اور زینب و ام کلثوم کے بابا جان ہیں ۔سیدنا مولائے کائنات علی المرتضی ابن ابو طالب کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم

ایک بدبخت ابن ملجم نے کل کائنات کے مولا کو زہر آلود خنجر کے وار سے عین حالت نماز میں زخمی کر دیا ہے

جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا تو آپ نے اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن  اور حضرت حسین  کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے

یہ ہے اہل بیت کا کردار
یہ سیدوں کی روایت ہے
یہ ہی تو اسلام ہے

سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کا یومِ شہادت 21 رمضان المبارک 40 ہجری بمطابق 29 جنوری 661 عیسوی ہے

یہ تصویر اس جگہ کی ہے جہاں حضرت علی کو زخمی کیا گیا تھا، جامع مسجد کوفہ میں

No comments:

Post a Comment