یومِ فتح بیت المقدس
بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے بعد سترہ ماہ بیت المقدس کیطرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ اس کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آیا۔ یہ بیت المقدس انبیاء ؑ کی سر زمین ہے۔ سیدنا عمر ؓ بیت المقدس کو فتح کرنے والے سب سے پہلے مسلم جرنیل تھے
حضرت ابوبکر ؓ کے دور خلافت میں حضرت عمرو بن العاص ؓ نے فلسطین کے بعض مقامات فتح کرلیے تھے۔ اور فاروقی عہد تک نابلس، لُد، عمواس کے علاقے فتح ہو چکے تھے۔ اور عمرو بن العاص رومی فوجیوں کے خلاف فلسطین میں جنگ میں مصروف تھے۔ اور ان کا مقابلہ روم کے بڑے جرنیل اطربون کی فوج سے تھا۔ اور اطربون فلسطین کے شہر اجنادین میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اور مسلمانوں کے لشکر نے اجنادین کا محاصرہ کر کے اطربون کو بیت المقدس کی طرف دھکیل دیا تھا۔ رملہ اور بیت المقدس دو ایسے شہر تھے جہاں رومی مسلمانوں سے لڑ سکتے تھے۔ اور اطربوُن نے ایک دھمکی آمیز خط سیدنا عمرو بن العاص ؓ کو لکھا۔ کہ تم یہاں سے چلے جاؤ یہ علاقہ تم فتح نہیں کر سکتے۔ جواب میں حضرت عمرو بن العاص ؓ نے خط لکھا ۔ کہ میں اس ملک کا فاتح ہوں ۔ لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے دوستوں سے مشورہ کر لو۔ شاید تمھاری عبرت ناک تباہی سے پہلے تمہیں کوئی نیک مشورہ دے۔
طبری کی ایک روایت میں ہے کہ اطربون نے جب حضرت عمرو بن العاص ؓ کا خط پڑھا ۔ تو اس جملے پر کہ " میں اس ملک کا فاتح ہوں " ہنسا ۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے پوچھا کی اسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ عمرو بن العاص ؓ اس ملک کا فاتح نہیں ہے۔ اطربون نے جواب دیا کہ بیت المقدس کے فاتح کا نام " عمر " ہے۔ جس میں تین حرف ہیں ۔ اور یہ تورات میں لکھا ہے۔ (سیرت حضرت عمر فاروقؓ، مصنف: حکیم محمود احمد ظفر، ص:۲۸۷)
اس دوران اطرابون اور بیت المقدس کا پادری قلعہ بند ہوگیا ۔ ان حالات کا جائزہ لے کر حضرت عمر فاروق ؓ نے خود بیت المقدس کے سفر کا رخ کیا۔ اور جابیہ کے مقام پر تشریف لے گئے ۔ اور تمام صحابہ ؓ کو مشورہ کے لیے طلب کیا۔ ادھر پادری نے صلح کی درخواست کی کہ حضرت عمر ؓ خود تشریف لائیں اور ہم سے صلح کریں ۔ اور حضرت ابو عبیدہ ؓ نے خط لکھا کہ بیت المقدس کی آزادی آپ کی تشریف آوری پر موقوف ہے۔ اور آپ ؓ نے حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر کیا۔ اور آپ بیت المقدس روانہ ہوگئے
سیدنا عمر کا سفر عجیب و غریب تھا۔ ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ آپ نے اونٹنی پر سفر کیا۔ اور اونٹنی پر دو تھیلے تھے۔ ایک میں ستو اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اور سامنے پانی سے بھرا ہوا مشکیزہ تھا۔ سفر لمبا تھا۔ اس لیے ایک غلام کو ساتھ لیا۔ اور اس غلام سے فرمایا یہ مت سمجھنا کہ تمام راستہ میں سواری پر بیٹھ کر آرام سے سفر کرتا رہوں گا اور تم پیدل چلتے رہو گے۔ کیونکہ یہ انصاف کے خلاف ہے۔ اور مقام جابیہ پر صلح نامہ تیار ہوا۔ اور رومی حکومت کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ اتنے میں اطلاع ہو گئی کہ امیرالمومنین تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابوعبیدہؓ استقبال کے لیے تشریف لے گئے۔ پادری صفرینوس کا خیال تھا کہ امیر المومنین کا لاؤ لشکر نظر آئے گا۔ انہوں نے جو دیکھا کہ ایک آدمی اونٹنی پر بیٹھا ان کی طرف آرہا ہے اور دوسرا ان کی نکیل پکڑے آگے چل رہا ہے۔ اور ان کا حلیہ دیکھنے کا تھا۔ پھٹے جوتے، بالوں پر گرد و غبار، پیوند لگا کرتا، ایک دو نہیں پورے چودہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ جن میں سے کچھ چمڑے کے تھے۔ پادری کا دل قبول نہیں کرتا تھا کہ وہ عظیم المرتبت فاتح جس نے سلطنت روم اور فارس کو تخت و تاراج کِیا، کیا وہ ایسا ہو سکتا ہے۔ فلسطین کی فتح مکمل ہونے کے بعد آپ بیت المقدس میں تشریف لے گئے۔
جب بیت المقدس قریب آیا تو ابوعبیدہؓ اور سرداران فوج سیدنا عمرؓ کا پھٹا ہوا اور میلا کچیلا لباس دیکھ کر ایک قیمتی پوشاک آپکی خدمت میں پیش کرنے لگے اور عرض کی کے یہ لباس اتار کر اس لباس کو پہن لیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا ہمیں اسلام کی عزت کافی ہے۔ (سیرت حضرت عمر فاروقؓ، مصنف: حکیم محمود احمد ظفر، ص:۲۹۱)
غرض کہ سیدنا عمر اس حال میں بیت المقدس میں داخل ہوئے کہ رومیوں نے عالم عرب و عجم کے فرمانروا کے لئے دروازے کھول دئیے اور کہا بیشک یہی فاتح بیت المقدس ہے۔ پھر آپ حضرت داؤدؑ کی محراب کی جانب بڑھے اور آپ نے حضرت داؤد کے سجدہ والی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ یہ 13 رمضان المبارک 15 ہجری کا دن تھا
غرض یہ کہ بیت المقدس تشریف لانے سے سیدنا عمرؓ کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا۔ لیکن آج کا مسلمان اس مسجد اقصیٰ میں سجدہ دینے کو ترستا ہے۔ آج پھر مسجد اقصیٰ کسی عمرؓ اور صلاح الدین ایوبی کی منتظر ہے
یہ میری قوم کے حکمراں بھی سنیں
میری اجڑی ہوئی داستاں بھی سنیں
جو مجھے ملک تک مانتے ہی نہیں
ساری دنیا کے وہ رہنما بھی سنیں
صرف لاشیں ہی لاشیں میری گود میں
کوئی پوچھے میں کیوں اتنا غمگین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں
آئے تھے ایک دن میرے گھر آئے تھے
دشمنوں کو بھی تنہا نظر آئے تھے
اونٹ پر اپنا خادم بٹھائے ہوئے
میری اس سرزمیں پر عمر آئے تھے
جس کی پرواز ہے آسمانوں تلک
زخمی زخمی میں وہ ایک شاہین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں
میرے دامن میں ایمان پلتا رہا
ریت پر رب کا فرمان پلتا رہا
میرے بچے لڑے آخری سانس تک
اور سینوں میں قرآن پلتا رہا
ذرے ذرے میں اللہ اکبر لئے
خوش نصیبی ہے میں صاحبِ دین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں
نہ ہی روئیں گے اور نہ ہی مسکائیں گے
صرف نغمے شہادت کے ہی گائیں گے
اپنا بیت المقدس بچانے کو تو
میرے بچے ابابیل بن جائیں گے
جو ستم ڈھا رہے ابرہہ کی طرح
ان کی خاطر میں سامانِ توہین ہوں



No comments:
Post a Comment